1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زبیر علی زئی کے اصول جمہوریت پر بحث ونقد

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رحمانی, ‏اکتوبر 28، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 28، 2017 #1
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    زبیر علی زئی کے مضمون النصر الربانی پر نقد تقریبامکمل ہوچکاہے،پہلے سوچاتھاکہ زبیر علی زئی کے جرح وتعدیل کے باب میں جمہوری نظریہ پر تفصیل سے لکھوں ،جس سے اس نظریہ کابودا پن معلوم ہو، لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے اس کو الگ اورمناسب زمرہ میں تھریڈ اوپن کررہاہوں۔
    زبیر علی زئی کی کتابیں جہاں تک میں نے پڑھی ہیں اورسمجھی ہیں،اس کا مفاد یہ ہے کہ جرح وتعدیل میں وہ دونوں طرف کی گنتی دیکھتے ہیں جدھر افراد زیادہ ہوگئے، وہ جمہور کا موقف قرارپایا اور جدھر کم ہوگئے وہ جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے وہ موقف مردور قرارپایا۔
    فورم کے وہ حضرات جن کو اصول حدیث سے کچھ مس یالگائویااس فن سے محبت ہے،ان سے پوچھناہے کہ اس اصول کو وہ کیااورکیساسمجھتے ہیں اورکیا وہ خودبھی اسی نظریہ پر عمل پیراہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  2. ‏اکتوبر 28، 2017 #2
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    85
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    رحمانی صاحب جمهور کا اصول هر جگه صحیح نهیں هے.
    بعض اوقات جرح مفسر وغیره مفسر بهی دیکهی جاتی هے جسکی تفصیل انوار البدار کے مقدمه میں موجود هے. اور صحیح بهی یه هی هے اسکو همارے شیخ ارشاد الحق اثری صاحب نے بهی صحیح جانا خبیب احمد صاحب وغیره نے بے بهی بهرحال صحیح یه هی هے جسکا میں نے ذکر کیا.
     
  3. ‏جنوری 17، 2019 #3
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    134
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! صرف یہ دیکھ لیاجانا کہ ایک راوی کوکثیر تعداد نے قبول کیا اور قلیل تعداد نے رد کیا ہے، درست نہیں ہوگا۔ ایک راوی کو پرکھنے کے لئے یہ دیکھنا پڑےگا کہ اس کے معاصرین یا قریب ترین زمانے کے لوگ اس کے بارےمیں کیا کہتے ہیں، پھر اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ نقاد حضرات محدثین کی اس بارے میں کیا رائے ہے جو اس راوی کے بعد کے نزدیکی ادوار میں گزرے ہیں۔اس کے علاوہ کئی محدثین نے مختلف راویوں کی احادیث کا تجزیہ بھی کیا ہے، ان کی رائے کو بھی ایک مضبوط حیثیت حاصل ہو گی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں