1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سردی اور گرمی

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از اعظم بنارسی, ‏جنوری 04، 2018۔

  1. ‏جنوری 04، 2018 #1
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک حدیث کے مطابق سردی اور گرمی جھنم کے سانس کا نتیجہ ہے(آمناوصدقنا) لیکن سوال پیداہوتاہےکہ پھر مختلف جگہوں پر مختلف موسم کیوں کہیں سردی, کہیں گرمی, کہیں مکمل سال بھر سر دی رہتی ہے تو کہیں پورے سال گرمی .؟؟؟
     
  2. ‏جنوری 05، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    سوال انسانی ذہن کے مطابق پیدا ہوتا ہے ، جبکہ سردی گرمی اور جہنم کے سانس لینے کی حقیقت کا تعلق اللہ کی قدرت کے ساتھ ہے ، اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ کاروبار دنیا کس طرح چل رہا ہے ۔
    انسان نے اپنے علم کی بنا پر ایسی چیزوں کی سائنسی توجیہات بھی کی ہوئی ہیں ، لیکن انسان کوسب سے پہلے یہ مقدمہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ اللہ کے ہر کام کی حکمت انسان کو سمجھ آنا ضروری نہیں ۔ کیونکہ بعض دفعہ اس طرح کی چیزوں میں پڑھنے والوں کو جب اپنی عقل کے مطابق قابل اطمینان توجیہ نہیں ملتی ، تو پھر عقل کے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے ، وحی اور قرآن وسنت کا انکار کرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 06، 2018 #3
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    اگرکوئ غیرمسلم اعتراض کرے تو اسے کیسے جواب دیاجائےگا؟؟؟
     
  4. ‏جنوری 06، 2018 #4
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    ﺯﻣﻬﺮﻳﺮ ﺟﻬﻨﻢ .. ﻛﻴﻒ ﻳﺤﺪﺙ ! ؟
    ﻓﻬﺪ ﻋﺎﻣﺮ ﺍﻷﺣﻤﺪﻱ
    ﻫﻨﺎﻙ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻧﺒﻮﻳﺔ ﺻﺤﻴﺤﺔ ﻓﻲ ﻭﺻﻒ ﺟﻬﻨﻢ ﺗﺘﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﻨﺎﻃﻖ ﺑﺎﺭﺩﺓ ﻧﺴﺒﻴﺎ ﻓﻲ ﺟﻮﻓﻬﺎ؛ ﻓﻬﻨﺎﻙ ﻣﺜﻼ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : " ﻧﺎﺭﻛﻢ ﻫﺬﻩ ﺟﺰﺀ ﻣﻦ ﺳﺒﻌﻴﻦ ﺟﺰﺀﺍً ﻣﻦ ﺣﺮ ﺟﻬﻨﻢ " ﻓﻘﺎﻟﻮﺍ : ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺇﻧﻬﺎ ﻛﺎﻓﻴﺔ ﻳﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ . ﻗﺎﻝ : ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻓﻀﻠﺖ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺑﺘﺴﻌﺔ ﻭﺳﺘﻴﻦ ﺟﺰﺀﺍً ﻛﻠﻬﺎ ﻣﺜﻞ ﺣﺮﻫﺎ . ‏( ﺭﻭﺍﻩ ﻣﺴﻠﻢ ﻭﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ !!(
    ... ﺃﻳﻀﺎ ﺛﺒﺖ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﻨﻄﻘﺔ ﺯﻣﻬﺮﻳﺮ ﻣﺜﻠﺠﺔ ﺩﺍﺧﻞ ﺟﻬﻨﻢ ﻳﻌﺬﺏ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻬﺎ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ ﻭﻳﺤﻤﻲ ﻣﻨﻬﺎ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﺑﺤﻴﺚ ‏( ﻻ ﻳﺮﻭﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﺷﻤﺴﺎ ﻭﻻ ﺯﻣﻬﺮﻳﺮﺍ ‏) ..
    ﻛﻤﺎ ﺟﺎﺀ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﻤﻄﻬﺮﺓ ﺍﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ : " ﺍﺷﺘﻜﺖ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﺍﻟﻰ ﺭﺑﻬﺎ ﻓﻘﺎﻟﺖ ﻳﺎﺭﺏ ﺃﻛﻞ ﺑﻌﻀﻲ ﺑﻌﻀﺎ ﻓﺄﺫﻥ ﻟﻬﺎ ﺑﻨﻔﺴﻴﻦ ، ﻧﻔﺲ ﻓﻲ ﺍﻟﺸﺘﺎﺀ ﻭﻧﻔﺲ ﻓﻲ ﺍﻟﺼﻴﻒ ﻓﻬﻮ ﺃﺷﺪ ﻣﺎ ﺗﺠﺪﻭﻥ ﻣﻦ ﺍﻟﺤﺮ ﻭﺃﺷﺪ ﻣﺎ ﺗﺠﺪﻭﻥ ﻣﻦ ﺍﻟﺰﻣﻬﺮﻳﺮ " ‏( ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﻣﺴﻠﻢ !!(
    ... ﻭﺭﻏﻢ ﻏﺮﺍﺑﺔ ‏( ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻭﺍﻟﺰﻣﻬﺮﻳﺮ ﻓﻲ ﻣﻜﺎﻥ ﻭﺍﺣﺪ ‏) ﺇﻻ ﺃﻥ ﺍﻟﻈﺎﻫﺮﺓ ﻻ ﺗﻌﺪ ﻣﺴﺘﺤﻴﻠﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺣﻴﺔ ﺍﻟﻔﻴﺰﻳﺎﺋﻴﺔ .. ﻓﺎﻟﺸﻤﺲ ﺍﻟﺘﻲ ﻧﺮﺍﻫﺎ ﻣﺜﻼ - ﻭﺍﻟﺘﻲ ﺗﻌﺪ ﻧﻤﻮﺫﺟﺎ ﻟﺠﻬﻨﻢ ﺍﻟﺪﻧﻴﺎ - ﺗﻌﺘﻤﺪ ﻋﻠﻰ ﺣﺮﻕ ﺍﻟﻬﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻦ ﻹﻃﻼﻕ ﺍﻟﺤﺮﺍﺭﺓ ﻭﺍﻟﻀﻮﺀ ‏( ﻓﻲ ﻋﻤﻠﻴﺔ ﺗﻌﺮﻑ ﺑﺎﺳﻢ ﺍﻻﻧﺪﻣﺎﺝ ﺍﻟﻨﻮﻭﻱ ‏) . ﻭﻫﺬﺍ ﺍﻻﻧﺪﻣﺎﺝ ﺃﻣﻜﻦ ﺗﺤﻘﻴﻘﻪ ﻋﻠﻰ ﺍﻻﺭﺽ ﻣﻦ ﺧﻼﻝ ﻣﺎ ﻳﻌﺮﻑ ﺑﺎﻟﻘﻨﺎﺑﻞ ﺍﻟﻬﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻨﻴﺔ .. ﻭﺣﻴﻦ ﺃﺟﺮﻳﺖ ﺍﻟﺘﺠﺎﺭﺏ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﻨﻮﻉ ﻣﻦ ﺍﻟﻘﻨﺎﺑﻞ ﻻﺣﻆ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﺀ ﺍﻥ ﻣﺮﻛﺰ ﺍﻻﻧﻔﺠﺎﺭ ﺫﺍﺗﻪ ﻳﺼﺒﺢ ﺑﺎﺭﺩﺍ ﺍﻟﻰ ﺣﺪ ﻛﺒﻴﺮ . ﻓﺤﻴﻦ ﺗﻨﻔﺠﺮ ﺍﻟﻘﻨﺒﻠﺔ ﺍﻟﻬﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻨﻴﺔ ﺗﻨﻄﻠﻖ ﺍﻟﻌﻮﺍﺻﻒ ﺍﻟﻨﺎﺭﻳﺔ ‏( ﻣﻦ ﺍﻟﺪﺍﺧﻞ ﺍﻟﻰ ﺍﻟﺨﺎﺭﺝ ‏) ﻣﺤﺪﺛﺔ ﺗﻔﺮﻳﻐﺎ ﻫﻮﺍﺋﻴﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺮﻛﺰ ﻳﺴﺒﺐ ﺑﺮﻭﺩﺓ ﺷﺪﻳﺪﺓ ﻭﻏﻴﺮ ﻣﺘﻮﻗﻌﺔ ..
    ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺑﺪﻭﺭﻫﺎ ﻋﺒﺎﺭﺓ ﻋﻦ ﻗﻨﺒﻠﺔ ﻫﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻨﻴﺔ ﺿﺨﻤﺔ ‏( ﻣﺴﺘﻤﺮﺓ ﻓﻲ ﺩﻓﻘﻬﺎ ﺍﻻﻧﻔﺠﺎﺭﻱ ‏) ﺗﻨﻄﻠﻖ ﻓﻴﻬﺎ ﻋﻮﺍﺻﻒ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻣﻦ ﺍﻟﺪﺍﺧﻞ ﻟﻠﺨﺎﺭﺝ ﻓﺘﺨﻠﻖ ﺩﺍﺧﻠﻬﺎ ﻣﻨﻄﻘﺔ ﺗﻔﺮﻳﻎ ﺩﺍﺋﻢ . ﻭﻫﺬﺍ ﺍﻟﺘﻔﺮﻳﻎ ﺍﻟﺪﺍﺋﻢ - ﻓﻲ ﺟﻮﻓﻬﺎ - ﻳﺸﻜﻞ ﻣﻨﻄﻘﺔ ﺑﺎﺭﺩﺓ ﻗﺪ ﺗﺼﻞ ﺍﻟﻰ ﺣﺪ ﺍﻟﺰﻣﻬﺮﻳﺮ ﻭﺍﻟﺘﺠﻠﺪ .. ﻓﻤﻦ ﺍﻟﻤﻔﺘﺮﺽ ﺃﻧﻪ ﻛﻠﻤﺎ ﺯﺍﺩ ﺣﺠﻢ ﺍﻻﻧﻔﺠﺎﺭ - ﻭﺍﻟﺘﻔﺮﻳﻎ ﺍﻟﺪﺍﺧﻠﻲ - ﺯﺍﺩﺕ ﺑﺮﻭﺩﺓ ﺍﻟﺠﻮﻑ ﻭﺍﻟﻤﺮﻛﺰ . ﻭﻓﻲ ﺣﺎﻟﺔ ﺍﻟﺸﻤﺲ‏( ﺍﻟﺘﻲ ﻳﺰﻳﺪ ﺣﺠﻤﻬﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻷﺭﺽ ﺏ 13.000.000 ﻣﺮﺓ ‏) ﻗﺪ ﺗﺼﻞ ﺑﺮﻭﺩﺓ ﺍﻟﻤﺮﻛﺰ ﺍﻟﻰ ﺣﺪ ﺗﻜﻮﻥ ﻛﺘﻠﺔ ﺟﻠﻴﺪﻳﺔ ﺻﻠﺒﻪ ﻣﻦ ﺍﻟﻬﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻦ ﺍﻷﺑﻴﺾ ...
    ﻭﻟﻸﻣﺎﻧﺔ ﺃﻗﻮﻝ - ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺨﺒﺮﻧﻲ ﺃﺣﺪ - ﺃﻥ ﻫﺬﻩ ﺍﻟﻔﺮﺿﻴﺔ ﺗﻌﺎﻛﺲ ﺍﻟﺮﺃﻱ ﺍﻟﻌﻠﻤﻲ ﺍﻟﺴﺎﺋﺪ ﺣﺎﻟﻴﺎ ﺑﺨﺼﻮﺹ ﺍﻟﺸﻤﺲ ‏( ﺍﻟﺬﻱ ﻳﺮﻯ ﺃﻥ ﺍﻟﺤﺮﺍﺭﺓ ﻓﻲ ﻣﺮﻛﺰﻫﺎ ﺗﺘﺠﺎﻭﺯ 15 ﻣﻠﻴﻮﻥ ﺩﺭﺟﺔ ﻣﺌﻮﻳﺔ ﻓﻲ ﺣﻴﻦ ﺗﺨﻒ ﻛﻠﻤﺎ ﺻﻌﺪﻧﺎ ﻟﻠﺨﺎﺭﺝ ﺣﺘﻰ ﺗﻨﺨﻔﺾ ﻋﻠﻰ ﺳﻄﺤﻬﺎ ﺍﻟﻰ 5500 ﺩﺭﺟﺔ ﻓﻘﻂ ‏) .. ﻭﻟﻜﻦ ؛ ﻓﻲ ﺣﻴﻦ ﻳﻤﻜﻦ ﺭﺅﻳﺔ ﻭﻗﻴﺎﺱ ﺣﺮﺍﺭﺓ ﺍﻟﺴﻄﺢ ﻭﺍﻟﻬﺎﻟﺔ ﺍﻟﺨﺎﺭﺟﻴﺔ ﻳﺴﺘﺤﻴﻞ ﺍﻟﺘﺄﻛﺪ ﻣﻦ ﺣﺮﺍﺭﺓ ﺍﻟﻤﺮﻛﺰ ﺃﻭ ﻗﻴﺎﺱ ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﺪﺍﺧﻠﻴﺔ ﻓﻴﻬﺎ .. ﺃﺿﻒ ﻟﻬﺬﺍ ﺃﻥ ﺍﻟﺸﻤﺲ - ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﻣﺸﺎﻫﺪ - ﻋﺒﺎﺭﺓ ﻋﻦ ﻛﺘﻠﺔ ﻣﺘﻤﺎﺳﻜﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺎﺭﺝ ﺫﺍﺕ ﺷﻜﻞ ﻛﺮﻭﻱ ﺛﺎﺑﺖ . ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﺑﺎﻃﻨﻬﺎ ﺣﺎﺭﺍً ﻟﻬﺬﻩ ﺍﻟﺪﺭﺟﺔ ﻻﻧﻄﻠﻘﺖ ﺍﻟﻐﺎﺯﺍﺕ ﺍﻟﺴﺎﺧﻨﺔ ‏( ﻧﺤﻮ ﺍﻟﺨﺎﺭﺝ ‏) ﻣﺴﺒﺒﻪ ﺗﻤﺪﺩﻫﺎ ﺑﺸﻜﻞ ﺧﺮﺍﻓﻲ ﺣﺘﻰ ﺗﺘﻼﺷﻰ ﺗﻤﺎﻣﺎ !!
    .. ﻭﻣﺎ ﻳﺠﻌﻞ ﺍﻟﻔﺮﺿﻴﺔ ﺍﻟﺴﺎﺑﻘﺔ ﻣﻘﺒﻮﻟﺔ ﻧﻈﺮﻳﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﻇﻮﺍﻫﺮ ﻛﺜﻴﺮﺓ ﺗﺆﻳﺪﻫﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻷﺭﺽ؛ ﻓﺒﺎﻻﺿﺎﻓﺔ ﻟﻨﻤﻮﺫﺝ ﺍﻟﻘﻨﺒﻠﺔ ﺍﻟﻬﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻨﻴﺔ - ﺍﻟﺘﻲ ﺑﺪﺃﻧﺎ ﺑﻬﺎ ﺍﻟﻤﻘﺎﻝ - ﻳﻼﺣﻆ ﺃﻥ ﺃﻱ ﻛﺘﻠﺔ ﻏﺎﺯﻳﺔ ﺗﺪﻭﺭ ﺣﻮﻝ ﻧﻔﺴﻬﺎ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﺍﻷﻋﺎﺻﻴﺮ ﻳﺼﺒﺢ ﻣﺮﻛﺰﻫﺎ ﺃﺑﺮﺩ ﻣﻦ ﺳﻄﺤﻬﺎ ‏( ﺣﻴﺚ ﻳﻌﻤﻞ ﺍﻟﺘﻔﺮﻳﻎ ﺍﻟﻬﻮﺍﺋﻲ ﻋﻠﻰ ﺗﺒﺮﻳﺪﻩ ‏) .. ﻭﻗﺒﻞ ﺳﻨﻮﺍﺕ ﻗﻠﻴﻠﺔ ﺍﻛﺘﺸﻒ ﺍﻟﻔﻠﻜﻴﻮﻥ ﺍﻥ ﻓﻲ ﺍﻟﻜﻮﻥ ﺳﺤﺎﺑﺎﺕ ﻫﻴﺪﺭﻭﺟﻴﻨﻴﺔ ‏( ﺗﺪﻭﺭ ﺣﻮﻝ ﻧﻔﺴﻬﺎ ‏) ﺛﺒﺖ ﺍﻥ ﻣﺮﻛﺰﻫﺎ ﺍﺑﺮﺩ ﻣﻦ ﺍﻃﺮﺍﻓﻬﺎ ﺑﻜﺜﻴﺮ .. ﺃﻣﺎ ﺍﻟﻤﺎﺀ ﺍﻟﻌﺎﺩﻱ ﻓﻴﻤﻜﻦ ﺃﻥ ﻳﻐﻠﻲ ﻭﻳﺘﺠﻤﺪ ﻓﻲ ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻮﻗﺖ ﺇﺫﺍ ﺗﻤﺪﺩ ﺑﺎﻟﻘﺪﺭ ﺍﻟﻜﺎﻓﻲ ‏( ﺣﻴﻦ ﻳﻜﻮﻥ ﺍﻟﻀﻐﻂ ﺍﻟﻮﺍﻗﻊ ﻋﻠﻴﻪ ﻳﻌﺎﺩﻝ 1 ﺍﻟﻰ 200 ﻣﻦ ﺍﻟﻀﻐﻂ ﺍﻟﺠﻮﻱ !(
    .. ﺇﺫﺍً .. ﺍﻟﻤﻌﻀﻠﺔ ﻗﺪ ﻻ ﺗﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ‏( ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻭﺍﻟﺰﻣﻬﺮﻳﺮ ‏) ﻓﻲ ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﻮﻗﻊ ؛ ﺑﻞ ﻓﻲ ﻋﺠﺰﻧﺎ ﻧﺤﻦ ﻋﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﻧﻘﻴﻀﻴﻦ ﻣﺘﻨﺎﻓﺮﻳﻦ ﻛﺎﻟﻨﺎﺭ ﻭﺍﻟﺠﻠﻴﺪ !
    Fahmadi@alriyadh.co





    کوئی عربی دان بھائی اس پوسٹ کا سلیس ترجمہ کر دے مہربانی ہوگی.
     
  5. ‏جنوری 06، 2018 #5
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں