1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دین میں جبر نہیں؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏دسمبر 10، 2019۔

  1. ‏دسمبر 14، 2019 #11
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محمد علی ، محمد طارق اور عبد الخیر صاحبان
    السلام علیکم
    آپ سب حضرات سے میر ی یہ گذارش ہے کہ میرا بنیادی سوال جزیہ کا ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے۔ میں یہ کہنا پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ جب مسلمان طاقتور ہوں تو کسی بھی آزاد غیر مسلم ملک پر جو فتنہ کا باعث نہ بن رہا ہو اس پر اسللام کی دعوت کے بعد حملہ کرنا جائز ہے ؟ (انکار کی صورت میں)
    میں اس کو جبر سے تعبیر کررہا ہوں ۔ آپ لوگ سب جزیہ پر بات کر رہے ہیں۔
     
  2. ‏دسمبر 14، 2019 #12
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276


    جواب تو محترم مقبول بھائی نے دیا ، آپ مزید الجھے تو محترم جواد بھائی نے سلجھانیکی کوشش کی ، خیر جواب تو واضح تھا ۔ اب جیسا سوال تھا اور ظاہری جو مسائل تھے جواب میں تفصیلا گفتگو ہوئی ، پھر جواد بھائی نے "جبر" پر کہا یہ 2 آپشنز تو ہیں ہی موجود جبر کیسا؟

    اب اس حالیہ مراسلہ کو اپنے پہلے مراسلے سےملائیں ، جانچیں کہ واقعی آپ اسی کو جبر سمجھتے تھے یا کہ پس تحریر کچھ ابھر آیا ھے !

     
  3. ‏دسمبر 14، 2019 #13
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم طارق بھائی
    میں اپنے سوال سے نہیں ہٹا ہوں آپ پھر سے میرا پہلا مراسلہ پڑھیں، میں نے یہ کہا تھا کہ جب کوئی ملک آپ کی اسلام کی دعوت قبول نہیں کرتا تو اس سے یہ کہنا جزیہ دو یا پھر جنگ کرو۔
    کسی کو بھی فیصلہ کرنے کے لئے اپنے آپشن دینا ہی جبر ہے ۔ کہ تم یہ کرو ورنہ پھر یہ تو کرنا پڑے گا۔
    میرے مخاطب وہ غیر مسلم نہیں جو پہلے سے ہی اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہیں بلکہ وہ جن پر مسلمان حملہ آور ہوں ۔اور وہ غیر مسلم جنگ نہ کرنا چاہتے ہوں۔
    جبر لاگو اس وقت ہوگا جب کوئی غیر مسلم مسلمان ہوجاتاہے ۔پھر آپ کو اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے ۔ پھر آپ کا اچھا لگے نہ لگے آپ کو اسلام کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔کیونکہ آپ اسلام اختیار کرنے میں آزاد تھے۔
     
  4. ‏دسمبر 14، 2019 #14
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    محترم بھائی! دین اسلام کا مقصد صرف اسلام کی دعوت(توحید) کو عام کرنا ہی نہیں بلکہ تمام مخلوق کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا بھی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (هو الذي أرسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره الكافرون) یعنی وہ وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت و دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد غیر مسلم ملک اپنی رعایا کے ساتھ بحیثیت مجموعی عدل و انصاف کا معاملہ کر رہا ہے؟ اگر آپ کا جواب نفی ہے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ وہاں اسلام کی بالادستی ہو تاکہ اللہ کی مخلوق چین و سکون سے رہے، اسلام نے اسی عدل و انصاف کو قائم رکھنے کے لئے جزیہ کا آپشن رکھا ہے اور اس کے عوض میں کافروں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اگر وہ ان کی جان و مال و عزت کی حفاظت نا کر سکیں تو ان کو جزیہ لینے کا کوئی حق نہیں، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان اپنی کمزوری کے باعث جب کافروں کی حفاظت نہیں کر سکے تو انہوں نے جزیہ کو نہیں لیا بلکہ معاف کر دیا، یہ بھی یاد رہے اسلام نے جزیہ ان کافروں پر لاگو کیا ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں اور جو استطاعت نہیں رکھتے ان کی حفاظت کی ذمہ داری بغیر جزیہ کے بھی ضروری ہے،
    اگر جواب إثبات میں ہے تو آپ غلط سوچتے ہیں کیونکہ اسلام سے ہٹ کر عدل و انصاف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،
     
  5. ‏دسمبر 14، 2019 #15
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم ،
    اسلام میں عدل و انصاف خلفاء راشدین کے زمانے تک ہی تھا ۔ اس کے بعد تو عدل و انصاف خال خال ہی نظر آتا ہے ۔ موجودہ وقت میں آپ مسلمانوں کے مرکز یعنی سعودی عرب کو دیکھ لیں کہ وہاں عدل و انصاف کی کیا حالت ہے ۔ وہاں کے علماء کس حد تک آزاد ہیں ۔ عربی کو عجمی پر فوقیت حاصل ہے ۔
    اس کے برعکس یورپ و امریکہ میں 100 فیصد تو نہیں لیکن کافی حدتک عدل و انصاف ہے ۔ ایک عام عورت امریکی صدر کو کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہے ۔
    آپ جس عدل و انصاف کی بات کر رہے ہیں وہ شاید حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت مہدی کے زمانے میں نظر آئے ۔ اس سے پہلے تو اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

    کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ سعودی عرب حکمران کو کوئی عام آدمی عدالت میں چیلنچ کر سکتا ہے۔ موصوف نے حال ہی میں جدہ میں ایک نئے سینما کا افتتاح کیا ہے ۔ کسی مفتی اور عالم کی چھوٹی سی آواز بھی بلند نہیں ہوئی کہ یہ غلط ہے۔(معذرت کے ساتھ یہ بات موضوع سے ہٹ کر ہے )
     
  6. ‏دسمبر 16، 2019 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ یہ کہیں کہ مجھے علم نہیں ہوسکا کہ فلاں ملک میں غلط کام کے خلاف علما نے آواز بلند کی ہو۔ ورنہ اہلِ حق چاہے تعداد میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہو، حق کی تائید اور غلط کی تردید کرتے ہی رہتے ہیں، ظلم و ستم اور فحاشی و عریانی کے خلاف چاہے وہ سعودی عرب میں ہی کیوں نہ ہو، علما نے کلمہ حق کہہ دیا ہے۔
    باقی دین میں جبر کے حوالے سے مسلمانوں کی خارجہ پالیسی پر آپ کو جو اشکال لاحق ہوا ہے، اس کا علمی جواب اوپر گزر چکا ہے۔
    لیکن بہرصورت دوبارہ میں بھی عرض کرتا ہوں، شاید اسلوب بدلنے سے بات سمجھ آسکے۔
    جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، اس کا خالق اللہ ہے، دینِ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے، اللہ تعالی اس کے علاوہ کسی اور دین کو پسند نہیں کرتے، اور اللہ کا اپنے ماننے والوں کو ہی یہ حکم ہے کہ غیر مسلموں کے سامنے تین آپشن رکھے جائیں، قبولیتِ اسلام، نہیں تو جزیہ، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو، اور اگر دونوں نہیں تو تیسرا کام مسلمانوں کو حکم ہے کہ ان سے قتال کریں، جو خود اتنا طاقتور ہو کہ کسی کی بات بھی نہ مانتا ہو، معاہدہ بھی نہ کرنا چاہتا ہو، تو اس کے ساتھ لڑائی کرنا اور پھر اس میں جیت اور ہار دونوں احتمال ہوں، ابھی بھی اس میں جبر ہے،،، تو پھر جبر کی تعریف کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
     
  7. ‏دسمبر 16، 2019 #17
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    میں پھر اپنی بات کا اعادہ کروں گا کہ اگر دوسرے مذاہب کے لوگ اسی طرح اپنے دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کی ایسی ہی کوشش کریں یا کرتے ہیں تو وہ تو اپنے تئیں اس کو صحیح سمجھتے ہیں پھر ان پر اعتراض کیوں؟
    اور میں نے یہ عرض کیا تھا کہ کیا ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے باہر ان تین آپشن کے تحت کوئی جنگ لڑی؟ میرے ناقص علم میں نہیں ہے اس لئے آپ لوگوں کو زحمت دیتا ہوں باقی اگر میرے سوال اور طرز تحریر سے کسی کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو میں اس بات یہی ختم کردیتا ہوں۔ کیوں کہ میری سوچ لوگوں کے خیال میں ہندوؤں سے بھی
    زیادہ گئی گزری ہے۔
     
  8. ‏دسمبر 16، 2019 #18
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بہتر کیا ، یہ اچھا آپشن ھو آپ کے لیئے ۔
     
  9. ‏دسمبر 16، 2019 #19
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قیصر و کسری سے خط و کتابت اور جنگیں سب اسی نوعیت کی تھیں۔ قسطنطنیہ کی جنگ میں شرکت کرنے والوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی قرار دیے، وہ جنگ اسی نوعیت کی تھی۔
     
  10. ‏دسمبر 17، 2019 #20
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اس موضوع پر ایک جامع مقالہ کی شدید ضرورت محسوس ھو رہی ھے ۔

    محض کوئی ایک شخص اس طرز پر محسوس کرتا ھے یا سوچتا ھے ایسا بھی نہیں ۔ یہ تو جو خبریں پہونچیں (یا پہونچائی گئیں) ان پر سرسری سا رد عمل ھے ، شاید اسی لیئے کئی سال پہلے امام کعبہ نے اپنے خطبہ میں کہا تھا کہ ھمارا اپنا کوئی میڈیا ھونا چاہیئے جو ھمارے عوام تک وہ واقعات و افکار پہونچا سکے جو بیرونی میڈیا کے ذریعہ پہونچائی جارہی ہیں اور بلا مبالغہ ھمارے ذھنوں اور افکار پر اثر انداز ھورہی ہیں ان کا تدارک کیا جا سکے ۔ ان منفی اثرات سے محفوظ رہ پائے ایک عام سا مسلمان یہ واقعی ایک ایسا سوال ھے جو سنجیدہ ھے ، اس موضوع پر لوگوں سے گفتگو ھونی ہی چاہیئے ۔
    علماء اسلام تمام عالم اسلام کے غافل تو نہیں ، انہوں نے حتی المقدور جو تدارک کر سکتے تھے کیا ھے اور ان شاء اللہ کرتے رہینگے ۔ یہ علماء کون ہیں ، انہوں نے کیا کوششیں کیں اور وہ فی الحال کہاں ہیں ؟ کیا ھر عام مسلمان کو اسکی خبر ھے ؟ ھماری بھی مصلحت سمجھ لیں ، اسے مجبوری کا نام دے دیں ایسے تمام اسماء اور انکی کوششیں ھم عام بھی نہیں کر سکتے ۔ لیکن اس موضوع پر ایک ایسا جامع مقالہ ضرور لکھا جا سکتا ھے جو عام مسلمانوں کو مفید معلومات دے سکتا ھے اور کم از کم ان کے ذہنوں کو منفی افکار کے زیر اثر آنے سے روک سکتا ھے ۔
    دین کی اساسیات سے ناواقفی 14 صدیوں بعد بھی حیرت انگیز امر ھے لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا کہ واقعی ایسا ہی ھے ، اس کے لیئے تو سبھی ذمہ دار ہیں ، یعنی معاملہ صرف منفی افکار کا نہیں بلکہ ھماری بنیاد ہی کمزور ھے تو سمجھ لیں کتنا آسان ھے باطل قوتوں کا ہم پر حاوی ھو جانا ۔
    مایوسی کی عمیق دلدلوں سے نکل کر یقین کی سرحدوں تک پہونچ پانا ایسا کوئی مشکل کام تو نہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں