1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ذوالحجہ کے دنوں میں مطلق اور مقید تکبیرات

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 06، 2016۔

  1. ‏ستمبر 06، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    05010046.jpg


    ذوالحجہ کے دنوں میں مطلق اور مقید تکبیرات

    سوال: عید الاضحی کے موقع پر مطلق تکبیرات کے بارے میں ہے، تو کیا ہر نماز کے بعد کہی جانے والی تکبیرات مطلق تکبیرات میں شامل ہیں یا نہیں؟ اور انکا شرعی حکم سنت ہے یا مستحب،یا پھر بدعت؟

    Published Date: 2014-09-25

    الحمد للہ:

    عید الاضحی کی تکبیرات ذوالحجہ کی ابتدا سے لیکر 13 ذوالحجہ کے آخر تک کہنا شرعی عمل ہے، اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:

    {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

    ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

    یہاں " أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ " سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

    اور دوسری جگہ فرمان باری تعالی:

    {وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ}

    ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]

    اور " أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ "سے مراد ایام تشریق ہیں۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں)مسلم

    جبکہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں معلق سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے۔

    اور عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام اپنے احرام کی حالت میں یوم النحر [10 ذوالحجہ] کو جمرہ عقبہ [بڑے جمرہ]پر رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہیں گے، اور اسکے بعد تکبیرات کہیں گے، چنانچہ یہ تکبیرات مذکورہ جمرہ کو پہلی کنکری مارنے سے شروع ہونگی، اور اگر تلبیہ کیساتھ تکبیرات بھی کہتا رہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (عرفہ کے دن تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے، اور انہیں کوئی نہیں ٹوکتا تھا، اور تکبیرات کہنے والے تکبیرات کہتے، انہیں بھی کوئی نہیں ٹوکتا تھا)بخاری، لیکن احرام والے شخص کیلئے افضل تلبیہ ہی ہے، جبکہ مذکورہ دنوں میں احرام کھلنے کے بعد تکبیرات افضل ہیں۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ پانچ دنوں میں تکبیر مطلق اور تکبیر مقید اکٹھی ہوجاتی ہیں، اور یہ پانچ دن یوم عرفہ، یوم نحر، اور ایام تشریق کے تین دن[یعنی: 9 ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک] اور آٹھ ذو الحجہ اور اس سے پہلے والے ایام میں تکبیرات ابتدائے ذوالحجہ ہی سے مطلق ہیں مقید نہیں ہیں، جیسے کہ گزشتہ آیت اور آثار میں یہ بات گزر چکی ہے، اور مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب اور معظم نہیں جتنا ان دس دنوں میں محبوب اور معظم ہے ، چنانچہ ان دنوں میں کثرت کیساتھ "لا الہ الا اللہ"، "اللہ اکبر"اور "الحمد للہ" کہا کرو) او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم .

    ماخوذ از کتاب: " مجموع فتاوى ومقالات " از :سماحۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز - رحمہ الله – (13/17)"

    https://islamqa.info/ur/10508
     
  2. ‏ستمبر 06، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عیدین میں تکبیرات کے الفاظ

    سوال: عید الاضحی کے موقع پر لوگ تکبیرات کہتے ہوئے کہتے ہیں: "الله اكبر ، الله أكبر ، لا اله إلا الله ، الله أكبر ، الله أكبر ولله الحمد , الله أكبر كبيراً ، والحمد لله كثيراً ، وسبحان الله بكرة وأصيلاً ، لا اله إلا الله وحده ، صدق وعده ، ونصر عبده ، وأعز جنده ، وهزم الأحزاب وحده ، لا اله إلا الله ولا نعبد إلا إياه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون" یہ الفاظ نماز عید میں اور مساجد میں نمازوں کے بعد بار بار کہتے ہیں، تو کیا تکبیرات کے یہ الفاظ صحیح ہیں؟ اور اگر یہ غلط ہیں تو صحیح الفاظ کون سے ہیں؟

    Published Date: 2016-07-04

    الحمد للہ:

    تکبیرات کے یہ الفاظ:

    " اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ "

    [اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ ]

    یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر سلف صالحین سے ثابت ہے، چاہے آپ ابتدا میں دو یا تین بار تکبیر کے الفاظ کہیں۔

    دیکھیں: "مصنف ابن ابی شیبہ" (2/165-168) ، "إرواء الغلیل" (3/125)

    جبکہ تکبیرات کے الفاظ: " اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ۔۔۔ الخ" کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص :

    " اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اَللهُ أَكْبَرُ وَلَا نَعْبُدُ إلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ له الدَّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ لَا إلَهَ إلَّا اللهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ لَا إلَهَ إلَّا اللهُ وَ اللهُ أَكْبَرُ " کا اضافہ کرے تو یہ بھی اچھا ہے" انتہی

    "الأم" (1 /241)

    ابو اسحاق شیرازی رحمہ اللہ "المهذب" (1/121) میں کہتے ہیں:

    "کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ الفاظ صفا پہاڑی پر کہے تھے" انتہی

    اس بارے میں معاملہ وسیع ہے ؛ کیونکہ تکبیرات کہنے کا حکم مطلق ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں فرمائی، فرمانِ باری تعالی ہے:

    (وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ)

    ترجمہ: تا کہ تم اللہ تعالی کی اسی طرح بڑائی بیان کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے۔[البقرة:185]

    چنانچہ کسی بھی الفاظ میں تکبیرات اور اللہ کی بڑائی بیان کی جائے تو سنت پر عمل ہو جائے گا۔

    صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "شروحات میں بہت سے الفاظ ہیں اور ان میں سے متعدد اہل علم نے پسند بھی کیے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تکبیرات کے معاملے میں وسعت ہے، ویسے بھی [مذکورہ] آیت کا اطلاق اس کا تقاضا کرتا ہے" انتہی
    "سبل السلام" (2 /72)

    ابن حبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "میرے نزدیک پسندیدہ ترین تکبیرات کے الفاظ یہ ہیں:

    " اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلِلهِ الْحَمْدُ عَلَى مَا هَدَانَا، اَللَّهُمَّ اجْعَلْنَا لَكَ مِنَ الشَّاكِرِيْنَ"

    [ ترجمہ: اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہمیں [اپنی بڑائی] سکھائی، یا اللہ! ہمیں اپنا شکر گزار بنا]"

    اصبغ بن یزید رحمہ اللہ تکبیرات کیلیے کہا کرتے تھے:

    " اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيْراً ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيْراً ، وَ سُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّأَصِيْلاً ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"

    [ترجمہ: میں اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرتا ہوں جو کہ بہت ہی بڑا ہے، اور اللہ تعالی کی ڈھیروں تعریفیں کرتا ہوں، اور صبح شام اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے]

    پھر اصبغ کہتے تھے کہ: آپ تکبیرات کیلیے کمی بیشی یا اس کیلیے دوسرے الفاظ بھی استعمال کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" انتہی

    "عقد الجواهر الثمينة" (3/242)

    سحنون رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "میں نے ابن قاسم سے کہا: کیا امام مالک نے آپ کو تکبیرات کے الفاظ بتلائے تھے؟ تو ابن قاسم نے جواب دیا: "نہیں بتلائے"، نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ : امام مالک تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں کیا کرتے تھے" انتہی

    "المدونة" (1/245)

    امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "عید کی تکبیرات کا معاملہ وسعت والا ہے"

    ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ہمارے علمائے کرام نے تکبیرات کے الفاظ کو مطلق رکھا ہے [یعنی: الفاظ متعین نہیں کیے] قرآن کریم کا ظاہری حکم بھی یہی ہے، اور میرے نزدیک بھی یہی موقف راجح ہے" انتہی

    "الجامع لأحكام القرآن" (2 /307)

    سلف صالحین سے تکبیرات یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:

    " اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا"

    ان الفاظ کو بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل" (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    تکبیرات کے الفاظ سے متعلق صحیح ترین الفاظ عبد الرزاق نے اپنی سند کے ساتھ سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل کیے ہیں کہ: "آپ کہتے ہیں اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنے کیلیے کہو:

    " اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيْرًا " انتہی

    فتح الباری: (2/462)

    تاہم صحابہ کرام سے منقول تکبیرات کے الفاظ پر پابندی کرنا بہتر ہے۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/158543
     
  3. ‏ستمبر 06، 2016 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مطلق اور مقید تکبیرات کے فضائل، وقت، اور تکبیرات کے الفاظ

    سوال: مطلق اور مقید تکبیرات کیا ہیں؟ اور یہ کس وقت شروع کی جاتی ہیں؟

    Published Date: 2014-09-23

    الحمد للہ:

    اول: تکبیرات کی فضیلت

    ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں کی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قسم اٹھائی ہے، اور کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا اسکی اہمیت، اور اسکے عظیم فوائد کی دلیل ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2)}

    قسم ہے فجر کی[2] اور دس راتوں کی[الفجر : 1 - 2]

    ان دس راتوں کی بارے میں ابن عباس، ابن زبیر، مجاہد اور انکے علاوہ متعدد علمائے سلف کا کہنا ہے کہ: اس سے عشرہ ذو الحجہ مراد ہے۔

    اور ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "یہی تفسیر صحیح ہے" تفسير ابن كثير: (8/413)

    اور ان ایام میں کئے جانے والے اعمال اللہ تعالی کو بہت زیادہ پسند ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا ان دس دنوں میں پسند ہے)

    صحابہ کرام نے کہا: "اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں!؟"

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، ہاں جو شخص اپنے مال و جان کیساتھ جہاد کیلئے نکلا اور ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز واپس نہیں آئی)


    بخاری: (969)، الفاظ ترمذی (757)کے ہیں، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ترمذی: (605) میں صحیح کہا ہے۔

    اور ان ایام کے دوران عمل صالح میں تکبیرات، اور "لا الہ الا اللہ" کہنا بھی درج ذیل دلائل کی رو سے شامل ہے:

    1- فرمان باری تعالی ہے:

    {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

    ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

    یہاں " أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ " سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

    2- اور فرمانِ الہی: {وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ}

    ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]

    اور " أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ "سے مراد ایام تشریق ہیں۔

    3- اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں)مسلم: (1141)

    دوم: تکبیرات کے الفاظ

    علمائے کرام کے ان تکبیرات کے بارے میں متعدد اقوال ہیں:

    1- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

    2- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

    3- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

    کوئی بھی الفاظ تکبیرات کیلئے آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیرات کے معین الفاظ منقول نہیں ہیں۔

    سوم: تکبیرات کا وقت

    تکبیرات کی دو قسمیں ہیں:

    1- مطلق تکبیرات: یعنی جن کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، بلکہ ہر وقت، صبح وشام، نمازوں سے پہلے اور بعد میں کسی بھی لمحے کہی جاسکتی ہیں۔

    2- مقید تکبیرات: یعنی وہ تکبیرات جو صرف نمازوں کے بعد کہی جاتی ہیں۔

    چنانچہ مطلق تکبیرات عشر ذو الحجہ ، اور ایام تشریق کے دوران کسی بھی وقت کہی جاسکتی ہیں، جسکا وقت ذو الحجہ کی ابتدا ہی سے شروع ہوجائےگا (یعنی: ذو القعدہ کے آخری دن سورج غروب ہونے سے وقت شروع ہوگا) اور ایام تشریق کے آخر تک جاری رہے گا (یعنی: 13 ذو الحجہ کے دن سورج غروب ہونے تک)

    جبکہ مقید تکبیرات کا وقت عرفہ کے دن فجر سے شروع ہوکر آخری یوم تشریق کے ختم ہونے تک جاری رہتا ہے-اس دوران مطلق تکبیرات بھی کہی جائیں گی- چنانچہ جس وقت امام فرض نماز سے سلام پھیر کر تین بار: "اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" کہنے کے بعد: "اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " کہہ لے تو تکبیرات کہے گا۔

    مذکورہ بالا مقید تکبیرات کی تفصیل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام مقید تکبیرات یوم نحر [دس ذو الحجہ] کی ظہر سے شروع کرینگے۔

    واللہ اعلم

    دیکھیں: "مجموع فتاوى ابن باز " رحمہ الله (13/17 ) اور "الشرح الممتع " از: ابن عثيمين رحمہ الله (5/220-224) .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/36627


     
  4. ‏ستمبر 07، 2016 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    14212591_1050912261671252_1933172646514187378_n (1).jpg
     
  5. ‏ستمبر 07، 2016 #5
    حافظ راشد

    حافظ راشد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2016
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    الفاظ تکبیرات
    1.تکبیر ابن مسعود﷜
    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله ,الله اكبر الله اكبر ولله الحمد
    اخرجه المحاملي في العيدين وغيره واسناده حسن لذاته.
    2.تكبير ابن عباس﷜
    الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا الله اكبر واجل الله اكبر ولله الحمد
    اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف واسنادہ صحیح .
    3.تکبیر سلمان الفارسی ﷜
    الله اكبر الله اكبر كبيرا اللهم ربنا لك الحمد انت اعلي واجل ان تتخذ صاحبة او ولدا او يكون لك شريك في الملك ولم يكن لك ولي من الذل وكبره تكبيرا الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا اللهم اغفرلنا اللهم ارحمنا
    اخرجہ ابن المبارک فی الزھد وعبد الرزاق فی المصنف بسند صحیح.
    کتبہ :الشیخ الدکتور عبدالباری بن حماد الانصاری ﷾
    المدرس فی کلیۃ الحدیث النبوی الشریف فی الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ
    (منقول)
     
  6. ‏اگست 19، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سلف صالحین سے تکبیرات یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:

    " اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا"


    ان الفاظ کو بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل" (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔
     
  7. ‏اگست 19، 2018 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    تکبیر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
    امام عبداللہ ابن المبارکؒ نے " الزہد " میں روایت کیا ہے کہ :
    عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: كَانَ سَلْمَانُ يَقُولُ لَنَا: " قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ أَعْلَى وَأَجَلُّ أَنْ تَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا، أَوْ يَكُونَ لَكَ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَكَ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ تَكْبِيرًا، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا "
    (السنن الکبریٰ للبیہقی ؒ6282 )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں