1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داڑھی کی شرعی حیثیت :

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 07، 2015۔

  1. ‏فروری 04، 2016 #11
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    میرا سوال تھا کہ
    لیکن آپ نے میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کیونکہ اسی جگہ ہی مجھے غلطی کا کمان ہو رہا ہے کہ شاید آپ اپنا موقف واضح نہیں کرنا چاہتے یا مجبورا نہیں کر نہیں سکتے
     
  2. ‏فروری 04، 2016 #12
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    مفہوم کو متعین کیے بغیر خالی قرآن کے الفاظ سے ہدایت ممکن نہیں

    پس انکے قول سے ہی ثابت ہوا کہ انکے ہاں بھی خالی الفاظ سے ہدایت ممکن نہیں ہوتی
    یہی ہمارا نظریہ ہے کہ خالی قرآن کے الفاظ پہ اجماع ہو جانے سے بھی ہدایت کنفرم نہیں بلکہ ہدایت کا دارومدار اسکے مفہوم پر بھی ہے اور جب تک اسکے مفہوم کو متعین نہیں کریں ہدایت خالی الفاظ سے نہیں ملے گی اسی لئے تو اوپر والا سوال پوچھا تھا کہ وہ مفہوم متعین کرنے کے لئے ہمیں کن کن چیزوں سے مدد لینی ہو گی یا ہم خود ہی اسکا مفہوم اپنی مرضی سے متعین کر سکتے ہیں مجھے اصولی موقف چاہئے پس تین آپشن دوبارہ لکھ دیتا ہوں اس میں سے سلیکٹ کر کے بتا دیں یا پھر کوئی چوتھی صورت بتا دیں اور کوشش کریں کہ اس کا جواب پہلے دیں شکریہ

    قرآن کے الفاظ سے باہر کسی چیز پر عمل کی حیثیت آپ کے ہاں مندرجہ ذیل میں سے کون سی ہے
    1۔مرضی کی ہے یعنی چاہے تو عمل کرو چاہئے تو نہ کرو یا جیسے چاہو کرو
    2۔لازمی عمل کرنا ہے یعنی قرآن کے خاص مفہوم یا تواتر یا حدیث سنت وغیرہ پہ عمل کرنا بھی فرائض کی طرح شریعت میں مطلوب ہے
    3۔بعض صورتوں میں عمل مطلوب ہے اور بعض صورتوں میں عمل مطلوب نہیں ہوتا


    آپ اپنا نقطہ نظر اوپر تین میں سے کوئی بتا دیں تاکہ ہمیں آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو
    نوٹ: یہ یاد رہے کہ دوسری صورت میں وہ قرآن سے باہر والی واجب العمل چیزوں کی واضح پہچان بتا دیں اور تیسری صورت میں آپ کو وہ بعض صورتوں کا سکیل بتانا پڑے گا کہ کون سی صورتوں میں عمل مطلوب اور کون سی صورتوں میں عمل مطلوب نہیں ہے شکریہ


    ویسے آپ نے اس سلسلے میں اوپر مندرجہ ذیل باتیں کی تھیں
    لیکن ان سے کچھ صورتحال تو واضح ہو سکتی ہے مگر میرے اوپر سوالوں کے واضح جواب نہیں ملتے کیونکہ کہیں کہ رہے ہیں کہ حدیث سے مدد لے سکتے ہیں (یعنی سکتے ہیں سے یہ مراد ہوتا ہے کہ مرضی ہے)
    اور کہیں کہ رہے ہیں کہ حدیث کا تعلق قرآن کے حکم سے ہو تو اسکا ماننا فرض ہے مثلا قرآن میں زانی کو کوڑے مارنے کا حکم ہے اور اس بارے پھر جب رجم کی حدیث آتی ہے جو تواتر سے ہے اور اجماع ہے تو کیا اس رجم والی حدیث کو ماننا فرض ہو گا یہ ساری باتیں تب واضح ہوں گی جب آپ میرے اوپر والے سوال کا جواب دیں گے
     
    Last edited: ‏فروری 04، 2016
  3. ‏فروری 05، 2016 #13
    Imran Ahmad

    Imran Ahmad مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    جو چیزیں سنّت ابراہیمی سے لے کر قرآن تک کبھی دین کا لازمی حصّہ نہیں تھیں، ان سے متعلقہ صحیح احادیث پر ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر سکتا ہے
     
  4. ‏فروری 06، 2016 #14
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یہاں میرے کچھ اشکالت ہیں
    1۔سنت ابراھیمی سے مراد کیا ہے یعنی انکا ماخذ کیا ہو گا اسرائیلیات تو بہت زیادہ ہمیں ملتی ہیں جس سے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی تعلق پھر وحی سے بنا دیا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو آپ اتنی تحقیق سے پرکھی گئی احادیث پہ تو شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی۔ مگر دوسری طرف سنت ابرھیمی کی ایک نئی اصطلاح لی ہے اگر آپ کی سنت ابراھیمی سے مراد صرف قرآن میں آنے والی سنت ابرھیمی ہی ہے تو پھر خالی قرآن ہی کہ دینا تھا سنت ابراھیمی سے لے کر قرآن کہنے کی کیا ضرورت تھی
    2۔آپ نے فتوی دیا کہ جنکا ذکر سنت ابراھیمی یا قرآن میں نہیں ان کے بارے احادیث پہ عمل اپنی استطاعت کے مطابق کر سکتے ہیں یعنی مرضی ہے کہ کریں یا نہ کریں البتہ آپ نے اسکی مخالف بات کے بارے نہیں بتایا کہ جو باتیں قرآن میں یا پہلی اسرائیلیات میں موجود ہوں اور انکے بارے کوئی صحیح حدیث بخاری مسلم کی آئے تو کیا ان پر عمل کرنا فرض ہے یعنی لازم ہے یا وہاں بھی چھوٹ ہے مثلا
    ۔زانی کی سزا تو قرآن کا موضوع رہی ہے کیا رجم کی حدیث پر عمل کرنا فرض ہوا
    ۔ نکاح کے جائز ہونے کی عمر بھی قرآن کا موضوع رہی ہے تو کیا شادی کی عائشہ کی رخصتی والی حدیث کو قبول کرنا چاہئے
    ۔سود بھی قرآن کا موضوع ہے تو اس سے متعلقہ بخآری و مسلم کی احادیث پہ عمل فرض ہوا
    ۔ شراب بھی قرآن کا موضوع ہے
    ۔ چوری بھی قرآن کا موضوع ہے
    ۔ مومنات کا اوڑھنی لینا بھی قرآن کا موضوع ہے وغیرہ وغیرہ
    ان سب کے بارے بخاری و مسلم کی احدیث سے مدد لینا لازمی ہو گا
    کیا ان کے بارے ہمیں بخاری و مسلم کی صحیح احادیث پر لازمی عمل کرن چاہئے یعنی عمل کرنا قرآن کی طرح فرض ہے (اسکا جواب اوپر آپ نے نہیں دیا اوپر آپ نے انکے بارے تو بتا دیا کہ جن کا قرآن میں ذکر نہیں مگر جنکا قرآن میں کچھ نہ کچھ ذکر ہے اس کے بارے واضح نہیں بتایا
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 06، 2016 #15
    Imran Ahmad

    Imran Ahmad مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    میں شائد اپ کی بات صحیح سمجھ نہیں پا رہا. سنّت ابراہیم سے مراد یہ ہے کے وہ احکامات جن کا ذکر ہر شریعت کا حصّہ رہا ہے اور آخری کتاب قرآن مجید میں بھی ان کا ذکر ہے. آسان الفاظ میں وہ تمام احکامات جن کا ذکر قرآن میں ہے. اپ نے جتنے بھی نکات اوپر درج کیے ہیں وہ سب قرآن میں موجود ہیں لہذا ان سب کے بارے میں صحیح احادیث پر عمل ضروری ہے. ان احادیث کا انکار قرآن کے کسی حکم کے انکار کے برابر ہے. حضرت عائشہ والی حدیث کوئی حکم نہیں ہے. اگر چہ میں اس حدیث کو صحیح مانتا هوں مگر جو حضرات کسی دلیل کی بنیاد پر اس کو رد کرتے ہیں، اس سے ان کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا. نہ تو اس حدیث میں ہمارے لیے کوئی حکم ہے اور نہ ہی آخرت میں اس بارے میں کوئی سوال ہو گا.

    اصل مسلہ جہاں اختلاف ہے وہ ان احکامات کے بارے میں ہے جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے بلکے ان کا تعلّق فرمانے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے. جیسے داڑھی کی حدیث. اس کے علاوہ اگر کوئی حکم اپ کے علم میں ہے تو براے مہربانی بتا دیں.
     
  6. ‏فروری 10، 2016 #16
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یعنی قرآن میں بھی ذکر ہے تو بھی سے مراد ہوتا ہے کہ پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہو تو پہلی کتابیں تو بائبل میں میں عھد نامہ قدیم اور جدید موجود ہیں کیا انکی بات ہو رہی ہے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن میں ہی ہیں مگر قرآن میں لکھا ہے کہ یہ پہلی امتوں میں بھی تھے تو وہ ہمارے لیئے ضروری ہیں تو بھئی قرآن کی تو ہر چیز ہی آپ کے نظریے کے مطابق ضروری ہے چاہے وہ پہلی امتوں کا معاملہ ہو یا نہ ہو
    مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ قرآن میں کوئی بات پہلی امتوں کے حوالے سے ذکر ہو اور کوئی بات پہلی امتوں کے ذکر کے بغیر لکھی ہو تو ان دونوں میں اطاعت کے لحاظ سے کوئی فرق کیا جائے گا اس بارے سمجھا دیں شکریہ



    عمران صاحب کے مطابق قاری حنیف ڈار قرآن کے منکر

    یہاں آپ نے اپنے اصول کی توثیق کر دی کہ میں نے جونکات بشمول عائشہ والی حدیث بیان کیے ہیں انکا انکار قرآن کے حکم کے برابر ہے
    یعنی عائشہ والی حدیث کا جو انکار کرتا ہے وہ سمجھو کہ قرآن کا انکار کرتا ہے یعنی قاری حنیف ڈار نے سمجھو کہ قرآن کا انکار کر دیا کیونکہ وہ اس حدیث کا انکار کرتا ہے
    (یاد رکھیں کسی حدیث کا انکار سے مراد اسکے صحیح ہونے کا انکار بھی شامل ہے یعنی کوئی اس حدیث کو درست نہیں مانتا تو سمجھو کہ حدیث کا انکار کر دیا)

    آگے کوئی اور ہی بات آپ نے شروع کر دی ہے کہ
    عائشہ والی حدیث کیسے حکم نہیں حدیث قولی سے حکم قولی نکلتا ہے اور حدیث فعلی سے حکم عمل کے ذریعے نکلتا ہے
    دیکھیں قرآن میں نماز کا ذکر ہے لیکن جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں اسکا کہیں ذکر نہیں البتہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں اس طرح نماز پڑھنے کا احادیث میں ذکر ہے مگر وہ ذکر قولی نہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کہا ہو کہ تم ایسے رکوع کرو ایسے تشہد میں بیٹھو ایسے فلاں کام کرو بلکہ اکثر فعلی ہیں یا پھر تقریری
    پس نکاح کا کتنی عمر میں ہو جانا درست ہے اس میں آپ ﷺ کا فعلی حکم اس حدیث عائشہ سے واضح ہو رہا ہے تو اسکا انکار بھی حدیث کے حکم کا ہی انکار ہوا پھر قاری حنید ڈار قرآن کا منکر کیسے نہ ہوا

    پہلے اوپر والا مسئلہ حل ہو جائے پھر باقی اسی طرح کے مسائل بھی بتاتے ہیں
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 10، 2016 #17
    Imran Ahmad

    Imran Ahmad مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    آسان الفاظ میں جس بھی چیز کا حکم قرآن میں موجود ہے، اس کا ماننا فرض ہے. اس حکم کی تفصیلات صحیح احادیث کی روشنی میں طے کی جایئں گی.

    اس کا جواب نیچے دیا ہے ۔ قاری حنیف ڈار کا ذکر کرنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی .
    ۔
    عمران صاحب کے مطابق قاری حنیف ڈار قرآن کے منکر
    [/H2]

    ۔

    آگے کوئی اور ہی بات آپ نے شروع کر دی ہے کہ

    عائشہ والی حدیث کیسے حکم نہیں حدیث قولی سے حکم قولی نکلتا ہے اور حدیث فعلی سے حکم عمل کے ذریعے نکلتا ہے
    دیکھیں قرآن میں نماز کا ذکر ہے لیکن جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں اسکا کہیں ذکر نہیں البتہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں اس طرح نماز پڑھنے کا احادیث میں ذکر ہے مگر وہ ذکر قولی نہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کہا ہو کہ تم ایسے رکوع کرو ایسے تشہد میں بیٹھو ایسے فلاں کام کرو بلکہ اکثر فعلی ہیں یا پھر تقریری
    پس نکاح کا کتنی عمر میں ہو جانا درست ہے اس میں آپ ﷺ کا فعلی حکم اس حدیث عائشہ سے واضح ہو رہا ہے تو اسکا انکار بھی حدیث کے حکم کا ہی انکار ہوا پھر قاری حنید ڈار قرآن کا منکر کیسے نہ ہوا

    یہ اپ کا ذاتی خیال ہے. حضرت عائشہ والی حدیث نہ قولی حکم ہے اور نہ فعلی. یہاں پر شادی کی عمر ثابت نہیں کی جا رہی. شادی ضروری نہیں کہ اس عمر میں ہی کی جائی گی جس کا تذکرہ اس حدیث میں ہے. نماز والا معاملہ بلکل مختلف ہے. نماز کے بارے میں حدیث ہے کے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ویسے پڑھی جائی گی.
    اپ کے اصول کی روشنی میں تو کد و کھانا اور اونٹ پر سوار ہونا بھی فرض ہو جائی گا.




    پہلے اوپر والا مسئلہ حل ہو جائے پھر باقی اسی طرح کے مسائل بھی بتاتے ہیں[/QUOTE]
     
  8. ‏فروری 10، 2016 #18
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پس آخر آپ نے مان لیا کہ جو پیچھے آپ نے سنت ابراھیمی کی بات کی تھی اسکی کوئی ضرورت نہیں بلکہ جو چیز بھی قرآن میں ہے اس پہ عمل کرنا لازمی ہے پیچھے وہ کسی زمانے میں سنت ہو یا نہ ہو
    اس فرق کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل قرآن کا موقف کچھ اور ہے اور غامدی تھوڑا سے اور معاملہ کر کے بیچ میں سنت ابراھیمی کو بھی لے آتا ہے پس آپ غامدی والے نہیں یعنی سنت ابراھیمی ہونے یا نہ ہونے کا پتا صرف قرآن سے ہی چل سکتا ہے یا احادیث سے ۔ شکریہ

    نیچے جواب درست نہیں دیا کیونکہ اوپر آپ نے یہ مانا کہ نکاح کی عمر کا معاملہ قرآن ی معاملہ ہے پس آپ کے اصول کے مطابق اسکے بارے جو بھی حدیث ہو گی وہ درست ہو گی اور لازمی اس پہ عمل کرنا ہو گا وہاں آپ نے حدیث کے درست ہونے کی بات کی تھی آپ کہیں تو میں وہاں سے اقتباس لے کر بتا دیتا ہوں

    اب عائشہ والی حدیث کو تو ہمیں درست ماننا ہے اب اس میں حکم کیا ہے تو حکم قرآن کا ہے کہ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول پس اس میں یہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کی پس یہ شادی کرنا اس عمر میں جائز ہو جائے گا البتہ کرنا لازمی نہیں مگر اس شادی کو غلط نہیں کہ سکتے کوئی نہ کرنا چاہئے تو بھی بالکل درست ہو گا

    بھئی ہم نے یہ نہیں کہا کہ لازمی اس عمر میں شادی کی جائے گی بلکہ یہ کہا ہے کہ اس عمر میں شادی کرنا ممنوع نہیں رہے گا جیسے آپ نے کدو کا کہا تو کدو کھانا فرض تو نہیں مگر ممنوع بھی نہیں البتہ اس حدیث کو ماننا لازمی ہو گا کہ آپ نے اس عمر میں شادی کی ہے
     
    Last edited: ‏فروری 10، 2016
  9. ‏فروری 11، 2016 #19
    Imran Ahmad

    Imran Ahmad مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2016
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

     
  10. ‏فروری 11، 2016 #20
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,979
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله -
    .
    میرا خیال میں یہاں دوستوں میں اس بات میں مغالطہ ہورہا ہے کہ داڑھی کی اصل شرعی حیثیت کیا ہے؟؟ - اس کے بارے میں علماء میں بھی اختلاف ہے -کچھ داڑھی کی فرضیت کے قائل ہیں تو کچھ اس کے وجوب کے قائل ہے تو کچھ اس کو صرف سنّت کے زمرے میں سمجھتے ہیں-البتہ اگر داڑھی منڈھوانے کو مجوسیوں کی مشابہت کی بنا پر حرام قرار دیا جائے - تو پھر ہمارے اکثرموجودہ لباس بھی ایسے ہیں جو مجوسیوں سے مشابہت رکھتے ہیں یا ان ہی کے ایجاد کردہ ہیں- تو وہ بھی پھر "حرام" کے زمرے میں آئیں گے - جیسے ٹائی وغیرہ جو مجوسیوں کے لباس کا حصّہ ہے- لیکن کچھ بھائی ہو سکتا ہے کہ ٹائی کے حق میں دلائل دیں- کیوں کہ ان کے کچھ پسندیدہ علماء آجکل ٹائی میں نظر آتے ہیں- جب کہ جو چیز غلط ہے سو غلط ہے-

    دوسرے یہ کہ جن روایات میں داڑھی رکھنے کا حکم متواتر کے طور پرآیا ہے اتنا ہی ان روایات میں مونچھیں کتروانے کے حکم بھی متواتر کے طور پر موجود ہے- لیکن ہمارے ہاں اکثر لوگ ایک سنّت کی محافظت کرتے ہوے دوسری سنّت کی مخالفت کر بیٹھتے ہیں - یعنی داڑھی تو بڑھائی ہوتی ہے لیکن مونچھیں بھی خوب رکھی ہوتی ہیں-
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں