1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رد تقلید

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ راشد, ‏اگست 13، 2016۔

  1. ‏اگست 13، 2016 #1
    حافظ راشد

    حافظ راشد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2016
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    ردتقلید (1)
    تقلید کی لغوی تعریف:
    دیوبندیوں کی لغت کی مستند کتاب ”القاموس الوحید“ میں لکھا ہے:
    1:- قلّد۔۔فلاناً: تقلید کرنا،بنادلیل پیروی کرنا،آنکھ بن کر کے کسی کے پیچھے چلنا (القاموس الوحید:1346) 2:-التقلید:بے سوچے سمجھے یا بنادلیل پیروی،نقل،سپردگی (القاموس الوحید:1346) 3:-امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اما التقلید فاصلہ فی الغة ماخوزمن القلادہ التی یقلد غیربہاومنہ تقلیدالہدی فکان المقلد جعل زلک الحکم الذی قلد فیہ المجتھد کالقلادة فی عنق من قلدہ۔ "یعنی تقلیدلغت میں گلے میں ڈالے جانے والے پٹے سے ماخوز ہے اور وقف شدہ حیوانات کے گلے میں طوق ڈالنا بھی اسی میں سے ہے، تقلید کو تقلید اس لئے کہتے ہیں کہ اسمیں مقلد جس حکم میں مجتہد کی تقلید کرتا ہے، وہ حکم اپنے گلے میں طوق کی طرح ڈالتا ہے۔"(ارشاد الفحول ص:۱۴۴) 4:- اسی طرح غیاث الغات میں تقلید کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: ”گردن بنددرگردن انداختن وکار بعھد کسی ساختن وبر گردن خود کار بگرفتن و مجاز بمعنی پیروی کسی بے در یافت حقیقت آن“ یعنی تقلید گلے میں رسی ڈالنے یا کسی کے زمےکوئی کام لگانے کا نام ہے۔اسی طرح اپنے زمہ کوئی کام لینابھی تقلید کہلاتا ہے ، اس کے مجازی معنیٰ یہ ہیں کی حقیقت معلوم کیے بغیرکسی کی تا بعداری کی جائے۔ (غیاث الغات ص:۳۰۱) تقلید کی اصطلاحی تعریف 1:-حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“میں لکھا ہے: ”التقلید: العمل بقول الغیرمن غیر حجةکا خذ العامی والمجتھد من مثلہ، فا لرجوع الی النبی علیہ الصلاٰة والسلام او الی ا الجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لا یجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد، قال الامام: وعلیہ معضم الاصولین“ الخ تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (کم علم شخص) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق)ہیں“۔ الخ (مسلم الثبوت ص:289طبع 1316ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص400) 2:-امام ابن ہمام حنفی (متوفی۱۶۸ھ) نے لکھا ہے: ”مسالة:التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجة منھا فلیس الرجوع النبی علیہ الصلاة والسلام واالاجماع منہ“ مسئلہ:تقلید اس شخص کے قول پر بغیر دلیل عمل کو کہتے ہیں جس کا قول (چار) دلائل میں سے نہیں ہے۔پس نبی علیہ الصلاةوالسلام اوراجماع کی طرف رجوع تقلید میں سے نہیں ہے۔ (تحریر ابنِ ہمام فی علم الاصول جلد 3 ص453) نوٹ : بلکل یہی تعریف ابنِ امیر الحجاج الحنفی نے کتاب التقریروالتحبیرفی علم الاصول ج۳ص ۳۵۴،۴۵۴ اور قاضی محمد اعلیٰ تھانوی حنفی نے کشاف الاصطلاحات الفنون ج ۲ص۸۷۱۱ میں بیان کی ہے کہ نبی علیہ الصلاةوالسلام اور اجما ع کی طرف رجو ع کرنا تقلید نہیں (کیونکہ اسے دلیل نے واجب کیا ہے) 3:-تقلید کی ایک اور مشہور اصطلاحی تعریف یہ کی گئی ہے: ”ھو عمل بقول الغیر من غیر حجة“ کسی دوسرے کی بات پر بغیر (قرآن وحدیث کی) دلیل کے عمل کرنا تقلید ہے۔ (ارشاد الفحول ص441، شرح القصیدة الامالیة لملا علی القاری حنفی و تفسیر القرطبی 2112) 4:-قاری چن محمد دیوبندی نے لکھا ہے: ”اور تسلیم القول بلا دلیل یہی تقلید ہے یعنی کسی قول کو بنا دلیل تسلیم کرنا، مان لینا یہی تقلید ہے“ (غیر مقلدین سے چند معروضات ص۱ عرض نمبر ۱) 5:-مفتی سعید احمد پالن پوری دیوبندی نے لکھا ہے: کیونکہ تقلید کسی کا قول اس کی دلیل جانے بغیر لینے کا نام ہے۔ (آپ فتویٰ کیسے دیں گے؟ ص۶۷) 6:-اشرف علی تھانوی کے ملفوضات میں لکھا ہے: ایک صاحب نے عرض کیا تقلید کی حقیقت کیا ہے؟ اور تقلید کسے کہتے ہیں؟ فرمایا : تقلید کہتے ہیں: ”اُمتی کا قول بنا دلیل ماننا“ عرض کیا کہ کیا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا بھی تقلید ہے؟ فرمایا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ملفوضات حکیم الامت ج۳ص۹۵۱ ملفوض:۸۲۲) 7:-مفتی احمد یار نعیمی حنفی بریلوی لکھتے ہیں: ”مسلم الثبوت میں ہے ، ”التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجة“ اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضورعلیہ الصلاةوالسلام کی اطاعت کو تقلید نہیں کہہ سکتے کیونکہ انکا ہر قول دلیل ِ شرعی ہے (جبکہ) تقلید میں ہوتا ہے دلیل ِ شرعی کو نہ دیکھنا لہذا ہم نبی علیہ الصلاةوالسلام کے اُمتی کہلائیں گے نہ کے مقلد۔اسی طرح صحابہ کرام اور ائمہ دین حضورعلیہ الصلاةوالسلام کے اُمتی ہیں نہ کہ مقلداسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گاکیونکہ کوئی بھی ان علماءکی بات یا ان کے کام کواپنے لئے حجت نہیں بناتا، بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بات مانتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے۔۔۔( جاءالحق ج۱ ص۶۱ طبع قدیم) 8:-غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے: تقلید کے معنی ہیں(قرآن و حدیث کے) دلائل سے قطع نظر کر کے کسی امام کے قول پر عمل کرنا اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی امام کہ قول کوکتاب و سنت کہ موافق پا کراور دلائل ِ شرعیہ سے ثابت جان کراس قول کو اختیار کر لینا(شرح صحیح مسلم ج۵ص۳۶) 9:-سرفرازخان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں: اور یہ طے شدہ بات ہے کہا کہ اقتداءو اتباع اور چیز ہے اور تقلید اور چیز ہے (المنہاج الواضح یعنی راہ سنت ص۵۳) 10:-مام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبول قول لا یدری ما قال من این قال و زلک لا یکون علماً دلیلہ قولہ تعالیٰ: فا علم انہ لا الہ الا اللہ، فامر با لمعرفة لا بظن والتقلید۔ تقلید ایسی بات کے ماننے کو کہتے ہیں جس کی حیثیت اور ماخذ معلوم نہ ہو۔ ایسی بات کے ماننے کو علم نہیں کہتے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے ”جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اس (آیت) میں اللہ نے جاننے کا حکم دیا ہے نہ کہ گمان اور تقلید کا ۔ (فقہ اکبر للشافعی رحمہ اللہ ص۰۱) نوٹ: بریلویوں،دیوبندیوں اور علمِ اصول کے علماءکی ان تعریفوں سے درج باتیں ثابت ہوتی ہیں: 1:-کسی دوسرے شخص کی بات پر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے بغیر عمل کرنا ”تقلید “ ہے۔ 2:-احادیث پر عمل کرنا تقلید نہیں۔ 3:-اجما ع پر عمل کرنا تقلید نہیں۔ 4:-علماءکی بات پر( دلیل جان کر) عمل کرنا تقلید نہیں بلکہ یہ اتباع کہلاتا ہے۔ 5:-اسی طرح قاضی کا گواہوں کی طرف اور عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں۔ 6:-صرف اس گمان اور قیاس پر امام کی اندھا دھند تقلید کرنا کہ اُس کی بات کتاب و سنت کے مطابق ہو گی باطل ہے کیونکہ اللہ نے جاننے کا حکم دیا ہے نہ کے گمانوں اور قیاس آرائیوں کا (دیکھئے امام شافعی کی آخری تعریف)۔ مقلدین ہر جگہ یہ شورمچاتے نظر آتے ہیں کہ فلاں غیر مقلد نے اپنے فلاں عالم کی کتاب سے استفادہ کر لیا یا فلاں عالم سے مسئلہ پوچھ لیا اس لئیے وہ اُس عالم کا مقلد بن گیا ہے۔۔۔۔۔ جبکہ آلِ تقلید کے اپنے اکابرین نے تقلید کی جو تعریف کی ہے اُس کے مطابق دلیل کے ساتھ کسی عالم کی بات بیان کرنے یا اس پر عمل کرنے کو تقلید کہتے ہی نہیں۔ ہم مقلدین سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایک حنفی شخص تقی عثمانی سے کوئی مسئلہ پوچھتا ہے اور مولانا کے بتا ئے ہوئے مسئلے پر عمل بھی کرتا ہے تو وہ کس کا مقلد کہلائے گا، تقی عثمانی کا یا امام ابو حنیفہ کا؟؟؟ ظاہری بات ہے کہ وہ امام ابوحنیفہ کا ہی مقلد کہلائے گا یعنی کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں، اگر یہ تقلید ہے تو پھر اسوقت دنیا میں کوئی ایک بھی حنفی موجود نہیں بلکہ سب اپنے اپنے علماء کے مقلد ہیں۔۔۔۔فما کان جوابکم فھوجوابنا

    تقلید اور مقلدین کی تاریخ پر ایک نظر:
    شاہ ولی اللہ حنفی لکھتے ہیں:
    اعلم ان الناس کا نو قبل الما ئة الرابعة غیر مجمعین علی التقلید الخالص لمذھب واحد
    یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چوتھی صدی سے پہلے لوگ کسی ایک مخصوص مذہب کی تقلید پر متفق نہیں تھے (حجة اللہ البالغہ ص ۴۵۱)
    قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی لکھتے ہیں:
    فان اہل السنة والجمة قد افترق بعد القرون الثلاثة او الاربعة علی اربعة مذاہب
    اہل سنت والجماعت چوتھی یا پانچویں صدی میں چار مذاہب میں متفرق ہوئے۔ (تفسیر مظہری)

    امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    انما حد ثت ھذہ البدعة فی القرن الرابع المذمومة علیٰ لسانہ علیہ الصلاة والسلام۔
    تقلید کی بدعت چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئی جسے نبی علیہ الصلاة والسلام نے مذموم قرار دیا تھا۔ (اعلام المو قعین ۲۸۹۱)

    نوٹ:
    نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا :
    خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم
    سب سے بہتر ین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اُس کے بعد والوں کا پھر اُس کے بعد والوں کا (صحیح بخاری حدیث نمبر:۲۵۶۲)
    جبکہ اوپر پیش کردہ حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن تین زمانوں کو نبی علیہ الصلاة والسلام نے بہترین زمانے کہا تھا اُن تینزمانوں میں تقلید کا نام و نشان بھی نہیں تھا، نہ کوئی حنفی تھا اور نہ کوئی شافعی بلکہ سب لوگ کتاب و سنت پر ہی عمل کرتے تھے ،پھر جب نبی علیہ الصلاة والسلام کے بتائے ہوئے یہ تین بہترین زمانے گزر گئے تو چوتھی صدی میںتقلید کے فتنے نے جنم لیا جس کی وجہ سے اُمت تفرقے کا شکار ہو گئی اور چار مذاہب وجود میں آ گئے جو آج بھی حنفیہ، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کی شکل میں موجود ہیں جبکہ ان باطل مذاہب کے مقابلے میں ہر دور میں علماء حق کی ایک جماعت موجود رہی ہے جس نے تقلید کے فتنے کا علی اعلان رد کیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے (امین)۔


    تقلید کا رد قرآن سے:
    پہلی آیت:-
    پیچھے مت پڑو اس چیز کے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔(سورة الاسرائیل36)
    مقلد جو کام بھی کرتا ہے وہ اس گمان اور قیاس پر کرتا ہے کہ میرے امام نے ایسا کیا ہے ضرور ان کے پاس کوئی دلیل ہو گی۔۔۔۔۔اس بات پرعلماءکا اتفاق ہے کہ تقلیدعلم نہیں اور نہ مقلد عالم گردانا جاتا ہے تو بطور تقلید (دلیل جانےبغیر) کسی کی بات ماننا اس آیت کی رو سے ممنوع ٹھہرا۔ آیئے اب ہم اُن آئمہ سلف کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے سینکڑوں سال پہلے اس آیت سے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے:
    1:- امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
    ”التقلید لیس طریقاً ولا موصلاً لہ فی الاصول ولا فی الفروع وہو قول جمھود العقلائِ و العلماءخلافا لما یحکی عن الجھا الحشویہ والثعلبیة من انہ طریق الی معرفة الحق“ (تفسیر القرطبی :۲۲۱۲)
    تقلید نہ علم کا راستہ ہے اور نہ ہی اصول و فروع میں علم تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، یہ قول تمام علماء اورعقلاء کا ہے جبکہ اسکے برعکس حشویہ اور ثعلبیہ تقلید کو حصولِ حق کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
    2:- امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ”اجمع الناس ان المقلد لیس معدوداً من اھل العلم وان العلم معرفة الحق بدلیلہ“ (اعلام الموقعین:۲۶۰۲)
    علماءکا اس بات پر اجماع ہے کہ مقلد کا شمار علماءمیں نہیں ہوتاکیونکہ علم دلیل کے ساتھ معرفت حق کا نام ہے (جبکہ تقلید بغیر دلیل اقوال و آراءکو مان لینے کا نام ہے)۔
    مزید لکھتے ہیں:”وقد اجمع العلماءعلی ان مالم یتبین فلیس بعلم وانماہوظن لا یغنی من الحق شئاً“ (اعلام المو قعین:۲۹۹۱)
    علماءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو بات یقینی طور پر دلائل سے ثابت نہ ہووہ علم نہیں ہے بلکہ گمان ہے اور گمان کے ذریعے حق کا حصول نا ممکن ہے۔
    3:- امام شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ”ومعنی الایة النھی عن ان یقول الانسان ما لا یعلم او یعمل بما لا علم لہ بہ و یدخل فیہ الآ راءالمدونة فی الکتب الفروعیة مع انھا لیست من الشرع فی شی ئٍ وتدخل تحت ھذہ الآیة“ (ملحضاً فتح القدیر:۳۷۲۲)
    اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان وہ بات نہ کرے جس کے بارے میں اس کو علم نہ ہو اور نہ اس بات پر عمل کرے جس کے بارے میں وہ کچھ نہ جانتا ہو اور مسائل میں جو کتابیں مقلدین نے لکھی ہیں وہ اسی زمرے میں آتی ہیں یعنی وہ دین کا حصہ نہیں ہیں
    اس کے علاوہ درج ذیل علماءنے اس آیت سے تقلید کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے:
    4:- امام غزالی (المستصفٰی من علم الاصول:۲۹۸۳)
    5:- امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ (الرد علی من اخلدالی الارض ص:۵۲۱تا۰۳۱)
    یہی وجہ ہے کہ علامہ زمحشری نے اپنی کتاب ”اطواق الذھب“ میں مقلدین کی جہالت پر کچھ یوں تبصرہ کیا ہے: ”ان کان للضلال اُم فالتقلید امہ فلا جرم ان الجاھل یومہ“ یعنی اگرگمراہی کی کوئی ماں ہوتی تو تقلید اُس کی بھی ماں کہلاتی یہی وجہ ہے کہ جاہل ہی تقلید کا قصد کرتا ہے۔(العیازباللہ)

    دوسری آیت:- اتخذواحبارہم ورہبانہم ارباباًمن دون اللّہِ﴿ (سورہ التوبہ ایت31)
    ترجمہ:- انھوں نے اپنے احبار (مولویوں) اور رحبار(پیروں) کواللہ کے سوا رب بنا لیا
    اس آیت کی تفسیر نبی علیہ الصلاة والسلام نے خود فرمائی ہے،
    عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو اسلام قبول کرنے سے قبل عیسائی تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ الصلاة والسلام کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ الصلاة والسلام ہم نے ان کی کبھی بھی عبادت نہیں کی اور نہ ہم مولویوں اور درویشوں کو رب مانتے تھے تو نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:
    اما انھم لم یکونوایعبدونھم ولکن ھم اذا احلو الھم شیئا استحلو واذاحرمواعلیھم شیئا حرموھ
    وہ اپنے علماءکی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب ان کے علماءکسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ اسے حلال کر لیتے اور جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے تو وہ بھی اسے حرام تسلیم کر لیتے (سنن ترمذی مع تحفة الاحوزی ص:۷۱۱ج۴)
    اس آیت سے درج ذیل علماءنے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے:
    1:- امام ابن عبد البررحمہ اللہ(جامع بیان العلم وفضلہ جلد :۲صفحہ :۹۰۱)
    2:- امام ابن حزم رحمہ اللہ (الاحکام فی الاصول الاحکام جلد:۶صفحہ:۳۸۲)
    3:- امام ابنِ القیم رحمہ اللہ(اعلام الموقعین جلد:۲ صفحہ ۰۹۱)
    4:- امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ(باقرارہ، الردعلیٰ من اخلدالی الارض صفحہ ۰۲۱)
    ۵)امام الخطیب البغدادی رحمہ اللہ (الفقیہ المنفقہ جلد :۲صفحہ:۲۲)

    نوٹ: مقلدین اس آیت پر یہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ یہ آیت تو یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہے۔۔۔۔تو اس کا جواب حاضرِ خدمت ہے:
    پہلا جواب: ” العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب“ یعنی لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے نہ کے سبب کے خصوص (شانِ نزول) کا۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر لفظ کے عموم کا اعتبار نہ کیا جائے تو پھر قرآن مجید کی کوئی آیت ہم پر صادق نہیں آئے گی۔
    دوسرا جواب: نبی علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا: لتتبعن سنن من کان قبلکم (بخاری،مشکوة ۸۵۴) کہ تم ضرور میرے بعد یہود و نصاریٰ کے طریقہ کار کو اختیار کرو گے اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنے علماءاور پیروں کو شارع کی حیثیت دی اسی طرح اس امت کے مقلدین نے بھی اپنے اماموں کو وہی حیثیت دے دی۔
    تیسرا جواب: اس آیت سے ہر دور میں علماءنے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے چنانچہ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ”وقداحتج العلماءبہذھ الایات فی ابطال التقلید ولم یمنعھم کفر اولئک من الاحتجاج بھا، لا


    ¿ن التشبیہ لم یقع من جھة کفر احدھماوایمان الاخر، وانماوقع التشبیہ بین المقلدین بغیر الحجة للمقلد۔۔۔۔“ (اعلام الموقعین ج:۲ص۱۹۱)

    علماءنے ان آیات کے ساتھ ابطال ِ تقلید(تقلید کے باطل ہونے) پراستدلال کیا ہے، انہیں (ان آیات میں مذکورین کے) کفر نے استدلال کرنے سے نہیں روکا، کیونکہ تشبیہ کسی کے کفر یا ایمان کی وجہ سے نہیں ہے، تشبیہ تو مقلدین میں بغیر دلیل کے(اپنے) مقلد(امام،راہنما) کی بات ماننے میں ہے۔

    تیسری آیت:- آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم ( اپنے عمل و اعتقاد میں ) سچے ہو تو دلیل لا۔ (البقرة۔۱۱۱)
    لیکن ہر زمانے میں یہی دستور رہا کہ جب بھی مقلد سے اس کے عمل پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو وہ بجائے دلیل لانے کے اپنے آباءو اجداد اور بڑوں کا عمل دکھاتا کہ یہ کام کرنے والے جتنے بزرگ ہیں کیا وہ سب گمراہ تھے؟ ہم تو انہی کی پیروی کریں گے۔ بالکل یہی بات قرآن کریم سے سنئیے
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔ (سورةلقمان۔21)
    بالکل اسی طرح آج بھی کسی مقلدسے جب کہا جاتا ہے کہ بھائی اللہ تعالیٰ کا قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وسلم کی حدیث تو یوں کہتی ہے تو وہ جواب میں یہ کہتا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ھدایہ پر عمل کرتے ہوئے پایا ہے اور ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ یہی حال قرآن کریم کی زبان سے سنیئے۔
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے﴿ (سورة المائدة 104 )

    اب مقلدین کچھ بھی کہہ لیں لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے:
    قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ۔ النساء65
    یہ آیت بتا رہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے راضی نہیں ہیں وہ لوگ کبھی مومن نہیں بن سکتے۔غرض یہ آیت تقلید کے باطل ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس آیت سے درج ذیل علماءنے تقلید کے ابطال پر استدلال کیا ہے۔
    1:- امام ابنِ حزم رحمہ اللہ (الاحکام۶۵۷۲)
    2:- امام غزالی (المستصفیٰ۲۹۸۳)
    3:- امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ (الرد علی من اخلدالی الارض ص۰۳۱)
    دیگر دلائل کے لئے محولہ کتب کا مطالعہ کیجیے۔

    تقلید کا رد احادیث سے:
    پہلی حدیث:-
    "و کل بدعة ضلالة" اور ہر بدعت گمراہی ہے (صحیح مسلم،کتاب الجمعة باب تخفیف الصلاة والخطبة ح۸۶۸ وترقیم دارالسلام ۵۰۰۲)
    اس سے پہلے بیان کیا جا چکا کہ تقلید چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہونے والی ایک بدعت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق ہر بدعت گمراہی ہے۔

    دوسری حدیث:- "فیبقی ناس جھال یستفتون فیفتون برایھم فیضلون ویضلون"
    (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی ایک نشانی یہ بیان کی کہ) پس جاہل لوگ رہ جائیں گے، ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ اپنی رائے سے فتوی دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (صحیح بخاری: کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة باب من زم الراي ح ۷۰۳۷)
    اس سے پہلے بیان کیا جا چکا کہ تقلید (قرآن و حدیث کے) دلائل کے بغیر مجتھد کے اقوال کی اندھا دھند پیروی کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں تمام علماء کا اتفاق ہے کے تقلید علم نہیں بلکہ جہالت ہے۔
    1:- امام ابن قیم رحمھ اللہ"القصیدةالنونية" میں فرماتے ہیں:
    إذ أجمع العلماء أن مقلدا
    للناس والأعمى هما أخوان
    والعلم معرفة الهدى بدليله
    ما ذاك والتقليد مستويان
    "علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ مقلد اور اندھا دونوں برابر ہیں اور علم دلیل کی بنیاد پرمسئلہ سمجھنے کو کہتے ہیں جبکہ کسی کی رائے پر چلنے کا نام تقلید ہے اور اس رائے پر چلنے والے کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ یہ رائے حق پر مبنی ہے یا خطا پر"
    2:- امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    التقلید لیس طریقا للعلم ولا موصولا لھ فی الاصول ولا فی الفروع وھو قول جمھود العقلاء والعلماء خلافا لما یحکی من جھال الحشویة والثعلبیة من انھ طریق الی معرفة الحق
    "یعنی تقلید نہ تو علم کا راستہ ہےاور نہ ہی اصول و فروع میں علم کی طرف رہنمائی کرتی ہے یہ جمھود عقلاء کی بہترین بات ہے جس کی مخالفت صرف ثعلبیہ اور حشویہ جیسے جہال نے کی ہے اور جو علماء تقلید کو واجب سمجھتے ہیں ہمارے خیال میں وہ قطعی طور پرعقل سے عاری ہیں" (تفسیر القرطبی ۲/۲۱۲)
    3:- امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لا یقلد الا غبی او عصبی
    تقلید صرف وہی کرتا ہے جو غبی (جاہل) ہو یا جس کے اعصاب خراب ہوں (لسان المیزان ۱/۲۸۰)
    4:- زمحشری فرماتے ہیں:
    ان کان للضلال ام فالتقلید امھ
    اگر گمراہی کی کوئی ماں ہوتی تو تقلید اس کی بھی ماں ہوتی (اطواق الذہب۷۴)
    غرض یہ کہ اس طرح کے ان گنت حوالے پیش کیئے جا سکتے ہیں جن میں معتبر عند الفریقین علماء نے تصریح کی ہے کہ مقلد جاہل ہوتا ہے۔ انشاء اللہ مقلدین کی جہالت کی ایک جھلک "تقلید کے نقصانات" میں پیش کی جائے گی۔

    تیسری حدیث:- رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزوں سے بچو، عالم کی غلطی ، منافق کا {قرآن لے کر} مجادلہ کرنا اور دنیا جو تمھاری گردنوں کو کاٹے گی۔ رہی عالم کی غلطی تو اگر وہ ہدایت پر بھی ہو "فلا تقلدوہ" تب بھی اس کی تقلید نہ کرنا اور اگر وہ پھسل جائے تو اس سے نا امید نہ ہو جاؤ۔۔۔الخ (المعجم الاوسط جلد ۹ص۶۲۳، روایت مرسل ہے)
    تنبیہ: مقلدین کے نزدیک مرسل روایت بھی حجت ہوتی ہے
    چوتھی حدیث:- جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم یہودیوں سے ایسی دلچسپ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں حیرت میں ڈال دیتی ہیں کیا ہم ان میں سے کچھ تحریری شکل میں لا سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا تم بھی یہود ونصاری کی طرح دین میں حیران ہونے لگے ہو۔ جبکہ میں تمہارے پاس واضح، بے غبار اور صاف شفاف دین لے کر آیا ہوں۔ اگر بالفرض موسی علیہ السلام بھی زندہ ہو کر دنیا میں تشریف لے آئیں تو ان کے پاس بھی میری تابعداری کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا"۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ "اس زات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسی علیہ السلام بھی زندہ ہو کر تمہارے درمیان تشریف لے آئیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی تابعداری کرو تو صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے، اگر وہ زندہ ہوتے تو میری تابعداری کے سوا ان کے پاس بھی کوئی چارہ نہ ہوتا (رواہ امام احمد ۳/۳۸۷ \و امام بہیقی فی شعب الایمان کما فی المشکوة ۱/۳۰ \و فی الدارمی۱/۱۱۶)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر موسی علیہ السلام جیسے معصوم عن الخطاء نبی کی تابعداری بھی جائز نہیں تو 80 ہجری میں پیدا ہونے والے ایک امتی کی تابعداری کیسے جائز ہو سکتی ہے؟

    تقلید کا رد:اجماع امت سے:
    امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    "وقد صح اجماع جمیع الصحابة رضی اللہ عنھم، اولھم عن آخرھم و اجماع جمیع التابعین اولھم عن آخرھم علی الامتناع والمنع من ان یقصد منھم احد الی قول انسان منھم او ممن قبلھم فیاخذہ کلھ فلیعلم من اخذ بجمیع قول ابی حنیفة او جمیع قول مالک او جمیع قول الشافعی او جمیع قول احمد بن حنبل رضي اللہ عنھم ممن یتمکن من النظر، ولم یترک من اتبعھ منھم الی غیرہ قد خالف اجماع الامة کلھا عن آخرھاواتبع غیر سبیل المومنین، نعوزباللہ من ھذہ المنزلة وایضا فان ھولاء الافاضل قد منعو عن تقلید ھم و تقلید غیرھم فقد خالفھم من قلدھم" (النبذة الکافیة فی احکام اصول الدین ص ۱۷ والردعلی من اخلد الی الارض للسیوطی ص۱۳۱،۲۳۱)
    اول سے آخر تک تمام صحابہ رضی اللہ عنھم اور اول سے آخر تک تمام تابعین کا اجماع ثابت ہےکہ ان میں سے یا ان سے پہلے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ) کسی انسان کے تمام اقوال قبول کرنا منع اور ناجائز ہے۔ جو لوگ ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد رضی اللہ عنھم میں سے کسی ایک کے اگر سارے اقوال لے لیتے ہیں(یعنی تقلید کرتے ہیں)، باوجود اسکے کہ وہ علم بھی رکھتے ہیں اور ان میں سے جس کو اختیار کرتے ہیں اس کے کسی قول کو ترک نہیں کرتے، وہ جان لیں کہ وہ پوری امت کے اجماع کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مومنین کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ ہم اس مقام سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام فضیلت والے علماء نے اپنی اور دوسروں کی تقلید سے منع کیا ہے پس جو شخص ان کی تقلید کرتا ہے وہ ان کا بھی مخالف ہے.
    شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    "وقد صح اجماع الصاحبة کلھم اولھم عن آخرھم و اجماع التابعین اولھم عن آخرھم و اجماع تبع التابعین اولھم عن آخرھم علی الامتناع والمنع من ان یقصد احد الی قول انسان منھم او ممن قبلھم فیاخذہ کلھ" (عقدالجید لشاہ ولی اللہ محدث دھلوی رح ص:۴۱)
    تمام صحابہ کرام، تمام تابعین اور تبع تابعین کا اس بات پر اجماع ثابت ہو چکا ہے کہ انہوں نےنہ صرف اپنے آپ کو تقلید سے محفوظ رکھا بلکہ اس کو شجر ممنوعہ قرآر دیا ہے کوئی ایسا شخص جس کا تعلق قرون ثلاثہ سے ہو صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی نے بھی اس کی ہر بات کو تسلیم نہیں کیا ہے اور جن باتوں کو قبول کیا ہے وہ صرف اور صرف دلیل کی بنیاد پر یہ ان کے صریح اجماع کی دلیل ہے


    تقلید کا رد: آثارصحابہ سے، رضی اللہ عنہم اجمعین:
    1:- امام بہیقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دین میں لوگوں کی تقلید نہ کرو، پس اگرتم (میری بات کا) انکار کرتے ہو تو مردوں کی (اقتداء) کر لو، زندوں کی نہ کرو۔ (السنن الکبری ج۲ص۱۰ و سند حسن، المعجم الکبیر ج۹ص۶۶۱ح۴۶۷۸)
    2:- امام وکیع بن الجراح (متوفی197ھ) فرماتے ہیں:
    سیدنا معاز رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تین باتیں (رونما) ہوں گی تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ دنیا جب تمہاری گردنیں توڑ رہی ہو گی، اور عالم کی غلطی اور منافق کا قرآن لے کر جھگڑا (اور مناظرہ) کرنا؟ لوگ خاموش رہے تو معاز رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گردن توڑنے والی دنیا (یعنی کثرت مال و دولت) کے بارے ميں سنو، اللہ نے جس کے دل کو بے نیاز کر دیا وہ ہدایت پا گیا اور جو بے نیاز نہ ہوا تو اسے دنیا فائدہ نہیں دے گی، رہا عالم کی غلطی کا مسئلہ تو (سنو) اگر وہ سیدھے راستے پر بھی (جا رہا ) ہوتو اپنے دین میں اس کی تقلید نہ کرو اور اگر وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے تو اس سے نا امید نہ ہو جاؤ، کیونکہ مومن بار بار فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔۔۔الخ (کتاب الزہد ج ۱ ص 299،300ح۱۷ وسند حسن)
    3:- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ حج تمتع کو جائز سمجھتے ہیں حالانکہ آپ کے والد عمر رضی اللہ عنہ اس سے روکا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ میرے والد ایک کام سے منع کريں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حکم دیں تو میرے والد کی بات مانی جائےگی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانا جائے گا؟ کہنے والے نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم و عمل کو قبول کیا جائے گا۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو لیا جائے گا تو پھر میرے والد کے قول کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلے میں کیوں پیش کرتے ہو۔ (ترمذی۱\۱۶۹،طحاوی۱\۳۹۹)
    تنبیہ بلیغ: صحابہ میں سے کوئی تقلید کے معاملے میں مذکورہ بالا صحابہ کا مخالف نہیں تھا لہذا اس پر صحابہ کا اجماع ہے کہ تقلید نہیں کرنی چاہئے والحمدللہ (جاری ہے )

     
  2. ‏اگست 13، 2016 #2
    حافظ راشد

    حافظ راشد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2016
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    ردتقلید (2)
    تقلید کا رد سلف صالحین سے:
    1:- امام (عامر بن شراحیل) الشعبی (تابعی،متوفی104ھ) فرماتے ہیں:
    یہ لوگ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بتائیں اسے (مضبوطی سے) پکڑ لو اور جو بات اپنی رائے سے کہیں اسے کوڑے کرکٹ میں پھینک دو (مسندالدارمی۶۰۲ وسندہ صحیح)
    2:- امام حکم (بن عتیبہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لوگوں میں سے ہر آدمی کی بات آپ لے بھی سکتے ہیں اور رد بھی کر سکتے ہیں سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے(آپ کی ہر بات لینا فرض ہے) (الاحکام لابن حزم 293/6 و سندہ صحيح)
    3:- ابراہیم النخعی رحمہ اللہ کے سامنے کسی نے سعید بن جبیر (تابعی رحمہ اللہ) کا قول پیش کیا تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں تم سعید بن جبیر کے قول کو کیا کرو گے؟ (الاحکام لاابن حزم293/6 وسندہ صحیح)
    4:- امام المزنی رحمہ اللہ نے فرمایا:
    میں نے یہ کتاب (امام) محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے علم سے مختصر کی ہے تاکہ جو شخص اسے سمجھنا چاہے آسانی سے سمجھ لے، اس کے ساتھ میرا یہ اعلان ہے کہ امام شافعی نے اپنی تقلید اور دوسروں کی تقلید سے منع فرما دیا ہے تاکہ (ہر شخص) اپنے دین کو پیش نظر رکھے اور اپنے لیئے احتیاط کرے۔ (الام/مختصرالمزنی ص۱)

    5:- امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    میری ہر بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے خلاف ہو (چھوڑ دو) پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سب سے بہتر ہے اور میری تقلید نہ کرو۔ (آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم ص51 وسندہ حسن)
    6:- امام ابو داؤد السجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    میں نے (امام) احمد (بن حنبل)سے پوچھا: کیا (امام) اوزائی، مالک سے زیادہ متبع سنت ہیں؟ انھوں نے فرمایا: اپنے دین میں، ان میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کر۔۔۔الخ (مسائل ابی داودص277)
    7:- امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ایک دن قاضی ابو یوسف کو فرمایا:
    اے یعقوب (ابویوسف) تیری خرابی ہو،میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بدل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہے پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔ (تاریخ بغداد 424/13 ،تاریخ ابن معین 2/607 وسندہ صحيح)
    8:- امام ابن حزم نے فرمایا "والتقلید حرام" اور تقلید حرام ہے (البذةالکافیة فی احکام اصول الدین ص70)
    اور فرمایا: اور عامی و عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) برابرہیں، ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا(النبذة الاکافیة ص71)

    9:- امام ابو جعفر الطحاوی (حنفی!؟) سے مروی ہے:
    تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو جاہل اور عصبی (بیوقوف) ہوتا ہے (لسان المیزان 280/1)
    10:- عینی حنفی (!) نے کہا:
    پس مقلد غلطی کرتا ہے اور مقلد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے اور ہر چیز کی مصیبت تقلید کی وجہ سے ہے (البنایة شرح الھدایہ جلد۱ ص۷۱۳)
    11:- زیلعی حنفی (!) نے کہا:
    "فالمقلد ذھل و المقلد جھل" پس مقلد غلطی کرتا ہے اور مقلد جہالت کا ارتکاب کرتا ہے(نصب الرایہ جلد۱ ص ۹۱۲)
    12:- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تقلید کے خلاف زبردست بحث کرنے کے بعد فرمایا:
    اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ عوام پر فلاں فلاں کی تقلید واجب ہے تو یہ قول کسی مسلم کا نہیں ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیہ جلد ۲۲ص۹۴۲)
    13:- امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    یہ کہنا واجب ہے کہ ہروہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے امام سے منسوب ہو جائے، اس انتساب پر وہ دوستی رکھے اور دشمنی رکھے تو یہ شخص بدعتی ہے، اہل سنت والجماعت سے خارج ہے چاہے (انتساب) اصول میں ہو یا فروع میں (الکنزالمدفون والفلک المشحون ص149)

    14:- عبدالعزیز بن محمد بن سعود رحمہ اللہ (سعودی عرب کے بادشاہ) سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی مذاہب مشھورہ کی تقلید نہیں کرتا، کیا یہ شخص نجات پا جائے گا؟ سلطان عبد العزیز نے کہا: "جو شخص ایک اللہ کی عبادت کرے، استغاثہ صرف اسی سے کرے، دعا صرف ایک اللہ سے ہی مانگے، زبح بھی ایک اللہ کے لیئے ہی کرے، نذر بھی صرف اسی کی ہی مانے، صرف اسی پر توکل کرے، اللہ کے دین کا دفاع کرے اور اس میں سے جو معلوم ہو حسب استطاعت اس پر عمل کرے تو یہ شخص بغیر کسی شک کے نجات پانے والا ہے اگرچہ اسے ان مذاہب مشھورہ کا پتہ ہی نہ ہو (الدارالسنیة 1/170)
    15:- سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:
    "میں بحمدللہ متعصب نہیں ہوں لیکن میں کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ میرے فتووں کی بنیاد قال اللہ اور قال الرسول پر ہے حنابلہ یا دوسروں کی تقلید پر نہیں" (المجلة رقم806 تاریخ 25 صفر 1416ھ)
    16:- یمن کے مشہور سلفی عالم شیح مقبل بن ہادی الوداعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "تقلید حرام ہے کسی مسلمان کے لیئے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دین میں (کسی کی) تقلید کرے (تحفة المجیب علی اسئلة الحاضر و الغریب ص205)

    تقلید شخصی کے نقصانات:
    1:- تقلید شخصی کی وجہ سے قرآن مجید کی آیات مبارکہ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہےمثلاً:
    کرخی حنفی (تقلیدی) کہتے ہیں: "اصل یہ ہے کہ ہر آیت جو ہمارے ساتھیوں (فقہاء حنفیہ) کے خلاف ہے اسے منسوخیت پر محمول یا مرجوح سمجھا جائے گا، بہتر یہ ہے کہ تطبیق کرتے ہوئے اس کی تاویل کر لی جائے" (اصول کرخی ص29)

    2:- تقلید شخصی کی وجہ سے احادیث صحیحہ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہےمثلاً:
    کرخی مزکور ایک اور اصول یہ بیان کرتے ہیں: "اصل یہ ہے کہ ہر حدیث جو ہمارے ساتھیوں کے قول کے خلاف ہے تو اسے منسوخ یا اس جیسی دوسری روایت کے معارض سمجھا جائے گا پھر دوسری دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا" (اصول کرخی ص29 اصل 30)
    یوسف بن موسیٰ الملطی الحنفی کہتا تھا: "جو شخص امام بخاری کی کتاب (صحیح بخاری) پڑھتا ہے وہ زندیق ہو جاتا ہے" (شذرات الذہب ج7ص40َ)
    3:- تقلید شخصی کی وجہ سے کئی مقامات پر اجماع کو رد کیا جاتا ہے مثلاً:
    خیرالقرون میں اس پر اجماع ہے کہ تقلید شخصی ناجائز ہے۔ (النبذة الکافیہ ص71 دین میں تقلید کا مسئلہ ص34-35) مگر مقلدین دن رات تقلید شخصی کا راگ الاپ رہے ہوتے ہیں۔
    4:- تقلید شخصی کی وجہ سے صحابہ اور دیگر سلف صالحین کی گواہیوں اور تحقیقات کو رد کرکے بعض اوقات علانیہ ان کی توہین بھی کی جاتی ہےمثلاً:
    حنفی تقلیدیوں کی کتاب اصولِ شاشی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اجتہاد اور فتوی کے درجے سے باہر نکال کر اعلان کیا گیا ہے: "وعلٰی ھذا ترک اصحابنا روایة ابی ھریرة" اور اسی (اصول) پر ہمارے ساتھیوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترک کر دیا (اصول شاشی مع احسن الحواشی ص75)
    ایک حنفی تقلیدی نوجوان نے صدیوں پہلے بغداد کی جامع مسجد میں کہا تھا:
    "ابو ھریرة غیر مقبول الحدیث" ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث قابل قبول نہیں ہے (سیراعلام النبلاج2ص619,مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 4 ص 538)

    5:- تقلید شخصی کی وجہ سے آل تقلید یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی دو آیتوں میں تعارض واقع ہو سکتا ہےمثلاً:
    ملاجیون حنفی لکھتے ہیں: "کیونکہ اگر دو آیتوں میں تعارض ہو جائے تو دونوں ساقط ہو جاتی ہیں۔ (نورالانوارمع قمرالاقمار ص193)
    حالانکہ قرآن مجید کی آیات میں کوئی تعارض سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ قرآن و آحادیث صحیحہ کے درمیان کسی قسم کا تعارض ہے۔ والحمدللہ
    6:- تقلید شخصی کی وجہ سے آل تقلید نے اپنے تقلیدی بھائیوں پر فتوے تک لگا دئیےمثلاً:
    محمد بن موسی البلاغونی حنفی سے مروی ہے کہ اس نے کہا: "اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں شافعیوں سے (انہیں کافر سمجھ کر) جزیہ لیتا۔ (میزان الاعتدال للذہبی ج4ص52)
    عیسی بن ابی بکر بن ایوب الحنفی سے جب پوچھا گیا کہ تم حنفی کیوں ہو گئے ہو جب کہ تمھارے خاندان والے سارے شافعی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا: کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ گھر میں ایک مسلمان ہو۔! (الفوائد البہیہ ص152-153)
    حنفیوں کے ایک امام السفکردری نے کہا: "حنفی کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی شافعی مذہب والے سے کرے لیکن وہ اس (شافعی) کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے (فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوی عالمگیریہ ج 4 ص 112) یعنی شافعی مذہب والے (حنفیوں کے نزدیک) اہل کتاب کے حکم میں ہیں۔ دیکھیے(البحرالرائق جلد2ص46)

    7:- تقلید شخصی کی وجہ سے حنفیوں اور شافعیوں نے ایک دوسرے سے خونریز جنگیں لڑیں۔ایک دوسرے کو قتل کیا، دکانیں لوٹیں اور محلے جلائے۔ تفصیل کے لیئے دیکھئے یاقوت الحموی (متوفی626ھ) کی معجم البلدان (ج1ص209 "اصبہان"ج3ص117"ري") تاریخ ابن اثیر (الکامل ج 9 ص92 حوادث سنة 561ھ)
    8:- تقلید شخصی کی وجہ سے آدمی حق و انصاف اور دلیل نہیں مانتا بلکہ اپنے امام کی اندھا دھند بنادلیل پیروی میں سرگرداں رہتا ہے۔ایک صاحب نے ایک حدیث کو قوی تسلیم کرکے،اسکے جواب میں چودہ سال لگا دیے۔ دیکھئے العرف الشذی (ج1ص107)
    محمود الحسن دیوبندی کہتے ہیں:
    "حق و انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں امام شافعی کو ترجحیح حاصل ہے اور (لیکن) ہم مقلد ہیں (اسلیئے) ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے۔ (تقریرترمذی ص36)
    احمد یار نعیمی بریلوی نے کہا:
    "کیونکہ حنفیوں کے دلائل یہ روایتیں نہیں ان کی دلیل صرف قول امام ہے۔۔۔۔" (جاءالحق ج2 ص9)
    9:- تقلید شخصی کی وجہ سے جامد و غالی مقلدین نے بیت اللہ میں چار مصلے بنا ڈالے تھے جن کے بارے میں رشید احمد گنگوہی صاحب فرماتے ہیں:
    "البتہ چار مصلی کو مکہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امر زبوں ہے کہ تکرار جماعات و افتراق اس سے لازم آ گیا کہ ایک جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی اور شریک جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں" (تالیفات رشیدیہ ص517)

    10:- تقلید کی وجہ سے تقلیدی حضرات اپنے مخالفین پر جھوٹ بولنے سے بھی نہیں شرماتے بلکہ کتاب و سنت پر بھی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں مثلاً:
    اہل حدیث کے بارے میں اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: "اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تراویح کے بدعتی بتلاتے ہیں" (امداد الفتاویٰ ج4ص562)
    حالانکہ اہلحدیث کے زمہ دار علماء و عوام میں سے کسی سے بھی متبع سنت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر "بدعتی" کا فتوی ثابت نہیں۔ہم ہر اس شخص کو گمراہ اور شیطان سمجھتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بدعتی کہتا ہے۔
    اس کے علاوہ تقلید شخصی کے اور بھی بہت سے نقصانات ہیں مثلاً فرقہ پرستی،بدعت پرستی،غلو، شدید تعصب اور تحقیق سے محرومی وغیرہ۔
    ان تمام امراض کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ کتاب و سنت اور اجماع پر سلف صالحین کے فہم کی روشنی میں عمل کیا جائے۔ واللہ ھو الموفق
    مقلدین کے شبھات کا غیر جانبدارانہ جائزہ:
    جس طرح قادیانی، پرویزی، قبوری، رافضی اور دوسرے گمراہ فرقے قرآن و حدیث سے (غلط استدلال اور تحریف کرتے ہوئے) اپنے غلط عقائد ثابت کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح مقلدین بھی آئمہ اربعہ کی تقلید کا واجب ہونا قرآن و حدیث سے ثابت کرتے ہیں، اس بحث میں مقلدین کے انہیں شبھات کا ازلہ کیا جائے گا انشاءاللہ


    پہلا شبھہ:- اگر تمہیں علم نہیں تو اہل علم سے پوچھو (النحل 43,الاانبیاء7) مقلدین کا خیال ہے کہ اس آیت میں تقلید کا حکم موجود ہے۔

    الجواب:
    1:- اس آیت سے تو جتنے (اھل الذکر) اہل علم گزر چکے اور جتنے قیامت تک آئیں گے سب مرآد ہیں لیکن مقلدین کا تو دعوی ہے کہ مسلمانوں پر ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد) میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ فیصلہ ہم عقلمند اور تعصب نے رکھنے والے مقلدین پر چھوڑتے ہیں کہ آیا اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے یا نہیں!!
    2:- اس آیت میں زندہ اہل علم سے پوچھنے کا زکر ہے یا فوت شدہ اہل علم سے؟ ظاہر ہے جسے کسی مسئلے کا علم نہیں وہ کسی زندہ عالم سے ہی جا کر مسئلہ پوچھے گا لیکن حیرت ہے مقلدین کی عقل پر کہ یہ لوگ اس آیت سے فوت شدہ اہل علم (آئمہ اربعہ) کی تقلید کا واجب ہونا ثابت کرتے ہیں
    3:- کتب فقہ کے مطابق غیر نبی کی بات پر بنا دلیل عمل کرنے کا نام تقلید ہے تفصیل یہاں ملاحظہ کیجیے، جبکہ اس آیت میں کہیں بھی بنا دلیل مسئلہ پوچھنے (تقلید) کا حکم موجود نہیں
    4:- عرف عام میں بھی اہل علم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں کہلاتا، آج مقلدین اپنے اپنے علماء سے مسائل پوچھ کر ان پر عمل کرتے ہیں تو کیا خیال ہے وہ اپنے علماء کے مقلد کہلائیں گے یا آئمہ اربعہ کے؟
    5:- خیر القرون اور قرون وسطی میں سے کسی اہل علم نے آج تک اس آیت سے تقلید کے وجوب پر استدلال نہیں۔

    دوسرا شبھہ:
    اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔ (النساء:59)
    الجواب:
    1:- اطاعت کے حوالے سے احادیث میں ایک قاعد ہ بیان ہوا ہے۔نبی ﷺ کا ارشاد ہے: لا اطاعة فی معصیت اللہ(جس کام میں ) اللہ کی معصیت ہوتی ہو اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں (مسلم) اور انما الاطاعة فی المعروف یعنی اطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔(بخاری)
    اب یہ بات کیسے معلوم ہو گی کہ علماءو فقہاءکی بات کتاب و سنت کے موافق ہے یا خلاف؟ ظاہر ہے کہ یہ تبھی پتہ چل سکتا ہے جب انسان کو علماءو فقہاءکے اقوال کی دلیل کتاب و سنت سے معلوم ہو گی کیونکہ اگر اسے کتاب و سنت سے دلیل معلوم نہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ اُن کی وہ باتیں بھی مان لے جو کتاب و سنت کے خلاف ہیں، جبکہ تقلید کہتے ہیں بغیر دلیل بات ماننا ، یعنی اس آیت سے تو تقلید کا رد ثابت ہوتا ہے۔
    2:- اولی الامر میں تو قیامت تک آنے والے تمام ا مراء،علماء، فقہاءاور مجتھدین شامل ہیں ، جبکہ مقلدین کا تو دعویٰ ہے کہ انسان پر صرف چار اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید لازم ہے، تو اس آیت اور پورے قرآن میں ائمہ اربعہ کی تقلید کا ذکر کہاں موجود ہے؟

    تیسرا جواب: اس آیت کے آخری حصے میں واضح ذکر موجود ہے کہ جب تم کسی بات میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول علیہ الصلاة والسلام کی طرف لوٹاو۔ یعنی اختلاف کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے نہ کے کسی اُمتی کی تقلید کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
    3:- سلف صالحین میں سے کسی نے اس آیت سے آئمہ اربعہ کی تقلید کا وجوب ثابت نہیں کیا۔

    تیسرا شبھہ: اور اتباع کر اس کی، جس نے میری طرف رجوع کیا (لقمان:۱۵)
    الجواب:
    1:- اتباع دلیل کے ساتھ کسی کی بات ماننے کو کہتے ہیں جس کی تفصیل تقلید کے مفہوم میں بیان کی جا چکی ہے اسلیئے اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت کرنا ہی سرے سے کذب بیانی کے سوا کچھ نہیں۔
    2:- اگر مان بھی لیا جائے کہ اس میں تقلید کا ذکر ہے تو کیا ہر اس شخص کی تقلید واجب ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے؟
    3:- امام ابن کثیر رحمہ اللہ (متوفی ۷۷۴ھ) اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: "یعني المومنین" یعنی تمام مومنین کے راستے کی اتباع کر (تفسیرابن کثیر 106/5) مقلدین بتائیں کیا تمام مومنین کی تقلید واجب ہے؟
    4:- سلف صالحین میں سے کسی نے اس آیت سے تقلید کے اثبات پر استدلال نہیں کیا۔

    چوتھا شبھہ: (اے اللہ) ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے، ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تو نے انعام کیاہے (الفاتحہ6,7)
    الجواب:
    یہاں پر تمام ربانی انعام یافتہ لوگوں کے راستہ کا ذکر ہے بعض انعام یافتہ کا نہیں، لہذا اس آیت سے آئمہ اربعہ کی تقلید کا وجوب ثابت کرنا کذب بیانی اورجہالت ہے۔ سلف صالحین میں سے بھی کسی نے اس آیت سے تقلید کا واجب ہونا ثابت نہیں کیا۔

    پانچواں شبھہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے بعد ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرو" (ترمذی:207/2)
    سرفرازصفدر اس حدیث کے بارے میں "الکلام المفید" ص91 میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے تقلید شخصی ثابت ہوتی ہے

    الجواب:
    1:- یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امور خلافت کی اقتداء کا حکم دیا ہے نہ کہ امور دین کی جیسا کہ آگے چل کر واضح ہو گا۔
    2:- بہت سارے مسائل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اختلاف کیا ہے جیسا کہ کتب حدیث میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں تو انہوں نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تقلید کیوں نہ کی؟ کیا آپ اس حدیث کی روشنی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بغاوت کا فتوی لگا سکتے ہیں؟
    3:- ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مانعین زکاة سے جہاد کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خلیفہ وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہوا تھا لیکن جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دلائل دیے تو وہ مان گئےاور جہاد شروع کیا۔ کیا دلائل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو تقلید کہتے ہیں؟
    4:- اگر حقیقتاً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مقلد تھے تو آج کے مقلدین ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو چھوڑ کر آئمہ اربعہ کی تقلید کو کیوں واجب سمجھتے ہیں؟

    چھٹا شبھہ:معاز بن جبل رضی اللہ عنہ یمن گئے تھے جہاں کے لوگ معاز رضی اللہ عنہ کی باتوں پر عمل کرتے تھے۔ اور یہ تقلید ہے۔
    الجواب:
    معاز رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گورنر بنا کر یمن بھیجا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنر کی حیثیت سے ان کے لیئے معاز رضی اللہ عنہ کی بات ماننا ضروری تھا اور چونکہ معاز رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مبعوث تھے اس لیئے ان کی بات پر عمل کرنا گویا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر عمل کرنا تھا۔
    ساتواں شبھہ:انٹرنیٹ پرہمیں ایک آرٹیکل دیکھنے کو ملا جس میں ایک جگہ لکھا ہے:تقلید کی دو قسمیں ہیں
    ۔مذموم1
    کہ کسی کی بات محض بے دلیل ہو اس پر عمل کرنا
    ۔ محمود 2
    کہ کوی مسلہ نفس الامر میں تو مدلل ہو لیکن عمل کرنے والا دلیل کا مطالبہ نہ کرے محض حسن ظن اور اعتماد پر عمل کرے کہ یہ مسلہ یقیناً کسی نہ کسی دلیل شرعی سے ثابت ہے
    یہاں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ غیر مقلیدین حضرات تقلید مزموم والی تعریف تو سناتے ہیں لیکن تقلید محمود والی چھپاتے ہیں ۔ میرے بھای اسطرح تو مشکوٰۃ شریف سے حدیث پڑھ کر عمل کرنے والا بھی مقلد ہے کیونکہ اس میں نہ سندیں موجود ہیں نہ سندوں کی تحقیق ہے ۔
    کسی حدیث کا صحیح یا ضعیف ہونا یا کسی راوی کا معتبر یا غیر معتبر ہونا بھی امتیوں کے اجتہاد سے معلوم ہوتا ہے ان پر اعتماد کر کے کسی حدیث کو صحیح کسی کو ضعیف کہنا یا کسی راوی کو ثقہ اور کسی کو ضعیف کہنا بھی تقلید ہے ۔
    یہاں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ تقلید مذموم وہ ہوتی ہے جس میں مجتہد یا جس کی بھی تقلید کی جاری رہی ہے، اس کی بات بنا دلیل ہو اور مقلد ایسی بنا دلیل بات پر عمل کرے۔ جبکہ اگر مجتہد کے پاس دلیل ہے اور مقلد محض حسن ظن کیوجہ سے دلیل کا مطالبہ نہ کرے تو ایسی تقلید کوتقلید محمود کہاجائےگا۔ سبحان اللہ
    1:- مقلدین بتائیں کہ انہوں نے یہ تعریف فقہ کی کس کتاب سے لی ہے؟ نیز فقہ کی کس کتاب میں تقلید کی اس تقسیم کا ذکر موجود ہے؟
    2:- حقیقت میں یہ تقسیم خانہ ساز ہے جس کا ثبوت علمائے متقدمین سے نہیں ملتا اس سے پہلے ہم کتب فقہ اور مقلدین کے معتبر علماء کے حوالوں سے تقلید کی تعریف بیان کر چکے ہیں جس میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں کہ جس مجتہد کی تقلید کی جا رہی ہے اس کے پاس دلیل ہے یا نہیں بلکہ مقلد کی بات کی جا رہی ہے کہ کیا وہ مجتہد کی بات دلیل کے ساتھ مان رہا ہے یا دلیل کے بغیر۔ یعنی مقلدین جسے تقلید مذموم کا نام دیتے ہیں اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں اور جسے مقلدین تقلید محمود کہتے ہیں اصل میں وہی تقلید ہے اور یہی تقلید مذموم ہے جس کا رد ہم نے اوپر قرآن، حدیث، اجماع، اثار صحابہ اور سلف صالحين سے ثابت کیا ہے۔

    حدیث کی اسناد کو تسلیم کرنا بھی تقلید ہے
    پہلا جواب:
    سند گواہی کے زمرے میں آتی ہے۔یعنی جب کوئی راوی یہ کہہ رہا ہو کہ میں نے نبی علیہ الصلاةوالسلام کی حدیث فلاں شخص سے سنی اور فلاں نے فلاں شخص سے سنی۔۔۔۔ تو وہ راوی گواہی دے رہا یہی وجہ ہے کہ جب راوی ثقہ نہ ہو بلکہ ضعیف و متروک ہو، نیسان کامریض ہو، لقمہ قبول کر لیتا ہو، سند اور متن میں گڑ بڑ کرتا ہو تو اس کی گواہی غیر معتبر اور روایت ضعیف ہو جاتی ہے۔ اور معتبر کی گواہی کو قبول کرنا کتاب و سنت سے ثابت ہے یعنی ہم گواہ کی گواہی کو اتباعِ سنت میں قبول کرتے ہیں نہ کے کسی کی تقلید میں۔

    دوسرا جواب: گواہ کی گواہی کے لیے مجتہد ہونا شرط نہیں، تو کیا تقلید غیر مجتہد کی بھی جائز ہےَ؟ یقینا نہیں تو یہ تقلید کیسے بن گئی؟؟؟
    تیسرا جواب: گواہ کی گواہی کو قبول کرنا اصطلاح میں تقلید کہلاتا ہی نہیں ملاحظہ کیجئے:
    حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“میں لکھا ہے:
    تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (کم علم شخص) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی
    دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق)ہیں“۔ الخ
    (مسلم الثبوت ص۹۸۲طبع ۶۱۳۱ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص۰۰۴)

    چوتھا جواب: حدیث کی اسناد کو قبول کرنے اور اسماءو رجال و جرح و تعدیل وغیرہ کی بنیاد پر حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنے پر ہر دورمیں اجماع رہا ہے اور اجماع کی حجیت کتاب و سنت سے ثابت ہے۔

    رہی بات مشکوة کی تو یہ بڑا جہالت آمیز اعتراض ہے، مشکوة میں ہر حدیث کے ساتھ اس کی اصل کتاب کو حوالہ بھی موجود ہوتا ہے جس میں اس حدیث کی سند موجود ہوتی ہے۔

    نواں شبھہ: صحابہ کرام نے فتوے دیے اور لوگوں نے اسپر عمل کیا اس سے بھی تقلید ثابت ہوتی ہے۔
    دسواں شبھہ: ایک فورم پر تقلید کو کچھ یوں ثابت کیا گیا ہے
    حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا گیا کہ طواف کے بعد عورت کو حیض آجاے تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا لوٹ جاے، اہل مدینہ نے کہا"لانا حذ بقو لک وندع قول زید"
    (الصحیح البخاری، کتاب الحج ، باب ازا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت: جلد 1 صفحہ 237)
    " عن عکرمۃ ان اھل المدینہ سالوا ابن عباس عن امراۃ طافت ثم حاضت، قال لھم: تنفر، قالوا: لانا خذ بقولک، وندع قول زید بن ثابت۔۔۔۔۔۔ وفی روایۃ الثقفی: لانبالی بقولک افتیتنا اولم تفتنا، لا نتا بعک وانت تخالف زیدا"
    حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے طواف کے بعد حیض آجاے، حضرت ابن عباس نے فرمایا: وہ واپس جا سکتی ہے ، اہل مدینہ نے کہا: ہم زید بن ثابت کی بات چھوڑ کر آپ کی بات نہیں مانتے ۔۔۔۔۔ ثقفی کی روایت میں ہے: آپ ہمیں فتویٰ دیں یا نہ دیں، ہمیں آپ کے فتویٰ کی پرواہ نہیں اور نہ ہی ہم آپ کی بات مانیں گے کہ آپ زید بن ثابت کی مخالفت کرتے ہیں "
    (فتح الباری، کتاب الحج، باب اذا حاضت المراءۃ بعد ما افاضت جلد 3 صفحہ 749)

    الجواب:
    اس سے پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ مفتی کے فتوے پر عمل کرنا نہ تو اصطلاح میں تقلید کہلاتا ہے اور نہ ہی عرف عام میں، اختصار کے پیش نظر صرف ایک ہی حوالہ دوبارہ پیش کیاجارہا ہے۔
    حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“میں لکھا ہے:
    تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (کم علم شخص) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق)ہیں“۔ الخ
    (مسلم الثبوت ص:289طبع 1316ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص400)
    حاصل کلام یہ ہے کہ عام آدمی کا کسی مفتی کے فتوے پر عمل تقلید نہیں ہے، لیکن اگر مقلدین کو اس کے تقلید گرادننے پر اصرار ہے تو اس طرح پھر تمام لوگ بقید حیات علماء کے مقلد ہوئے ایسی صورت میں ان کو احناف،شوافع،حنابلہ یا مالکیہ کیوں کہا جاتا ہے؟ کیونکہ آج کے عوام الناس ائمہ اربعہ سے فتوی طلب نہیں کرتے بلکہ آج کے علماء سے فتوی طلب کرتے ہیں۔
    اور جہاں تک اہل مدینہ کی بات ہے تو انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بات کو چھوڑ کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فتوے کو اس بنیاد پر قبول کیا کہ وہ ان کے اپنے اجتہاد اور تحقیق کے مطابق تھا کیونکہ وہ مقلدین کی طرح جاہل نہیں بلکہ عالم تھے۔ اور اگر بالفرض مان بھی لیں کہ اہل مدینہ نے زید رضی اللہ عنہ کی تقلید کی تو کیا مقلدین یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ہر معاملے میں تقلید کی؟ اور مذاہب اربعہ کی طرح ان کے نام پر زیدی یا ثابتی کہلوایا ہو؟ اور کیا وجہ ہے کہ مقلدین دلائل تو صحابہ کرام کی تقلید کے دیتے ہیں جبکہ خود صحابہ سے کم درجے کے آئمہ اربعہ کی تقلید کو واجب گرادنتے ہیں؟
    گیارھواں شبھہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعی تھے جن سے حدیث ثنائی مروی ہے۔ یعنی امام ابو حنیفہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو واسطے ہیں اور فقہ حنفی حدیث ثنائی پر مبنی ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ حنفی سب سے بہتر اور معتبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں (مقدمہ درس بخاری شریف للشیخ زکریا)
    =================
    الجواب:
    1) امام ابو حنیفہ تابعی ہیں لیکن ایسے تابعی جنہوں نے صغرسنی یعنی بچپن میں صحابہ کرام کو دیکھا ہے لیکن روایت نقل نہیں کر سکے اور بعض روایات کے مطابق امام ابوحنیفہ کا کسی صحابی کو دیکھنا بھی ثابت نہیں ملاحضہ کیجیے تاریخ بغداد (جلد 4 صفحہ 208 ت 1895 و سندہ صحیح) ، سوالات السہمی للدارقطنی (صفحہ 263 ت 383) اور العلل المتناہیۃ فی الاحادیث الواھیۃ لابن الجوزی (1/65 تحت حوالہ 74)۔

    2) تابعین تو اور بھی بہت سارے ہیں مثلاً اویس قرنی زبان رسالت سے "افضل التابعین" کا خطاب پا چکے ہیں۔ سعید بن المسیب "اعلم التابعین" کہلاتے ہیں پھر ان کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟

    3) اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فقہ حنفی حدیث ثنائی پر مبنی ہے تو اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور مقلدین قیامت تک اس کا ثبوت پیش نہیں کر سکتے اگر واقعی امام ابو حنیفہ سے حدیث ثنائی مروی ہے تو ہم حنفی مقلدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حدیث ثنائی ہمیں بھی دکھا دیں کیونکہ ہم بھی اسے دیدہ اشتیاق سے دیکھنے کے خواہشمند ہیں لیکن۔۔۔۔۔حنفی مقلدین کو مایوسی ہوگی ذخیرہ کتب میں ایسی کسی حدیث کا وجود یکسر معدوم ہے۔ ممکن ہے بعض غالی مقلدین یہ کہہ ڈالیں کہ امام صاحب احادیث ثنائیہ کو سینے میں چھبائے اس جہاں سے رخصت ہو چکے ہیں تو ہمارا سوال ہے کہ آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی۔۔۔۔!!! علم غیب، کشف، الہام یا کچھ اور۔۔۔۔؟؟؟
    4) احناف نے دین کو اوہام کا تابع بنا کر رکھ دیا ہے اور یہ انسان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب سے کوئی ثنائی روایت منقول نہیں اور جو (مسانید) کتابیں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اس میں ایسی کوئی حدیث نہیں کہ وہ صحیح، متصل اور ثنائی ہو۔
    شاہ ولی اللہ امام محمد کی کتاب الاثار اور امام ابو یوسف کی امالی کے بارے میں فرماتے ہیں:
    "اگر صریح حق کے طالب ہوتو امام مالک کی موطاء کے ساتھ امام محمد کی کتاب الاثار اور امام ابو یوسف کی امالی کا مقایسہ کرکے دیکھو ان کے باہمی تقابل سے تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ ان میں مشرق سے مغرب تک کی دورائی پائی جاتی ہے۔کیا تمھیں کبھی یہ سننے کا اتفاق بھی ہوا ہےکہ کسی محدث یا عالم نے امالی اور کتاب الاثار کی طرف توجہ کی ہو یا ان کا اہتمام کیا ہو؟" (حجة اللہ البالغة:۱۳۸)
    اس طرح شاہ ولی اللہ نے مسند خوارزمی جو مسند امام اعظم کے نام سے مشہور ہے کو چوتھے طبقے میں زکر کیا ہے (حجة اللہ البالغة:۱۳۵) پھر لکھتے ہیں "روافض اور معتزلہ وغیرہ جیسےاکثر مبتدعین اس چوتھے طبقے سے اپنے غلط مذہب کے دفاع کیلئے دلائل کا اہتمام کرتے ہیں علماء بالحدیث کے معرکوں میں چوتھے طبقے کی کتب پر اکتفاء کرنا درست نہیں ہے۔۔۔۔الخ (ایضاً)

    کتاب الاثار کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسمیں کل ۱۰۶۷ روایات ہیں جن میں سے صرف ۱۸۲ روایات مرفوع ہیں ۲۳ روایات اس طرح ہیں عن ابراہیم النخعی عن رسول اللہ۔۔۔۔۔
    ۴۵۵ ابراہیم النخعی کے اقوال ہیں کچھ حماد کے اقوال ہیں اور بعض روایات اسطرح ہیں عن الحسن بصری عن رسول اللہ۔۔۔۔۔
    غرض پوری کتاب میں کوئی ایسی روایت نہیں جس سے صحیح استدلال کیا جا سکے اسی طرح امالی کل ۹۱۲ روایات پر مشتمل ہے جس میں اکثر روایات مقطوع، موقوف اور مرسل ہیں صرف چند روایات مرفوع ہیں اگر کسی کو یقین نہ آئے تو خود ملاحضہ کر سکتا ہے
    5) اصطلاحات المحدثین کی رو سے امام ابو حنیفہ رحمہ للہ کی روایات ضعیف ہیں کیونکہ محدثین نے ان پر شدید جرح کی ہے۔ دلیل کے طور پرصرف چندحوالوں پر اکتفاء کیا جا رہا ہے:
    ۱) قال الامام بخاری فی التاریخ الکبیر (۸۱/۴) سکتوا عنہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
    علامہ ابن کثیر مختصر علوم الحدیث ص ۱۱۸ پر فرماتے ہیں " جب امام بخاری کسی کے بارے میں کہہ دیں کہ "سکتوا عنہ یا فیھ نظر" تو وہ انکے نزدیک سب سے ادنیٰ راوی ہوتا ہے (الرفع و التکمیل ص ۱۸۲)
    یہ جرح مفسرہ ہے کیونکہ مسائل المروزی میں آتا ہے "امام احمد سے پوچھا گیا کہ راوی کی روایت کب ترک کی جائے گی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا جب اس کی صحت پر خطاء غالب آ جائے۔

    ۲) و قال الام مسلم فی الکنی و الاسماء ص۳۱ مضطرب الحدیث لیس لھ کبیر حدیث صحیح یعنی امام ابوحنیفہ مضطرب الحدیث ہیں ان کے پاس صحیح حدیث کا کوئی زخیرہ نہیں ہے
    ۳َ) امام نسائی فرماتے ہیں "لیس بالقوی فی الحدیث و ھو کثیر الغلط علی قلة روایة" (کتاب الضعفاء والمتروکین:۵۸)
    ۴) ابن سعد فرماتے ہیں "کان ضعیفاً فی الحدیث" یعنی امام ابوحنیفہ حدیث میں کمزور تھے (الطبقات۲۵۶/۶)
    ۵) عبد الحق اشبیلی فرماتے ہیں "ولا یحتج بابی حنیفة لضعفھ فی الحدیث" یعنی ضعف فی الحدیث کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی حدیث دلیل نہیں بن سکتی (الاحکام الکبری۱۷/۲)
    ۶) امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں امام ابو حنیفہ پر رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کتاب الرد علی ابی حنیفة میں تردید کا مرکز امام ابو حنیفہ ہیں (ص۱۴۸/۱۴)
    ۷) اسی طرح ابو نعیم نے بھی ان پر رد کیا ہے. (الحلة ۱۹۷/۱۱/۳)
    ۸)عبداللہ بن امام احمد نے بھی ان پر رد کیا ہے (کتاب السنة ۱۸۰/۱)
    ۹)خطیب بغدادی نے بھی رد کیا ہے (تاریخ بغداد ج ۱۳)
    ۱۰) معلّمی نے بھی ان پر رد کیا ہے (التنکیل:۱۸/۱و عمدة الرعایة ۳۶)
    ۱۱) امام ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کا بھی انکار کیا گیا ہے (کما فی التمھید)
    ۱۲) امام ابن عدی امام صاحب کی روایتوں کا ضعف بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اہل الحدیث میں سے نہیں تھے اور جس کی ایسی حالت ہو اس سے حدیث نہیں لی جاتی (الکامل لابن عدی:۴۰۳/۲)
    مذکورہ بالا بحث کا ما حصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ صادق بھی ہیں اور فقیہ بھی لیکن مذکورہ محدثین کے نزدیک احادیث کے اعتبار سے قوی نہیں اور یہ کوئی بے ادبی نہیں کیونکہ بہت سے نیک اور صلاحیت و صالحیت کے حامل راوی سئي الحفظ اور کثیر الخطاء ہوتے ہیں جیسا کہ جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کی کتب اس سے بھری پڑی ہیں۔
    اقتباس:حقیقة التقلید و اقسام المقلدین از شیخ ابو محمد امین اللہ البشاوری حفظہ اللہ

    بارھواں شبہہ: مقلدین بار بار اعتراض کرتے ہیں کہ جب جاہل آدمی کے لیئے بھی تقلید جائز نہیں ہے حالانکہ وہ نہ تو مجتہد ہوتا ہے اور نہ عالم اور نہ خود اپنے مسائل کو حل کر سکتا ہے تو یہ بیچارہ آخر کیا کرے؟
    الجواب:
    اس کا جواب ہم ہر بار یہی دیتے آئے ہیں کہ جاہل کے لیئے تقلید کے عدم جواز کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجتہد اور عالم بن جائے یا خود مسائل کو حل کرنا شروع کر دے کیونکہ اللہ نے ہر ایک کو اس کا مکلف نہیں ٹھرایا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ آج کا جاہل یعنی عامی طبقہ سلف صالحین یعنی صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے نقش قدم پر اپنی زندگی گزارنے کی حتی الامکان کوشش کرے کیونکہ ان میں بھی عامی طبقہ موجود تھا جس کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ اپنے متبعین حق علماء کے پاس تصفیہ طلب مسائل لیکر جاتے اور متعلقہ مسئلے کے بارے میں قرآن و حدیث کا حکم معلوم کرتے۔اور علماء صرف کتاب و سنت کی روشنی میں حل پیش کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ عامی طبقہ کتاب و سنت پر عمل پیرا ہو جاتا اور علماء مبلغ کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیتے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عامی طبقہ دلائل سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے تو یہ بات غلط ہے کیونکہ عقل اور ایمان کی دولت ایک عام شخص کے پاس بھی ہوتی ہے اور مومن کا سینہ حق و باطل میں تمیز کرنے والے نور سے منور ہوتا ہے۔ اپنی عقل اور ایمانی بصیرت کی روشنی میں عامی طبقہ بھی دلائل کو سمجھ سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ دل و دماغ اور نیت میں بغض و عناد کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس کو عمل بروایت کہتے ہیں نہ کہ عمل بالرأی۔ یعنی راوی کی روایت پر عمل ہوتا ہے نہ کہ اس کی رائے پر۔ یہی سب باتیں امام شوکانی نے القول المفید:۲۷، امام ابن قیم نے کتاب الروح:۲۵۶ اور امام شاطبی نے کتاب الاعتصام:۳۴۵-۳۴۲ میں کہیں ہیں جن کا خلاصہ اوپر بیان کر دیا گیا۔
    شبھات مقلدین کا خاتمہ
    تنبیھات:

    1:- آپ نے بعض علماء کی کتابوں میں دیکھا ہو گا کہ تقلید واجب ہے۔ جیسا کہ تفسیر قرطبی ,جامع بیان العلم و فضلھ، اعلام الموقعین اور اسی طرح کتب فقہ و تفسیر وغیرہ میں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کتب میں تقلید کی تردید اور مذمت بھی بیان کی گئی ہے آپ کو تعجب ہوتا ہو گا کہ ایسا کیوں ہے؟ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک عام آدمی کا کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا اور اس عالم کے علم سے فائدہ حاصل کرنا اسے ان علماء نے تقلید کا نام دیا ہے ورنہ اصطلاح شریعت میں اس کو عالم سے سوال کرنا کہا جاتا ہے یعنی معرفة حکم اللہ فی المسئلة یعنی اللہ کا حکم معلوم کرنا اس مسئلہ میں۔ تو اس سے مراد مروجہ تقلید اصطلاحی نہیں ہے اسلیئے کہ سوال پوچھنا تقلید نہیں کہلاتا ورنہ پھر تو نعوزباللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہود کا مقلد قرار پائیں گے کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے کہ: فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
    اگر تو اس (کتاب) کے بارے میں ذرا بھی شک میں مبتلا ہے جو ہم نے تیری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے دریافت کرلے جو تجھ سے پہلے (اللہ کی) کتاب پڑھ رہے ہیں (یونس:۹۴)
    اس کی مزید تحقیق اعلام الموقعین ۲۳۴/۲ میں دیکھیں۔
    2:- اس سے پہلے آپ ملاحضہ کر چکے ہیں کہ تقلید جہالت اور بدعت ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آخر کیوں اتنے بڑے بڑے علماء تقلید کیا کرتے تھے؟
    تو اس کا جواب یہ ہے کہ امت میں دو قسم کے علماء گزرے ہیں۔ ایک تو متعصبین اور کسالٰی جنہیں اللہ نے پوری ہدایت نصیب نہیں کی اس کی وجہ ان کی اپنی بدبختی تھی لہذا انہیں مثال میں ذکر نہ کیا جائے۔
    دوسرے مشہور و معروف علماء جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلدین نہیں تھے بلکہ ان کی رائے امام صاحب کی رائے اور ان کے اجتہاد کے موافق تھی اسے موافقة الرای والاجتہاد کہا جاتا ہے نہ کہ تقلید۔
    اسی طرح جن حق پرست علماء کرام کا اجتہاد امام شافعی کے اجتہاد کے موافق ہوا انہیں لوگ شوافع کہنے لگے حالانکہ وہ امام شافعی کے مقلد نہیں تھے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان علماء کرام نے بہت سے مسائل میں ان آئمہ کی مخالفت بھی کی ہے جیسا کہ امام ابو یوسف ، امام محمد، امام عبدالحی ، امام ابن ہمام ،امام طحاوی، امام رازی وغیرہم۔ یقین کے لیئے درج زیل عبارتوں کا بغور مطالعہ کیجیے۔
    قال عبد الئحی فی النافع الکبیر ۵۶ و لست ممن یختار التقلید البحت لا یترک قول الفقھاء و ان خالف الادلة الشرعیة ولا ممن یطعن علیھم و یھجر الفقھ بالکلیة۔
    علامہ عبدالحی کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نہ تو ان مقلدین میں سے ہوں جو ادلہ شرعیہ یعنی قرآن و سنت پر آئمہ کے اقوال کو مقدم کرتے ہیں اور مخالف دلائل شرعیہ ہونے کے باوجود چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور کلی طور پر ان کے مسائل چھوڑتا بھی نہیں ہوں۔
    اسی طرح تقریرات رافعی علی حاشیہ ابن عابدین ۱۰۹/۱ اور النافع الکبیر ۷،۸ میں لکھتے ہیں:
    یالیت شعری ما معنی قولھم ان ابا یوسف و محمداً و زفر و ان خالفوا ابا حنیفة فی بعض المسائل لکنھم یقلدونھ فی الاصول ما الذی یریدون بھ ۔۔۔الخ
    تو دیکھئے یہ علماء مقلد نہیں تھے بلکہ ان کی رائے اور اجتھاد امام ابو حنیفہ کے اجتھادات و آراء کے موافق ہوئے تھے۔
    اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ المجموع شرح المہذب ۴۳/۱ میں فرماتے ہیں:
    و للمفتی المنتسب اربعة احوال احدھا لا یکون مقلداً لا مامھ لا فی المذھب ولا فی دلیلھ
    اس عبارت کو غور سے پڑھئے اور تقلید کی بیماری سے نجات خلاصی پائیے اور اللہ کی توفیق سے سمجھنے کے بعد کسی عالم محقق کو مقلد مت کہیں۔
    اسی طرح شاہ ولی اللہ عقد الجید میں فرماتے ہیں:
    و فی الانوار ایضاً: المنتسبون الی مذھب الشافعی و ابی حنیفة و مالک و احمد اصناف احدھا العوام والثانی البالغون الی رتبة الاجتھاد و المجتھد لا یقلد مجتھداً و انما ینتسبون الیھ لجریھم علی طریقتھ فی الاجتھاد و استعمال الادلة و ترتیب بعضھا علی بعض
    شاہ صاحب کے جملہ کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور دیگر آئمہ کی طرف جن کو منسوب کیا گیا ہے ان میں بعض عوام اور بعض درجہ اجتہاد میں ہیں تو ان علماء کا طرز یعنی مسائل کو کتاب و سنت سے لینا ان ائمہ کے طریقہ پر تھا نہ کہ وہ ان کے مقلد تھے کیونکہ عالم مجتھد مقلد نہیں ہوتا۔
    اسی طرح شاہ اسماعیل شہید اور شاہ عبد العزیز سب نے تقلید کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے رفع الیدین اور دیگر بہت سے مسائل میں مذہب حنفی کی مخالفت کی ہے۔ دیکھئے حجة اللہ البالغة ۲۰۹/۱
    اس کے علاوہ شاہ عبدالعزیز نے فاتحہ خلف الامام میں مذہب امام شافعی کو ترجیح دی ہے دیکھئے تنقید سدید۔ یہ بھی یاد رہے کہ نہ تو امام قرطبی اور امام قاضی عیاض مالکی تھے اور نہ ہی امام غزالی، ابن جریر، ابن قیم اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ مقلد تھے۔ دیکھئے اعلام الموقعین ۲۴۱/۲ التعلیقات السنیة لعبد الحی ۳۱
    اسی طرح تاریخ اھل حدیث میں احمد بن محمد الدھلوی المتوفی ۱۳۵۲ ھ لکھتے ہیں: " علامہ ابن دقیق العید، امام غزالی ، ملا علی قاری ، منصور بن محمد، عبد القادر جیلانی اور دیگر مشہور و غیر مشہور علماء مقلدین نہیں تھے۔ (تاریخ اہلحدیث ۵۳)
    اسی طرح الفوائد البہیة ص ۱۱۶ میں ہے کہ عصام بن یوسف رحمہ اللہ نماز میں رفع یدین کرتے تھے باوجود اسکے کہ وہ مذہب حنفی کی طرف منسوب تھے۔ اسی طرح دیگر اہل التحقیق علماء کرام بھی مقلدین نہیں تھے تو قارئین محترم: علماء کرام پر جاہل ہونے کا فتوی یا گمان نہ کیا جائے وہ مقلدین کی طرح بصیرت سے خالی نہیں تھے۔

    ماخوز من حقیقة التقلید و اقسام المقلدین
     
  3. ‏اگست 14، 2016 #3
    Abdul Haseeb

    Abdul Haseeb مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2016
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    23280: تقليد اور دليل كى اتباع، اور كيا ابن حزم حنبلى تھے ؟

    يہ كيسے ممكن ہے كہ آئمہ اربعہ ميں سے كسى ايك كى اتباع كرتے ہوئے مقلد نہ ہو ؟
    ميں يہ سوال اس ليے كر رہا ہوں ميں نے ابن حزم كى سيرت پڑھى كہ وہ امام احمد كے مذہب كى اتباع كرتے تھے ليكن مقلد نہيں تھے، برائے مہربانى اس كى وضاحت فرمائيں ؟

    Published Date: 2009-04-15

    الحمد للہ:
    اول:
    مذاہب كى اتباع كرنے والے ايك ہى درجہ پر برابر نہيں بلكہ ان ميں مجتھد بھى ہيں، اور مقلد بھى جو مذہب ميں كوئى مخالفت نہيں كرتا.
    چنانچہ بويطى، اور مزنى اور نووى اور ابن حجر رحمہم اللہ يہ سب امام شافعى كى متبعين ميں سے ہيں ليكن يہ مجتھد ہيں اور جب ان كے پاس دليل ہو تو يہ اپنے امام كى مخالفت كرتے ہيں، اور اسى طرح ابن عبد البر مالكيہ ميں سے ہيں ليكن اگر صحيح چيز امام مالك كے علاوہ كسى اور كے پاس ہو تو وہ امام مالك رحمہ اللہ كى مخالفت كرتے ہيں.
    احناف كے كبار آئمہ كے بارہ ميں بھى يہى ہے مثلا ابو يوسف اور امام محمد الشيبانى، اور اسى طرح حنابلہ كے آئمہ بھى مثلا ابن قدامہ اور ابن مفلح وغيرہ.
    طالب علم كا كسى مسلك اور مذہب پر زانوے تلمذ طے كرنے كا مطلب يہ نہيں كہ وہ اس مسلك سے نكل ہى نہيں سكتا، بلكہ جب اس كے ليے دليل واضح ہو جائے تو وہ اس دليل پر عمل كرے، دليل كو ديكھ كر بھى مسلك اور مذہب سے باہر وہى شخص نہيں جاتا جس كے دين كى حالت پتلى ہو، اور اس كى عقل ميں كمى ہو، اور وہ متعصبين ميں سے ہو.
    كبار آئمہ كرام كى وصيت ہے كہ طالب علم كو بھى وہيں سے لينا اور اخذ كرنا چاہيے جہاں سے انہوں نے خود اخذ كيا اور ليا ہے، اور جب ان كا قول نبىكريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے خلاف ہو تو اسے ديوار پر پٹخ ديں.
    ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " يہ ميرى رائے ہے، اور جو كوئى بھى ميرى رائے سے اچھى اور بہتر رائے لائے ہم اسے قبول كرينگے "
    اور امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " ميں تو ايك بشر ہوں غلطى بھى كرتا ہوں اور صحيح بھى اس ليے ميرا قول كتاب و سنت پر پيش كرو "
    اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " جب حديث صحيح ہو تو ميرا قول ديوار پر پٹخ دو، اور دليل راہ ميں پڑى ہوئى ديكھو تو ميرا قول وہى ہے "
    اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " نہ تو ميرى تقليد كرو، اور نہ مالك كى تقليد كرو، اور نہ شافعى اور ثورى كى، اور اس طرح تعليم حاصل كرو جس طرح ہم نے تعليم حاصل كى ہے "
    اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:
    " اپنے دين ميں تم آدميوں كى تقليد مت كرو، كيونكہ ان سے غلطى ہو سكتى ہے "
    اس ليے كسى كے ليے بھى كسى معين امام كى تقليد كرنا صحيح نہيں جو اپنے اقوال سے باہر نہ جاتا ہو، بلكہ اس پر واجب ہے كہ اسے لے جو حق كے موافق ہو چاہے وہ اس كے امام سے ہو يا كسى اور سے ملے "
    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " لوگوں ميں سے كسى شخص پر كسى ايك شخص كى بعينہ تقليد كرنا صحيح نہيں كہ جو وہ حكم دے اور جس سے منع كرے اور جسے مستحب كہے اس كى مانى جائے، يہ حق صرف رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ہے، اب تك مسلمان علماء كرام سے دريافت كرتے رہتے ہيں، كبھى اس كى اور كبھى اس كى بات مان ليتے اور تقليد كرتے ہيں.
    جب مقلد كسى مسئلہ ميں تقليد كر رہا ہے اور وہ اسے اپنے دين ميں زيادہ صحيح ديكھتا، يا قول كو زيادہ راجح سمجھتا ہے تو يہ جمہور علماء كے اتفاق سے جائز ہے، اسے كسى نے بھى حرام نہيں كہا، نہ تو امام ابو حنيفہ، اور نہ ہى مالك اور شافعى اور احمد رحمہم اللہ نے"
    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 23 / 382 ).
    اور شيخ علامہ سليمان بن عبد اللہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " بلكہ مومن پر حتماً فرض ہے كہ جب اسے كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم پہنچے اور اس كے معنى كا علم ہو جائے چاہے وہ كسى بھى چيز ميں ہو اس پر عمل كرے، چاہے وہ كسى كے بھى مخالف ہو، ہمارے پروردگا تبارك و تعالى اور ہمارے نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں يہى حكم ديا ہے، اور سب علاقوں كے علماء اس پر متفق ہيں، صرف وہ جاہل قسم كے مقلدين اور خشك لوگ، اور اس طرح كے لوگ اہل علم ميں شامل نہيں ہوتے "
    جيسا كہ اس پر ابو عمر بن عبد البر وغيرہ نے اجماع نقل كيا ہے كہ يہ اہل علم ميں سے نہيں "
    ديكھيں: تيسير العزيز الحميد ( 546 ).
    اس بنا پر كوئى حرج نہيں كہ مسلمان شخص كسى معين مذہب اور مسلك كا تابع ہو، ليكن جب اس كے ليے اس كے مذہب كے خلاف حق واضح ہو جائے تو اس كے ليے حق كى اتباع كرنا واجب ہو گى.
    دوم:
    رہا ابن حزم رحمہ اللہ كا مسئلہ تو وہ امام اور مجتھد تھے اور وہ تقليد كو حرام قرار ديتے ہيںن اور وہ كسى ايك امام كے بھى تابع اور پيروكار نہ تھے، نہ تو امام احمد كے اور نہ ہى كسى دوسرے امام كے، بلكہ وہ اپنے دور اور اب تك كے اہل ظاہر كے امام تھے، ہو سكتا ہے ان كو امام احمد كى طرف منسوب كرنا ( اگر يہ صحيح ہو ) عقيدہ اور توحيد كے مسائل ميں ہے، اس پر كہ اس كے ہاں اسماء و صفات ميں بہت سارى مخالفات پائى جاتى ہيں.
    ابن حزم كى سيرت كا مطالعہ كرنے كے ليے سير اعلام النبلاء ( 18 / 184 - 212 ) كا مطالعہ كريں.
    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں