1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جنوں کے نام

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہر امیر, ‏نومبر 05، 2016۔

  1. ‏نومبر 05، 2016 #1
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,271
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جنوں کے نام
    [​IMG]
     
  2. ‏نومبر 05، 2016 #2
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,271
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    یہ مسنون عمل ہے۔جب ایک مرتبہ حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے نبی کریم ﷺ سے جنات کے تنگ کرنے کی شکایت کی تو آقا کریم ﷺ نے ایک خط جنات کے نام لکھوایا۔ حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے وہ تہدیدی نامہ مبارک اپنے پاس رکھ لیا۔ رات کو مخصوص وقت جب وہ جنات آتے تھے تو وہ تنگ نہ کرسکے بلکہ وعدہ کرکے گئے کہ جہاں بھی نبی اکرم ﷺ کا یہ تہدیدی نامہ مبارک ہوگا وہاں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ اس نامہ مبارک کی برکت سے وہ شدید عذاب میں مبتلا ہوگئے تھے۔انتہائی مجرب عمل ہے


    تہدیدی نامہ مبارک
    tehdidi – nama – mubarak Khat Ap Alaihe salam ka
    ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَّسُوْلِ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَo
    اِلٰی مَنْ یَّطْرُقُ الدَّارَ مِنَ العُمَّارِ وَالزُّوَّارِ اِلَّا طَارِقًا یَّطْرُقُ بخَیْرِ اَمَّا بَعْد فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَاعَۃً فَاِنْ کُنْتَ عَاشِقًا مُّوْلِعًا اَوْفَاجِرًا فَہٰذَا کِتَابٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ o اُتْرُکُوْا صَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَانْطَلِقُوْا اِلٰی عَبَدَۃِ الْأَصْنَامِ وَاِلیٰ مَنْ یَّزْعَمُ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَلَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَo کُلُّ شَیْ ئٍ ھٰالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ حٓمٓ عٓسٓقٓ تَفَرَّقَ اَعْدَ ائُ اللّٰہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِااللّٰہِ الْعَلِّیِ الْعَظِیْمِ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ o


     
  3. ‏نومبر 05، 2016 #3
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,271
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    مذکورہ خط کی کہانی یوں بیان کی گئی ہے کہ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:
    ’’یا رسول اللہ! میں اپنے بستر پر سوتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز اور شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ سنتا ہوں۔ جب میں گھبرا کر سر اٹھاتا ہوں تو مجھے ایک تاریک سایہ نظر آتا ہے جو بلند ہو کر میرے صحن میں پھیل جاتا ہے۔ میں اسے چھوتا ہوں تو اس کی جلد خارپشت (سیہی) کی طرح معلوم ہوتی ہے اور وہ میری طرف آگ کے شعلے پھینکتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ مجھے بھی جلادے گا اور میرے گھر کو بھی۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھارے گھر میں رہنے والا جن بہت برا ہے، وگرنہ رب کعبہ کی قسم! کیا تیرے جیسے شخص کو بھی تکلیف دی جاتی ہے!‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلم دوات منگوا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ عبارت لکھوائی:
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الْبَابَ مِنَ الْعُمَّارِ وَالزَّوَّارِ، اَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقًا مُوْلِعًا اَوْ فَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْ زَاعِمًا حَقًّا اَوْ مُبْطِلًا، ھٰذَا کِتَابُ اللّٰہِ یَنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ اتْرُکُوْا صَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَانْطَلِقُوْا اِلٰی عَبْدَۃِ الْاَصْنَامِ وَاِلٰی مَنْ یَزْعُمُ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا آخَرَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہُ لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ تُغْلَبُوْنَ ((حٰمٓ )) لَا تُنْصَرُوْنَ، حٰمٓ عٓسٓقٓ تَفَرََّقَ اَعْدَائُ اللّٰہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
    اس کے بعد ابودجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں اسے لپیٹ کر اپنے گھر لایا اور سر کے نیچے رکھ کر رات کو سو گیا اور میں ایک چیخنے والے کی چیخ سے بیدار ہوا، کوئی کہہ رہا تھا: ’’اے ابودجانہ! لات و عزیٰ کی قسم! ان کلمات نے ہمیں جلا ڈالا، تمھیں تمھارے نبی کی قسم! نامہ مبارک یہاں سے اٹھالو، ہم تیرے گھر میں آئندہ نہیں آئیں گے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’ہم نہ تمھیں ایذا دیں گے، نہ تمھارے پڑوسیوں کو اور نہ اس جگہ والوں کو جہاں یہ خط مبارک ہوا۔‘‘ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جواب دیا: ’’مجھے میرے رسول کے اس حق کی قسم، جو اللہ نے مجھ پر واجب کیا ہے! میں اس کو یہاں سے نہیں اٹھائوں گا جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ نہ کرلوں۔‘‘ سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جنات کے چیخنے، رونے اور بلبلانے سے وہ رات میرے لیے بہت طویل ہوگئی۔ صبح کی نماز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور جنات کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو دجانہ! تم وہ نامۂ مبارک جنات سے اٹھا لو اور اس ذات کی قسم، جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ان جنات کو قیامت تک عذاب کی تکلیف ہوتی رہے گی۔‘‘
    [لقط المرجان فی أحکام الجان للسیوطی مترجم (ص ۲۲۹ تا ۲۳۱)]

    یہ روایت امام بیہقی نے دلائل النبوۃ ’’باب ما یذکر من حرز أبی دجانۃ (۷/ ۱۱۸ تا ۱۲۰)‘‘ میں، امام ابن الجوزی نے کتاب الموضوعات ’’کتاب الذکر، باب حرز أبی دجانۃ (۱۶۶۰) (۳/۴۲۶۔۴۲۸) میں اور علامہ علی بن محمد الکنانی نے ’’تنزیھۃ الشریعۃ المرفوعۃ (۲/۳۲۴، ۳۲۵)‘‘ میں ذکر کی ہے ۔ یہ روایت دو طرق سے مروی ہے۔ ابن جوزی کی سند میں موسیٰ انصاری کا ذکر ہے، جس کے بارے میں خود ان کا کہنا ہے :
    ’’ ھٰذَا حَدِیْثٌ مَوْضُوْعٌ بِلَا شَکٍّ وَاِسْنَادُہُ مُنْقَطِعٌ وَلَیْسَ فِی الصَّحَابَۃِ مَنِ اسْمُہُ مُوْسٰٰی اَصْلًا وَاَکْثَرُ رِجَالِہِ مَجَاھِیْلُ لَا یُعْرَفُوْنَ ‘‘
    ’’یہ روایت بلاشک و شبہ من گھڑت ہے اور اس کی سند بھی منقطع ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں اصلاً موسیٰ نام کا کوئی شخص نہیں، پھر روایت کے اکثر راوی مجہول و غیر معروف ہیں۔‘‘
    امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْ حِرْزِ اَبِیْ دُجَانَۃَ حَدِیْثٌ طَوِیْلٌ وَھُوَ مَوْضُوْعٌ لَا تَحِلُّ رِوَایَتُہُ ‘‘
    ’’ابو دجانہ کی جنات سے بچائو کے متعلق بیان کردہ طویل روایت من گھڑت ہے، اس کی روایت درست نہیں۔‘‘
    علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ترتیب الموضوعات میں کہا ہے:
    ’’ فِیْ اِسْنَادِہِ مَجَاھِیْلُ وَمَا فِی الصَّحَابَۃِ مُوْسٰی ‘‘
    ’’اس کی سند میں کئی راوی مجہول ہیں اور موسیٰ نامی کوئی شخص صحابی نہیں۔‘‘
    امام بیہقی نے اس کی دوسری سند ذکر کی ہے، جس کے متعلق امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:
    ’’ وَاِسْنَادُ حَدِیْثِہِ فِی الْحِرْزِ الْمَنْسُوْبِ اِلَیْہِ ضَعِیْفٌ ‘‘ [الاستیعاب (۱۰۵۶) (۲/۲۱۲)]
    ’’ابو دجانہ کی طرف منسوب حرز والی روایت کی سند ضعیف ہے۔‘‘
    ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے اس قول پر تعاقب کرتے ہوئے تنزیہہ الشریعہ کے معلق نے لکھا ہے:
    ’’ بَلْ رِوَایَۃُ الْبَیْھَقِیِّ مَوْضُوْعَۃٌ اَیْضًا قَطْعًا ‘‘
    ’’بلکہ بیہقی کی روایت بھی یقینی طور پر من گھڑت ہے۔‘‘
    علامہ صنعانی حنفی لکھتے ہیں :
    ’’ وَالْحِرْزُ الْمَنْسُوْبُ لِاَبِیْ دُجَانَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، وَاسْمُہُ سِمَاکُ بْنُ حَرْشَۃَ، مَوْضُوْعَۃٌ ‘‘
    ’’سیدنا ابو دجانہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کا نام سماک بن حرشہ ہے، ان کی طرف منسوب حرز من گھڑت ہے۔‘‘ [موضوعات الصنعانی (ص ۳۹، رقم۱۳)]
    مزید دیکھیں تحذیر المسلمین من الاحادیث الموضوعہ علی سید المرسلین (ص ۷۳)، تذکرۃ الموضوعات از علامہ محمد طاہر پٹنی (ص ۲۱۱، ۲۱۲)، موسوعۃ الاحادیث والآثار الضعیفہ والموضوعہ (۵/۳۶۹، ۳۷۰، رقم ۱۲۷۱۶) اور الوضع فی الحدیث (۳/۲۶)۔
    اس مختصر توضیح سے معلوم ہوا کہ یہ روایت من گھڑت ہے، سو اس خط کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قرار دینا درست نہیں۔ جنات وغیرہ کو گھروں سے نکالنے کے لیے سورۃ البقرہ وغیرہ کی تلاوت کی جائے اور مسنون ذکر و اذکار کی پابندی کی جائے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    329
  2. بنتِ تسنيم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    628
  3. عامر عدنان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    878
  4. Hina Rafique
    جوابات:
    2
    مناظر:
    519
  5. عبدالحسیب07
    جوابات:
    0
    مناظر:
    661

اس صفحے کو مشتہر کریں