1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دیور اور بہنوئی سے پردہ کا حکم۔۔۔۔۔۔ کیا احادیث سے ایسا ثابت ہوتا ہے؟؟؟؟؟

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از Abu Saifullah, ‏نومبر 14، 2012۔

  1. ‏نومبر 14، 2012 #1
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    دیور اور بہنوئی سے پردہ کا استفسار:


    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،،،، وبعد:

    احباب ارباب علم ودانش شاید اس مسئلہ کے بارے میں اس سے پہلے بھی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہوں گے لیکن خادم کو خواہش یہ تھی کہ بندہ (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ) کہ ’’یاد (ذکر) کرتے رہو کہ ماننے والوں کے لیے اسی میں فائادہ ہے۔‘‘ کے تحت ایک بار پھر سے اس موضوع کو چھیڑنا چاہتا ہوں۔

    ارباب علم سے گزارش ہے کہ بعض احباب کی طرف سے عورت کا اپنے بہنوئی اور دیور سے پردہ کے حوالے سے بیان کی جانے والی دلائل کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں،،، اگر احباب مہربانی فرمائیں تو ’’دیور‘‘ اور ’’بہنوئی‘‘ سے عورت کے پردہ کرنے کے بارے میں ایسی دلائل پیش کر دیں جن کو جھٹلایا نہ جا سکے۔

    فجزاکم اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔ خادمکم
     
  2. ‏نومبر 15، 2012 #2
    محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2012
    پیغامات:
    83
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    اسلام علیکم
    بھای جان میری ناکس علم میں جو بات ہے میں وہ پیش کر دیتا ہوں اور اگر مجھ سے کوئ غلطی ہو تو اسکی اصلاح کر دیجیے گا۔

    اللہ رب عزت قرآن پاک میں ان لوگوں کی لسٹ دے رہا ہے جن سے ہمارا شادی کرنا حرام ہے یعنی مہرمات۔ملاحضہ کریں

    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا 23؀ۙ

    حرام کی گئی ہیں (١) تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا۔ ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔(٢٣:٥)

    تو اسکے علاوہ تمام لوگ نہ محرم ہیں۔جن میں دیور اور بہنوئی بھی شامل ہیں۔ یہ تھا میرا اشتہاد۔اب ملاحضہ کریں قرآن پاک پردے کے لئے کیا کہتا ہے۔

    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَاۗىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَاۗءِ ۠ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۭ وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 31؀

    مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں سے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ ۔(٣١:٢٤)

    اس آیت مبارکہ میں اللہ رب عزت ان لوگوں کا بتا رہا ہے جن سے پردہ نہیں ہے۔ان میں بھی دیور اور بہنوئ کا زکر نہیں ہے۔تو پتہ یہ چلا کے جیسے دوسروں سے پردہ ہے ویسے ہی ان دونوں سے بھی۔
    بلکے حدیث میں تو سختی کے ساتھ ذکر ہے۔ملاحضہ کریں۔

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 217 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 4
    قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے گھر (تنہائی میں) جانے سے پرہیز کرو، ایک انصاری شخص نے کہا کہ دیور کے متلعق آپ کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا دیور تو موت ہے (یعنی اس سے زیادہ بچنا چاہئے) ۔

    دوسری حدیث میں دیور کی بھی وضاحت ہے ۔

    و حدثني أبو الطاهر أخبرنا ابن وهب قال وسمعت الليث بن سعد يقولا الحمو أخ الزوج وما أشبهه من أقارب الزوج ابن العم ونحوه

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1179 حدیث مقطوع مکررات 5 متفق علیہ 4
    ابوطاہر ابن وہب، لیث بن سعد حضرت لیث بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دیور سے خاوند کا بھائی اور جو اس کے مشابہ ہو خاوند کے رشتہ داروں میں سے چچا زاد بھائی وغیرہ مراد ہے۔

    تو ان تمام احادیث سے پتہ چلتا ہے کے دیور اور بہنوئی سے سخت پردہ ہے۔

    وللہ العلم

    اردو کی کمزوریوں کو نظر انداز کیجیے گا ۔اردو بہت کمزور ہے میری
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 15، 2012 #3
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،،،، مکرمی برادر محمد ڈیفینڈر
    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کی حدیث پر خدمات کو اللہ تعالیٰ مقبول فرمائے۔

    گزارش ہے کہ آپ نے سب سے پہلے جو آیت پیش کی ہے۔۔۔۔ اس آیت میں بلاشبہ ان افراد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جن کے بارے میں حرمت بیان کی گئی ہے۔۔۔۔ اور ایک سادہ سا قاعدہ کلیہ یہ اپنایا جاتا ہے کہ جن کی حرمت بیان کی گئی ہے ان سے ہی پردہ کیا جاتا ہے۔۔۔۔ لہٰذا آپ کی اس دلیل کو صحیح تسلیم کرنا چاہیے۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

    فی الوقت میں آپ کی وہ دلائل جو نصوص پر مبنی ہیں ان پر بحث نہیں کرتا۔۔۔۔ میں صرف کچھ مزید عرض کرتا ہوں۔۔۔ آپ یا کوئی دوسرا بھائی اس بارے میں تھوڑی وضاحت کر دے کہ جو حالات میں نیچے بیان کرنے جا رہا ہوں ان حالات کے پیش نظر کیا کرنا چاہیے۔

    ایک گھر میں آٹھ بھائی ہیں،،، تمام بھائی شادہ شدہ ہیں،،،، گھر اگرچے بڑا ہے مگر ہر بھائی کے حصے میں ایک ایک ہی کمرہ آیا ہے،،،،،
    اب آپ میں سے کوئی دوست بھائی۔۔۔ یہ وضاحت کر دے کہ کیا گھر میں ہر وقت ایمرجنسی نافذ العمل رہے گی۔۔۔۔۔۔ ایک بھائی گھر آیا تو دوسریوں کے لیے گھر میں گھر گھرہستی کے کام معطل ہو جائیں گے۔ یہ گیا دوسرا آیا پھر معطل۔۔۔۔۔ اسی طرح سارا دن اگر معاملہ چلتا رہا تو کون کیا کام کرے گا اور کون ضروریات کے لیے خود کو ایزی محسوس کرے گا؟؟

    مہربانی فرما کر اس بارے میں کچھ تھوڑی سی وضاحت فرما دیں۔
     
  4. ‏نومبر 16، 2012 #4
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اچھا سوال ہے۔
     
  5. ‏نومبر 17، 2012 #5
    محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2012
    پیغامات:
    83
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    اسلام علیکم
    بھائی آپ نے تو عجیب مشکل میں ڈال دیا ہے۔میں یہ بھی نہیں کہ سکتا کے وہ سب الگ گھر لے لیں۔سب کی استطات میں یہ بات نہیں ہے۔
    بھائی اگر ہم پہلے پرانے والے پوسٹ پر بات کرلیں تو شاید کوئی راستہ نکل جاے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 19، 2012 #6
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،،،،، وبعد

    گزارش ہے برادرم کہ آپ جب بھی لکھیں (السلام علیکم) لکھیں ۔۔۔ (اسلام علیکم) ٹھیک نہیں یا پھر آپ الف بھی نہ لگائیں سادا سے انداز میں ((سلام علیکم)) لکھ دیا کریں۔

    دوسری بات موضوع کے حوالے سے۔۔۔۔ پیارے بھائی میں نے یہ موضوع شروع اس لیے کیا ہے کہ عرصے سے علماء حضرات سے دیور کے معاملے میں ایک سخت فتویٰ جاری کیا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے بہت ہی کم گھروں میں علماء کرام کے اس فتویٰ پر عمل ہوتا ہے۔ بنیادی وجہ یہی ہے میرے سوال کرنے کی اور جان سکوں کے مذکور بالا دلائل جو آپ نے پیش کیے ہیں کیا ان دلائل کے علاوہ بھی کچھ دلائل پائے جاتے ہیں جو علماء کرام پیش کرتے ہیں دیور اور بہنوئی سے پردہ کے ضمن میں۔۔۔۔

    اور کسی اور بھائی کے علم میں ایسی کوئی بات ہے تو براہ مہربانی اس کو ذکر کر دے۔۔۔۔ فجزاکم اللہ خیرا
     
  7. ‏اپریل 19، 2014 #7
    ابو ساریہ

    ابو ساریہ مبتدی
    جگہ:
    دبئی، متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2014
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    السلام علیکم ورحمۃاللہ
    اسلام آسانی کا دین ھے۔ اگر اتنے مجبوری ھے تو یقینا ھم نگاھیں نیچی رکھ کر گھریلو معاملات نمٹا سکتے ھیں اور جوائنٹ فیملی میں رہ سکتے ھیں مگر اس رخصت کا یہ مطلب نہیں کہ بھابھیوں کے ساتھ گپیں ہانکی جائیں، محفلیں لگائی جائیں۔ بلکہ کوشش ھونی چاھیئے کہ ان کے کمرے میں جانے سے حد ممکن احتراز کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ آمنا سامنا ھی نہ ھو اور اگر ھو جائے تو نگاھیں جھکا لیں۔ علماء اس لئے سختی کرتے ھیں کہ عوام ذرا سی رخصت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ھے۔
    میں خود مشترکہ خاندانی نظام میں رہتا ھوں، مگر بھابھی کے کمرے میں نھیں جاتا، وہ گھر کے کسی حصے میں ھو تو میں وھاں نھیں جاتا، اور اگر میرا وہاں جانا لازم ھو تو والدہ یا بہن سے کہتا ھوں کہ مجھے وھاں آنا ھے لہٰذا بھابھی کو کہیں کہ دوپٹہ چہرے پر ڈال لیں، یا منہ پھیر لیں۔۔ یعنی کہ کوشش یہ ھونی چاھیئے کہ نا بھابھی آپ کو دیکھ پائے، نا آپ بھابھی کو۔
    اللہ ھماری کمیوں اور کوتاھیوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
     
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 05، 2019 #8
    abulwafa80

    abulwafa80 رکن
    جگہ:
    انڈیا یوپی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2015
    پیغامات:
    49
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 217 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 4
    قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے گھر (تنہائی میں) جانے سے پرہیز کرو، ایک انصاری شخص نے کہا کہ دیور کے متلعق آپ کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا دیور تو موت ہے (یعنی اس سے زیادہ بچنا چاہئے) ۔

    دوسری حدیث میں دیور کی بھی وضاحت ہے ۔

    و حدثني أبو الطاهر أخبرنا ابن وهب قال وسمعت الليث بن سعد يقولا الحمو أخ الزوج وما أشبهه من أقارب الزوج ابن العم ونحوه

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1179 حدیث مقطوع مکررات 5 متفق علیہ 4
    ابوطاہر ابن وہب، لیث بن سعد حضرت لیث بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دیور سے خاوند کا بھائی اور جو اس کے مشابہ ہو خاوند کے رشتہ داروں میں سے چچا زاد بھائی وغیرہ مراد ہے۔

    تو ان تمام احادیث سے پتہ چلتا ہے کے دیور اور بہنوئی سے سخت پردہ ہے۔



    محترم بہائی یہ حدیث اس نمبر پر نہی ملی مچہے برائے حدیث نمبر بتاتے میں آن لائن دیکہا ہو اسلام 360 اپلیکیشن پر بہی دیکہا

    نا بخاریشریف 217 نمبر پر ہے نا مسلم شریف 1179 پر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں