1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارک کے روزوں سے متعلق خواتین اسلام کے مخصوص مسائل

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از afrozgulri, ‏جون 23، 2019۔

  1. ‏جون 23، 2019 #1
    afrozgulri

    afrozgulri مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 23، 2019
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    تحریر :
    افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی



    اسلام میں عورتوں کا اپنا ایک مقام ومرتبہ ہے ،کاروبار حیات کی متعدد ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی طور پر ان کو اپنی تعلیمات سے نوازتے تھے ،ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانے میں خواتین لازمی توجہ کی مستحق ہیں۔
    خصوصاً موجودہ دور میں جب کہ مسلم خواتین سے ان کی عزت و ناموس سلب کرنے اور ان کو اپنے مقام ومرتبہ سے گرانے کے لیے مخصوص طریقے سے یلغار کرکے ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس لیے ان خطرات سے آگاہ کرنا اور ان سے نپٹنے کے لیے راہ نجات کی نشاندھی کرنا بے حد ضروری ہے۔

    امت مسلمہ کا روشن مستقبل اور اسلام کا عروج وغلبہ اس بات پر موقوف ہیں کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو ایمان و اطاعت کی فضاء میں پروان چڑھے ،تقو'ی و اخلاق فاضلہ کی حامل ہو،پاکیزگی وعفت کے جوہر سے آراستہ اور قوت وشجاعت سے بہرہ ور ہو ،اور یہ چیز اس وقت تک حاصل نھیں ہو سکتی جب تک کہ معاشرے میں ایسے مسلمان مرد و عورت نہ پیدا ہوجائیں جو صحیح معنوں میں مسلمان کہلائے جاسکیں۔

    ماہ رمضان کے روزے ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہیں ،روزہ کو اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے ۔

    جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان : یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون" (البقرہ :183)۔

    ایے ایمان والو : تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کو اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن قرار دیا ،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے" بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله،واقام الصلاة،وإيتاء الزكاة ،والحج،وصوم رمضان"(رواه البخاري،كتاب الإيمان ،باب دعاؤكم إيمانكم حدیث نمبر :8)۔

    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔
    پہلا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے آخری رسول ہیں۔
    دوسرا : نماز قائم کرنا ۔
    تیسرا : زکاۃ دینا۔
    چوتھا:خانہ کعبہ کا حج کرنا۔
    پانچواں: رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔

    رمضان المبارک کے روزوں سے متعلق خواتین اسلام کے مسائل :

    (01) « بیمار عورت کا حکم: بیمارعورت کی 2قسمیں ہیں :

    ایک وہ بیمارعورت جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتی ہے۔ ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑیگی اتنے کا بعد میں قضا کریگی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘(البقرۃ 184)۔

    دوسری وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑھے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اُن دونوں کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔‘‘(البقرۃ 184)۔
    یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلاً زکام، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں۔

    (02) « مسافر عورت کا حکم:

    رمضان میں مسافر کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے: ’’اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘(البقرۃ 184)۔

    اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافرہ حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے، اسکے بہت سارے دلائل ہیں، مثلاًایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو(نسائی)۔مسافرہ چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کریگی ۔


    (03) حیض ونفاس والی عورت کے روزے کے مسائل :

    حیض ونفاس والی عورت کے لئے روزہ نہ رکھنا واجب ہےلھذا اگر روزہ دار عورت کو حیض شروع ہوجائے یا نفاس کا خون آجائے یعنی زچگی ہوجائے تو اس عورت کا روزہ فسخ ہوجائے گا اور ایسی حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے اگر روزہ رکھے گی تو اس کا روزہ باطل ہوگا ۔اس لیے عورت کے لیے روزہ رکھنے کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ حیض اور نفاس سے پاک ہو۔
    جیسا کہ حائضہ سے متعلق سے متعلق حدیث وارد ہے ۔" عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال :قال النبي صلى الله عليه وسلم: أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم فذلك من نقصان دينها" (رواہ البخاری،کتاب الصوم ،باب الحائض ترک الصوم والصلاۃ ،حدیث :1951)

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہیں (یعنی ایسا ہے)کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے اور ان کے دین میں کمی کی یہی وجہ ہے۔

    (04) چھوٹی بچی کے روزہ کا حکم:

    لڑکا ہو یا لڑکی جب بالغ ہوجائے تو پھر ا س پر روزہ فرض ہوجاتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

    میری امت میں سے 3 قسم (کے لوگوں) سے قلم اٹھا لیا گیاہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تک وہ ہوش میں آجائے اور سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار ہوجائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ ہو جائے(ابو داؤد)۔
    لھذا جب لڑکی سن تکلیف (بلوغت کی عمر) کو پہونچ جائے بایں طور پر کہ بلوغت کی نشانیوں میں سے کوئی ایک نشانی ظاہر ہوجائے ،انھیں میں سے حیض کا آنا ہے،تو ایسی لڑکی کے حق میں روزہ واجب ہوجاتا ہے۔یاتو پندرہ سال کی ہوجائے یا شرمگاہ کے آس پاس سخت بال اگنے سے،یا نیند کے دوران انزال منی سے،یا پہلے حیض سے ،یا حاملہ قرار پانے سے جب ان علامتوں میں سے کوئی ایک علامت بہی پائی گئی تو بچی پر روزہ واجب ہوگیا چاہے اس کی عمر دس برس ہی کی کیوں نہ ہو کیونکہ بہت سی بچیوں کو دس گیارہ سال کی عمر میں ہی حیض کا خون آجاتا ہے ۔
    (خواتین اور رمضان المبارک,ص: 45)

    بعض بچیوں کو بلوغت کی عمر میں ہی حیض شروع ہوجاتا ہے لیکن انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ حیض شروع ہوجانے کے بعد روزہ اس پر واجب ہوجاتا ہے ،چنانچہ وہ اپنے آپ کو کم عمر سمجھ کر روزہ نھیں رکھتی اور نہ ہی اس کے اہل خاندان اسے روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ یہ عمل اسلام کے ایک اہم اور عظیم رکن کو ترک کر کے زبردست تساہلی اور سستی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کسی عورت سے اس قسم کی کوتاہی کا صدور ہوا ہو تو اس پر ان تمام روزوں کی قضاء ضروری ہے جسے اس نے ابتدائے حیض میں ترک کیا تھا ،خواہ اس پر ایک لمبی مدت گزر گئی ہو کیونکہ یہ تمام روزے اس کے ذمہ باقی ہیں۔

    بعض علماء نے روزہ کیلئے بچوں کی مناسب عمر10 سال بتائی ہے کیونکہ حدیث میں10 سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے۔

    روزہ کے شرائط وجوب میں سے یہ ہے کہ مسلمان ہو ،عاقل ہو،بالغ ہو اور روزہ رکھنے پر قادر ہو ۔ایسی شرائط جو روزہ واجب ہونے کے لیے ضروری ہےاور روزہ کی صحت کے لئے بھی ضروری یہ ہے کہ نیت کرنا،حیض ونفاس سے پاک ہونامسلمان ہونا اور عاقل ہونا۔
    (الفقہ الاسلامی وادلتہ ج/3،ص:1684).

    (05) نفاس والی عورت کے روزے کا حکم :
    نفاس کی اکثر مدت ابتداء ولادت یا اس سے دو یا تین دن پہلے سے چالیس دن ہے۔
    دلیل حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے فرماتی ہیں کہ "كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعين يوماً"
    )رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء في كم تمكث النفساء،حديث:139)

    نفاس والی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن نفاس کی مدت میں بیٹھا کرتی تھیں۔
    اور اس کے اقل مدت کی کوئی حد نہیں ہے،کیونکہ اس سلسلے میں کوئی حد وارد نہیں ہوئی ہے اور اگر چالیس دن مکمل ہوجائے اور خون کا آنا بند نہ ہو تو اگر یہ حیض کی سابقہ عادت کے مطابق ہو تو اسے حیض مانا جائے گا ورنہ اسے استحاضہ کا خون تصور کیا جائے گا۔
    اور جب نفاس والی عورتیں چالیس دن سے قبل پاک ہوجائیں تو ان پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا واجب ہے اور اگر چالیس دنوں کے اندر خون دوبارہ آنا شروع ہوجائے تو اس پر روزہ چھوڑنا واجب ہوگا۔
    (فتاویٰ برائے خواتین ،ص:92)

    اگر حیض والی عورت کو رمضان المبارک کے دن میں خون کے معمولی قطرے نظر آئیں تو اس حالت میں روزہ رکھنا صحیح ہے اور اور خون کے قطرات کا کوئی اعتبار نہیں۔
    (خواتین کے مخصوص مسائل،ص:22)
    اور اگر ولادت سے ایک یا دو دن پہلے درد زہ کے ساتھ خون آئے تو یہ نفاس کا خون ہوگا اور عورت نماز وروزہ ترک کردے گی لیکن اگر خون بنا درد کے آرہا ہے تو یہ بیماری کا خون ہے۔اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
    (خواتین کے مخصوص مسائل،ص:29)

    (06) حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزوں کے مسائل :

    دودھ پلانے والی عورت کا بچہ جب تک کھانے پینے نہ لگ جائے تو اس پر روزہ واجب نہیں۔ایسے ہی حاملہ جب تک ولادت نہ ہوجائے تو اس پر روزہ واجب نہیں ہوتا۔
    حاملہ عورت کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے بشرطیکہ اپنی یا اپنے بچے کی مضرت کا خوف ہو یا ایک ساتھ دونوں کو نقصان کا خوف ہو یا عقل میں فطور آجانے کا اندیشہ ہو مثلاً اگر حاملہ عورت کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے سے خود اپنی اپنی دماغی وجسمانی کمزوری انتہا کو پہونچ جائے گی یا ہونے والا بچہ کی زندگی اور صحت پر اس کا برا اثر پڑے گا یا خود کسی بیماری وہلاکت میں مبتلا ہو جائے گی تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ قضاء کرے ۔
    اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کو بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ وہ بچہ اسی کا ہو یا کسی دوسرے کے بچے کو بااجرت یا مفت دودھ پلاتی ہو بشرطیکہ اپنی صحت وتندرستی کی خرابی یا بچے کی مضرت کا خوف ہو ،جن لوگوں نے یہ کہا کہ اس سے دودھ پلانے والی صرف دائیہ ہی مراد ہے غلط ہے ،کیونکہ حدیث میں مطلقاً دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے چاہے وہ ماں ہو یا دائیہ ۔

    حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کیلئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہو جا ئے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء 40 دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔

    عورت کیلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے۔
    حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا بلکہ روزہ جاری رکھناہے۔

    مرضعہ وحاملہ کا حکم:
    دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کیلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ بلاضرورت روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔
    نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے:
    عن أنس بن مالك الكعبي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحبلىى' والمرضع الصوم "

    ( أخرجه النسائي ،كتاب الصوم ،باب وضع الصيام عن الحبلى والمرضع الحديث :2317).

    اللہ تعالیٰ نے مسافر کیلئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانیوالی کو روزے معاف فرما دی۔
    جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اسکی قضا کرے،حاملہ و مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ۔
    حاملہ اور مرضعہ دودھ پلانے والی عورت کے سلسلے میں چاروں مسالک کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ حاملہ پیٹ سے ہونےوالی عورت یا دودھ پلانے والی عورت کو نقصان کا خوف ہوتو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ یہ خوف دونوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہو یا اپنے آپ کو یا صرف بچے کو ہر حالت میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔
    (ملخص فقہ النساء،ص:278)

    حالت حیض میں روزے کی ممانعت کا راز کیا ہے؟
    حیض کی وجہ سے آنے والے خون میں خون کا نکلنا پایا جاتا ہے جبکہ حائضہ کے لئے ممکن ہے کہ حیض کے ان اوقات کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھے جن میں خون کا نکلنا نھیں پایا جاتا ہے لھذا ایسی صورت میں اس کا روزہ رکھنا معتدل ہوگا کیونکہ اس میں جسم کو تقویت پہونچانے والے بلکہ جسم کے اصل مادے کا نکلنا نہیں پایا جاتا ہے حالت حیض میں روزہ رکھنے سے وجوبی طور پر لازم آئے گا کہ جسم کا اصل مادہ بھی خارج ہو جو اس کے جسم کی کمی اور خود اس کے ضعف کا سبب بنتا ہے،اور ساتھ ہی روزے کا حد اعتدال سے بھی خروج لازم آئے گا ۔خواتین کو اسی بنا پر اوقات حیض کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
    (خواتین کے مخصوص مسائل,ص:108)۔

    غیر ایام حیض میں آنے والے خون کا حکم :
    وہ خون جو عادت سے زائد حیض کے دنوں کے علاوہ جاری رہتا ہے وہ رگ کا خون ہوتا ہے اسکو حیض کا خون شمار نہیں کیا جا ئے گا جو عورت اپنے خون کے دنوں کو جانتی ہے اس میں صرف اتنے ہی دنوں کو حیض کا دن شمار کرے گی اور اس میں روزہ نہ رکھے گی اور اس کے بعد جو خون یا زردی یا گدلاپن نظر آئے اس کے لیے مستحاضہ عورتوں کے احکام ثابت ہوں گے اور نماز روزہ کرے گی۔

    اور اگر کسی عورت کو چھ یا سات دن حیض آتا ہے تو اگر کبھی خلاف عادت ایک یا دو مرتبہ اس مدت سے زیادہ آنے لگے ،جیسے سات کے بجائے آٹھ ،نو،دس،گیارہ دن ہوجائے تو ان تمام دنوں کو حیض کا دن شمار کرے گی اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کی کوئی معین مدت مقرر نہیں فرمائی ،
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " ویسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض ولا تقربوا هن حتى يطهرن"(سورة البقرة:222)

    آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
    تو جب خون باقی رہے گا عورت پر حیض ہی کے احکام نافذ ہوں گے۔ (فتاویٰ اسلامیہ ج:01،ص:325)۔

    اور اگر غسل حیض کے بعد عورت کو دوبارہ خون آجائے تو اگر آنے والا خون زرد یا خاکستری رنگ کا ہو تو وہ غیر معتبر ہوگا اس کا حکم محض پیشاب کا سا ہے ۔
    لیکن اگر وہ خالص خون ہے تو اسے حیض ہی کا حصہ سمجھا جائے گا اس صورت میں عورت پر دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے۔
    ام عطیہ رضی اللہ عنہا صحابیات میں سے ہیں فرماتی ہیں " کنا لا نعد الصفرۃ والکدرۃ بعد الطھر شیئا" ( رواہ البخاری ،کتاب الحیض،باب الصفرۃوالکدرۃ فی غیر ایام حیض ،حدیث نمبر :326)
    طہارت کے بعد آنے والے پیلے یا مٹیالے رنگ کے مادہ کو ہم کچھ شمار نہیں کرتے تھے ۔

    اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی عادت اور معمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں ،مثلا سیاہ ،گاڑھا اور بدبودار ہو تو حیض ہے اس میں نماز روزہ چھوڑ دے گی ،اگر وہ سرخ ہو اور وہ گاڑھا اور بدبودار نہ ہو تو اس صورت میں وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔جس میں نماز روزہ نہ چھوڑے گی ،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش کو فرمایا تھا " إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكى عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئ وصلى " (أخرجه النسائي ،كتاب الطهارة ،باب الفرق بين دم الحيض والإستحاضة ،216)۔
    جب حیض کا خون آئے تو سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے جب یہ ہو تو نماز پڑھنے سے رک جا اور جب اسکے علاوہ دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ ۔
    جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض اور استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہو تو وہ گمان کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام حیض اسی قدر ہوتے ہیں۔
    (فقہی احکام ومسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں ج/1،ص:75)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا" إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضى ستة أيام و سبعة أيام في علم الله ثم اغتسلى ،فإذا رأيت أنك قد طهرت واستنقات فصلى أربعا وعشرين ليلة أو ثلثا وعشرين ليلة وأيامها وصومى وصلى فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء"(رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء فى المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد ،حديث نمبر : 128)

    استحاضہ کا خون آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لو ،پھر غسل کرلو اور جب تو اچھی طرح سے پاک و صاف ہوجائے تو مہینے میں چوبیس یا تیئیس دن تک روزہ رکھ اور نماز پڑھ تیرے لیے یہی کافی ہے اور اسی طرح کر کہ جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں ۔
    اور اگر کوئی عورت اپنے حیض کے مقرر عادت کو بھول جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ یاد کرے کہ کتنے دن ماہ سابق میں حیض آیا تھا جتنے دن غالب گمان سے حیض یاد آئے اتنے دنوں تک اپنے کو حائضہ عورت شمار کرے اور جتنے دن غالب گمان سے طھر یاد آئے اسی قدر طاھر سمجھے۔
    اور جس عورت کے حیض کے دن مقرر نہ ہوں اور نہ وہ خون میں فرق و تمیز کرسکتی ہو تو اس کے ایام حیض چھ یا سات قرار پائیں گے۔
    (فقہی احکام ومسائل ج/01،ص: 76)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں " علماء کرام کے اقوال کے مطابق جن علامات سے حیض کے خون کی تعیین ہوسکتی ہے وہ چھ ہیں ۔
    ان میں سے ایک علامت عادت ہے ،عادت ومعمول سب سے قوی علامت ہے کیونکہ اصل یہ ہے کہ جب تک یہ تعیین نہ ہوجائے کہ حیض ختم ہوچکا ہے تو جاری خون کو حیض ہی سمجھا جائے گا۔
    دوسری علامت تمیز ہے ،سیاہ ،گاڑھے اور بدبودار خون کو حیض کا خون کہنا سرخ اور پتلے خون سے زیادہ مناسب ہے۔
    تیسری علامت عورتوں کی غالب اور عام عادت ہے ،یہ تین علامات ایسی ہیں جو سنت اور قیاس سے ثابت ہوتی ہیں پھر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بقیہ تین علامتوں کا تذکرہ کیا اور اخیر میں فرمایا: سب سے درست اور مناسب قول یہ ہے کہ ان علامات کا اعتبار اور لحاظ کیا جائے جن کے بارے میں سنت نے وضاحت کردی اور باقی سب نظر انداز کرنے کے قابل ہیں۔

    (فقہی احکام ومسائل ج/01،ص: 76)

    (07) مستحاضہ عورت پر روزہ رکھنا واجب ہے۔:

    مستحاضہ جس عورت کو ایسا خون آرہا ہے جسے حیض کا خون نہیں کہا جا سکتا اس پر روزہ فرض ہے اس کے لیے افطار روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے اس لیے استحاضہ کا خون تمام اوقات میں آتا ہے اس کا کوئی مخصوص و متعین وقت نہیں ہے کہ اس کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا اسے حکم دیا جائے اس سے بچنا بھی ناممکن میں سے ہے ،جس طرح ازخود قے آنا ،زخم اور پھوڑوں کی وجہ سے خون کا نکلنا اور احتلام وغیرہ ہیں ،ان کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا ہے کہ ان سے احتراز کیا جائے ۔
    لہذا یہ تمام امور روزہ کے منافی نہیں قرار دیے جائیں گے جس طرح حیض کا خون قرار دیا گیا ہے۔استحاضہ کا خون بیماری کے سبب خارج ہوتا ہے۔
    (مجموع الفتاوی،ج:25،ص:251).
    مستحاضہ کے معاملے میں اشکال یہ ہوتا ہے کیونکہ کبھی حیض کا خون استحاضہ کے مشابہ ہوتا ہے ،جس وقت خون مسلسل یا اکثر اوقات میں خارج ہو تو کیا اسے حیض سمجھے گی یا اسے استحاضہ قرار دے گی جس کی وجہ سے نماز وروزہ نہ چھوڑےگی ۔
    مستحاضہ کے احکام پاک عورتوں والے ہیں ان عورتوں کی تین حالتیں ہیں۔
    (1) اگر کسی عورت کو پہلی مرتبہ استحاضہ کا خون آیا اور اس کے حیض کے ایام مقرر ہیں مثلاً اسے ہر مہینے کے شروع یا درمیان میں پانچ یا آٹھ دن حیض آتا ہے تو یہ مقررہ دن اس کے ایام حیض شمار ہوں گے،ان میں نماز ،روزہ ،چھوڑ دے گی اور اس پر حیض کے دیگر تمام احکام جاری ہوں گے۔
    جب اس کی عادت اور معمول کے مطابق ایام حیض پورے ہوجائیں گے تو وہ غسل کرکے نماز ادا کرے گی اور بقیہ خون " استحاضہ" شمار ہوگا ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "أمكثى قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلى وصلى " (رواه مسلم،كتاب الحيض،باب المستحاضة وغسلهاوصلاتها ،حديث نمبر:334)
    تو جتنا حیض کی وجہ سے رکا کرتی تھی اتنے دنوں تک رک جا پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔
    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت جحش سے فرمایا : " إنما ذلك عرق وليس بحيض فإذا أقبلت حيضتك فدعى الصلاة"
    (رواه البخاري ،كتاب الوضوء،باب غسل الدم ،حديث نمبر :228).
    استحاضہ ایک رگ کا خون ہے حیض نہیں جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے ۔

    (2) اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی عادت اور معمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں ،مثلا سیاہ ،گاڑھا اور بدبودار ہو تو حیض ہے ۔
    اس میں نماز چھوڑ دے گی ،اگر وہ سرخ اور گاڑھا بدبودار نہ ہو تو اس صورت میں وہ استحاضہ کا خون ہوگا ،جس میں نماز روزہ نہ چھوڑے گی ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش کو فرمایا تھا " إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فأمسكى عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئ وصلى " (أخرجه النسائي ،كتاب الطهارة ،باب الفرق بين دم الحيض والإستحاضة ،216 ،سنن أبی داود ،کتاب الطھارۃ ،باب من قال تو ضا لکل صلاۃ ،حدیث نمبر : 304،وصحیح ابن حبان ،کتاب الطھارۃ ،باب الحیض والاستحاضۃ،ج/2 ص: 218حدیث نمبر :1345)۔

    جب حیض کا خون آئے تو سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے جب یہ ہو تو نماز پڑھنے سے رک جا اور جب اسکے علاوہ دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ ۔

    (3) جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلے میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض و استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہو تو وہ غالب گمان کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض کے ایام سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام اسی قدر ہوتے ہیں ۔
    چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدۃ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
    " إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضى ستة أيام و سبعة أيام في علم الله ثم اغتسلى ،فإذا رأيت أنك قد طهرت واستنقات فصلى أربعا وعشرين ليلة أو ثلثا وعشرين ليلة وأيامها وصومى وصلى فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء"(رواه الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء فى المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد ،حديث نمبر : 128)

    استحاضہ کا خون آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لو ،پھر غسل کرلو اور جب تو اچھی طرح سے پاک و صاف ہوجائے تو مہینے میں چوبیس یا تیئیس دن تک روزہ رکھ اور نماز پڑھ تیرے لیے یہی کافی ہے اور اسی طرح کر کہ جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں ۔
    ( رواہ الترمذی ،کتاب الطہارۃ ،باب ماجاء فی المستحاضۃ أنھا بین الصلا تین بغسل واحد".

    مستحاضہ عورت کا حکم :-
    پہلی چیز جب اس کے غالب گمان کے مطابق حیض کے ایام پورے ہوجائیں تو وہ غسل کریے۔
    دوسری چیز ہر نمازکے وقت استنجا ء کرے فرج سے نکلنے والی آلا ئشوں اور نجاستوں کو صاف کرے اور انھیں روکنے کے لئے شرمگاہ میں روئی کا استعمال کرے ۔مناسب کہ انڈر ویئر پہن لے تاکہ روئی گر نہ سکے ۔

    (3) ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مستحاضہ عورت کے بارے میں فرمایا : "تدع الصلاة أقرائها التى كانت تحيض فيها ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة "
    (سنن ابي داود،كتاب الطهارة ،باب من قال تغسل من طهر )

    وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے ،جب حیض بند ہوجائے تو غسل کرے اور پہر ہر نماز کے لیے وضوء کرے ۔
    مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انعت لک العرس فانہ یذ ب الدم "
    ( رواہ الترمذی،کتاب الطہارۃ،باب ماجاء فی المستحاضۃ أنھا تجمع بین الصلاۃ بغسل واحد ،حدیث نمبر:118)۔
    میرا مشورہ ہے کہ روئی استعمال کرے کیونکہ وہ خون بند کردے گی ۔
    اور آج کے زمانے میں پائے جانے والے طبی اشیاء مثلاً کیئرفری (Carefree) کا استعمال بھی ممکن ہے۔
    جب عورت پچاس سال کی عمر کو پہونچ جائے یا اس کی ماہانہ عادت بے قاعدہ ہوجائے تو اس سے حیض اور حمل کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ۔
    نیز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے یہی بات معلوم ہوتی ہے ۔خون کا بے قاعدہ ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ حیض کا خون نہیں ہے ،یہ خون استحاضہ کے خون کا حکم رکھتا ہے جو کہ عورت کے لیے نماز اور روزہ سے مانع نہیں ہے اور نہ ہی اس دوران جماع کرنے میں خاوند کے لیے کوئی رکاوٹ ہے ۔
    (فتاویٰ برائے خواتین ،ص: 93)


    (08)« قصدا ًروزہ توڑنے والی عورت کا حکم:
    رمضان میں بغیر عذر کے قصدا ًروزہ چھوڑنے والی عورت گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ اسے اولاً اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور جو روزہ چھوڑی ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتی ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل 2مہینے کا روزہ رکھنا یا60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے۔

    (09) بے نمازی عورت کے روزے کا حکم:
    جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نبی ﷺ فرمان ہے:ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا(ترمذی)۔
    اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہی ہے ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائیگاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے۔


    کس طرح کی عورتوں پر رمضان المبارک کے روزے کی قضاء ہے ؟

    اولا: قضاء کیا ہے ؟
    تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضاء سے مراد یہ ہے کہ کہ وہ شخص جو کسی وجہ سے رمضان میں روزے نھیں رکھ سکا ،چھوٹے ہوئے روزوں کے بدلے میں رمضان کے علاوہ کسی ایسے دن میں روزہ رکھے جس میں نفلی روزہ رکھنا مباح ہو ۔
    (فقہ السنہ,302)

    ایسی عورتیں جن پر روزے کی قضاء لازم ہے ،وہ یہ ہیں :

    ١-(حائضہ) -
    ایسی عورت کے لیے روزہ رکھنا منع ہے ان پر قضاء لازم ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ :

    "عن معاذة بنت عبدالله العدويَّة قالت: سألتُ عائشة رضي الله عنها فقلتُ: ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة؟ قالت: كان يُصِيبنا ذلك، فنُؤمَر بقضاء الصوم، ولا نؤمر بقضاء الصلاة؛ .(اخرجہ ابوداؤد ،کتاب الطھارۃ ،باب فی الحائض لا تقضی الصلاۃ (263) وصحہ الالبانی رحمہ اللہ

    معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے عرض کیا یہ کیا بات ہے کہ ایک حائضہ عورت ایام ماہواری میں جو روزے چھوڑتی ہے ان کی قضا تو وہ ادا کرتی ہے ،لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی ہیں ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم پر یہ حالت گزرتی تھی تو ہمیں یہ حکم تو دیا جاتا تھا کہ ہم روزوں کی قضاء کریں ،لیکن یہ حکم نھیں دیا جاتا تھا کہ نمازوں کی قضا بھی کریں ۔

    ٢-(نفاس والی عورتیں):-

    نفاس والی عورتوں کے لئے روزہ رکھنا منع ہے بعد میں ان پر قضاء لازم ہے۔
    (مختصر فقہ اسلامی 692/2)-

    ٣-٤ (دودھ پلانے والی وحاملہ عورتیں) :-

    دودھ پلانے والی عورت دودھ پلانے کے زمانے میں اور حاملہ عورت دوران حمل میں غیر معمولی تکلیف محسوس کرے تو انھیں اس کی اجازت ہے کہ وہ روزہ چھوڑ دیں ،یہ دور گزر جانے پر بعد میں انھیں ان روزوں کی قضاء ادا کرنی ہوگی -
    قضاء میں جتنی جلد بازی سے کام لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا ۔
    اگر اگلے رمضان شروع ہونے میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے ہوں جتنے دن اس نے روزہ ترک کیا ہے تو پچھلے رمضان المبارک کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء واجب ہو جاتی ہے ،اسے لازمی طور پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کرلینی چاہئے ۔(خواتین کے مخصوص مسائل ص:111)

    دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کے بارے میں حدیث میں ہے کہ "عن أنسِ بن مالكٍ الكعبيِّ رَضِيَ اللهُ عنه، قال: قال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: ((إنَّ اللهَ تبارك وتعالى وضَع عن المُسافِر شَطرَ الصَّلاةِ، وعن الحامِلِ والمرضِعِ الصَّومَ أو الصِّيامَ"
    (أخرجه النسائي،کتاب الصوم ،باب وضع الصیام عن الحبلى والمرضع،الحديث : 2317)
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کردی ہے اور ان سے روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دے دی ہے ،اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،اسی طرح قصدا کھانے پینے اور قصداً قۓ کرنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اور اس کی قضاء واجب ہوجاتی ہے۔
    البتہ خود بخود قۓ ہوجائے تو روزہ کی نہ قضاء کرے اور نہ کوئی کفارہ ہے ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ – أي : غلبه- فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ) . رواه الترمذي و صححه الألباني في صحيح الترمذي . (720) و أبوداود ،كتاب الصيام،باب الصائم يستقئ عامدا:238)۔

    جس کو قۓ آجاتی ہے اس پر قضاء واجب نہیں اور جو شخص قصداً قۓ کرے وہ قضاء کرے ۔

    آدمی کا قصداً منی خارج کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے خواہ یہ عمل بیوی کا بوسہ دینے سے ہو یا اس کو بھیچنے سے ہو یا ہاتھ سے ہو ۔
    ان تمام فعل سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ،اور قضاء واجب ہوتی ہے،البتہ شھوت بھری نظروں سے دیکھنے یا اس بارے میں سوچنے سے منی خارج ہو تو اس کی مثال دن میں احتلام کی ہے اس سے نہ روزہ باطل ہوگا اور نہ قضا واجب ہوگی ،

    کسی روزہ دار نے یہ سوچ کر کوئی چیز کھالی یا پی لی یا جماع کرلیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے یا ابھی صبح نھیں ہوئی ہے ،لیکن اس کا گمان غلط ثابت ہوا ہو تو اس پر قضاء واجب ہوگی ،جمھور علماء کرام کا یہی مسلک ہے۔

    اگر کوئی شخص بھول کر کھا پی لے تو روزہ نھیں ٹوٹتا ہے اور نہ اس پر کوئی کفارہ ہے اور نہ کوئی قضاء ،
    کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے جمھور اسی کے قائل ہیں۔
    (سبل السلام ,137/4)۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"

    ((مَن نسِي وهو صائم فأكَل أو شرِب، فليُتِمَّ صومه؛ فإنما أطعَمه الله وسقاه))
    (رواہ البخاری،کتاب الصوم،باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا حدیث نمبر:1933)

    جو روزہ دار بھول کر اگر کھاپی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے ،کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔

    اور ایک روایت میں ہے کہ " من أفطر فی رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة"
    (صحيح ابن خزيمة ،كتاب الصيام ،حديث نمبر :239)

    اگر بھول کر کوئی رمضان میں روزہ کھولے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں ہے۔

    رمضان المبارک میں کن چیزوں کی وجہ سے قضاء اور کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔؟؟

    جس عمل سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اور قضاء و کفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں وہ جماع ہم بستری ہے ۔جمھور کا یہی مسلک ہے۔
    چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
    جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ ، " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ " ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، " فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "
    (صحيح مسلم،كتاب الصيام،باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان ،1877 و أبوداود ،كتاب الصوم ،باب كفارة من أتي أهله في رمضان،239)

    ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،میں برباد ہوگیا ،
    آپ نے فرمایا : کس نے تمہیں برباد کیا ؟
    اس نے کہا میں نے رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرلیا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم ایک غلام آزاد کرسکتے ہو ؟اس نے کہا: نھیں ,
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کیا تم دو ماہ متواتر روزہ رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا:نھیں،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ساٹھ غریب کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر وہ کچھ دیر بیٹھا رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کھجوریں لائی گئیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ،لو اور انھیں صدقہ کردو ،اس شخص نے کہا ،کیا یہ صدقہ کسی ایسے شخص کو کرنا چاہیے جو ہم سے زیادہ محتاج ہو ؟
    تو مدینے کے گردونواح میں ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر یوں ہنس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آگئے ،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جاؤ اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ ۔

    کیا مرد اورعورت دونوں پر جماع کی صورت میں کفارہ ہوگا؟؟

    جمہور کا مذہب اس مسئلے میں یہی ہے کہ عورت و مرد کفارہ کے وجوب میں برابر کے شریک ہیں ،جب کہ ان دونوں نے قصداً اپنی مرضی سے رمضان کے دنوں میں جماع کیا ،اور روزہ رکھنے کی ان کی نیت تھی لیکن اگر بھول کر ان سے جماع ہوگیا ہو یا ان کی مرضی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ ان کو مجبور کیا گیاتھا یا روزہ رکھنے کی نیت نھیں تھی تو عورت اور مرد میں سے کسی پر کفارۃ واجب نہیں، اور اگر عورت کو مرد کی طرف سے مجبور کیا گیا ہو یا عورت کسی عذر کے باعث روزے سے نھیں تھی تو کفارہ صرف مرد پر ہوگا ۔
    (فقہ السنہ 186/2) ۔
    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    صحیح مسئلہ یہ ہے کہ صرف ایک کفارہ واجب ہے وہ بھی مرد کی طرف سے ،عورت پر کوئی کفارہ نہیں ،عورت پر وجوب کا حکم لاگو نھیں ہوگا کیونکہ کفارہ کے وجوب کے معانی یہ ہے کہ مال کا وہ حق ادا کیا جائے جو جماع سے واجب ہو لھذا یہ حق مرد کے ساتھ ہوگا نہ کہ عورت کے ساتھ ۔
    (المجموع, 293/6)

    عورت پر کفارہ واجب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں جماع کرنے والے کو غلام آزاد کرنے کا حکم دیا اور عورت کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی جب کہ آپ کو معلوم تھا کہ اس فعل میں عورت بھی شریک ہے ۔
    (المغنی لابن قدامہ 375/4)۔

    اگر کسی نے کفارہ ادا کرنے کے بعد بھی جماع کرلیا تو کیا کرے؟؟

    علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی نے رمضان میں قصداً جماع کرلیا اور کفارہ بھی ادا کردیا پھر دوسرے دن یہی حرکت سرزد ہوگئی تو دوبارہ کفارہ واجب ہوگا ،نیز اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ایک دن میں متعدد بار جماع کرے تو اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا ۔

    البتہ کسی نے ایک بار جماع کیا اور کفارہ ادا کردیا پھر دوبارہ جماع کیا تو کیا دوبارہ کفارہ ادا کرے گا؟

    جمہور کے نزدیک دوبارہ ادا نہیں کرے گا لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کے مطابق دوبارہ ادا کرے گا۔
    (فقہ السنہ 189/2)

    امام شافعی رحمہ اللہ اور اکثر علماء کے نزدیک قضاء لازم نہیں ۔
    اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا : کہ اگر کفارے میں دو مہینے کے روزے رکھے تب قضاء لازم نہیں،دوسرا کوئی کفارہ دے تو قضاء لازم آئے گا،
    اور حنفیہ کے نزدیک ہر حال میں قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہے ۔

    (صحیح بخاری شرح مولانا داود راز رحمہ اللہ,196/3)۔

    کفارہ کی ترتیب :

    رمضان المبارک کے دنوں میں جماع کے کفارے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ ایک گردن آزاد کرنا ،اگر اس کی طاقت نھیں تو دو ماہ کے پے درپے روزے رکھنا اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا،
    لیکن اس کفارے کی ترتیب میں علماء کا اختلاف ہے ۔

    جمہور کے نزدیک کفارہ کی ادائیگی کی جو ترتیب حدیث میں وارد ہوئی ہے اسی کے مطابق کفارہ ادا کرنا ہوگا ،جب تک ایک صنف سے عاجز نہ ہو دوسرے صنف ادا نہیں کرسکتا ،

    امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ کفارہ دینے والے کو ان تینوں میں اختیار ہوگا کوئی ایک صنف بھی (تینوں میں سے کوئی ایک صورت) ادا کردے تو کافی ہے۔
    (فقہ السنہ 188/2)
    __________________________

    اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر بے شمار احسانات کرکے انھیں ایسی مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے جو کسی اور کے اندر نھیں پائ جاتیں نیز ان کی صلاحیت اور جسمانی طاقت کے مطابق ان کے اوپر احکام واجب کیا ہے ۔
    آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے اس مسئلے پر ہم نے تفصیلی احکام کا تذکرہ کیا اور اللہ تعالی کی توفیق سے بآسانی مکمل ہوئی ۔فللہ الحمد والمنۃ
    امید ہے کہ یہ موضوع ان عورتوں کے لیے نشان راہ ثابت ہو اور ان کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو ۔

    معذور عورتیں جو روزہ نہ رکھ سکیں ان کے لیے فدیہ کی مقدار :

    جب ماہ رمضان شروع ہوجائے تو ہر بالغ،تندرست،صحیح و سالم مقیم مسلمان مرد و عورت پر اس کے روزے رکھنا فرض ہے ۔مرداور عورت میں جو بیمار ہوں یا ماہ رمضان کے درمیان مسافر ہوں تو وہ صوم توڑ دیں اور فوت شدہ صوم کی قضا دوسرے دنوں میں کرلیں ۔(البقرہ: 285)
    فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من أیام اخر "
    اسی طرح مرد وعورت میں سے جسے ماہ رمضان مل جائے اور وہ عمر دراز بوڑھا ہو ،روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا کسی کو ایسی بیماری لاحق ہو جس سے کبھی بھی شفا یابی کی امید نہ ہو چاہے مرد ہو یا عورت تو ایسا شخص صوم توڑ دے گا اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو عام طور پر اس بستی یا شہر کی غذا اور خوراک میں سے آدھا صاع یعنی سوا کلو گرام اور بعض کے نزدیک ڈیڑھ کلو گرام خوراک بطور فدیہ دے گا ۔
    اللہ تعالیٰ کا فرمان " وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین " (سورۃ البقرۃ:184)
    جو روزے کی طاقت نھیں رکھتے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔

    فدیہ سے مراد :

    جو شخص رمضان کے جتنے روزے نہ رکھ سکا ہو وہ ان میں سے ہر روزے پر ایک مسکین کو کھانا کھلائے ۔

    اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

    ١- ایک دن میں صبح اور شام دونوں وقت یا صبح کے دو کھانے یا شام کے دو کھانے یا افطار وسحر کے وقت کسی مسکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے۔

    ٢- یا کسی فقیر کو سوا کلو گیہوں یا اناج دے دے (بعض کے نزدیک نصف صاع ڈیڑھ کلو گرام ہوتا ہے )یا اس کی قیمت دے دے ۔

    ٣- یا کسی مسکین کو جو یا کھجور یا کشمش کا ایک صاع دے دے ۔

    مالکیہ کے نزدیک کسی مسکین کو کھانے کے ایک مد ( سوا چھ سو گرام) کا مالک بنا دیا جائے۔جو عام طور پر فدیہ دینے والے شہر میں کھایا جاتا ہے جیسے گیہوں وغیرہ یا جس چیز کا زیادہ رواج ہو ۔
    شافعی مسلک کے مطابق فدیہ کی مقدار ایک مد ہے اور مد نصف مصری پیالہ کے برابر ہوتا ہے۔
    حنابلہ کے نزدیک روزے کے فدیے میں مسکین کو ایک مد گندم یا نصف صاع کھجور یا جو یا کشمش یا پنیر دیے جاسکتے ہیں،اور صاع حنابلہ کے نزدیک مصری پیمانہ کے حساب سے دو پیالہ کے برابر ہے۔

    مگر اس سلسلے میں احناف کی رائے زیادہ بہتر ہے اور دور حاضر میں زیادہ قابل عمل ہے اور آج کل اسی کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے۔
    (فقہ السنہ،ص:304)

    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آیت کریمہ اس عمر دراز سن رسیدہ کے لیے ہے جس کی شفایابی کی امید نہ ہو ۔
    اور وہ مریض جس کی بیماری کی وجہ سے شفا پانے کی بالکل امید نہ ہو وہ بوڑھے کے حکم میں ہیں ان پر قضا نہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔

    عورتوں کے لیے رمضان المبارک کے روزوں کی قضا میں تاخیر کا حکم:

    قضاء رمضان کا پورا کرنا تاخیر کے ساتھ جائز ہے یعنی یہ واجب نہیں کہ شوال کے شروع ہی میں اسے پورا کرے بلکہ پورے سال میں جب چاہے ادا کرے ،
    امام ابوحنیفہ،امام مالک ،امام شافعی،امام احمد رحمہم اللہ اور جمہور سلف وخلف کا مذہب یہ ہے کہ شعبان کے بعد تاخیر کرنا درست نہیں ،اس لیے کہ اس کے بعد رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس میں قضاء نھیں ہوسکتی اور داؤد ظاہری کا مذہب ہے کہ عید کے دوسرے دن سے ہی قضاء کے روزے رکھنے ضروری ہیں ان کا یہ قول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے خلاف ہے۔
    عن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت : ( كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلا فِي شَعْبَانَ ، وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) .

    قال يحيى بن سعيد تعني الشغل من النبي أو بالنبي صلى الله عليه وسلم
    (رواہ البخاری،کتاب الصوم،باب متى' یقضی قضاء رمضان:1950،صحیح مسلم کتاب الصیام ،باب قضاء رمضان فی شعبان :1146)

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ رمضان المبارک کے کچھ روزے ہوتے تھے مگر میں شعبان کےسوا اور کسی مہینے میں قضاء کے یہ روزے نہ رکھ پاتی تھی ،
    اس حدیث کے ایک راوی یحییٰ بن سعید حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے شعبان سے پہلے یہ روزے نہ رکھ سکتی تھیں ۔

    امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مطلقاً رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء تاخیر سے دینے کا جواز ہے۔
    (نیل الاوطار :211/3)

    علامہ البانی رحمہ اللہ کا اس سلسلے میں یہ قول ہے کہ حق بات یہ ہے کہ اگر استطاعت ہو تو جلدی قضاء دینا واجب ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا" وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم"اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو ۔
    (تمام المنۃ ،ص:421)

    احناف اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی نے رمضان کی قضاء اتنا مؤخر کردی کہ دوسرا رمضان آگیا تو اس رمضان کا روزہ رکھنے کے بعد گزشتہ رمضان کی قضاء کرے گا اور کفارہ دینا اس پر واجب نہیں ہوگا گرچہ یہ تاخیر کسی عذر کے سبب ہو یا بغیر کسی عذر کے ہو۔
    لیکن امام مالک ،امام شافعی،امام احمد اور امام اسحاق بن راھویہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر بغیر کسی عذر کے سبب تاخیر ہوئی تو قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہے۔

    (بدایۃ المجتہد,ص:25)

    اگر کسی شخص کے ذمہ رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء تھی لیکن اگلا رمضان المبارک آنے سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں،
    اگر وہ رمضان جدید کے بعد فوت ہوگیا تو اگر قضاء کی تاخیر کا سبب کوئی شرعی عذر تھا تو اس کے ذمہ بھی کوئی روزہ نہیں اور بغیر عذر کے رمضان جدید آگیا تو اس کے ترکہ سے ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کا کھانا بطور کفارہ لازم ہے۔
    اگر کوئی شخص مرگیا اور اس کے ذمہ کسی کفارے کے روزے تھے ۔
    مثلاً ظہار کے گمان کے مطابق روزے رکھ لینا چاہیے،
    کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ"
    لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا" (سورۃ البقرۃ:286)
    اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
    فتاویٰ برائے خواتین ص:142)۔

    عورتوں کا رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء سے پہلے نفلی روزوں کا حکم:

    رمضان المبارک کے روزوں کی قضاء اگر عورت پر ہے تو پہلے روزوں کی قضاء کرے گی،قضاء کے بغیر نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں واللہ اعلم۔

    شوہر کی موجودگی میں شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کا حکم:

    شوہر کی موجودگی میں شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزے رکھے یہ اس کے لیے حلال نھیں ۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    " لا يحل لإمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه ولا تأذن فى بيته إلا بإذنه "
    ( رواه البخاري،كتاب النكاح ،باب لا تأذن المرأة في بيت زوجها لاحد إلا بإذنه"

    کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ جن دنوں میں اس کا شوہر اس کے پاس ہو اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے کی اجازت دے ۔
    امام احمد اور ابوداود کی بعض روایات میں " الا رمضان " ہے یعنی رمضان کے علاوہ اور ابوداود کی بعض روایات میں "غیر رمضان" کے الفاظ ہیں ،یعنی رمضان المبارک کے سوا دوسرے دنوں میں خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ۔
    علماء نے اس مخالفت کو حرمت پر محمول کیا ہے ۔یعنی روزہ رکھنا ایسی صورت میں حرام ہے اور خاوند کو اختیار دیا ہے کہ اگر عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے تو وہ اس روزے کو تڑوا سکتا ہے ،کیونکہ عورت نے اس کے حق میں دست درازی کی ہے لیکن یہ رمضان کے علاوہ نفلی روزے کے بارے میں ہے جیسا کہ خود حدیث میں مذکور ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کے سلسلے میں خاوند کی اجازت ضروری نہیں ہے ہاں اگر کسی عورت کا شوہر گھر سے دور ہو تو روزہ رکھ سکتی ہے لیکن اس دوران شوہر آجائے تو وہ روزہ خراب کرسکتا ہے۔
    یا اگر عورت کا شوہر نفلی روزے رکھنے کی اجازت دے دے یا شوہر موجود نہ ہو یا سرے سے شوہر ہی نہ ہو تو اس کا نفلی صوم رکھنا مستحب اور پسندیدہ ہے خاص کر ان ایام میں جن ایام میں صوم رکھنا مستحب ہے جیسے ہر سوموار ،جمعرات،اور ہر مہینہ میں تین دن (ایام بیض 15,14,13) شوال کے چھ روزے،ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ،عرفہ کے دن ۔نو اور دس محرم۔
    البتہ اگر اس پر رمضان کے صوم کی قضا باقی ہے تو بغیر قضا صوم پورا کیے نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں واللہ اعلم
    (تنبیہات علی احکام تختص بالمومنات ،ص: 67)

    علماء نے خاوند کی بیماری اور جماع پر قادر نہ ہونے کو بھی خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنے کے سلسلے میں خاوند کی غیر حاضری کے مانند قرار دیا ہے۔
    یعنی ان صورتوں میں بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھ سکتی ہے ۔
    (فقہ السنہ,449/1)

    "الفقہ علی المذاھب الاربعہ" میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر یا یہ جانے بغیر کہ خاوند میرے روزے رکھنے کو ناپسند کرتا ہے یا نہیں نفلی روزہ رکھنا حرام روزوں کی قسموں میں شامل ہے ہاں البتہ اگر خاوند کو عورت کی حاجت نہ ہو ،مثلا کہ وہ گھر سے غیر حاضر ہو یا احرام کی حالت میں ہو یا اعتکاف میں ہو تو پھر بغیر اجازت کے نفلی روزے رکھنا عورت کے لیے حرام نہیں ہے۔
    احناف کے نزدیک عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے،
    حنابلہ کے نزدیک جن دنوں خاوند گھر موجود ہو یعنی سفر پر گیا ہوا نہ ہو عورت کے لیے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا ناجائز ہے خواہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے خاوند جماع نہ کرسکتا ہو ،مثلا شوہر حالت احرام میں ہو یا حالت اعتکاف میں ہو یا بیمار ہو وغیرہ ‌۔
    (فقہ النساء ،ص:276)

    نفلی روزے کی نیت :

    فرض روزہ رکھنے والے پر فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے جیسا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له"
    (رواه أبو داود،كتاب الصوم،باب النية في الصيام،حديث :2143)

    جس نے فجر یعنی صبح صادق سے پہلے پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔
    مگر نفلی روزوں کے لیے ایسا بالکل نہیں نفلی روزے کے لیے زوال سے پہلے نیت کی جاسکتی ہے۔
    صحیح مسلم میں یہ حدیث ہے "عَنْ عَائِشَةَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَيَقُولُ : " أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ ؟ " فَأَقُولُ : لا . قَالَتْ : فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " . قَالَتْ : فَأَتَانِي يَوْمًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " قُلْتُ : حَيْسٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا " ، قَالَتْ : ثُمَّ أَكَلَ .
    (رواه مسلم ،كتاب الصيام ،باب جواز صوم النافلة بنية من النهار قبل الزوال ،حديث:1154)
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟
    ہم نے کہا نہیں ،
    یہ سن کر آپ نے فرمایا تب میں روزہ دار ہوں ،پھر آپ ایک دوسرے دن ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے،آپ نے فرمایا وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا حلوہ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ نے اسے کھالیا۔

    امام مالک ،امام شافعی،امام احمد رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ فرض روزے کے لیے رات کو نیت کرنا ضروری ہے جب کہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے تک کیا جاسکتا ہے۔
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول یہ بھی ہے کہ نصف النہار سے پہلے پہل فرض اور نفل دونوں قسم کے روزوں کی نیت کی جاسکتی ہے،تاہم قضا اور کفارہ میں رات کو نیت کرنا ضروری نہیں ہے ۔
    (المغنی لابن قدامہ 333/4)

    پہلا موقف راجح ہے کہ فرض روزے کے لیے رات کو نیت کرنا ضروری ہے ،جب کہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے تک کی جاسکتی ہے۔اور ہر روزہ کے لیے الگ نیت کرنا ضروری ہے،کیونکہ روزہ عبادت ہے اور ہر مرتبہ ابتداء عبادت سے اس کی دوبارہ نیت کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی عبادت نیت کے بغیر نہیں ہوتی ہے۔
    امام شافعی،اما‌م ابوحنیفہ اور امام ابن منذر رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔
    اما‌م احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ پورے مہینے کے لیے ایک نیت بھی کی جاسکتی ہے۔
    امام شوکانی رحمہ اللہ اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کے بقول ہر دن کے لئے الگ نیت کرنی چاہئے ۔
    امام ابن حزم رحمہ اللہ کے بقول : رمضان المبارک اور غیر رمضان المبارک کے روزوں کے لیے ہر رات نئی نیت کرنی ضروری ہے۔
    واضح رہے کہ نیت محض دل کے ارادے کا نام ہے ،لھذا روزے کی نیت کے لیے زبان سے کوئی الفاظ نہیں ادا کیے جائیں گے،جیسا کہ بعض لوگوں کے یہاں یہ الفاظ بتائے جاتے ہیں " وبصوم غد نويت من شهر رمضان" یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔
    (فقہ الحدیث,718/1)
    اسی طرح نفلی روزوے کو انسان جب چاہے چاہے چھوڑ بھی سکتا ہے۔

    اللہ تعالی ہمیں دینی علم وبصیرت دےاور اپنی ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام دے کر اسے اپنی قربت کا ذریعہ بنا اور رمضان کے برکات وحسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری مغفرت و نجات کا ذریعہ بنادے اور تمام خواتین کو کتاب وسنت کے مطابق مسائل کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا اور ہمارے علم وعمل میں اضافہ فرما اور ہمیں تاحیات صحت وعافیت اور اخلاص کے ساتھ خدمت دین کی توفیق بخشے ،آمین ۔

    آج الحمدللہ مکمل ہوا ۔
    afrozgulri@gmail.com
    Join us on WhatsApp:
    Dar Al Zikr
    7379499848
    01/06/2019
    13:13 pm
    at Mumbra kismat Colony[​IMG]

    Sent from my TA-1053 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں