1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رکعات تراویح کی تعداد علمائے احناف کی نظر میں

'تہجد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحیم رحمانی, ‏اپریل 18، 2014۔

  1. ‏فروری 22، 2016 #61
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اصل میں میں نے یہ بات اس لئے لکھی تھی کہ ”ایک تصویر“ ابھی تک فورم کے ایک تھریڈ میں موجود ہے اس کو ہٹایا نہیں گیا!
    ایک چیز کی وضاحت کردوں کہ میں خود اس بات کا حامی ہوں کہ جاندار کی تصویر نہیں ہونی چاہیئے۔ جب میں یہ تصویر پیسٹ کرچکا تو فوراً یہ بات ذہن میں آئی اور اس کو ’ڈلیٹ‘ کرکے ’ایڈٹ‘ شدہ تصویر لگانے کی کوشش تقریباً 10 منٹ تک مختلف طریقوں سے کرتا رہا لیکن کامیاب نہ ہوسکا معلوم نہیں کیوں۔
     
  2. ‏فروری 22، 2016 #62
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    دس ہزار لینے ہیں یا نہیں!؟
    اب ایسا بہی کیا تکلف !
     
  3. ‏فروری 23، 2016 #63
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! دس ہزار میں تو آجکل کچھ نہیں بنتا دس لاکھ کی بات کریں تو کچھ سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ابتسامہ!
     
  4. ‏مارچ 17، 2016 #64
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی دس ہزار میں اور کچھ ہو نہ ہو ، کچی باتیں کرنے والے خاموش ہوجاتے ہیں ۔
     
  5. ‏مارچ 17، 2016 #65
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    قيام رمضان (تراویح)
    تراویح کا معنی
    تراويح ترویحہ کی جمع ہے جس کا معنی سستانا آرام کرنا راحت حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ ہیں۔
    مأخذ لفظ تراويح
    صحيح البخاری: كِتَاب صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ (نماز تراویح)
    صحيح مسلم: كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: بَاب التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ وَهُوَ التَّرَاوِيحُ (قیام رمضان جو کہ تراویح ہے کی ترغیب)
    السنن الكبرى للبيهقي باب ما روى في عدد ركعات القيام في شهر رمضان
    عن عائشة
    رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى اربع ركعات في الليل ثم يتروح فاطال حتى رحمته فقلت بابى انت وامى يا رسول الله قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر قال افلا اكون عبدا شكورا
    عائشہ صديقہ رضى الله تعالى عنہا فرماتى ہیں كہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم رات كو چار ركعت پڑھتے كافى دير تك پھر آرام فرماتے۔ عائشہ صديقہ رضى الله تعالى عنہا فرماتى ہیں كہ میں نے کہا يا رسول الله صلى الله عليہ وسلم آپ پر ميرے ماں باپ قربان ہوں الله تعالى نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف كردیئے ہیں پھر آپ اس قدر مشقت كيوں جھیلتے ہیں۔ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا كہ كيا میں الله تعالى كا شكرگزار بنده نہ بنوں-
    السنن الكبرى للبيهقي باب ما روى في عدد ركعات القيام في شهر رمضان
    عن زيد بن وهب قال كان عمر بن الخطاب رضى الله عنه يروحنا في رمضان يعنى بين الترويحتين قدر ما يذهب الرجل من المسجد إلى سلع

    زيد بن وہب فرماتے ہیں عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنہ رمضان میں ترويحہ اس قدر لمبا كرتے كہ آدمى مسجد سے سلع (ايك جگہ كا نام) تك چلاجاتا-
    رمضان میں تراویح
    صحيح ابن خزيمة جز 8 صفحه 124
    باب ذكر الدليل على أن قيام شهر رمضان سنة النبي صلى الله عليه وسلم خلاف زعم الروافض الذين يزعمون أن قيام شهر رمضان بدعة لا سنة
    يہ باب اس ذكر میں ہے کہ قيام شہر رمضان نبى صلى الله عليہ وسلم كى سنت ہے رافضیوں (شيعہ) کے برعكس كہ وه خيال كرتے ہیں كہ قيام شہر رمضان بدعت ہے سنت نہیں ۔
    تراویح كى ترغيب
    موطأ مالك: کتاب النداء للصلاۃ: بَاب التَّرْغِيبِ فِي الصَّلَاةِ فِي رَمَضَانَ: حديث نمبر 230:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
    ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بے شك رسول الله صلى الله عليہ وسلم قيام رمضان كى طرف رغبت دلاتے تھے مگر بالجزم حكم نہ فرماتے تھے- فرماتے جس نے رمضان كا قيام الليل ايمان اور احتساب کے ساتھ كيا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں-
    صحيح البخاری: کتاب الایمان: بَاب تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ الْإِيمَانِ: حديث نمبر 36:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
    رسول الله صلى الله عليہ وسلم فرماتے تھے جس نے رمضان كا قيام الليل ايمان اور احتساب کے ساتھ كيا اس کے پچھلے گناہ معاف كر دیئے جاتے ہیں۔
    رواه ايضا: صحيح مسلم حديث نمبر 1266، سنن النسائي حديث نمبر 1584، مسند أحمد حديث نمبر 7455، سنن أبي داود حديث نمبر 1164 اور سنن الترمذي حديث نمبر 736
    تراویح كا سنت ہونا
    سنن النسائی: کتاب الصیام: باب ذِكْرُ اخْتِلَافِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَالنَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ فِيهِ: حديث نمبر 2180:
    النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ سَمِعَهُ أَبُوكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
    رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا كہ بے شك الله تعالى نے رمضان کے روز فرض کئے ہیں اور میں نے اس كى راتوں كا قيام آپ کے لئے سنت قرار ديا ہے۔ جس نے رمضان كا قيام الليل ايمان اور احتساب کے ساتھ كيا اس کے پچھلے گناہ معاف كردیئے جاتے ہیں اور وه ايسا ہو جاتا ہے جيسا كہ اس كى ماں نے ابهى جنا ہو-
    رواه ايضا: سنن ابن ماجه جز4 صفحه223 حديث نمبر1318 و مسند أحمد جز4 صفحه108 حديث نمبر1596
    رسول الله صلى الله عليہ وسلم كی تراویح
    صحيح البخاری: کتاب صلاۃ التراویح: بَاب فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ: حدیث نمبر 1873:
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ

    بے شك رسول الله صلى الله عليہ وسلم ايك رات نکلے پس مسجد میں نماز ادا كى اور لوگوں نے آپ صلى الله عليہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی صبح ہوئى تو انہوں نے لوگوں سے تذكره كيا لوگ جمع ہوگئے اور آپ صلى الله عليہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے اور لوگوں سے تذكره كيا تيسرى رات مسجد لوگوں سے بهر گئی رسول الله صلى الله عليہ وسلم نکلے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر جب چوتھی رات ہوئى مسجد لوگوں سے کھچا کھچ بهر گئی.................الحدیث۔
    سنن الترمذی: كِتَاب الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب ما جاء في قيام شهر رمضان: حديث نمبر 734:
    عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنْ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنْ الشَّهْرِ وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الْفَلَاحَ قُلْتُ لَهُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ
    ابوذر رضى الله تعالى عنہ فرماتے ہیں كہ ہم نے رسول الله صلى الله عليہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے آپ صلى الله علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ نماز (تراويح) نہ پڑھی حتى كہ رمضان کے مہینہ کے سات دن باقى ره گئے تو ہمار ساتھ قيام كيا یہاں تك كہ تہائی رات گذر گئی۔ جب چھ دن باقى ره گئے آپ صلى الله عليہ وسلم نے ہمار ساتھ قيام نہ كيا ۔ جب پانچ دن باقى ره گئے آپ صلى الله عليہ وسلم نے ہمارے ساتھ قيام كيا یہاں تك كہ آدهى رات گذر گئی۔ میں نے کہا اے الله کے رسول(صلى الله عليہ وسلم) كاش آپ اس رات كا قيام زياده كرتے۔ آپ (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا آدمى جب امام کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے لئے پورى رات كا ثواب لكها جاتا ہے۔ جب چار راتیں باقى ره گئیں آپ صلى الله عليہ وسلم نے ہمار ساتھ قيام نہ كيا ۔ جب تين راتیں باقى ره گئیں آپ صلى الله عليہ وسلم نے اپنے گھر والوں كو اور اپنی عورتوں كو جمع كيا اور ہمار ساتھ قيام كيا (یعنی تراویح پڑھی) یہاں تك كہ ہم ڈرے كہ ہم سے فلاح نہ فوت ہو جائے- میں نے کہا فلاح كيا ہے كہا سحر كا كهانا۔
    رسول الله صلى الله عليہ وسلم كى بِیْس (20) تراویح
    1 سنن الترمذی: كِتَاب الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب ما جاء في قيام شهر رمضان:
    حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنْ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنْ الشَّهْرِ وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الْفَلَاحَ قُلْتُ لَهُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ
    حاشیہ از ابوعيسى رحمة الله عليه (صاحب کتاب الترمذی): هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يُصَلِّيَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَهُمْ بِالْمَدِينَةِ وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً و قَالَ أَحْمَدُ رُوِيَ فِي هَذَا أَلْوَانٌ وَلَمْ يُقْضَ فِيهِ بِشَيْءٍ و قَالَ إِسْحَقُ بَلْ نَخْتَارُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ إِذَا كَانَ قَارِئًا وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ
    ابوعيسى رحمۃ الله عليہ فرماتے ہیں كہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم قيام رمضان كى ركعات میں مختلف آراء رکھتے ہیں- بعض كو ديكها كہ وه اكتاليس (41) ركعات پڑھتے ہیں وتر کے ساتھ اور يہ اہل مدينہ كا قول ہے اور ان كا عمل اسى پر ہے- اكثر اہل علم اس پر ہیں كہ بيس (20) ركعات پڑھی جائیں جو كہ عمر اور على (رضى الله تعالى عنہما) اور دیگر اصحاب النبى صلى الله عليہ وسلم سے مروى ہے اور یہ بات ثوری رحمۃ اللہ علیہ، ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ سب نے بیان کی ہے- شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے مکہ شہر میں لوگوں کو تراویح کی بیس 20 رکعات ہی پڑھتے پایا- احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں بہت سی مختلف روایات ملتی ہیں اور ان میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا- اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم اکتالیس 41 رکعات پسند کرتے ہیں اس لئے کہ یہ ابی بن کعب سے مروی ہے اور یہ کہ اختیار کیا ابن المبارک، احمد اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنا- شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اگر تراویح پڑھنے والا حافظ قرآن ہے تو اکیلا پڑھے اور عنوان میں یہ بات عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے لکھی ہے-
    وضاحت: ابوعيسى رحمۃ الله عليہ نے تراویح کی رکعات گنواتے ہوئے کہیں بھی آٹھ رکعات کا ذکر نہیں کیا۔

    2 المعجم الكبير للطبراني: جز 10: صفحه 86: حديث نمبر 11934:
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
    ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ *
    ابن عباس رضى الله تعالى عنہ فرماتے ہیں كہ نبى صلى الله عليہ وسلم رمضان میں بيس (20) ركعت پڑھا كرتے تھے علاوه وتر کے -
    3 السنن الكبرى للبيهقي: جز 2: صفحه 496:
    عن ابن عباس
    قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلى في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة والوتر
    ابن عباس رضى الله تعالى عنہ فرماتے ہیں كہ نبى صلى الله عليہ وسلم رمضان میں بيس (20) ركعت اور وتر بغير جماعت پڑھا كرتے تھے -
    4 السنن الكبرى للبيهقي: جز 2: صفحه :497
    عن ابى الحسناء ان على بن ابى طالب
    امر رجلا ان يصلى بالناس خمس ترويحات عشرين ركعة *
    ابى الحسناء رحمۃ الله عليہ (جو كہ على رضى الله تعالى عنہ کے اصحاب میں سے تھے) فرماتے ہیں كہ على رضى الله تعالى عنہ بن ابى طالب نے ايك شخص كو حكم ديا كہ وه لوگوں کے ساتھ بيس (20) ركعات پانچ ترويحوں کے ساتھ پڑھیں-
    5 مسند عبد بن حميد: مسند ابن عباس رضی اللہ عنہ: جز 2: صفحه 271: حديث نمبر655:
    عن ابن عباس
    قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في رمضان عشرين ركعة ، ويوتر بثلاث
    ابن عباس رضى الله تعالى عنہ فرماتے ہیں كہ نبى صلى الله عليہ وسلم رمضان میں بيس (20) ركعت پڑھا كرتے تھے اور تين ركعت وتر -
    بیس رکعات تراویح
    السنن الكبرى للبيهقي جز 2 صفحه 496
    6 السائب بن يزيد قال كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضى الله عنهما في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤن بالمئين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضى الله عنه من شدة القيام
    سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ماہ رمضان میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے- الخ
    7 يزيد بن رومان قال كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضى الله عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة
    یزید بن رومان فرماتے ہیں کہ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ماہ رمضان میں بیس رکعات (تراویح) پڑھتے تھے۔
    8 جعفر بن عون انبأ ابو الخصيب قال يؤمنا سويد بن غفلة في رمضان فيصلى خمس ترويحات عشرين ركعة
    سويد بن غفلہ نے رمضان میں پانچ ترویحوں کے ساتھ بیس رکعات (تراویح) پڑھائی۔
    9 عن شتير بن شكل وكان من اصحاب على رضى الله عنها انه كان يؤمهم في شهر رمضان بعشرين ركعة ويوتر بثلاث
    شتير بن شكل جو کہ على رضى الله عنه کے شاگردوں میں سے تھے، رمضان کے مہینہ میں بیس رکعات (تراویح) پڑھاتے اور تین رکعات وتر۔
    10 عن ابى عبد الرحمن السلمى عن على رضى الله عنه قال دعا القراء في رمضان فامر منهم رجلا يصلى بالناس عشرين ركعة قال وكان على رضى الله عنها يوتر بهم
    على رضى الله عنه نے رمضان میں قاری حضرات کو بلوایا اور ان میں سے ایک کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کوبیس رکعات (تراویح) پڑھائے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ وتر پڑھتے۔
    11 السنن الكبرى للبيهقي جز 2 صفحه 497
    عن ابى الحسناء ان على بن ابى طالب امر رجلا ان يصلى بالناس خمس ترويحات عشرين ركعة
    *
    على رضى الله عنه ﻨﮯ ايك قارى كو حكم ديا ﻠﻭﮔﻭﮟ كو بيس ركعت تراويح ﭙﺎﻨﭻ ترويحوﮞ ﻜﮯﺴﺎﺘﮭ ﭙﮌﻫﺎﻨﮯ ﻜﺎ-
    مصنف ابن أبي شيبة جز 2 صفحه 285 و جز 2 صفحه 286
    باب نمبر 227 كم يصلي في رمضان من ركعة

    12 عن شتير بن شكل أنه كان يصلي في رمضان عشرين ركعة (بيس ركعت) والوتر-
    13 عن أبي الحسناء أن عليا أمر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة (بيس ركعت)-
    14 عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب أمر رجلا يصلي بهم عشرين ركعة (بيس ركعت)-
    15 عن عمر قال كان ابن أبي مليكة يصلي بنا في رمضان عشرين ركعة (بيس ركعت) ويقرأ بحمد الملائكة في ركعة-
    16 كان أبي بن كعب يصلي بالناس في رمضان بالمدينة عشرين ركعة (بيس ركعت) ويوتر بثلاث (وتر تین رکعات)-حدیث صحیح
    17 عن الحارث أنه كان يؤم الناس في رمضان بالليل بعشرين ركعة (بيس ركعت) ويوتر بثلاث (وتر تین رکعات)ويقنت قبل الركوع-
    18 عن أبي البختري أنه كان يصلي خمس ترويحات (پانچ ترويحات) في رمضان ويوتر بثلاث (وتر تین رکعات)-
    19 عن عطاء قال أدركت الناس وهم يصلون ثلاثا وعشرين ركعة (بيس ركعت) بالوتر-
    20 أن علي بن ربيعة كان يصلي بهم في رمضان خمس ترويحات (پانچ ترويحات) ويوتر بثلاث-
    نوٹ:- حرمین شریفین میں نماز تراویح اب بھی بیس رکعات ہی پڑھی جاتی ہیں- اس بات کی تصدیق اہل حدیث رائٹر ابو عدنان محمد منیر قمر کی کتاب "نماز تراویح" ناشر "توحید پبلیکیشنز" بنگلور سے بھی ہوتی ہے- دیکھئے اس کا صفحہ نمبر 77 و 78 بعنوان "مسئلہ تراویح اور آئمہ و علماء حرمین شریفین"
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں