1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزے کے فوائد

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از عتیق الرحمٰن, ‏مئی 23، 2019۔

  1. ‏مئی 23، 2019 #1
    عتیق الرحمٰن

    عتیق الرحمٰن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 19، 2019
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    روزے کے فوائد
    تحریر: جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر​
    ارشاد ربانی ہے:
    ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۳﴾
    ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کیے گئے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ (البقرہ)
    اسلام کے ارکان خمسہ‘ بنیادی فرائض وارکان میں سے توحید اور نماز کے بعد تیسرا اہم ترین رکن روزہ ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ذکر ہوا کہ پہلے مذاہب وادیان جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے رہے ہیں ان میں بھی روزے کی یہ عبادت موجود تھی۔ اسی لئے فرمایا:

    ﴿كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۳﴾ (البقرۃ)
    ’’تم سے پہلے لوگوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘
    انسائیکلوپیڈیا جو علم اور حوالے کی مستند کتاب ہے، اس میں ’’روزے‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ دنیا کا شاید ہی کوئی مذہب ہوگا جس میں روزہ شامل نہ ہو، لیکن جس طرح اسلام نے پہلے ادیان اور مذاہب کے باقی احکام میں مناسب اور ضروری ترامیم اور تبدیلیاں کر کے ان کو بہترین اور مکمل شکل عطا کی‘ اسی طرح روزے کی یہ عبادت جو قدیم سے چلی آر ہی تھی (تمام مذاہب میں موجود تھی) اس میں بھی اسلام نے کچھ اصلاحات، ترامیم، اور تبدیلیاں کر کے اس کو مکمل بنایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ﴾ (المآئدۃ)
    اسلام ایک مکمل دین ہے۔ پہلے جو مذاہب اور ادیان آتے رہے ہیں ان کی بہترین شکل ہے۔ لوگوں نے روزے میں بھی جو کمی بیشی داخل کر لی تھی اسے دور کر کے ایک مکمل شکل میں اس عبادت کو احسن طریقے پر جاری فرمایا۔‘‘
    اسلام کی روزے میں اصلاحات:
    پہلی اصلاح:

    اسلام کے اصول اعتدال ’’میانہ روی ‘‘ کے تحت روزے میں اصلاحات کی گئیں۔ ا س سے پہلے کئی دن مسلسل روزہ، دو تین دن حتی کہ ہفتہ یا اس سے بھی زیادہ دن کا روزہ رکھنا بہت بڑی نیکی شمار کی جاتی تھی۔ لیکن نبی کریم e نے فرمایا :
    [لاَ تُوَاصِلُوْا] (بخاری)
    ’’ملا کر مسلسل روزہ رکھنے سے بچو۔‘‘
    اسی طرح دو تین دن مسلسل دن رات بھوکا پیاسا رہنے سے منع کیا اور یہ بھی فرمایا :

    [لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّھْرَ] (بخاری)
    ’’جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس کا روزہ ہوتا ہی نہیں۔‘‘
    ہمیشہ کا روزہ یہ ہوتا تھا کہ بلا ناغہ روزے رکھتے جانا، رات کو کھا پی لینا لیکن دن کے وقت بلا ناغہ مہینے کے تیس دن اور سال کے پورے دن روزہ ہی رکھنا‘ اس کو ’’صیام دھر ‘‘ کہتے ہیں۔ اسلام نے اس روزے سے منع کیا ہے۔
    نبی کریم
    e نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہو کہ داؤد uکی طرح ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑ دو۔ اسی اصول کے پیش نظر فرمایا:
    [لاَ یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ]
    ’’لوگ خیر اور نیکی پر قائم رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘ (بخاری)
    افطار میں جلدی سے مراد یہ ہے کہ اعتدال کی راہ سامنے رکھیں کہ سارا دن روزہ رکھا ہے۔ افطا رکا وقت آئے تو کہیں کہ ٹھہر کے کر لیں گے‘ یہ بات غلط ہے، جب کھانے سے رکنے کا حکم تھا اسی وقت رکنا ہے، اب کھانا کھانے کا حکم آگیا تواس پر بھی فوراً عمل کرنا ہے‘ یہ کوئی نیکی نہیں کہ افطار کا وقت ہو جائے تو انسان جان بوجھ کر اس میں تاخیر کرتا چلا جائے۔ اس میں ایک تو تعمیل ارشاد اور دوسرا میانہ روی کا درس ہے۔

    دوسری اصلاح :
    دوسری بڑی اصلاح اور ترمیم اسلامی صیام میں مریض، مسافر، بوڑھے، حاملہ، دودھ پلانے والی عورت کو کچھ رعائتیں دی گئی ہیں۔ جیسا کہ نبی کریمe کا فرمان گرامی ہے :
    [اِنَّ اللّٰہَ تَعَالـٰی وَضَعَ عَنِ الْمُسِافِرِ الصَّوْمَ وَ شَطْرَ الصَّلاَۃِ وَمِنَ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ‘۔ (ترمذی)
    ’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور قصر نماز، حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی کو رخصت دی ہے۔‘‘
    رمضان کے فرض روزے بعد میں رکھ سکتے ہیں اور اگر بالکل نہیں رکھ سکتے تو پھر فدیہ دے دیں۔
    اس کے بر عکس یہودی شریعت میں یہ حکم تھا کہ اگر کوئی مسافر آکر کسی یہودی کا مہمان بنتا‘ خواہ وہ یہودی اور دین موسوی کو ماننے والا نہ بھی ہو، یہودی کا فرض تھاکہ اس مسافر غیر یہودی کو بھی روزہ رکھوائے۔

    تیسری اصلاح:
    اسلام نے روزے میں تیسری اصلاح یہ کی کہ روزے کی حالت میں اپنے اوپر اداسی، غمگینی، لاچاری، اور بے کسی طاری کرنے سے منع کر دیا۔ نارمل طریقے سے رہو جو مناسب قسم کی زیب و زینت ہے وہ بھی اختیار کرو، غسل کرنے اور اچھے کپڑے پہننے کی اجازت ہے، جو کہ پہلے ادیان میں نہیں تھی، بلکہ اسلام نے تو اس کی ترغیب دلائی ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہنو، تیل، خوشبو اور سرمہ وغیرہ بھی لگاؤ۔
    پہلے لوگو ں میں یہ تھا کہ اگر روزہ رکھا ہے تو جسم اور لباس کے ظاہری حال سے بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ آدمی روزے سے ہے۔ پھٹا پرانا لباس ہو، روزے کی حالت میں غسل نہ کیا جائے، مناسب زیب و زینت اختیار نہ کی جائے، اہل ادیان نے یہ سختیاں اپنے اوپر مسلط کی ہوئی تھیں، اسلام نے ان سختیوں کو دور کیا۔

    روزے کے فوائد:
    روزے کا پہلا فائدہ:

    اصلاحات کے بعدا سلامی روزے میں جو فوائد اور برکات ہیں ان کی طرف توجہ دلائی کہ روزے کے اصل مقصد کو پور ا کرو، ظاہری طور پر اپنے اوپر روزہ طاری کرنے اور ظاہری حالت سے لوگوں کو تاثر دینے کی بجائے اندرونی، باطنی، روحانی اور اصل پہلوؤں پر توجہ دو۔
    روزے کا اصل اور بنیادی فائدہ یہ ہے جیسا کہ قرآن پاک نے کہا ہے
    ﴿لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ یہ تقویٰ سکھاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننا اور ان پر چلنے کی تربیت دیتا ہے۔
    کتب احادیث میں اس مہینے کا ایک نام ’’شھر الصبر ‘‘ بھی رکھا ہے۔ یعنی صبر اور ثابت قدمی سیکھنے کا مہینہ، اس مہینے میں روزے کے ذریعے مسلمان صبر اور برداشت سیکھتا ہے۔ روزے کی حالت میں حلال اور طیب چیزوں سے بھی پرہیز کرتا ہے، کھانے پینے کو طبیعت مچلتی ہے لیکن ہم صبر سے کام لیتے ہوئے بھوک پیاس کو برداشت کرتے ہیں۔ اس طرح اس سبق سے یہ مشق ہوتی ہے کہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پورا کیا جائے، اپنی خواہشات پر چلنے اور خواہشات کو بلا روک ٹوک پورا کرنے کی بجائے اتنا ہی کام کیا جائے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ روزے کے دوران یہ ایک سبق، مشق، ریاضت، اور تربیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پورا کرنا ہے، اس تربیت اور مشق کے اثرات سال کے باقی دنوں میں بھی طبیعت پر ہونے چاہئیں۔

    روزے کا دوسرا فائدہ:
    روزے کا دوسرا فائدہ روحانیت میں اضافہ ہے، اصل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کو روح کی ایک سواری اورمرکب بنایا ہے، روح راکب اور سوار ہے اور جسم مرکب اور سواری ہے۔ ہم جسم کو اولیت دیتے ہیں، اسے کھلا پلا کر اس کی تمام جائز و ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اپنے نفس کو قوی اور طاقتور کرتے ہیں، پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا نفس اور جسم روح پر مسلط رہتا ہے اورر وح کو اپنی مرضی کے مطابق اپنی خواہشات کا غلام بنا کر چلاتا ہے۔ حالانکہ سوار اتنا طاقتور ضرور ہونا چاہیے کہ سواری کو قابو میں رکھ سکے، اگر سوار کمزور ہو گا تو وہ سواری کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا۔
    ہم نے روحانیت سے غفلت اختیار کر کے اپنی روح کو مردہ یا کم از کم کمزور کر لیا ہے‘ اور اس کے نتیجے میں ہمارا جسم اور ہماری خواہشات ہم پر غالب ہوتی ہیں، جدھر چاہتی ہیں ادھر ہی ہم کو چلاتی ہیں، ہم زبان سے دین، اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتے رہتے ہیں لیکن دین پر چلتے نہیں‘ اس پر عمل نہیں کرتے، اس میں کمزور ی دکھاتے ہیں‘ اس لئے کہ ہم نے جسمانی تقاضوں کو روحانی تقاضوں پر زیادہ اہمیت دی ہے اور ان کو اہمیت دیتے دیتے اپنے جسم کو طاقتور اور روح کو کمزور کر لیا ہے۔ رمضان کے روزے ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم اپنی روح کو مضبوط بنائیں، جسم کی بڑھی ہوئی غیر ضروری طاقت میں ذرا کمی کریں اور روح کی کمزوری کو دور کر کے اس کی طاقت میں اضافہ کریں۔
    آپ دیکھتے ہیں کہ کئی انبیاء کرام
    oکے واقعات میں یہ چیز موجودہے کہ وہ پہلے بھی نیک اور روحانی طور پر طاقتور تھے، ان کی روح‘ جسم اور نفس پر غالب تھی، اس کے باوجود جب انہیں نبوت جیسا اونچا مقام ملا تو اس سے پہلے ان سے روزے رکھوائے گئے تاکہ ان کی روحانی طاقت اور زیادہ ہو۔
    سیدنا عیسیٰ
    uکے بارے بائبل میں مذکور ہے، انجیل بتاتی ہے کہ سیدنا عیسیٰ uکو بھی نبوت سے پہلے روزے رکھوائے گئے۔ سیدنا موسیٰ uسے بھی روزے رکھوائے گئے۔ اسی طرح نبی اکرمe کے دل میں یہ بات ڈالی گئی تھی کہ الگ تھلگ ہو کر اللہ کی عبادت کریں‘ اس کو یاد کر کے اس کا ذکر کریں اوراللہ کے لیے روزے رکھ کر بھوک پیاس برداشت کریں۔ تاریخ نگاروں نے لکھا ہے :
    ’’نبی کریم
    eتھوڑے سے جَو یا ستو اور پانی لے کر کئی کئی دن غار حرا میں تنہائی کا وقت گزار کر اللہ سے دل لگا کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور روزے رکھتے تھے۔ ‘‘
    آپ
    e کئی کئی دن وہاں گزارتے، وہیں پہلی وحی آئی اور وہیں قرآن پاک کے نزول کا سلسلہ شروع ہوا۔
    یہ روحانیت کی مشق (جس میں روزے بھی شامل ہیں)پیغمبروں سے بھی نبوت ملنے سے پہلے کرائی گئی، جن کی روحانیت پہلے ہی بڑی بلند تھی، مطلب یہ ہوا کہ کوئی عام مسلمان بھی کسی روحانی بلندی پر پہنچنا چاہے تو اس کا راستہ اللہ کے لئے بھوک، پیاس کو برداشت کرنا یعنی روزہ رکھنا ہے۔

    روزے کا تیسرا فائدہ :
    روزے کا تیسرا بنیادی اور اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب طبیعت میں تقویٰ اور روحانیت پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں انسان کی نیکی کی طرف رغبت بڑھتی ہے، نیکی کی طرف توجہ میں اضافہ ہوتا ہے، اس بات کو حدیث پاک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :
    رمضان میں نبی کریم
    eکی سخاوت اور فیاضی (جو نیکی کی طرف رغبت کا ایک ثبوت ہے)بہت بڑھ جاتی تھی، آپe پہلے بھی نیک، فیاض اور سخی تھے، لیکن رمضان میں آپ کی سخاوت اور فیاضی بہت آگے چلی جاتی تھی، زیادہ فیض رسانی اور نیکی آپ کی طبیعت میں آجاتی۔
    تقوے اور روحانیت کی وجہ سے مسلمان کی طبیعت میں قدرتی طور پر نیکی کی طرف رغبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں مزید اضافے، اور اس کی طرف زیادہ رغبت دلانے کے لئے نبی اکرم
    e نے اس کا ثواب بیان کیا کہ اس روزے کی حالت میں جب آدمی کوئی نفل نیکی کرتا ہے‘ مثلاً نفل نماز ہے، نفل صدقہ ہے، اس نفل نیکی کا ثواب اسے اس طرح ملتا ہے جیسے باقی مہینو ں میں فرض کا ملتا ہے‘ اور جو ا س مہینے میں فرض نیکی کرتا ہے اس کا ثواب ستر گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔
    آپ
    e نے نیکی کی طرف مزید رغبت دلانے کے لئے فرمایا کہ فرشتے رمضان کی ابتداء ہی میں نیکی کے خواہش مند وں کو بلانا، پکارنا، رغبت دینا شروع کر دیتے ہیں، منادی ہوتی ہے :
    ’’اے نیکی کے متلاشی! قدم آگے بڑھا، نیکی جمع کرنے کا موسم بہار آگیا ہے، اور بدی کی تلاش کرنے والے! اب تو رک جا، اس نیکی کے مہینے میں تو باز آجا۔ ‘‘
    عام مشاہدہ یہ ہے کہ ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی جس کو ذرا بھی دین کے ساتھ محبت ہے اس مہینے میں نیکی کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے، باقی جن کو نہ روزے کی پروا ہے، نہ رمضان کی پروا ہے وہ تو کثرت سے موجود ہیں۔

    رمضان میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں:
    رسول اللہeکا فرمان عالی شان ہے کہ
    ’’جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہوتا ہے تو اس وقت جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں۔‘‘ (بخاری)
    روزے کے روحانی اثرات ہیں کہ مسلمان کی نیکی کی طرف رغبت زیادہ ہو جاتی ہے، لیکن جن لوگوں نے شیطان کو پوری طرح اپنے اوپر مسلط کیا ہوا ہے، سا را سال شیطان کے ساتھی بنے رہتے ہیں، وہ شیطانوں کو زنجیریں پہنائے جانے کے بعد بھی اپنے آپ کو ان کے قیدی اور زنجیروں میں جکڑا ہوا سمجھتے ہیں، زنجیریں شیطانوں کو پہنائی گئیں لیکن جن لوگوں کو شیطانوں نے سارا سال زنجیریں پہنائیں وہ شیطانوں کے جکڑے جانے کے بعد بھی ان کے اشاروں پر چلتے ہیں۔
    جس طرح دوائی کے استعمال کے دوران پر ہیز زیادہ ضروری ہوتی ہے، ا سی طرح روزوں کے مہینے میں اپنا روحانی علاج کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ہم بدپرہیزی نہ کریں، کم از کم اس دوران گناہوں سے بچیں، تاکہ روحانیت کی یہ دوائی پوری طرح اثر کرے، اگر روزہ رکھنے کے باوجود ہماری روحانیت، تقوے اور نیکی میں فرق نہیں پڑتا، اس میں بہتری اور اضافہ نہیں ہوتا تو اس میں روزوں کا کوئی قصورنہیں ہوگا، بلکہ اس میں قصور اس بات کا ہوگا کہ ہم نے روزوں کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔
    نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے :

    ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ﴾
    ’’نماز بے حیائی، برائی اور اللہ تعالیٰ کی کھلی بغاوت سے روکتی ہے۔‘‘
    اگر کوئی شخص نماز ی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت بھی کرتاہے، کھلے گناہوں میں مبتلا بھی ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس میں نماز کا قصور نہیں بلکہ وہ یا تو سنت کے مطابق نہیں اور یا وہ نماز سے لا پروائی اور بد اعتدالی سے کام لیتا ہے۔
    اسی طرح اگر روزے کسی مسلمان کی روحانیت، تقوے، نیکی کی طرف اس کے رجحان اور رغبت میں اضافہ نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روزوں کو ان کے تقاضوں کے مطابق نہیں نبھا رہا، اس لئے وہ اس پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    بد پرہیزی والے روزے کی اللہ کو ضرورت نہیں:
    اس سلسلے میں نبی اکرمe کا ارشاد گرامی ہے:
    [مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہ وَ شَرَابَہ] (بخاری)
    ’’جو شخص روزے میں بھی جھوٹ بولنا، غلط بات کہنا نہیں چھوڑتا، (اس روحانی دوائی کے استعمال کے دوران بھی بد پرہیزی سے کام لیتاہے، وہ بھوک اور پیاس چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کرتا، اور نہ ہی اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہے،) اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں۔‘‘
    اسی طرح فرمایا :

    [رُبَّ قَائِمٍ حَظُّہُ مِنْ قِیَامِہِ السَّھَرُ وَ رُبَّ صَائِمٍ حَظُّہُ مِنْ صِیَامِہِ الْجُوْعُ.]
    ’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں، جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک برداشت کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (صحیح ابن حبان)
    اسی طرح بہت سے قیام کرنے والے ہیں کہ وہ سوائے جاگنے اور نیند خراب کرنے کے اور کچھ بھی نہیں پاتے اور یہ وہ لوگ ہیں جو روزوں میں بدپرہیزی کرتے ہیں۔
    آپ
    e نے اس کی مزید وضاحت کے لئے ارشاد فرمایا اور بات کو بالکل واضح کر دیا:
    [اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ] (بخاری)
    ’’روزہ مسلمان کے لئے ایک ڈھال ہے۔‘‘
    روزہ انسان کو دنیا میں گناہوں اور آخرت میں جہنم کی آگ سے بچاتا ہے، جب تک وہ اپنے ہاتھوں سے اس ڈھال میں سوراخ نہ کرے، اس وقت تک یہ ڈھال انسان کو گناہوں اور نار جہنم سے بچاتی ہے۔
    صحابہ کرام﷢ نے آپ کا یہ ارشاد گرامی سن کر وضاحت کے لئے پوچھا کہ اللہ کے رسول! آپ نے کہا کہ روزہ ڈھال کا کام دیتا ہے، انسان کو گناہ اور جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔ ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ اس میں سوراخ نہ کرو‘ وہ سوراخ کس طرح ہوتے ہیں؟ آپ
    e نے فرمایا : جھوٹ بولنے، غلط بات کہنے، غیبت، چغلی سے، جس کی ہم پروا نہیں کرتے‘ دن رات مبتلا رہتے ہیں، ان گناہوں اور اللہ کی نا فرمانیوں سے اس ڈھال میں سوراخ ہوتے رہتے ہیں، اس طرح اس ڈھال کی افادیت کم ہوتی رہتی ہے۔ پھر یہ نہ تو انسان کو گناہ سے بچاتی ہے اور نہ نار جہنم سے۔
    اگر روزہ ہماری زندگی میں انقلاب پیدا نہیں کرتا، ہمیں تقوے اور نیکی کی طرف مائل نہیں کرتا، ہماری روحانی قوت میں اضافہ نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان رمضان کے فرض روزے نہ رکھے یاان میں کھانا پینا نہ چھوڑے بلکہ مطلب یہ ہے کہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام روزہ نہیں۔ جب تک آپ اس میں مکمل پرہیز کرتے ہوئے گناہوں کو نہیں چھوڑیں گے یہ روحانی دوائی اپنا اثر نہیں کرے گی، کیونکہ روزے کا مقصد گناہ سے بچانا ہے‘ اگر روزہ رکھ کر بھی انسان گناہوں پہ تلا رہے تو پھر اس کے اثرات پیدا نہیں ہوتے۔

    روزہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے:
    گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کو گنتے ہوئے، اس میں رمضان کو بھی شمار کرتے ہوئے آپe نے فرمایا :
    [اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ اِلـٰی رَمَضَانَ، مُکَفِّرَاتٌ مَا بَیْنَھُنَّ اِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ.] (مسلم)
    رمضان بھی ان چیزوں میں شامل ہے، ایک رمضان سے دوسرے رمضان (یہ غیر رمضان کا درمیانی عرصہ) گیارہ مہینوں کے گناہوں کو معاف کرانے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انسان کم از کم کبیرہ گناہوں سے بچے، اپنے آپ کو بڑے بڑے گناہوں سے بچا کر رکھے۔
    جو شخص رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کی حدود کو پہنچانتا ہے، روزے کے تقاضے پورے کرتا ہے، شرائط اور آداب کی رعایت کے ساتھ رکھے گئے روزے اس کے پہلے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتے ہیں۔

    رحمت الٰہی سے محروم کون ؟
    رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت کا عام فیضان ہوتا ہے، کثرت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت مسلمان کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ رحمت کچھ بد قسمت انسانوں سے منہ موڑ لیتی ہے، وہ اس مہینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ وہ کون سے بد قسمت لوگ ہیں جو ماہ رمضان میں بھی اللہ کریم کی رحمت سے دور رہتے ہیں:
    پہلا آدمی :
    [مُدْمِنُ الْخَمْرِ]
    ’’عادی شراب نوش۔‘‘ جو شراب کو ترک کر کے اس سے توبہ نہیں کرتا، اور رمضان میں بھی شاید اس سے دل بہلاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
    دوسرا آدمی :
    [عَاقٌ لِوَالِدَیْہِ]
    اپنے والدین کا نا فرمان، بے ادب، گستاخ اور ان کو ناراض کرنے والے (اللہ نہ کرے نمازیوں میں شرابی تو تھوڑے ہوں گے لیکن یہ بیماری تو عام ہے اس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے)کو بھی ان لوگوں میں شامل کیا جو رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
    تیسرا آدمی :
    [قَاطِعُ الرَّحِمِ] (صحیح ابن حبان)
    ’’رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا۔‘‘
    رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت نہ کرنے والا‘ احباب اور اعزہ سے ناطہ توڑنے والا، بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔

    چوتھا آدمی :
    وہ شخص جو اپنے سینے کو کینے سے پاک نہیں کرتا، کینہ پروری کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان سے ناراض بھی ہوتا ہے اور راضی بھی ہوتا ہے۔ مختلف دور آتے ہیں، لیکن مستقل طور پر کینے کو اپنے سینے میں پالنا یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔
    روزے کا چوتھا فائدہ:
    روزے کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ روزہ مسلمان کو صبر اور جفا کشی کی تعلیم دیتاہے۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں نے دوسری دشمن قوموں کے خلاف میدان جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کیں ان میں بہت بڑا عمل یہ تھا کہ مسلمان مجاہدین کی تربیت، جفا کشی کے اندا ز میں روزے نے کی اور وہ اللہ کی راہ میں مشقت و محنت، بھوک اور پیاس برداشت کرنا جانتے تھے۔
    بدر کے میدان میں تین سو تیرہ صحابہ کرام] نے اپنے سے تین گنا زیادہ تعداد کو شکست فاش سے دو چار کیا تھا۔ انہوں نے روزے کے ذریعے صبر سیکھا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ لڑائی عین رمضان کے مہینے میں غالباً سترہ رمضان کو ہوئی۔ حالانکہ میدان جنگ اور سفر میں اجازت بھی ہے، لیکن اکثر مسلمان روزے سے تھے اور اس سے پہلے بھی انہیں روزے کی تربیت حاصل تھی۔
    سیدہ عائشہ
    r فرماتی ہیں کہ آپe فرض روزے تو رکھتے ہی تھے، اس کے علاوہ ہر مہینے کثرت سے نفل روزے بھی رکھتے تھے، آپ کا کوئی مہینہ بھی روزوں سے خالی نہیں ہوتا تھا، بلکہ یوںکہنا چاہیے کہ کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا تھا … سوموار کا روزہ، جمعرات کا روزہ، مہینے میں ایام بیض کے روزے بھی رکھتے تھے۔
    اسی طرح شوال کے روزے، عرفہ کا روزہ، ۹ اور ۱۰ یا ۱۰ اور کو محرم کے دو روزے‘ اس کے علاوہ شعبان کا مہینہ۔ عام مسلمانوں کے لئے از راہ شفقت فرمایا کہ اس مہینے کے آخری حصے میں نفل روزے نہ رکھو تاکہ رمضان کے فرض روزوں کی تیاری ہو سکے۔ جسم ان کے لئے تیار رہے، کمزوری محسوس نہ ہو، لیکن آپ کا اپنا معمول یہ تھا کہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے، روزوں کی اس تربیت کی وجہ سے آپ میں برداشت کا مادہ پیدا ہوا۔

    روزے کا پانچواں فائدہ:
    روزے کا پانچواں فائدہ یہ ہے کہ انسان کو دوسرے انسان کی بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ امیر آدمی بھی فرض روزے کی وجہ سے بھوک کاٹتا ہے … پیاس برداشت کرتاہے … اس طرح اس کو غریب کی بھوک کا احسا س ہوتا ہے۔ اسی لئے حدیث پاک میں روزوں کے مہینے کے جو نام رکھے ہیں ان میں ایک نام ’’شہر المواساۃ ‘‘ ہے۔ ہمدردی کرنے کا مہینہ، انسان اس میں ہمدردی اور ایثار سیکھتا ہے۔ پھر آپe نے یہ ترغیب دی کہ روزے دار کو کھانا کھلاؤ اس کا ثواب ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ایک تربیت بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس مہینے میں ہمدردی اور ایثار کی تربیت حاصل کرے، جو اس کو باقی مہینوں میںبھی کام دے۔
    مسلمان جس نے صحیح معنوں میں اسلام کو سیکھا اور اس پر عمل کیا، جس نے روزے اور اسلام کے دوسرے احکام کے ذریعے ایثار اور ہمدردی کی تعلیم حاصل کی، وہ اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے، دوسرے بھائی کی ضرورت کو مقدم کرتا ہے۔ ہم تو اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بھی دوسرے کی طرف توجہ دینے کے لئے تیار نہیں، صحابہ کرام﷢ جنہوں نے روزے کی روح کو سمجھا تھا‘ ایثار اور قربانی کو صحیح معنوں میں سیکھا اور اس کی تربیت لی تھی‘ ان کا یہ حال تھاکہ اپنی ضرورت کو مؤخر کرتے اور پیچھے ڈالتے ہوئے دوسروں کی ضرورت کو مقدم سمجھتے تھے۔
    یہ تقویٰ، روحانیت، نیکی کی طرف رغبت، اس کی مشق اور تربیت کا رمضان کی شکل میں ایک موسم بہار ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزوں، ان کے تقاضوں، شرائط، آداب، سنن اور صحیح طریقوں کے مطابق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں