1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

درود بھیجنے سے متعلق کچھ احادیث کی اسناد

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از مسلم, ‏جولائی 12، 2011۔

  1. ‏جولائی 12، 2011 #1
    مسلم

    مسلم مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2011
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    20
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم،
    اس فورم پر سوالات و جوابات والے سیکشن میں ایک سوال اور اس کا جواب دیکھا (جو کہ یہ ہے) جہاں سوال میں حدیث کےلیے سنن نسائی کا حوالہ ہے جو کہ ابوالحسن علوی صاحب کو سنن نسائی میں نہ مل سکا، جس پر مجھے تجسس ہوا کہ مصنف نے سنن نسائی کا حوالہ کیوں دیا ہے۔ کافی تلاش کے بعد کچھ ملا مگر وہ بھی عربی میں مجھے عربی نہیں آتی مگر شاید اس میں تنبیہ کی گئی ہے کچھ احادیث کے بارے میں جو کہ درود بھیجنے سے متعلق ہیں۔ وہ پوری عربی پوسٹ میں یہاں اقتباس میں شامل کر رہا ہوں۔
    آپ احباب سے گزارش ہے کہ اس سے متعلق اردو میں آگاہ فرمائے کہ اس میں کیا کہا گیا ہے؟
    بہت مشکور رہوں گا۔

     
  2. ‏جولائی 27، 2011 #2
    مسلم

    مسلم مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2011
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    20
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم،
    کیا کوئی بھی بھائی اس سلسلے میں مدد نہیں کر سکتا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  3. ‏جولائی 27، 2011 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    641


    یہ وہ روایت ہے کہ جس کے بارے اس پوسٹ میں سوال ہوا تھا۔ اس روایت کو امام ابن قیم رحمہ اللہ نے ’جلاء الافھام‘ میں نقل کیا ہے۔ اس روایت کو اس عبارت میں ضعیف کہا گیا ہے کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ’ابو بکر الہذلی ضعیف‘ ہے۔
    یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ ’سنن البیھقی‘ سے بھی یہاں نقل کی گئی ہے اور اس روایت کو بھی ایک راویہ ’حکامہ بنت عثمان بن دینار‘ کے ضعیف ہونے کے سبب سے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں