1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دستور پاکستان 1973ء میں آرٹیکل 62،63 کیا ہے؟

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏مارچ 18، 2013۔

  1. ‏مارچ 18، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    دستور پاکستان 1973ء میں آرٹیکل 62،63 کیا ہے؟


    وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 65برس سے بھی زائد بیت چکے ہیں مگر پھر بھی ہمارے یہاں جمہوری روایات صحیح معنوں میں پروان نہ چڑھ سکیں جس کی سب سے بڑی وجہ بار بار آمریت کے نفاذ کو قرار دیا جاتا ہے۔

    گو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک وجہ یہ بھی ہے مگر اب ہم جس قسم کے جمہوری دور سے گزر رہے ہیں اس کے بعد ہر ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر ہمارے ہاں جمہوری نظام کیوں عوام کے لئے خاطر خواہ طور پر مفید ثابت نہیں ہو رہا ۔ اشرافیہ کو تو سب ٹھیک لگتا ہے، چاہے جمہوریت ہو یا آمریت ،کیونکہ ان کی ہر دور میں سنی جاتی ہے، مگر 80فیصد عوام کا کیا کریں جو ہر دور میں حا لات کی چکی کے دونوں پاٹوں میں ہمیشہ سے بری طرح پستے آئے ہیں ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام ہر حال میں آمریت سے بہتر ہے اور اگر جمہوری نظام کو صحیح معنوں میں لاگو کر کے بہترین عوامی نمائندوں کا انتخاب کیا جائے تو چند ہی سالوں میں اس کا نتیجہ ملک وقوم کی ترقی کی صورت میں نکلے گا ۔

    بدقسمتی سے ہمارے یہاں جمہوری نظام کا رونا تو پورے زور و شور سے رویا جاتا ہے مگر جب اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کی باری آتی ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے تحت ڈنڈی مارنے لگتی ہیں۔ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پارٹی الیکشن کرانے کی پابند ہیں مگر سوائے تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور اکا دکا جماعتوں کے کبھی کسی نے پارٹی الیکشن نہیں کروائے اور یہیں سے پارٹیوں میں آمریت یا وراثتی سیاست کی ابتدا ہوجاتی ہے۔

    تحریک انصاف کے تو ابھی حال ہی میں پارٹی الیکشن ہوئے ہیں ، اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے بھی یہ پہلے پارٹی الیکشن ہیں اس سے قبل اس میں بھی عہدوں کے لئے نامزدگی ہوتی تھی ، جبکہ دیگر سیا سی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود اپنی سابقہ روش کو برقرار رکھا اور پارٹی اجلاس بلا کر تمام پارٹی عہدیداروں کوبلامقابلہ منتخب کرا کے پارٹی الیکشن کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہے، اگر آئین کی رو سے دیکھا جائے تو انھوں نے اس پر مکمل عمل نہیں کیا۔

    سیاسی پارٹیوں میں آمریت کی وجہ سے پہلے سے ہی جیتنے والے سیاستدان پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، چاہے وہ جیسے بھی اچھے یا گھٹیا ہتھکنڈوں کو آزما کر کامیاب ہوئے ہوں۔ پارٹی ٹکٹوں کے حصول میں بھی پیسے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور پسندیدہ حلقہ حاصل کرنے کے لاکھوں روپے ڈونیشن( نذرانہ ) پیش کیا جاتا ہے۔ لاکھوں ،کروڑوں روپے الیکشن پر لگانے والے یہ پروفیشنل سیاستدان ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ کم اور اپنی دولت کو دن دوگنا رات چوگنا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، یوں کرپشن کی روایت کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہے۔

    جب انتخابات کا مرحلہ قریب آتا ہے تو پارٹیوں کے نامزد کردہ اور آزاد امیدوارکا غذات نامزدگی جمع کرواتے ہیں، جس کے بعد گیند الیکشن کمیشن کے کورٹ میں آجاتی ہے یعنی اس کے کندھوں پر بھاری ذمے داری ہوتی ہے کہ ان امیدواروں میں سے اہل افراد کا چنائو کرے کہ کون الیکشن لڑنے کے قابل ہے، اس کے لئے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 موجود ہیں، اگر ان آرٹیکلز کے تحت امیدواروں کا چنائو ہوتا رہتا تو آج صورتحال مکمل طور پر مختلف ہوتی مگر اس سلسلے میں ہمیشہ مصلحت سے کام لیا گیا یا پھر غفلت برتی گئی۔

    اگر ان آرٹیکلز کے تحت دیکھا جائے تو سیاستدانوں کی موجودہ لاٹ میں سے اکثریت آدھی شقیں بھی پوری کرتی دکھائی نہیں دیتی، ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آج تک یہ آرٹیکلز زیر بحث ہی نہیں آئے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت ان سے لاعلم ہی تھی، وہ تو بھلا ہو تحریک منھاج القران کے قائد علامہ طاہر القادری کا کہ انھوں نے اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ، یوں عوام کی دلچسپی بھی بڑھ گئی اور میڈیا نے بھی اس مسئلے پر خوب لتے لئے ، اب موجودہ الیکشن کمیشن نے ان آرٹیکلز کو مکمل طور پر لاگو کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے سیاسی ایوانوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ، گویا آئین کو بنانے والے اور اس کے رکھوالے سیاستدان آئین کو دوسروں پر لاگو کرنا چاہتے ہیں مگر جب اپنی باری آتی ہے تو سیاسی بیانات داغنے اور تحفظات کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

    یوں الیکشن کمیشن پر دبائوبڑھا کر اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہر حال میں الیکشن لڑیں اور پھر قومی خزانے کی بہتی گنگا میں من چاہا اشنان کرسکیں ۔ مگر اب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ الیکشن کمیشن ہر حال میں آئین کی پاسداری کرنا چاہتا ہے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے اب یہ انتہائی ضروری بھی ہو گیا ہے تاکہ ایسے عوامی نمائندے ہی الیکشن لڑیں جو صحیح معنوں میں ان آرٹیکلز میں طے کردہ معیار پر پورے اترتے ہوں۔

    آرٹیکل 63,62 کا متن


    آرٹیکل 62:

    شرائط اہلیت ممبران مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ):

    1۔ کوئی شخص اہل نہیں ہو گا، رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا،بطور ممبر مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کے،ماسوائے یہ کہ:

    2۔ نا اہلیت مندرجہ پیرا گراف (د) اور (ہ) کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہ ہو گا، جو نان مسلم ہو لیکن ایسا شخص اچھی شہرت کا حامل ہو۔

    آرٹیکل 63:

    نا اہلیت برائے ممبر شپ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ):

    1۔ کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کیلئے نا اہل ہو گا، اگر
    مگر شرط یہ ہے ، کہ اس پیرے کے تحت نا اہلیت کا اطلاق کسی شخص پر نہیں ہو گا،

    تشریح۔ اس آرٹیکل میں ’’مال‘‘ میں زرعی پیداوار یا جنس ، جو اس نے کاشت یا پیدا کی ہو، یا ایسا مال شامل نہیں ہے ، جسے فراہم کرنا اس پر حکومت کی ہدایت یا فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت فرض ہو، یا وہ اس کے لئے پابند ہو۔

    س: وہ پاکستان کی ملازمت میں حسب ذیل عہدوں کے علاوہ کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو، یعنی:

    اول۔ کوئی عہدہ جو ایسا کل وقتی عہدہ نہ ہو، جس کا معاوضہ یا تو تنخواہ کے ذریعے یا فیس کے ذریعے ملتا ہو،

    دوم۔ نمبردار کا عہدہ خواہ اس نام سے یا کسی دوسرے نا م سے موسوم ہو۔

    سوم۔ قومی رضا کار

    چہارم۔ کوئی عہدہ جس پر فائز شخص مذکورہ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کسی فوج کی تشکیل یا قیام کا حکم وضع کرنے والے کسی قانون کے تحت فوجی تربیت یا فوجی ملازمت کے لئے طلب کیے جانے کا مستوجب ہو، یا

    ع: اگر اس نے قرضہ دو ملین روپیہ یا زیادہ لیا ہے ، کسی بینک ، فنانشل ادارے ، کو آپریٹو سو سائٹی یا کو آپریٹو باڈی سے، اپنے نام پر ، یا اپنی بیوی ؍ خاوند یا بچوں کے نام پر ، جو ایک سال تک واپس ادائیگی نہ ہو سکی ہو، یا اس قرضہ کو معاف کروایا گیا ہو۔

    غ: وہ یا اس کی بیوی ، یا کفالت کار ، کوتاہی کر چکے ہوں، گورنمنٹ بقایا جات میں ، یوٹیلٹی بلز اخراجات میں ، بشمولہ ٹیلیفون ، بجلی ، گیس اور پانی چارجز زائد از دس ہزار روپیہ چھ ماہ تک ، دائری کاغذات نامزدگی تک۔

    ف: اسے فی الوقت نافذالعمل کسی قانون کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا ہو۔

    تشریح۔ اس پیرا گراف کے مقصد کے لئے ’’قانون‘‘ میں شامل نہ ہو گا، وہ قانون جو کسی آرڈیننس زیر آرٹیکل89-128کے ذریعے نافذ کیا گیا ہو۔

    2۔ اگر کوئی سوال اٹھے کہ آیا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کوئی رکن ، رکن رہنے کے لئے نا اہل ہو گیا ہے تو اسپیکر یا جیسی بھی صورت ہو چیرمین ، ماسوائے اس کے وہ فیصلہ کرے کہ یہ سوال پیدا نہ ہوا ہے ، اس سوال کو الیکشن کمیشن کو ریفر اندر معیاد تیس یوم کرے اور اگر وہ نہ بھیجے تو یہ تصورکیا جائے گا کہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے گا۔

    3۔ الیکشن کمیشن اس سوال کو اندر نوے یوم فیصلہ کرے گا اور اگر اس کی رائے میں ممبر نا اہل ہو گیا ہے، تو اس کی ممبر شپ تحلیل ہو جائے گی اور اس کی سیٹ خالی ہو جائے گی۔

    لنک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں