1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سترہ سالہ سعودی دوشیزہ کا پانچ کروڑ ریال کا عطیہ

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از نسرین فاطمہ, ‏فروری 15، 2014۔

  1. ‏فروری 15، 2014 #1
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    سعودی عرب میں ایک سترہ سالہ لڑکی نے اپنے والد کے ترکے میں ملنے والی رقم کا ایک بڑا حصہ خیرات کر کے ایک منفرد اور روشن مثال قائم کی ہے۔
    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پچاس ملین ریال کی بھاری رقم عطیہ کرنے والی اس نیک بخت دوشیزہ کا کہنا ہے کہ یہ اسے والد سے ملنے والے ترکے کی مجموعی رقم کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ وہ مزید بھی فلاحی کاموں کے لیے عطیات فراہم کرتی رہے گی۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی دوشیزہ نے ریاض شہر کی جنرل کورٹ میں اپنی عطیے کی رجسٹریشن کرائی۔ اس نے بتایا کہ اس کے عطیات سے مساجد کی تعمیر، ناحق جیلوں میں ڈالے گئے قیدیوں کی رہائی اور دیگر حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم اس نے اپنا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

    ایک سوال کے جواب میں سعودی دوشیزہ کا کہنا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ کسی دباؤ پر نہیں کیا ہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے اپنی دولت کو صدقہ جاریہ کے کاموں پرصرف کرنا چاہتی ہے جو اس کی دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں کام آئے۔

    سعودی لڑکی نے بتایا کہ جب اس نے پچاس ملین ریال کی رقم عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ سن کر اس کی والدہ اور بھائیوں کو بھی خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہی ہوں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...ہ-سعودی-دوشیزہ-کا-پانچ-کروڑ-ریال-کا-عطیہ.html
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 15، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اگر اس صدقے کی تشہیر نہ کی جاتی اور چھپا کر دیا جاتا تو زیادہ اچھا تھا۔ لیکن ہمارے ہاں جب تک فوٹو نہ بنیں، اخباروں میں تصاویر نہ چھپیں، واضح طور پر میڈیا میں خبر نہ لگے، ہمیں لگتا ہی نہیں کہ ہم نے کوئی صدقہ کیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ رجعون
     
    • ناپسند ناپسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 15، 2014 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891



     
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 15، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

     
  5. ‏فروری 16، 2014 #5
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    لیکن اگر تشہیر کا مقصد دوسروں کو ترغیب دلانا اور انہیں بھی صدقہ پر ابھارنا ہوتو تب یہ عمل نہ صرف درست ہوگا ،بلکہ صدقہ جاریہ کا بھی باعث ہوگا۔کیونکہ جتنے لوگ بھی اس سے متاثر ہوکر صدقہ کریں گے ،وہ برابر ان کے اجر میں شریک ہوگی۔
    ارشاد باری تعالی ہے:
    ان تبدوا الصدقات فنعما ھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم
    اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو یہ بھی بہتر ہے اوراگر چھپا کر کرو اور فقراء کو دو تو وہ بھی تمہارے لئے خیر ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں