1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

راستوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں حکم

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 17، 2011۔

  1. ‏اپریل 17، 2011 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    راستوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں حکم

    وہ راستہ جس پر لوگ چلتے ہیں اور اسے اپنے پاؤں سے پامال کرتے ہیں وہ بھی ان سات مقامات میں داخل ہے جن میں نماز پڑھنے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے، چنانچہ ابن ماجہ نے ’’سنن‘‘ میں حضرت ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    سَبْعُ مَوَاطِنَ لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمَقْبَرَةُ وَالْمَزْبَلَةُ وَالْمَجْزَرَةُ وَالْحَمَّامُ وَعَطَنُ الْإِبِلِ وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ(سنن ابن ماجہ:747)
    ’’سات مقامات ایسے ہیں جن میں نماز جائز نہیں ۔(1)بیت اللہ شریف کی چھت(2)قبرستان(3)کوڑے کرکٹ کا ڈھیر(4)مذبح خانہ (5)حمام (6)اونٹوں کا باڑہ (7) راستہ۔‘‘
    اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے لیکن کچھ اور احادیث بھی ہیں جن میں ان مقامات کا ذکر ہے جن میں نمازپڑھنا ممنوع ہے ۔ اور ان میں اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہےمیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ (صحیح بخاری:438 /صحیح مسلم:521)

    ’’ میرے لیے زمین کو پاک اور سجدہ گاہ بنادیا گیاہے ۔ آدمی کے لیے جہاں نماز کا وقت ہو جائے ، وہ وہاں نماز پڑھ لے۔‘‘
    تطبیق اس طرح ہوگی کہ حدیث جابر وغیرہ جن میں ہرجگہ نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، عام ہیں اور وہ احادیث خاص ہیں جن میں کچھ مقامات میں نماز پڑھنے کی ممانعت آتی ہے ۔ لہذا ان احادیث سے ہر جگہ نماز پڑھنے کی اجازت والی احادیث کے عموم کو خاص کردیا جائے گا۔ جیساکہ بظاہر متعارض احادیث میں تطبیق کا معروف قاعدہ ہے ، ہاں البتہ بوقت حاجت و ضرورت کسی ممنوع جگہ پر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔
    (فتاویٰ اسلامیہ ج4/ص 30)
     
  2. ‏اپریل 17، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ساجد بھائی! جزاکم اللہ خیرا!
    یہ فتاویٰ شیئر کرنے کا بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے آپ نے، اللہ آپ کو خوش رکھیں!
    میرا خیال ہے کہ یہاں یہ فتاویٰ شیئر کرتے ہوئے آپ سے کچھ عبارت مس ہو گئی ہے، کیونکہ لکھا ہے کہ
    لیکن پھر یہ روایات بیان نہیں کی گئیں۔
     
  3. ‏اپریل 18، 2011 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جی انس بھائی نے بالکل درست کہا۔ اس سوال و جواب کی بنیاد تو ایک ضعیف حدیث پر رکھی گئی ہے۔ نیز اگر اس کی تائید میں دیگر احادیث موجود ہیں اور وہ صحیح یا حسن ہیں تو اصولاً تو انہیں استشہاداً پیش کیا جانا چاہئے تھا اور تائیداً اس ضعیف حدیث کو پیش کیا جاتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں