1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکم وضعی کی اقسام: اصول الفقہ

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏ستمبر 26، 2011۔

  1. ‏ستمبر 26، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    حکم وضعی کی اقسام:

    1۔ سبب:


    لغت
    میں سبب اسے کہتے ہیں :جس کے ذریعے اس کے غیر تک پہنچا جائے۔

    اصطلاح
    میں سبب اسے کہتےہیں: جس کے وجود سے (حکم کا )وجود لازم آئے اور اس کے عدم سے اس (حکم )کی ذات کا عدم لازم آئے۔

    مثال کے طور پر سورج کا ڈھلنا ، کیونکہ یہ ظہر کی نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے اور اسی طرح نصاب زکاۃ کی ملکیت کیونکہ یہ زکاۃ کے وجوب کا سبب ہے اور اسی طرح ولاء اور نسب میراث حاصل کرنے کا سبب ہے۔

    2۔ شرط:


    لغت
    میں شرط‘ شروط کا واحد ہے شَرَطٌ سے ماخوذ ہے جو اشراط کی واحد ہے جس سے مراد علامت اور نشانی ہے۔

    اصطلاح
    میں شرط اس کو کہتے ہیں کہ جس کے عدم سے (حکم کا) عدم لازم آئے اور اس (شرط)کے وجودسے (حکم کا) وجود اور خود اس (شرط)کا عدم لازم نہ آئے۔

    جیساکہ طہارت (وضو اور غسل وغیرہ)کیونکہ نماز کے صحیح ہونے کےلیے طہارت شرط ہے، لہٰذا طہارت کی عدم موجودگی میں شرعی نماز کا وجود بھی عدم ہوگا۔لیکن طہارت کا وجود نماز کے وجود کو لازم نہیں کرتا کیونکہ بسا اوقات انسان طہارت حاصل کرلیتا ہے لیکن نماز پڑھنے سے رکا رہتا ہے۔

    3۔ مانع:


    لغت
    میں رکاوٹ کو مانع کہتے ہیں

    اصطلاح
    میں اسےمانع کہتے ہیں کہ جس کے وجود سے (حکم کا)عدم لازم آئے، اور اس کے عدم سے (حکم کا ) وجود اور خود اس (مانع) کا عدم لازم نہ آئے۔

    جیسا کہ قتل میراث کے حصول میں مانع ہے اور حیض نماز کی ادائیگی سے مانع ہے۔

    کیونکہ جب بھی قتل کا وجود پایا جائے گا میراث کا ناممکن الحصول ہوجائے گی اور جب بھی حیض پایا جائے گا نماز کی ادائیگی ممنوع ہوجائے گی۔ اور کبھی کبھی یہ دونوں (قتل اور حیض) پائے نہیں جاتے اور ان کا نہ پایا جانا میراث کے حصول اور نماز کی ادائیگی کو لازمی نہیں بناتا۔

    لہٰذا یہ شرط کے برعکس ہے کیونکہ شرط میں مشروط کی موجودگی شرط کی موجودگی پر موقوف ہوتی ہے اور مانع اس (شرط)کے وجود کی نفی کرتا ہے۔

    سبب، شرط اور مانع میں فرق کوواضح دیکھنے کےلیے زکاۃ کے مال کی طرف دیکھئے:

    اگر مال نصاب ِزکاۃ تک پہنچ جائے تو یہ زکاۃ کے فرض ہونے کےلیے سبب ہوگا، اس مال پر سال کا گزرنا شرط ہے اور اگر قرضہ موجود ہوتو یہ مانع ہوگا، ان لوگوں کے قول کے مطابق کہ قرضہ مانع ہے۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏ستمبر 27، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں