1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 05، 2018۔

  1. ‏جون 05، 2018 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رمضان المبارک اور ابلیس کی چالیں

    شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ May 28, 2018

    خطبہ مسنونہ کے بعد:

    اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ خصوصی فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو اپنی اصلاح کے لئے بڑے مواقع دیے ہیں، اجروثواب کمانے کے لئے بڑے مواقع دیے ہیں، اپنے گناہوں کو معاف کرانے کے لئے ،اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ کی بہت ساری برکات، رحمتیں ،مغفرتیں اور بخششیں سمیٹنے کےلئے بڑے مواقع دیے ہیں،ان مواقع میں سے ایک موقع یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔پورا مہینہ انسان جس قدرچاہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمتیںسمیٹ سکتا ہے۔ اجرو ثواب کماسکتا ہے لیکن ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ ابلیس جو انسان کا ازلی دشمن ہے وہ بھی یہ ساری باتیں نوٹ کررہا ہے،اس کو بھی سب پتہ ہے کہ میں نے گیارہ مہینے کوشش کی ،محنت کی انسانوں کو باغی بنایا، سرکش بنایا،نافرمانی کی راہ پر لگایا وہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ انسان صحیح معنوں میں رمضان کی برکات سمیٹتے ہوئے ،رحمتیں سمیٹتے ہوئےاپنے سارے گناہوں کوبخشوالے اور اتنااجروثواب کمالے کہ قیامت کے دن وہ نجات پاجائے ،یہی وجہ ہے کہ انسان کو اجروثواب سے محروم کرنے کے لئے ابلیس اپنی چالیں چلتا ہے،اس نے رمضان المبارک کے حوالے سے بھی کئی چالیں چلی ہیں تاکہ وہ انسان کورمضان المبارک کے اجروثواب سے محروم کردے،اس کے لئے اس نے ایک ایساراستہ منتخب کیا ،ایسا راستہ چناانسان کوروزوں سے منع نہیں کیا ،تراویح سے منع نہیں کیا،تلاوت سے منع نہیں کیا،ذکرواذکار سے دعاؤں سے منع نہیں کیا یہ سارے کام بھلے کرےلیکن ابلیس نے رمضان کے حوالے سے انسانوں میں بہت ساری بدعات داخل کردیں تاکہ یہ روزے بھی رکھیں ،تراویح بھی پڑھیں،سحری بھی کریں،افطاری بھی کریں،تلاوت بھی کریں ذکرواذکار بھی کریں دعائیں بھی مانگیں لیکن بدعات کی وجہ سے ان کا کوئی ایک عمل بھی قبول نہ ہو یہ ابلیس کی چال ہے۔

    بدعت کی ہولناکی :

    بدعت واقعتاً بہت بڑا قبیح عمل ہے، بدعت کی موجودگی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کوئی عمل قبول نہیں کرتا، صحیح مسلم میں پیارے پیغمبر ﷺ کی حدیث موجود ہے:

    من احدث فی امرنا ہذا مالیس منہ فھورد.

    (صحیح بخاری:۲۶۹۷،صحیح مسلم:۱۷۱۸)

    جس نے ہمارے دین میں نیاکام داخل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیاوہ عمل بھی مردود ہے اور عمل کرنے والابھی مردود ہے۔

    اعمال ردہوگئے ،عمل کرنے والابھی رد ہوگیا ،وجہ کیاہے؟ بدعت۔قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہی بات مختلف انداز سے سمجھائی ہے فرمایا:

    [اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَہُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۝۱۰۴ ](الکھف:۱۰۴)

    اے نبیﷺ! آپ کہہ دیں :اپنی امت کوبتادیں کیاہم تمہیں خسارے والے اعمال نہ بتائیں وہ اعمال جوکرنے والے بڑی خوش فہمی سے کرتے ہیں ،[يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۝۱۰۴]عمل کرتے وقت ان کاگمان ہوتا ہے کہ بڑے اچھے اعمال کررہے ہیں لیکن ان کی ساری محنت دنیا ہی کی زندگی میں ضایع ہوجاتی ہے،

    ’’حبطت اعمالھم‘‘ ان کے سارے اعمال ضایع ہوجاتے ہیں ،وہ کیا ہے،وہ اعمال وحی کے مطابق نہیں ہوتے ،ان اعمال کی بنیاد بدعت ہوتی ہے، فرمایا:

    [عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ۝۳ۙ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَۃً۝۴ۙ ]

    قیامت کے دن ایسے لوگ بھی ہونگے جو دنیا کی زندگی میں عمل کرکرکے تھک چکے ہوں گے لیکن وہ سارے اعمال ان کے کام نہیں آئیں گے،ان کو جہنم میں پھینک دیاجائے گا۔

    پیارے پیغمبرﷺ کی حدیث ہے:تم قیامت کےدن آؤ گے ’’غرا محجلین‘‘ (بخاری:۱۳۶،مسلم:۲۴۶)

    تمہارے اعضائے وضو چمک رہے ہوں گے، یہ امت کی نشانی بتائی پیارے پیغمبر ﷺ نے ،اعضائے وضوچمک رہے ہوں گے، اور اعضائے وضو کی چمک کی وجہ سے میں تمہیں پہچان لوں گا،یہ میرے امتی ہیں،کیا شرف ہے جوحاصل ہوگا،قیامت کے دن امت محمدیہ ﷺ کو لیکن آگے فرمایا کہ میں منتظر ہوں گا کہ تم میرے پاس آؤاور میں حوض کوثر کا پانی تمہیں پیش کروں،لوگ آئیں گے ان کے اعضائے وضو بھی چمک رہے ہوں گے ان کے اور میرے درمیان دیوارحائل کردی جائے گی میں کہوںگا: امتی. یہ میرے امتی ہیں،ان کے اعضائے وضوچمک رہے ہیں ،یہ میرے امتی ہیں، مجھے بتایاجائے گاکہ

    انک لاتدری مااحدثوا بعدک.

    کہ پیغمبر ﷺ آپ کے علم میں نہیں ہے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کتنے نئے کام داخل کیے ،یہ لوگ بدعات کا شکار ہوگئے تھے،آپ کے طریقے اور آپ کی سنت کوانہوں نے ترک کردیاتھا، اس وقت پیارے پیغمبر ﷺ فرمائیں گے :

    سحقا سحقا لمن غیر بعدی.

    اچھا اس طرح کیا تو ان لوگوں کو مجھ سے دور کر دو، اعضائے وضو چمک رہے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ وضو کرنے والے نمازی تھے، روزے رکھنے والے تھے، لیکن حوض کوثر پر پانی پینے کی باری آئی پیارے پیغمبر ﷺکےمبارک ہاتھوں سے محروم کردیئے گئے ،وجہ کیا :

    انک لاتدری مااحدثوا بعدک.

    بدعات کاشکار ہوگئے تھے۔

    ابلیس ان باتوں کو بخوبی جانتا ہے،لہذا اس نے روزوں سے منع نہیں کیا، تراویح سے منع نہیں کیا، تلاوت سے منع نہیں کیا، ذکر و اذکار اور دعاؤں سے ،سحری و افطاری سے منع نہیں کیا، خلاف سنت امور پر انسان کو لگا دیا تا کہ یہ روزے رکھتے رہیں،رمضان کی ترتیب اختیار کرتے رہیں لیکن یہ بدعات کا بھی ارتکاب کریں تاکہ رمضان کے اجروثواب سے محروم ہوجائیں ،ابلیس کی چال کو سمجھنے کی ضرورت ہے، میرے بھائی! وہ کونسی بدعات ہیں ،خلاف سنت امور ہیں جو ابلیس نے رمضان المبارک کے حوالے سے انسانوں میں جاری کیےان کامختصر تذکرہ کرتے ہیں:

    (1)رات بھرجاگناسحری نہ کرنا :

    یہ خلاف سنت عمل ہے،رات کو جاگتے رہنا،کھیلتے رہنا،کرکٹ ہوئی، فٹبال ہو گیا،تاش ہو گئی، جاگتے ،کھیلتے اور کھاتے پیتے رہنا، جیسے ہی سحری کا وقت ہوا سو جان یاجاگنا چونکہ ساری رات کھاتے پیتے رہے ہیں اب کھانے کی کوئی گنجائش نہیں رہی، کچھ لوگ پانی تک نہیں پیتے، اس لئے کہ ساری رات کھاتے پیتے رہے ہیں،پیارےپیغمبر ﷺ کی حدیث ہے:

    فصل مابین صیامنا وصیام اھل الکتاب اکلۃ السحر.(صحیح مسلم:۱۰۹۶)

    کہ ہمارےاور یہودیوں اورعیسائیوں کے روزوں میں فرق یہ ہے کہ ہم سحری کھاتے ہیں وہ سحری نہیں کھاتے۔

    اندازہ کریں کہ کس طرح مشابہت ہوگئی یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ ابلیس کی چال ہے، پیارے پیغمبر ﷺ کی حدیث ہے:

    تسحروا فان فی السحور برکۃ.(صحیح بخاری:۱۹۲۳)
    سحری کھایا کرو اس لئے کہ سحری میں اللہ نےبرکت رکھی ہے۔

    سحری کے کھانے میں برکت ہے، سحری کھایا کرو اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث ہے:

    تسحروا ولو جرعۃ ماء.(السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی تحت حدیث:۳۴۰۹)

    سحری ضرور کھایاکرو بھلے سحری کے وقت پانی کا ایک گھونٹ بھی پیناپڑےتو پیو۔

    کتنی تاکید ہے ،کتنی برکت والاکھانا ہے، سحری کھانا لیکن ابلیس نے چال چلتے ہوئے سحری کے حوالے سے اللہ کے نبی ﷺ کی سنت اور طریقے کے حوالے سے رمضان کی اس برکت سے محروم کردیا، عرباض بن ساریہ فرماتےہیں میں سحری کے وقت پیارے پیغمبر ﷺ کے قریب سے گزرا اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے دیکھا اور بلایا اور فرمایا:
    ھلم الی الغداء المبارک. (ابوداؤد: ۲۳۴۴،نسائی:۲۱۶۳)

    عرباض(رضی اللہ عنہ)! مبارک کھانے کی طرف ،برکت والے کھانے کی طرف آؤ۔


    کتنی حدیثیں ہیں،آپ غور کریں لیکن ابلیس نے چال چلی اور کس طرح سحری کھانے کی اللہ کے نبی ﷺ کی سنت اور طریقے سے انسان کودور کردیا۔

    (2)سحری کی اذان کا ترک ،ڈھول باجے اور سائرن :

    ایک اور خلاف سنت عمل سحری کے وقت جاگنے کا طریقہ کاراللہ کے نبیﷺ کی سنت کیا ہے؟پیارے پیغمبر ﷺ کی حدیث ہے کہ جب بلالt اذان دےتو تم کھاناپینا روکونہ۔ کھاؤپیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے دے،جب عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے کھانا پینا ترک کردو، اس لئے کہ بلالtاذان دیتے ہیں وجہ یہ ہوتی ہے کہ سونے والاجاگ جائے اورنفلی عبادت کرنے والاسحری کی تیاری کرے۔(بخاری:۶۱۷،۶۲۱،۶۲۲،۶۲۳)اللہ کے نبی ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ بتائی اور سبب بتایا کہ بلال سحری کے وقت اذان دیتے ہیں ،سحری کے لئے اٹھانے کے لئے جو نفلی عبادت کرنے والاہے وہ سحری کے لئے واپس آجائے، ہم کیا کرتے ہیں سحری کے لئے اٹھاتے ہیں مساجد سے سائرن بجاکریہ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے؟ مساجد سے سائرن بجاکر اور دوسرے نمبر پر گلی محلوں میں ڈھول بجانے والے ان کو بھیجتےہیں ،ڈھول بجاکر لوگوں کوسحری کے لئے جگاتے ہیں ،کامیاب ہوگئی نا ابلیس کی چال! آپ خود دیکھیں اگر سحری کے وقت تمام مساجد سے اللہ کے نبیﷺ کی سنت کے مطابق اذانیں آئیں،یہ کتنی بڑی بابرکت بات ہے لیکن ہمارا ازلی دشمن جانتا ہے اس کایہ نظریہ ہے کہ ٹھیک رمضان کی ترتیب پر ان کو چلنے دو اور ان میں خلاف سنت امور رائج کردوتاکہ رمضان کے یہ روزے بھی رکھیں اور رمضان کے اجروثواب سے محروم بھی ہوجائیں، لوگ سحری کی اذان پر توچڑیں گے لیکن ڈھول بجانے پر نہیں چڑتے۔ یہ 30مئی کا ’’روز نامہ امت‘‘ میں پڑھ رہا تھا منگل کے دن باقاعدہ ایک مفتی صاحب کا فتوی شایع ہواہے اس فتوی میں لکھا ہےکہ’’ سحری کےو قت ڈھول بجایاجاسکتا ہے!‘‘ میرے پاس وہ تراشہ محفوظ ہے ۔ مولوی صاحب کا فتوی ہے اس مولوی صاحب سےآپ پوچھیں کہ مولانا صاحب بتائیے! سحری کے وقت اذان دے سکتے ہیں یانہیں؟ پھر دیکھیں کہ مولوی صاحب کی حالت کیاہوتی ہے، لاحول ولاقوۃ الاباللہ ،اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کاتذکرہ آئے تو ناک منہ چڑھاتے ہیں اور حرام کام کاتذکرہ آئے تو کوئی اعتراض نہیں کرتا، ڈھول بجانا شریعت میں حرام ہے،اذان کے ذریعے لوگوں کو سحری کے لئے اٹھانابرداشت نہیں ہے، حرام کام کے ذریعے لوگوںکوڈھول بجاکرسحری کے لئے اٹھاؤکسی کو کوئی اعتراض نہیں کسی پر تنقید کرنامقصود نہیں ہے بات سمجھانا مقصد ہے، کہ میرے بھائی ٹھنڈے دماغ سے سمجھیں کہ کہیں اس انداز سےہمارا ازلی دشمن شیطان ابلیس رمضان کے اجروثواب سے محروم تونہیں کرناچاہتا۔

    (3)زبان کے ساتھ نیت :

    ایک اورخلاف سنت معاملہ سحری کے وقت الفاظ کے ساتھ روزے کی نیت کرنا، وبصوم غد نویت من شھر رمضان. کہ میں نے رمضان کے کل کے روزے کی نیت کی۔ یہ جوالفاظ ہیں: وبصوم غد نویت من شھر رمضان.یہ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہیں، نہ قرآن میں ہیں، نہ حدیث میں ہیں اور نہ کسی صحابی سے ثابت ہیں ،نہ کسی تابعی سے نہ کسی تبع تابعی سے، نہ ہی کسی محدث سے لیکن آپ دیکھیں کتنا رواج پاگئے ہیں رمضان کے سحروافطار کے جتنے نقشے ہیں ایک ایک نقشے میں یہ الفاظ آپ کو ملیں گے روزے کی نیت اور نیت دل کے ارادے کا نام ہے، آپ رات کو تراویح پڑھ رہے ہیں آپ کی نیت ہے روزہ رکھنے کی، سحری کے وقت آپ اٹھ گئےہاتھ منہ دھورہے ہیں، آپ کی نیت ہے روزہ رکھنے کی ،آپ نے کھانامنگوالیا آپ کھاناکھاررہے ہیں، آپ کی نیت ہے روزہ رکھنے کی ،الفاظ کے ساتھ نیت کرنا،اللہ کے نبی ﷺ کی کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور پھر آدمی دیکھے اس کے ترجمے پرغور کرے اسلامی تاریخ کاآغاز مغرب سے ہوجاتا ہے مغرب ہوئی تو معنی آج شروع ہوگیا، اور سحری کےوقت نیت ہورہی ہے،وبصوم غد نویت من شھر رمضان.میں نیت کرتا ہوں کل کے روزے کی ،آج سحری کررہا ہے ،روزہ آج رکھ رہا ہے نیت کل کے روزے کی ،الفاظ پر غور کریں اور الفاظ کے معنی پر غور کریں یہ ساری چیزیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ چیز پیارے پیغمبر ﷺ سے ثابت نہیں، اگر اللہ کے نبی ﷺ کی تعلیم ہوتی توالفاظ اور معنی کااتنا بڑا جھول قطعا نہیں ہوتا، توغور کرتے جائیں ابلیس نے، شیطان نےکس قدر بدعات رمضان کے حوالے سے ہمارے اندر جاری کردیں تاکہ ہمیں رمضان کے اجروثواب سے محروم کردے۔

    (4)سحری میں جلدی :

    پھر ایک اور خلاف سنت کام، سحری کے وقت سحری کھانا لیکن ابھی تین منٹ پڑے ہوئے ہیں کھاناپینا بندیہ باقاعدہ جوسحروافطار کے نقشہ جات شایع ہوتے ہیں آپ پڑھکر دیکھ لیں باقاعدہ نوٹ لکھاہوتا ہے کہ سحری کاجوٹائم ہے اس سے تین منٹ پہلے کھانا پینا بند کردیں، حالانکہ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ،اللہ کے نبی ﷺکی حدیث کیا ہے،صحیح بخاری، صحیح مسلم میں موجود ہے کہ پیارے پیغمبر ﷺ تاخیر کے ساتھ خود بھی سحری کیاکرتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی حکم دیتے تھے کہ سحری تاخیر سے کریں یہ ہے اللہ کے نبی ﷺ کی سنت، سنن الکبریٰ میں حدیث موجود ہے فرمایا سحری تاخیر سے کرنے کامجھے حکم دیاگیا ہے۔ (بیہقی :۲۳۲۹،۲۳۳۰طبرانی:اوسط:۳۰۲۹) اللہ کے نبی ﷺ فرمارہے ہیں اور یہاں ہم ابھی تین منٹ پڑے ہوئے ہیں سحری کھانا پینا بند کیوں؟ وجہ کیا ؟وجہ یہی ہےکہ غیرمحسوس انداز سے ابلیس نے خلاف سنت معاملہ ہمارے اندر جاری کردیا تاکہ ہم رمضان کے اجروثواب سے محروم ہوجائیں۔

    (5)افطارمیں تاخیر :

    افطار کے وقت کیا ہوتا ہے آپ سحر وافطار کے نقشہ جات اٹھاکر دیکھ لیں یہ جملہ آپ کو ملے گا :افطار کا وقت ہوجائے ،تین منٹ تاخیر سے افطار کریں، باقاعدہ ریڈیو پاکستان پر بھی ہر شہر کی مقامی خبریں آتی ہیں سات بجے کے قریب سن کر دیکھ لیں اس میں بتایاجاتاہے کہ غروب آفتاب کا وقت یہ ہے اور افطار کاوقت تین منٹ کے بعد ہے، اللہ کے نبی ﷺ کی سنت،اللہ کے پیغمبر ﷺ کی حدیث کیا ہے:

    لایزال الناس بخیر ماعجلوا الفطر.(صحیح بخاری:۱۹۵۷،مسلم:۱۰۹۸)

    کہ لوگ جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں خیر اوربھلائی پر رہیں گے۔

    یہ تین منٹ تاخیر کیوں کریں؟ اللہ کے پیغمبر کی کیاحدیث ہے؟ کیا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت اور طریقہ ہے….

    فرمانے لگے ستو گھولو صحابہ کرام نے کہا سورج ابھی موجود ہے فرمایا میں کہہ رہا ہوں ،ستو گھولو۔ ساتھو گھولا گیا،جیسے ہی سورج غروب ہوا فوراً پیارے پیغمبر ﷺ نے روزہ افطار کیا۔

    (بخاری ۱۹۵۵،۱۹۵۶، مسلم: ۱۱۰۱)

    یہ تین منٹ کی تاخیر آخر کس وجہ سے اس پر باقاعدہ میڈیا پر بھی زور دیاجاتا ہے اور سحروافطار کے نقشہ جات میں بھی یہ ابلیس کی چال ہے جس کو ہم سمجھیں جیسے ہی افطار کا وقت ہوا اپنی گھڑی پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رکھیں جیسے ہی ٹائم ہوجائے روزہ کھول لیں، کسی قسم کی احتیاط کی ضرورت نہیں ہے ،پیاری پیغمبر ﷺ کی یہی تعلیم ہے ،اللہ کے نبی ﷺ کی یہی تربیت ہے۔

    (6)غیرثابت ومن گھڑت دعائیں :

    ایک اورخلاف سنت کام رمضان میں مختلف من گھڑت دعائیں رائج ہیں،مثال کے طور پر:تراویح میں ہردورکعت کے بعد ایک دعا پڑھی جاتی ہے جس کےآخر میں ’یا مجید یامجید یامجید‘ اللہ کے نبیﷺ سے یہ دعا ثابت نہیں،اللہ کے نبی ﷺ کی تعلیم نہیں ہےکہ تراویح کی ہر دورکعت کےبعد یہ دعا پڑھو، پھر کیا ہے یہ خلاف سنت کام ہے جو ہمارے اندر رائج کیاگیا ہے ،رمضان کی برکات اور اجروثواب سےمحروم کرنے کے لئے میں نے بہت سارے سحروافطار کے نقشہ جات دیکھے ہیں جس میں پہلے عشرے کی دعائیں ہیں ،دوسرے عشرے کی دعائیں ہیں تیسرے عشرےکی دعائیں ہیں ان میں سے کسی کا بھی ثبوت اللہ کے نبی ﷺ سے نہیں ملتا، روزہ افطار کرتے وقت اللھم لک صمت وعلی رزقک افطرت .یہ روایت صحیح سند سے ثابت نہیں، حدیث کی کتاب ابوداؤد میں موجود ہے،لیکن سنداضعیف ہے، لہذا اس کو پڑھنے کی ضروت نہیں بسم اللہ پڑھ کرآپ افطار کریں، تھوڑی سی افطاری کرنے کے بعد آپ یہ دعاپڑھیں:

    ذھب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر ان شاءاللہ.(ابوداؤد:۲۳۵۷)

    یہ اللہ کے نبی ﷺ سے ثابت ہے وہ دعا جو پیارے پیغمبر ﷺ سے ثابت ہے شاید یاد ہو یا نہ ہو،لیکن جو ثابت نہیں ہے وہ ہم بڑی محنت کے ساتھ یاد بھی کرتے اور اورپڑھتے بھی ہیں۔

    (7)شبینے اور ستائیسویں شب :

    اسی طرح ایک اورخلاف سنت عمل ستائیسویں شب کوخصوصی طور پر شبینے کا اہتمام کرنا،پوری رات میں قرآن مجید مکمل کرنا اللہ کے نبی ﷺ سے اس کا ثبوت بھی نہیں ملتا،اللہ کے نبی ﷺ کی قطعاً یہ تعلیم نہیں ہے بلکہ اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث ہے:’’جس نے تین دن سے کم میںقرآن مجید کو ختم کیا وہ اسے سمجھا ہی نہیں۔(ابوداؤد:۱۳۹۰،۱۳۹۴) تودیکھیں کس طرح ابلیس نے خلاف سنت امور ہمارے اندرداخل کردیئے۔

    (8)عیدکارڈ کی برائی :

    ایک اور خلاف سنت معاملہ کہ جیسے جیسے رمضان آگے بڑھتا ہے ہم لوگ ایک دوسرے کو عیدکارڈ بھیجتے ہیں اور اس میں نعوذباللہ ثم نعوذباللہ اداکاروں کی برہنہ تصاویر ہوتی ہیں،وہ ایک دوسرے کو عید کارڈ کے طور پر بھیجتے ہیں،اس کاثبوت بھی دین سے نہیں ملتا عیدمبارک دینا ثابت ہے لیکن کب جب چاند کااعلان ہوجائے جب عید کا دن ہوجائے، اس کے بعد آپ ایک دوسرے کو عید کی مبارک دیں الفاظ بھی پیارے پیغمبر ﷺ نے بتادیئے

    تقبل اللہ مناومنکم.

    یہ مبارکباد کے الفاظ ہیں یہ الفاظ ہم میں سے کتنوں کو یاد ہیں لیکن عید کارڈ بھیجنا جن میں فحش تصاویر ہوں یہ ہمارا کام ہے اوریہ ہمارے طریقے کار ہیں۔

    خلاصہ کلام :

    تو میرے بھائیو!خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ بڑی برکتوں والامہینہ ہے،بڑے اجر و ثواب والا مہینہ ہے لیکن ابلیس نے چالیں چلیں اور کئی طرح کی بدعات رائج کردیں رمضان کے حوالے سے تاکہ ہم لوگوں کو رمضان کے اجروثواب سے محروم کرے لہذا ہمیں چوکنارہ کر یہ مہینہ گزارنا ہے، کسی بھی بدعت کا ارتکاب نہیں کرنا، پورارمضان اللہ کےنبی ﷺ کے طریقے،پیارے پیغمبر ﷺ کی سنت کوملحوظ رکھنا ہے ،اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ قرآن وحدیث کی ان باتوں کوسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے اور دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے ۔

    وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.
     
    Last edited: ‏مئی 16، 2019
  2. ‏مئی 15، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,243
    موصول شکریہ جات:
    2,370
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ حدیث شریف مکمل پیش ہے تاکہ اہل ایمان اس عظیم فرمان پیمبر ﷺ سے مستفید ہوں ؛
    عن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إني فرطكم على الحوض من مر علي شرب ومن شرب لم يظمأ أبدا ليردن علي أقوام أعرفهم ويعرفونني ثم يحال بيني وبينهم فأقول إنهم مني . فيقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك ؟ فأقول سحقا سحقا لمن غير بعدي . ( متفق عليه )
    " اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ " میں حوض کوثر پر تمہارا امیر سامان ہونگا ( یعنی وہاں تم سب سے پہلے پہنچ کر تمہارا استقبال کروں گا ) جو شخص بھی میرے پاس سے گزرے گا وہ اس حوض کوثر کا پانی پئے گا اور جو شخص بھی اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں رہے گا ۔ وہاں میرے پاس ( میری امت کے ) کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے ،
    لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی جائے گی ( تاکہ وہ مجھ سے اور حوض کوثر سے دور رہیں ۔) میں ( یہ دیکھ کر ) کہوں گا کہ یہ لوگ تو میرے اپنے ہیں ! ؟ ( یعنی یہ لوگ میری امت کے افراد ہیں ، پھر ان کو میرے پاس آنے سے کیوں روکا جارہا ہے ! ؟ ) اس کے جواب میں مجھے بتایا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا نئی باتیں پیدا کیں ہیں ( یہ سن کر ) میں کہوں گا کہ وہ لوگ دور ہوں مجھ سے اللہ کی رحمت سے دور ، جنہوں نے میری وفات کے بعد دین وسنت میں تبدیلی کی ۔ "
    ( صحیح بخاری کتاب الفتن ومسلم ) مشکوٰۃ المصابیح ،

    عن أنس عن النبي صلی اللہ علیہ آلہ وسلم قال ( إنِی فَرطُکُم عَلیٰ الحَوضِ مَن مَرَّ عليَّ شَرِبَ و مَن شَرِبَ لم یَظمَاء ُ أبداً لَیَرِدُنّ عَليّ أقواماً أعرِفُھُم و یَعرِفُونِي ثُمَّ یُحَالُ بینی و بینَھُم فأقولُ إِنَّھُم مِنی، فَیُقال، إِنکَ لا تدری ما أحدَثُوا بَعدَکَ، قَأقُولُ سُحقاً سُحقاً لَمِن غَیَّرَ بَعدِی ) و قال ابن عباس سُحقاً بُعداً سُحیقٌ بَعِیدٌ سُحقۃً، و أسحقہُ أبعَدُہُ۔ ۔
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :
    ( میں تم لوگوں سے پہلے حوض پر ہوں گا جو میرے پاس آئے گا وہ ( اُس حوض میں سے ) پیئے گا اور جو پیئے گا اُسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی، میرے پاس حوض پر کچھ لوگ آئیں گے یہاں تک میں اُنہیں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے ( کہ یہ میرے اُمتی ہیں اور میں اُن کا رسول ہوں)، پھر اُن کے اور میرے درمیان (کچھ پردہ وغیرہ)حائل کر دیا جائے گا، اور میں کہوں گا یہ مجھ میں سے ہیں ( یعنی میرے اُمتی ہیں، جیسا کہ صحیح مُسلم کی روایت میں ہے )، تو ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا آپ نہیں جانتے کہ اِنہوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام کیئے، تو میں کہوں گا دُور ہوں دُور ہوں، جِس نے میرے بعد تبدیلی کی )) اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ ۔ سُحقاً یعنی دُور ہونا، "
    صحیح البُخاری/حدیث ٦٥٨٣، ٦٥٨٤/ کتاب الرقاق/ باب فی الحوض، صحیح مسلم / حدیث ٢٢٩٠، ٢٢٩١ /کتاب الفضائل/باب اِثبات حوض نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ۔
     
    Last edited: ‏مئی 15، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں