1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سانحہ کربلا میں اِفراط و تفریط کا جائزہ ’بعض تسامحات کا تذکرہ‘

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏دسمبر 14، 2011۔

  1. ‏دسمبر 14، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    سانحہ کربلا میں اِفراط و تفریط کا جائزہ

    ’’ بعض تسامحات کا تذکرہ ‘‘​

    مولانا ارشاد الحق اثری​

     
  2. ‏دسمبر 14، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جناب محترم!
    آپ اور تاریخ و رجال سے دلچسپی رکھنے والے سبھی حضرات اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے مابین پیدا ہونے والے نزاعات ؍مشاجرات کے نتیجہ میں ان میں جو فکری اختلاف پیدا ہوا، ان میں رافضی، خارجی اور ناصبی نظریات اور ان کے اہداف کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ان کے مقابلہ میں اہلسنت ؍اہلحدیث ہی ایک فکر ہے جو بحمداللہ صراط مستقیم پر قائم رہا، جادۂ اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور افراط و تفریط کی پگڈنڈیوں سے محفوظ رہا۔
    مگر سخت حیرت کی بات ہے کہ ’’سانحہ کربلا میں افراط و تفریط کا جائزہ‘‘ پیش کرتے ہوئے خود مولانا عبدالرحمٰن عزیز صاحب شعوری یا غیر شعوری طور پر افراط و تفریط کا شکار ہوگئے او رجب یہ تحریر ’’محدث‘‘ جیسے علمی ماہنامہ میں شائع ہوئی تو گویا یہ سب محدثین رحمہم اللہ کے افکار کی امیں جماعت کے مؤقف کی ترجمان بن گئی، حالانکہ ایسا قطعاً نہیں مثلاً:
     
  3. ‏دسمبر 14، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حضرت حجر بن عدی (صحابی)کو سبائی لیڈر کہا گیا
    1۔کہا گیا ہے کہ حضرت حسنؓ کی امیرمعاویہ سے مصالحت ہوئی تو کوفیوں نے حضرت حسنؓ کو ورغلانے کی کوشش کی بلکہ حضرت حسنؓ کی اس مصالحت کو بھی انہوں نے ناگوار سمجھا۔ چنانچہ مولانا عبدالرحمٰن عزیز کے الفاط ہیں:
    قطع نظر اس کے کہ حضرت حسنؓ نے یہ مصالحت
    کو یہ مصالحت ناگوار گزری، ان کے جس ’’سبائی لیڈر‘‘ کا نام حجر بن عدی لیا گیا ہے، یہ کون ہے؟
    جناب من!
    یہ سبائی لیڈر حجر بن عدی صحابی رسول ہیں................. ابن اثیر لکھتے ہیں:
    انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابن سعد نے صحابہ میں ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تابعین میں بھی شمار کیاہے۔
    امام بخاری، امام ابوحاتم اور امام ابن حبان نے بلاشبہ انہیں تابعین میں شمار کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں جبکہ ابوبکر بن حفص جیسے تابعی ان کے بارے میں
    او رمصعبؓ بن عبداللہ الزبیر جیسے امام بھی انہیں صحابی قرار دیتے ہیں اوراکثر متاخرین کی بھی یہی رائے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ذہبی فرماتے ہیں
    اسی ’’جرم‘‘ کی بنا پر مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے ان پر ’’ ؓ ‘‘ کی علامت بھی مناسب نہیں سمجھی۔ یہ رویہ بھی بہر نوع غلط ہے۔
     
  4. ‏دسمبر 14، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حضرت سلیمان ؓ بن صرد خزاعی کو بطور صحابی متعارف نہیں کرایا گیا:
    2۔اسی طرح چند سطور بعد مولانا عبدالرحمٰن صاحب لکھتے ہیں:
    آگے چل کر موصوف اسی سلسلے میں مزید لکھتے ہیں:
    جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان ’’کوفی لیڈروں‘‘ میں جو سرفہرست ’’سلیمان بن صرد‘‘ ہیں، وہ بالاتفاق مشہورصحابی حضرت سلیمانؓ بن صرد خزاعی ہیں۔ صحاح ستہ میں ان سے روایات مروی ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ حوالہ جات کی ضرورت ہی نہیں۔ بلا ریب انہوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھے۔ جب ان کی مدد نہ کرسکے تو ندامت کا اظہار بھی کیا۔ ہمیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ان کوفی لیڈروں میں حضرت سلیمان بن صرد خزاعی معروف صحابی ہیں۔ ان کے اسی ’’جرم‘‘ کی بنا پر مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے ان کے نام پر بھی ’’ ؓ ‘‘ کی علامت مناسب نہیں سمجھی۔ یہ روش بہرنوع درست نہیں جس سے ناصبیت کی بو آتی ہے۔
     
  5. ‏دسمبر 14، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    3۔انہی خط لکھنے والوں میں ایک جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب ہے جیسا کہ محدث صفحہ 14 میں ہے
    مشاجرات صحابہ کے بارے میں سلف کے مؤقف سے اہل علم واقف ہیں۔ سلف نے اس بارے گفتگو کی جو ممانعت کی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ اس سے احترام و تقدس صحابہ کرامؓ پر حرف آتا ہے اور ان کے بارے میں ناروا زبانیں کھل جاتی ہیں۔ افسوس کہ مضمون کے مذکورہ مقامات سے اسی کی بو آرہی ہے، اسی امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
     
  6. ‏دسمبر 14، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مقام یزید بن معاویہ امام احمد بن حنبل کی نظر میں:
    4۔اسی عنوان کے تحت (بحوالہ خطبات بخاری صفحہ 385) لکھا گیا ہے:
    مجھے سمجھ نہیں آئی کہ امام احمد کے قول کے لیے ’’خطبات بخاری‘‘ پر انحصار کیسے کیا؟ جس بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ ’’امام احمد بن حنبل سے یہ بات منسوب کی گئی ہے............‘‘ یہ بہرحال ’’خطبات‘‘ ہیں۔
    رہی یہ بات کہ ’’امام احمد نے کتاب الزہد میں ان کا قول نقل کیا ہے..............‘‘ یہ عبارت العواصم من القواصم صفحہ 370 مترجم سے حرف بحرف نقل کی گئی ہے اور العواصم کے عربی ایڈیشن صفحہ 233 میں یہ عبارت موجود ہے۔ مگر اس کے بعد امام ابن العربی نے جو فرمایا، اسے مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے نقل نہیں کیا بلکہ وہ شاید اس سے بے خبر ہیں چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:
    مولانا عبدالرحمٰن صاحب جو ’’العواصم‘‘ کے حوالے سے یزید کی پاکدامنی اور اس کے زہد و تقویٰ کی دلیل بیان فرمارہے ہین، وہ ذرا امام ابن العربی کے اس مؤقف کی طرف بھی توجہ دیں کہ امام احمد نے تویزید کو صحابہ میں درج کیا ہے۔ ہم تو اس پر إنا للہ وإنا إلیہ راجعون کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔
    امام ابن العربی بلا شبہ بہت بڑے امام، فقیہ اور مفسر گزرے ہین مگر تھے تو انسان ہی ۔ یہ کہنے میں یقیناً ان سے سہو ہوا۔ بالکل اسی طرح یہاں یزید بن معاویہ بن ابی سفیان سمجھنے میں بھی ان سے سہو ہوا۔
    اولاً
    تو تتبع بسیار کے باوجود کتاب الزہد سے یزید بن معاویہ کا یہ قول نہیں ملا البتہ امام عبداللہ بن مبارک نے کتاب الزہد بروایت نعیم بن حماد صفحہ 39 رقم 156 میں یہی قول ’’أنا حنظلۃ بن أبی سفیان قال نا ابن أبی ملکیۃ قال سمعت یزید بن معاویۃ یقول فی خطبتہ...... الخ‘‘ نقل کیا ہے۔
    ثانیاً
    یہاں یزید بن معاویہ سے ابن ابی سفیان نہیں بلکہ الکوفی النخعی مراد ہیں جو کہ تابعی تھے اور کوفہ کے عابدین و زاہدین میں ان کا شمار ہوتا تھا جیسا کہ حافظ ابن حجر نے التہذیب ج11 صفحہ 360 ، میں اسی کا تذکرہ کیاہے۔ امام احمد کی کتاب الزہد صفحہ 367، میں ان کے صاحبزادے عبداللہ کے زوائد میں اسی یزید بن معاویہ النخعی کا ایک اور قول بھی ذکر کیاہے۔اس لیے یہاں ابن ابی سفیان مراد لینا بالکل اسی طرح امام ابن العربی کا وہم ہے جیسا کہ یزید بن معاویہ کو صحابی کہنے اور یہ قول امام احمد کی طرف منسوب کرنے میں وہم ہوا۔
    ہمارا مقصد یہاں نہ یزید کا دفاع ہے نہ اس کے مثالب و محامد پر بحث مطلوب ہے بلکہ زیر نظر مضمون میں امام احمد کے حوالہ سے یزید کے بارے میں ایک بات ذکر ہوئی بس اس کی حقیقت بیان کرنا ہے۔ إن أرید إلا الإصلاح ما استطعت وما توفیقی إلا باللہ العلی العظیم۔
    ۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں