1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دفاع بخاری -- صحیح بخاری میں بدعتی راوی ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از باذوق, ‏اکتوبر 11، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 11، 2011 #1
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    ناصبی حضرات وہ ہیں جو بلاجواز اہل بیت (رضی اللہ عنہم) پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔
    امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح بخاری پر ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ انہوں نے ایک ناصبی سے روایت لی مگر اہل بیت کے امام جعفر صادق (رحمۃ اللہ علیہ) کے حوالے سے صحیح بخاری میں ایک بھی روایت موجود نہیں۔

    ایسا ہی ایک اعتراض حبیب اللہ ڈیروی صاحب کی کتاب "ہدایہ علماء کی عدالت میں" کے صفحہ:161 پر ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔۔۔
    راقم کی ناقص معلومات کی حد تک صحیح بخاری میں حريز بن عثمان بن جبر بن أحمر بن أسعد سے مروی صرف 2 روایات یوں ملتی ہیں : (اردو تراجم : داؤد راز)

    (1)
    صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، آن لائن لنک
    حدثنا عصام بن خالد ، حدثنا حريز بن عثمان أنه سأل عبد الله بن بسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " أرأيت النبي صلى الله عليه وسلم كان شيخا ، قال : كان في عنفقته شعرات بيض " .
    ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔

    (2)
    صحیح بخاری ، کتاب المغازی ، آن لائن لنک
    حدثنا علي بن عياش ، حدثنا حريز ، قال : حدثني عبد الواحد بن عبد الله النصري ، قال : سمعت واثلة بن الأسقع ، يقول : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن من أعظم الفرى أن يدعي الرجل إلى غير أبيه أو يري عينه ما لم تر أو ، يقول : على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل " .
    ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالواحد بن عبداللہ نصری نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی ، اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو ۔

    اصول حدیث میں یہ معروف ہے کہ کسی (ثقہ) بدعتی سے روایت لینا ناجائز نہیں ہے۔
    حبیب اللہ ڈیروی صاحب کے استاذ گرامی مولانا سرفراز صاحب صفدر اپنی مشہور مناظرانہ کتاب "احسن الکلام" میں لکھتے ہیں :
    لہذا اگر صحیح بخاری میں ناصبی بدعتی کی روایات موجود ہیں تو یہ کوئی خراب بات نہیں۔
    دوسرے ، ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس ناصبی راوی (حریز بن عثمان) کی وفات بھی ناصبیت پر ہی ہوئی تھی؟
    حالانکہ امام بخاری (رحمۃ اللہ) خود فرماتے ہیں کہ : حریز (رحمۃ اللہ) نے ناصبیت سے رجوع کر لیا تھا۔
    چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری کے مقدمہ "ھدی الساری" میں امام بخاری کے مشہور استاذ امام ابوالیمان حکم بن نافع الحمصی (جو حریز بن عثمان کے شاگرد اور ہموطن تھے) کا ایک قول ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ :
    وقال البخاري قال أبو اليمان كان حريز يتناول من رجل ثم ترك قلت فهذا أعدل الأقوال فلعله تاب
    اعدل قول یہی ہے کہ حریز نے ناصبیت سے رجوع کر لیا تھا اور شاید انہوں نے ناصبیت سے توبہ کر لی تھی۔
    ھدی الساری ، ج:1 ، ص:396 ، آن لائن لنک

    اور پھر تہذیب التہذیب میں حافظ عسقلانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ :
    وإنما أخرج له البخاري لقول أبي اليمان أنه رجع عن النصب
    امام بخاری نے ابوالیمان کے اس قول (کہ حریز بن عثمان نے ناصبیت سے رجوع کر لیا تھا) کی بنا پر حریز کی احادیث کی تخریج کی ہے۔
    تہذیب التہذیب ، ج:2 ، ص:436 ، ڈاؤن لوڈ لنک

    لہذا جب امام بخاری کے نزدیک حریز بن عثمان کا یہ رجوع ثابت ہے تو انہوں نے حریز سے روایات لے کر کوئی جرم نہیں کیا۔

    حبیب اللہ ڈیروی صاحب نے "تہذیب" کے حوالے سے حریز پر ناصبیت کا اعتراض تو ضرور نقل کیا مگر اسی "تہذیب" میں امام بخاری نے اپنے استاذ کے حوالے حریز کے ناصبیت سے رجوع کرنے کی جو بات کہی ، اسے نقل کرنے سے شاید چوک گئے ہیں۔
    ***

    علم حدیث کی دنیا میں یہ قول مشہور ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ نے صحیح بخاری میں تمام ہی ثقہ راویوں سے روایات نہیں لی ہیں۔ اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ امام بخاری نے تمام صحیح احادیث کا استیعاب "صحیح بخاری" میں نہیں کیا ہے۔
    جیسا کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
    الموقظه ومن الثقات الذين لم يخرج لهم في الصحيحين خلق
    ثقہ راویوں کی کثیر تعداد سے صحیحین میں روایت نہیں لی گئی ہے۔
    بحوالہ : الموقظة , ص:81 ، آن لائن لنک

    اور پھر ۔۔۔۔ فن حدیث کے ماہرین فرماتے ہیں کہ جس ثقہ راوی سے امام بخاری اپنی صحیح میں روایت نہ لیں تو وہ راوی باعث جرح نہیں ہوتا۔
    جیسا کہ علامہ ماردینی لکھتے ہیں :
    فلا يضره كون الشيخين لم يحتجا به فإنهما لم يلتزما الاخراج عن كل ثقة على ما عرف فلا يلزم من كونهما لم يحتجا به أن يكون ضعيفا
    کہ اس راوی سے شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کا احتجاج نہ کرنا (راوی کے) نقصان کا باعث نہیں کیونکہ انہوں (شیخین) نے ہر ثقہ راوی سے روایت لینے کا التزام نہیں کیا ، جیسا کہ معروف ہے۔ لہذا شیخین کا احتجاج نہ کرنا اس (راوی) کے ضعف کا باعث نہیں ہے۔
    بحوالہ : الجوهر النقي , المؤلف: المارديني , الجزء: 1 , ص:192 ، آن لائن لنک

    لہذا ثابت ہوا کہ حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ سے اگر امام بخاری رحمۃ اللہ نے "صحیح بخاری" میں کوئی روایت نہیں لی ہے تو انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ ہی امام بخاری رحمۃ اللہ کے اس طرز عمل سے حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ کا کوئی ضعف ہی واضح ہوتا ہے۔


    شکریے کے ساتھ استفادہ بحوالہ کتاب : امام بخاری رحمۃ اللہ پر بعض اعتراضات کا جائزہ (ارشاد الحق اثری)
     
    • شکریہ شکریہ x 13
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 11، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اکتوبر 11، 2011 #3
    محمد فہد

    محمد فہد مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    172
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جزاک اللہ خیرا ، اس حوالے سے ایک اور مضمون الحدیث کے اپریل کے شمارے میں "صحیح بخاری اور طاہرالقادری " کے نام سے پڑھنے کو ملا ، جس میں یہی اعتراضات طاہرالقادری کی طرف سے کیے گئے تھے اور ان کا جواب دیا گیا تھا ، اور جواب مختصرا وہی دیا گیا ہے جو اوپر بیان کر دیا گیا ہے ، کسی بھائی کو اور تفصیل سے پڑھنا ہو تو مندرجہ ذیل شمارے سے پڑھ سکتا ہے ۔
    http://www.ircpk.com/Mujalat/Al-Hadith/AL-HADITH_83.pdf
     
  4. ‏اکتوبر 12، 2011 #4
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    بہت شکریہ بھائی کہ آپ نے شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے مضمون "صحیح بخاری اور طاہر القادری پارٹی" کی طرف توجہ دلائی جو کہ الحدیث حضرو (شمارہ:83) کے ص:7 تا ص:15 پر پھیلا ہوا ہے۔ یقیناً اس موضوع پر یہ بھی ایک نہایت اہم اور مفید مقالہ ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔
    اس تھریڈ میں جو یونیکوڈ کمپوز شدہ مضمون لگایا گیا ہے ، یہ بھی ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی کتاب بعنوان "امام بخاری رحمۃ اللہ پر بعض اعتراضات کا جائزہ" کے صفحات:124-126 پر موجود ہے۔
    میرا اور میرے ساتھ میرے ہم نوا ساتھیوں کا یہ نقطہ نظر ہے کہ الفاظ / فقرہ تلاش [searching] میں سہولت کی خاطر ایسے تمام اہم مقالات و مضامین کو یونیکوڈ اردو میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اس جانب اب قدم اٹھایا جا رہا ہے مگر اس کا تقابل جب باطل کے افکار کی ترویج کی رفتار سے کیا جائے تو مزاج پژمردہ ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے جتنا کام جتنی سنجیدگی سے کیا جانا چاہیے اس کی طرف توجہ دینے کے بجائے ہمارے ہی بعض مخلص اور دردمند ساتھی کچھ غیرضروری مناظروں میں خود کو الجھائے ہوئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو حق کی زیادہ سے زیادہ ترویج کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

    پس نوشت :
    گوگل سرچ میں یہ الفاظ تلاش کر کے دیکھئے :
    صحیح بخاری حریز بن عثمان ناصبی راوی
    نتیجہ میں جو بھی لنک سب سے اوپر بتایا جائے گا ، وہ اسی مضمون کا لنک ہے۔ اور اسی بات سے ہمارا موقف واضح ہے کہ آج جو نسل انفارمیشن کے حصول کے لیے سرچ انجنز کی مدد لیتی ہے ، اس نسل تک اپنی بات کو پہنچانے کیلیے پی۔ڈی۔ایف یا تصویری اردو کے مقالہ جات یا کتب کی نہیں بلکہ یونیکوڈ تحریری اردو کی اہمیت ہے۔ کاش کہ یہ بات ہمارے دور کے موقر و معتبر علماء تک بھی پہنچے !!!
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 21، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ماشاءاللہ ، خوب مضمون ۔
    فورمز کی دنیا میں ایک عرصہ تک ’ @باذوق ‘ رہے ، لیکن چند سالوں سے ان فورمز سے بے ذوق ہوئے پھرتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 03، 2018 #6
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,075
    موصول شکریہ جات:
    4,418
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    طاہر القادری کی کتاب
    امام اعظم اور امام بخاری
    دوہ صحیح البخاری یوکے
    کا رد اگر کسی نے کیا ہے تو رہنمائی فرمائیں ۔
     
  7. ‏اکتوبر 16، 2018 #7
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    388
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    صحییح امام بخاری پر ایک اعتراض اس کے الٹ بھی ہے یعنی اس مین شیعہ راوی بھی ہیں ۔۔۔براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں