1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رُت کچھ بدلی بدلی سی ہے۔ بی بی سیعہ کی ایک رپورٹ

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏جنوری 28، 2015۔

  1. ‏جنوری 28، 2015 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    رُت کچھ بدلی بدلی سی ہے، عنوان راقم نے قائم کیا ہے۔
    اب اپ بی بی سیعہ کی یہ رپورٹ پڑھ لیں۔ شاید میں ٹھیک سے سمجھا نہ پاؤں:

    پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی نئی شاخ کھلنے پر سرکاری سطح پر وہی ردعمل دکھائی دے رہا ہے جو یہاں طالبان کے جڑیں پکڑتے وقت سامنے آیا تھا۔
    ریت میں سر چھپانے سے شاید یہ تنظیم بھی ہوا میں تحلیل نہیں ہو جائے گی۔
    پاکستان میں نیا جہادی بھنور
    کیا داعش ٹی ٹی پی کی مدد کر سکتی ہے؟
    حکومت کی طرف سے اس مسئلے پر کھل کر بات نہ کرنے سے خدشہ یہی ہے کہ لوگوں کا یہ شک بڑھے گا کہ اسے کیا کسی کی سرپرستی تو حاصل نہیں۔
    شام و عراق میں بڑے علاقے پر قبضہ جمانے والی تنظیم دولت اسلامیہ کی پاکستان میں حمایت کی پہلی نشانی خیبر پختونخوا کے جنوبی اور وزیرستان سے جڑے علاقے بنوں میں وال چاکنگ کی صورت دکھائی دی۔
    فوجی حکام نے اس پر فوراً راتوں رات چونا پھیر دیا۔ یہی صورت حال بعد میں کراچی اور پشاور میں بھی جگہ جگہ دکھائی دی۔ لیکن تحریری صورت میں پہلی بار اس تنظیم کی جانب سے پشاور اور افغانستان میں کتابچے شائع اور تقسیم ہوئے۔
    اسی صوبے کی قیادت سے اس موضوع پر بات کرنے کے لیے وہاں کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے انٹرویو کا باضابطہ وقت لیا گیا۔ بی بی سی ٹیم اسلام آباد سے پشاور بھی پہنچی لیکن آخری وقت پر انٹرویو دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ اس مسئلے کو سکیورٹی ادارے دیکھ رہے ہیں لہٰذا وہی بات کریں گے۔
    کہا، سکول اساتذہ کو اسلحہ دینے کے صوبائی کابینہ کے فیصلے پر بات کر لیتے ہیں تو اس سے بھی انکار۔
    وزیراعلیٰ کی جانب سے تجویز آئی کہ ترقیاتی منصوبوں پر بات کر لیں۔ تو کہا، چلیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس اعلان پر بات کر لیتے ہیں کہ اب وہ اب پشاور میں بیٹھ کر صوبائی حکومت کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے، تو پرویز خٹک کا جواب تھا کہ یہ عمران خان سے پوچھ لیں۔ میرے منہ سے بےساختہ نکل گیا تو وزیراعلیٰ صاحب یہاں پھر وزیراعلیٰ ہاؤس میں کس لیے بیٹھے ہیں؟
    مصالحت کاروں سے کہا کہ انھیں کہیں کہ اگر وہ وزیراعلیٰ بن کر نہیں بات کر سکتے تو ایک سیاست دان کی حیثیت سے بات کر لیں۔ لیکن بات نہیں کرنی تھی سو نہ کی۔
    پاکستانی سیاست دان جس طرح سے اپنی گرفت اور حیثیت کھو رہے ہیں اس کی یہ واقعہ شاید بہترین مثال ہے۔ اعتماد کی کمی اور حالات کا ادراک نہ ہونے ہی کی وجہ سے دیگر ریاستی اداروں کو آگے آنے کا موقع مل رہا ہے۔
    یہ بھی ایک ایسے صوبے میں جو شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ جو شدت پسند پکڑے جا رہے، ان کی ڈوریاں ہلانے والے بےنقاب ہونا چاہییں، تاکہ قوم کو معلوم ہو کہ مسئلہ کتنا گھمبیر ہے۔
    سکیورٹی ادارے شاید کبھی اس پر بات نہ کریں کیونکہ انھیں ہمیشہ یہ خدشہ رہتا ہے کہ کہیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے۔ لیکن سیاست دان کا کام ہے عوام کو اعتماد میں لینے کا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150128_islamic_state_pak_reaction_zz
     
  2. ‏جنوری 29، 2015 #2
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    تحریک طالبان پاکستان، امارات اسلامی افغانستان کے ولایت خوست ، تنظیم امربالمعروف ونہی عن المنکر خیبرایجنسی قمبرخیل قوم کے کئ علاقائی امیران صاحبان، دولتہ الاسلامیہ کے امیر المومنین ابوبکر البغدادی القریشی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں ، اس کی مصدقہ ویڈیو آچکی ہے ۔
    وال چاکنگ پشاور میں ایک دن ہم نے دیکھی ، دوسرے دن کو اس پر چونا لگایا گیا تھا ۔
    دولت اسلامیہ کے ترجمان شیخ المجاہد ابو محمد العدنانی الشامی حفظہ اللہ کا نیا آڈیو بیان جاری ہوا ہے۔
    اس بیان کا عنوان ہے :
    (قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ)
    ’’کہہ دو کہ تم اپنے غیظ کے ساتھ مرجاؤ۔‘‘
    اس آڈیو بیان میں انہوں نے یہودیوں ،صلیبیوں، ملحدوں، شیعہ، مرتدین، صحوات، مجرموں اور اللہ کے تمام دشمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم اپنے راستے پر چلتے رہینگے۔ ہمیں اپنے رب کی مدد کا پورا یقین ہے۔ پس تم اپنے غیظ کے ساتھ مرجاؤ۔ اللہ کی قسم ! تمہیں ہم سے صرف وہی دیکھنے کو ملے گا جو تمہیں برالگتا ہے۔
    سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جس نے دولت اسلامیہ کو تمہاری آنکھوں میں کانٹا، تمہاری گردنوں میں ہڈی، تمہارے سینوں پر وار اور تمہارے دلوں میں غیظ بنایا۔
    اللہ کی قسم ! تم کو ہم سے صرف شدت اور کاری ضرب کے سوا کچھ دیکھنے کو اللہ کے حکم سے نہیں ملے گا۔ تم میں سے جو ہمارے دھماکے میں مرنے سے بچ گیا اور ہمارا ہتھیار اس تک پہنچ نہ سکا تو وہ اللہ تعالی کی ہمارے لیے مدد کو دیکھ کر غیظ سے ہی مرجائے گا۔
    پس دنیا بھر میں موجود مسلمانوں خوش ہوجاؤ! تمہاری مملکت اللہ کے فضل سے طاقتور اور مضبوط تر ہوتی چلی جارہی ہے، جو اپنے رب کے دلائل اور بصیرت کی ساتھ اپنی راہ پرچلتی چلی جارہی ہے۔
    دولت اسلامیہ کیخلاف صلیبی جنگ شروع ہونے،قریب ودور سب کا اس پر ٹوٹ جانے اور نزدیک وبعید سب کا دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ کرنے کے باوجود ہم مجاہدین کو خوشخبری دیتے ہیں کہ یہ دولت اسلامیہ پھیلتا ہوا اب خراسان تک پہنچ چکا ہے ، وہاں خلافت کے سپاہی مجاہدین نے ولایت خراسان کا اعلان کرنے کے لیے تمام شرائط اور مقاصد کو پورا کرتے ہوئے امیر المومنین خلیفہ ابراہیم حفظۃ اللہ کی بیعت کرلی ہیں۔

    خلیفہ نے ان کی بیعت کو قبول کرلیا ہے اور محترم شیخ حافظ سعید خان حفظہ اللہ کو ولایت خراسان کا والی مقرر کیا ہے جبکہ ان کے نائب محترم شیخ عبد الروؤف خادم ابو طلحہ حفظہ اللہ کو مقرر کیا ہے۔
     
    Last edited: ‏جنوری 29، 2015
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں