1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمی جمرات کے وقت سرزد ہونے والی غلطیاں

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 26، 2017۔

  1. ‏جولائی 26، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,873
    موصول شکریہ جات:
    6,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رمی جمرات کے وقت سرزد ہونے والی غلطیاں

    رمی جمرات کے وقت سرزد ہونے والی غلطیاں کونسی ہیں ؟

    Published Date: 2011-11-07

    الحمدللہ

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ جو کہ مکہ مکرمہ والی جانب ہے کو عید قربان کے دن چاشت کے وقت سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، اور کنکری بھی چنے کے دانے سے کچھ بڑی تھی ۔

    ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پرتھے تو عقبہ کی صبح مجھے فرمانے لگے :

    ( ادھر آؤ اور میرے لیے کنکریاں چنو ، ابن عباس رضي اللہ تعالی کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کنکریاں چنیں اور وہ انگلی ناخن پر رکھ کر پھینکی جانے والی چھوٹی چھوٹی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنکریاں اپنے ہاتھ میں رکھیں اور فرمانے لگے : اس طرح کی کنکریاں مارو ۔۔۔ اور غلو سے اجتناب کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ بھی دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 3029 )

    صحیح ابن ماجہ میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح کہا ہے ۔ دیکھیں حدیث نمبر ( 2455 ) ۔

    امام احمد اور ابوداود رحمہمااللہ نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ( بیت اللہ کا طواف اورصفامروہ کے مابین سعی اور رمی جمرات تو صرف اللہ تعالی کا ذکر قائم کرنے کےلیے ہے ) ۔

    رمی جمرات کی مشروعیت میں یہ ہی حکمت ہے ۔

    رمی جمرات میں بعض حجاج کرام جن غلطیوں کا مرتکب ہوتے ہیں وہ کئي ایک طرح کی ہیں :

    اول :

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کنکریاں مزدلفہ سے لی جائيں تو رمی صحیح ہو گي وگر نہ نہيں ، اس لیے آپ بہت سارے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ منی روانہ ہونے سے قبل مزدلفہ سے ہی کنکریاں اکٹھی کرتے پھرتے ہيں ، تو اس یہ خیال اور گمان غلط ہے کیونکہ کنکریاں کسی بھی جگہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں مزدلفہ سے اٹھالیں یا پھر منی سے یا کسی اور جگہ سے مقصد تو کنکریاں حاصل کرنا ہے ۔

    اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ ثابت نہيں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے کنکریاں چنی تھیں تا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ مزدلفہ سے کنکریاں اٹھانا سنت ہے ، تواس طرح مزدلفہ سے کنکریاں حاصل کرنا نہ توسنت ہے اورنہ ہی واجب ، کیونکہ سنت وہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا عمل یا پھر اقرار سے ثابت ہو ، اور یہ سب کچھ ہی مزدلفہ سے کنکریاں اٹھانے میں ثابت نہيں ہے ۔

    دوم :

    بعض لوگ کنکریاں اٹھانے کے بعد یا تو اس احتیاط کی وجہ سے کہ ہو سکتا ہے اس پر کسی نے پیشاب کردیا ہو ، یا پھر اپنے خیال کے مطابق صاف ستھری کنکریاں افضل ہیں کی وجہ سے دھوتے ہیں ، بہرحال جمرات کو مارنے کے لیے کنکریاں دھونا بدعت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کام نہيں کیا ۔

    اور کسی ایسی چيز سے عبادت کرنا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہيں بدعت ہے ، اورجب وہ شخص عبادت کے علاوہ کسی اور چيز میں ایسا کام کرتا ہے تو پھر وہ وقت کا ضياع اور بے وقوفی ہے ۔

    سوم :

    بعض لوگ یہ خيال کرتے ہیں کہ یہ جمرات ہی شیطان ہیں ، اور وہ شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں ، اس لیے آپ کئي ایک کو دیکھیں گے کہ وہ جمرات کو بہت زيادہ غصہ اور شدت اور غضب سے کنکریاں مارتا اور ایسے جذبات کا اظہارکرتا ہے گویا کہ شیطان اس کے سامنے کھڑا ہے ، تواس سے کئي ایک مفاسد مرتب ہوتے ہیں :

    1 - یہ گمان اورخیال غلط ہے ، کیونکہ ہم تو اللہ تعالی کے ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی کرنے اور حقیقی عبادت کو ثابت کرنے کے لیے رمی جمرات کر رہے ہیں ، اس لیے کہ جب کوئي انسان اطاعت و پیروی کا عمل کرے اوراسے اس کے فائدہ کا علم نہيں ہو تو وہ اسے اللہ تعالی کی عبادت کے لیے کرے تو یہ عمل اللہ تعالی کے سامنے اس کی عاجزی اورخضوع پر زیادہ دلالت کرتا ہے ۔

    2 - انسان وہاں پوری قوت اورجذبات اورشدید غیظ وغضب کے ساتھ کنکریاں مارنے آتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ خود بھی تکلیف اٹھاتا ہے اوردوسروں کے لیے بھی بہت زيادہ تکلیف کا باعث بنتا ہے گویا کہ اس کے سامنے دوسرے لوگوں کی کوئي اہمیت ہی نہيں اوروہ حشرات ہیں ان کی کوئي پرواہ ہی نہیں کرتا اورخيال نہيں رکھتا بلکہ بپھرے ہوئے اونٹ کی طرح آگے بڑھتا ہے

    3 - انسان کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہے یا پھر وہ اس رمی کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کررہا ہے ، اس لیے اسے کنکریاں مارتے وقت وہی کلمات کہنے چاہیيں جومشروع ہیں ، اوراسے غیرمشروع کلمات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

    آپ دیکھیں گے کہ ایسا شخص رمی کرتے ہوئے کہتا ہے اے شیطان سے غصہ کرتے اوررحمن کی رضامندی کے لیے ۔

    حالانکہ رمی کرتےہوئے ایسے کلمات کہنے مشروع نہيں بلکہ رمی جمرات میں مشروع تو یہ ہے کہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا ۔

    4 - اس فاسد اورغلط عقیدہ رکھنے کی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ وہ حاجی بڑے بڑے پتھر لیتا ہے کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ جتنا بڑا پتھر ہوگا شیطان پر اثر بھی اتنا ہی زيادہ ہو گا اورانتقام بھی اتنا ہی شدید ہوگا ، آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ وہ اسے جوتے اورلکڑیاں وغیرہ اسی چيزیں بھی مارہا ہے جو مشروع نہيں ہیں ۔

    تو جب ہم یہ کہيں کہ : ایسا اعتقاد رکھنا فاسد ہے تو پھر رمی جمرات کے بارہ میں کیا اعتقاد رکھنا چاہیے ؟

    رمی جمرات میں ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کی تعظيم اورعبادت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی کے لیے رمی جمرات کرتے ہیں ۔

    چہارم :

    بعض لوگ اس بارہ میں سستی کرتے ہيں اورانہيں کوئي پرواہ نہيں ہوتی کہ کیا کنکری اپنی جگہ پر گری ہے کہ نہيں ؟

    کنکری جب مارے جانی والی جگہ یعنی حوض میں نہ گرے تو رمی صحیح نہيں ، اس میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ کنکری اپنی جگہ پرگری ہے اس میں یقین کی شرط نہيں کیونکہ بعض اوقات یقین مشکل ہوتا ہے ، اور جب یقین مشکل ہو تو پھر ظن غالب پر عمل کیا جائے گا ، کیونکہ شارع نے بھی شک نماز میں شک کی حالت میں ظن غالب کی طرف ہی لوٹایا ہے ۔

    جب کسی کوشک ہوکہ آیا اس نے نماز کتنی پڑھی ہے تین یا چار؟

    تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    ( اسے صحیح تلاش کرنا چاہیے اورپھراس صحت پربنیاد رکھے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1020 ) ۔

    اوریہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عبادت کے امور میں ظن غالب ہی کافی ہے ، اور یہ اللہ تعالی کی جانب سے آسانی ہے کیونکہ بعض اوقات یقین ہوتا ہی نہیں ۔

    اورجب حوض میں کنکری گر جائے تو اس کی یہ کنکری شمار ہوگي چاہے وہ حوض میں ہی رہے یا پھر حوض میں گرنے کے بعد وہاں سے لڑھک جائے

    پنجم :

    بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کنکری ستون کو ضرور لگنی چاہیے یہ گمان بھی صحیح نہيں بلکہ غلط ہے کیونکہ رمی میں یہ شرط نہيں کہ کنکری اس ستون کو ضرور لگنی چاہیے ، کیونکہ یہ ستون تو صرف بطور علامت ہے کہ یہاں کنکریاں پھینکنی ہیں ، لھذا جب کنکری اس ستون کے ارد گرد دائرے میں گرے تو یہ شمار ہو گی چاہے وہ ستون کو لگے یا نہ لگے ۔

    ششم :

    یہ بہت ہی عظیم اورفاش غلطیوں میں سے ہے کہ بعض لوگ رمی کرنے میں سستی سے کام لیتے ہیں اورطاقت اور قدرت ہونے کے باوجود کسی دوسرے کو اپنی کنکریاں مارنے کا وکیل بناتے ہیں جوکہ بہت بڑي غلطی ہے ، کیونکہ رمی جمرات حج کی علامات اوراعمال میں سے ہيں اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    { اوراللہ تعالی کےلیے حج اورعمرہ پورا کرو } البقرۃ ( 196 ) ۔

    اوررمی جمرات اتمام حج میں شامل ہے کہ حج کےپورے شعائر ادا کیے جائيں لھذا انسان پرواجب ہے اورضروری ہے کہ وہ خود ہی کنکریاں مارے اوراس میں ( قدرت رکھتے ہوئے ) کسی دوسرے کو وکیل نہ بنائے ۔

    بعض لوگ کہتے ہیں : رش بہت زيادہ ہے ، اورمجھے اس میں مشقت ہے ، تو ہم اسے یہ کہیں گے : جب لوگوں کے مزدلفہ سے منی پہنچتے وقت شروع میں رش ہوتا ہے دن کے آخرمیں وہاں رش نہيں رہتا ، اورنہ ہی رات کے وقت بہت زيادہ رش ہوتا ہے ، لھذا اگرآپ دن کورمی نہيں کرسکے توآپ رات کورمی کرلیں کیونکہ رات میں بھی رمی ہوسکتی ہے اوریہ بھی رمی کا وقت ہے اگرچہ دن میں رمی کرنا افضل اوربہتر ہے ۔

    لیکن اگرانسان دن کی بنسبت رات کو بڑے آرام اور سکون اور اطمنان اورخشوع سے رمی کرسکتا ہے تو اس کا دن کی بجائے رات کو رمی کرنا افضل ہے اور دن کے وقت تنگي اور رش اور شدت کی بنا پرموت کو دعوت دیتا پھرے اور ہو سکتا ہے کہ کنکری حوض میں بھی نہ گرے ۔

    اہم یہ ہے کہ جوکوئي بھی رش اورازدھام کی دلیل دیتا ہے ہم اسے یہی کہيں گے : اللہ تعالی نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے اس لیے آپ رات کے وقت رمی کرلیں ۔

    اوراسی طرح اگر عورت لوگوں کے ساتھ رمی کرتے ہوئے ڈرے تو اسے بھی رات تک رمی میں تاخیر کر لینی چاہیے ، اور اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل وعیال میں سے کمزور - مثلا سودہ بنت زمعہ وغیرہ - اشخاص کو خود رمی نہ کرنے اور اس میں کسی دوسرے کو وکیل بنانے کی رخصت نہيں دی - اگر یہ جائز ہوتا تو آپ رخصت دیتے - بلکہ آپ نے تو انہيں یہ اجازت دی تھی کہ وہ مزدلفہ سے رات کو ہی منی روانہ ہو جائيں اور لوگوں کے پہنچنے سے قبل ہی رمی جمرہ کرلیں ، اور یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ عورت رمی جمرات میں عورت ہونے کےناطے کسی دوسرے کو وکیل نہیں بناسکتی ۔

    جی ہاں اگرفرض کرلیا جائے کہ انسان عاجز ہے اور وہ خود رمی نہيں کرسکتا دن میں بھی نہيں اورنہ ہی رات کے وقت تو اس شخص کے لیے وکیل بنانا جائز ہوگا کیونکہ وہ عاجز ہے ، صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم سے ثابت ہے کہ بچوں کے رمی نہ کرسکنے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی جانب سے رمی کیا کرتے تھے ۔

    بہرحال اس معاملہ میں سستی اورکاہلی - میری مراد یہ ہے کہ بغیرکسی ایسے عذرکے جس کی بنا پررمی کرنا ممکن نہ ہو - کرنا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ یہ عبادت میں سستی وکاہلی اورواجب کی ادائيگي میں کوتاہی ہے ۔

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/34420
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں