1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سترہ کے متعلق مصنف عبد الرزاق کی حدیث کی تحقیق

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏جون 27، 2019۔

  1. ‏جون 27، 2019 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    96
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم
    مصنف عبد الرزاق کی اس حدیث کی تحقیق درکار ہے۔۔۔۔۔
    2317 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ وَرَاءَهُ» قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: «وَبِهِ آخُذُ، وَهُوَ الْأَمرُ الَّذِي عَلَيْهِ النَّاسُ»
     
  2. ‏جون 29، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعليکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    امام ابوبکرعبدالرزاقؒ بن ھمام صنعاني (المتوفي 211ھ) روايت کرتے ہيں کہ :
    باب سترة الإمام سترة لمن وراءه
    باب :امام کا سترہ اس کے پيچھے کھڑے مقتديوں کا بھي سترہ ہوتا ہے ؛
    عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: «سترة الإمام سترة من وراءه» قال عبد الرزاق: «وبه آخذ، وهو الأمر الذي عليه الناس»
    امام عبدالرزاقؒ نے عبداللہ بن عمر العمري سے روايت کيا ،وہ مشہور تابعي جناب نافعؒ سے روايت کرتے ہيں ،اور نافعؒ سيدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما سے نقل کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا : (نماز باجماعت ميں ) امام کا سترہ مقتدي حضرات کيلئے بھي سترہ شمار ہوگا ،امام عبدالرزاق? فرماتے ہيں اس مسئلہ ميں ہم بھي يہي کہتے ہيں ،اور يہ وہ بات ہے جس پر اہل علم کا اتفاق ہے "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مصنف عبدالرزاقؒ کي يہ روايت حسن درجہ کی ہے ،
    امام عبدالرزاقؒ نے يہ حديث جناب أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب القرشى العدوى سے سني ،
    علامہ ذہبیؒ سیر اعلام النبلاء میں ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :
    عبد الله بن عمر بن حفص بن عاصم العدوي (4، م، تبعا)
    ابن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، المحدث،الإمام، الصدوق، أبو عبد الرحمن القرشي، العدوي، العمري، المدني، أخو عالم المدينة عبيد الله بن عمر، وأخويه: عاصم، وأبي بكر.
    ولد: في أيام سهل بن سعد، وأنس بن مالك.
    وحدث عن: نافع العمري، وسعيد المقبري، ووهب بن كيسان، والزهري، وأبي الزبير، وأخيه؛ عبيد الله بن عمر، وجماعة.
    حدث عنه: وكيع، وابن وهب، وسعيد بن أبي مريم، والقعنبي، وإسحاق بن محمد الفروي، وأبو جعفر النفيلي، وأبو نعيم، وعبد العزيز الأويسي، وأبو مصعب الزهري، وعدد كثير.
    وكان: عالما، عاملا، خيرا، حسن الحديث.
    قال أحمد بن حنبل: لا بأس به.
    وقال يحيى بن معين: صويلح.
    وكان يحيى القطان لا يحدث عنه، وكان عبد الرحمن يحدث عنه.
    وقال ابن المديني: ضعيف.
    قال أحمد: كان رجلا صالحا، وكان يسأل في حياة أخيه عن الحديث، فيقول: أما وأبو عثمان حي فلا.
    ثم قال أحمد: كان يزيد في الأسانيد ويخالف.
    وقال النسائي: ليس بالقوي.

    عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب قرشی ،عدوی ،عمری
    امام ،محدث ،صدوق تھے ،اور مدینہ منورہ کے نامور عالم جناب عبیداللہ بن عمر رحمہ اللہ کے بھائی تھے ، مشہورصحابی سیدنا سہل بن سعد ،اور سیدنا اس بن مالک رضی اللہ عنہما کی زندگی میں پیدا ہوئے ،
    اور اس وقت کے نامور تابعین جناب نافعؒ العمری ،سعید المقبریؒ ، امام الزہریؒ ،وھب بن کیسانؒ ،اور دیگر کئی اکابر سے حدیث کا سماع کیا ،
    آپ مشہور عالم باعمل ،اور جید محدث تھے ،
    ائمہ محدثین کے ہاں عبداللہ بن عمرؒ درمیانے درجہ کے راوی ہیں ، امام احمد بن حنبلؒ ان کے متعلق "لا باس بہ " اور امام یحیی بن معینؒ انہیں "صویلح " کہتے ہیں ،جوکم درجہ کے راوی کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے ،
    جبکہ امام علی بن مدینیؒ انہیں ضعیف کہتے ہیں ، اور امام نسائیؒ انہیں "لیس بالقوی " یعنی قوی نہیں ،کہتے ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 29، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام کا سترہ مقتدیوں کیلئے کافی ہوتا ہے ؛

    عن عبد الله بن عباس، ‏‏‏‏‏‏انه قال:‏‏‏‏ "اقبلت راكبا على حمار اتان وانا يومئذ قد ناهزت الاحتلام، ‏‏‏‏‏‏ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بمنى إلى غير جدار، ‏‏‏‏‏‏فمررت بين يدي بعض الصف، ‏‏‏‏‏‏فنزلت وارسلت الاتان ترتع، ‏‏‏‏‏‏ودخلت في الصف فلم ينكر ذلك علي احد".
    صحیح بخاری 493
    سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھی۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔

    اور صحیح مسلم میں ہے
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى» فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ "
    سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں صف کے (بعض حصے کے آگے سے ) گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔

    علامہ نوویؒ شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
    وفي هذا الحديث أن صلاة الصبي صحيحة وأن سترة الإمام سترة لمن خلفه
    "اس حدیث شریف میں اس بات کی دلیل ہے کہ بچے کی نماز درست ہے، اور امام کا سترہ ہی مقتدیوں کا سترہ ہے''
    اور حافظ ابن حجرؒ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
    وَقَالَ بن عبد الْبر حَدِيث بن عَبَّاسٍ هَذَا يَخُصُّ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ مَخْصُوصٌ بِالْإِمَامِ وَالْمُنْفَرِدِ فَأَمَّا الْمَأْمُومُ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لحَدِيث بن عَبَّاسٍ هَذَا قَالَ وَهَذَا كُلُّهُ لَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ
    اندلس کے مشہور محدث امام ابن عبد البر ؒنے کہا : حضرت ابن عبا س کی اس حدیث سے حضرت ابو سعید کی اس حدیث کی تخصیص ہو جاتی ہے جس میں آیا ہے:"جب تم میں سے کوئی نماز ادا کر رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گذرنے نہ دے'' یہ حکم امام اور منفرد ( تنہا پڑھنے والے )کے حق میں ہے، رہی مقتدی کی بات تو اگر اس کے آگے سے کوئی گزرے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور اس بات کی دلیل حضرت ابن عباس کی یہی حدیث ہے، مزيد فرماتے ہیں: "اور ان مسئلوں میں علمائے کرام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے " (یعنی یہ اتفاقی مسئلہ ہے )".

    عن ابي الصهباء، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ تذاكرنا ما يقطع الصلاة عند ابن عباس، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ "جئت انا وغلام من بني عبد المطلب على حمار، ‏‏‏‏‏‏ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي، ‏‏‏‏‏‏فنزل ونزلت وتركنا الحمار امام الصف فما بالاه، ‏‏‏‏‏‏وجاءت جاريتان من بني عبد المطلب فدخلتا بين الصف فما بالى ذلك".
    ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہو گئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔
    سنن ابی داود 716،سنن النسائی/القبلة ۷ (۷۵۵)، (تحفة الأشراف: ۵۶۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۳۵) (صحیح )

    عن عمرو بن شعيب، ‏‏‏‏‏‏عن ابيه، ‏‏‏‏‏‏عن جده، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ "هبطنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثنية اذاخر فحضرت الصلاة يعني فصلى إلى جدار، ‏‏‏‏‏‏فاتخذه قبلة ونحن خلفه، ‏‏‏‏‏‏فجاءت بهمة تمر بين يديه فما زال يدارئها حتى لصق بطنه بالجدار ومرت من ورائه"، ‏‏‏‏‏‏او كما قال مسدد.
    عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر ۱؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جا سکے، آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
    أبو داود 708، (تحفة الأشراف: ۸۸۱۱، ألف)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/ ۱۹۶))
    [حكم الألباني] : حسن صحيح
    اس حدیث پر امام ابو داودؒ نے باب باندھا ہے :
    بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ
    باب: امام کا سترہ اس کے پیچھے والوں کا بھی سترہ ہوتا ہے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ابن حزمؒ اندلسی فرماتے ہیں :
    الإجماع المتيقن الذي لا شك فيه في أن سترة الإمام لا يكلف أحد من المأمومين اتخاذ سترة أخرى؛ بل اكتفى الجميع بالعنزة التي كان - عليه السلام - يصلي إليها، فلم تدخل أتان ابن عباس بين الناس وبين رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا بين رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وبين سترته
    (المحلی 2/325)

    باجماعت نماز میں امام کا سترہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدی حضرات کو اپنے لیئےمزید سترہ رکھنے کا مکلف نہیں رہنے دیتا ، بلکہ وہی امام کا سترہ ہی سب مقتدیوں کیلئے کافی ہوتا ہے ،یہ ایسا یقینی اجماعی قول و مذہب ہے جس میں کوئی شک نہیں ، حدیث میں ثابت ہے کہ نبی مکرم ﷺ ایک برچھے کو سترہ بنا کر نماز پڑھاتے ، اور سب نمازیوں کیلئے اسی ایک سترے پر اکتفا کرتے ،
    اور امام ابو عمر ابن عبدالبرؒ (المتوفى: 463هـ) لکھتے ہیں :

    اور امام بخاریؒ اپنی کتاب "الصحیح " میں باب باندھتے ہیں :
    بَابُ سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ
    امام کا سترہ اس کے مقتدیوں کے لئے کافی ہے ،
    اس کے تحت حدیث درج کی ہے :
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی إِلَی غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ ))
    سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنی گدھی پر سوار آیا، اس وقت میں قریب البلوغ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دیوار کے علاوہ کسی دوسری چیز کا سترہ (آڑ) قائم تھی، میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سواری کی حالت میں گذر گیا اور پھر اتر کر گدھی کو میں نے چھوڑ دیا، تو وہ چرنے لگی اور میں خود (نماز) کی صف میں شامل ہوگیا (لیکن میرے اس فعل کو دیکھ کر) کسی نے مجھے منع نہ کیا۔
    (صحیح بخاری 493 )

    حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ خَرَجَ اِلَيْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَأُتِيَ بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرَّانَ مِنْ وَرَائِهَا »
    ترجمہ :
    عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے، کہ دوپہر کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وضو کا پانی حاضر کیا گیا، آپ نے وضو فرمایا اور ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نیزہ قائم کردیا گیا تھا، عورت اور گدھے اس کے پیچھے سے گذر رہے تھے۔
    (صحیح بخاری )


    امام ترمذیؒ نے باب باندھا ہے :
    بَابُ مَا جَاءَ فِي سُتْرَةِ المُصَلِّي
    نمازی کا سترہ
    عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُبَالِي مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ»،
    وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَعَائِشَةَ،
    «حَدِيثُ طَلْحَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»
    " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ، وَقَالُوا: سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ "

    ترجمہ :
    موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھ لے اور پرواہ نہ کرے اس کی جو اس کے آگے سے گزر جائے »
    اس باب میں سیدناابو ہریرہ ،سیدناسہل بن ابو حثمہ ،سیدنا ابن عمر ،سیدناسبرہ بن معبد ابو جحیفہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ سے بھی روایت ہے ؛
    امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ فرماتے ہیں : اس باب میں مذکورحدیثِ طلحہ حسن صحیح ہے ، اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ امام کا سترہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کے لئے کافی ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 30، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    عبد اللہ بن عمر العمری تو مشہور ضعیف الحفظ راوی ہیں، اس لیے حدیث دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ کے درجہ میں ہوگی، اور غالبا اس مسئلے میں کسی کا کوئ اختلاف بھی نہیں، محدثین کی تبویب وغیرہ بھی اسی کے مطابق ہے، اور عبد الرزاق اور ترمذی وغیرہ کا اتفاق نقل کرنا بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں