1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دنیاوی معاملات میں کافروں کی مدد کرنا کیسا ہے ؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏جنوری 14، 2019۔

  1. ‏جنوری 14، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    865
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اس متعلق جلد از جلد جواب عنایت کریں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔ جزاک اللہ خیرا
    @اسحاق سلفی
     
  2. ‏جنوری 14، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    " تعاون " وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے ،تعاون کی کئی انواع ہیں ، معلوم نہیں آپ تعاون کی کون سے نوع کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ،
    البتہ " تعلقات " کی دو تین صورتیں پیش ہیں ،

    بے ضرر کفار سے حسن سلوک کا حکم
    جو کفار مسلمانوں سے محض دین اسلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے
    ان کفار سے عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔
    لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8) إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (9)
    ترجمہ: جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تم کو منع نہیں کرتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اللہ ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں (سورۃ الممتحنہ،آیت 8-9)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تفسیر احسن البیان میں ہے :
    یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین اسلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے
    دوسری شرط یہ ہے کہ (وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ )
    یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہوجاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔
    (لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ )
    یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن سلوک کرنے کا پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلی امک۔ صحیح مسلم۔ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اگر کوئی کافر یا مشرک مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
    عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه:أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في أسارى بدر: (لو كان المطعم بن عدي حيا، ثم كلمني في هؤلاء النتنى، لتركتهم له). (رواہ البخاری)
    جناب جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا کہ " اگر معطم بن عدی آج زندہ ہوتا اور مجھ سے ان گندے قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کرتا تو میں انہیں اس کی خاطر رہا کر دیتا۔"
    وضاحت: معطم بن عدی مشرک تھا لیکن رسول اکرم ﷺ جب طائف سے افسردہ اور زخمی حالت میں تشریف لائے تو مکہ میں داخل ہونے کے لیے معطم بن عدی نے آپ ﷺ کو پناہ دی تھی اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے آپ ﷺ نے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے۔ "
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو کفار اہل اسلام سے تعاون اورحسن سلوک کریں ،ہمیں بھی اسلام اور مسلمین کے مقاصڈ و مفادات کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے حسن سلوک کرنا جائز ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر کوئی کافر یا مشرک اسلامی تعلیمات سمجھنا چاہے تو اسے پناہ دے کر دین کی تعلیمات سمجھانی چاہئیں اگر وہ ایمان نہ لائے تو اسے بحفاظت اس کے ٹھکانے کاحکم ہے۔
    وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ (6)
    ترجمہ: اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ الله کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ بے سمجھ ہیں (سورۃ التوبہ،آیت 6)

    دینی مفاد کے پیش نظر کافر یا مشرک کی عیادت کرنا جائز ہے۔
    عن أنس رضي الله عنه: أن غلاماً ليهود، كان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، فمرض فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقال: (أسْلِمْ). فأسْلَمَ (رواہ البخاری)
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے )عیادت کے بعد) اسے فرمایا "مسلمان ہو جا" اور وہ مسلمان ہو گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خلاصہ یہ کہ :
    کفار سے تعلقات اور رابطےاسلام اور اہل اسلام کے مفادات اور مقاصد سے مشروط ہیں ،
    یعنی ان سے تعلقات اسی وقت تک ہی رکھے جاسکتے ہیں جب تک یہ تعلقات اسلام کے مقاصد اور مسلمین کے مفادات کے خلاف نہ ہوں ،اور اگر ان تعلقات سے اسلام کے مقاصد پر ذرا سی بھی زد پڑتی ہو تو ان سے تعلقات کا کوئی جواز نہ ہوگا ۔
    ایک پاکستانی عالم نے یہی بات اختصار کے ساتھ بڑے اچھے پیرائے میں بیان کی ہے :
    لکھتے ہیں :
    کفار کے ساتھ تعلقات کی چار قسمیں ہیں۔
    1۔ موالات :
    یعنی قلبی محبت اور دوستی، یہ کسی غیر مسلم سے کسی بھی حال میں قطعاً جائز نہیں۔
    2۔ مواسات : یعنی ہمدردی خیر خواہی اور نفع رسانی، اس کی اجازت ہے لیکن جو کفار مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار ہوں ان کے ساتھ اس کی بھی اجازت نہیں۔
    3۔ مدارات : یعنی ظاہری خوش خلقی اور رکھ رکھاؤ، یہ بھی غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، بشرطیکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہچانا ہو یعنی اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو ، یا وہ کبھی بحیثیت مہمان آئے ہوئے ہوں یا ان کے شر اور فتنہ سے خود کو بچانا مقصود ہو۔
    4۔ معاملات : یعنی کفار سے تجارت، صنعت و حرفت اور کاروباری روابط رکھنا، یہ بھی جائز ہیں البتہ اگر ایسی حالت ہو کہ اس سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو جائز نہیں ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    لیکن یاد رہے :
    ہم نے کفار سے تعلقات اور رابطہ کے متعلق بات کی ہے جس میں کچھ صورتیں تعاون کہلا سکتی ہیں،
    تاہم عالمی سطح پرموجودہ صورتحال اور بالخصوص پاکستان کی صورتحال کے تناظر اور پس منظر میں ۔۔
    تعاون ۔۔ کا عنوان نازک اور خطرناک ہے ،
    جو ہندوستان کے مسلم بھائیوں کے حالات سے بہت مختلف ہے ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 14، 2019
  3. ‏جنوری 14، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    865
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں