1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلیمان بن موسی الدمشقی الاموی

'ضعیف رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمد پربھنوی, ‏جولائی 25، 2017۔

  1. ‏جولائی 25، 2017 #1
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    سلیمان بن موسی الدمشقی الاموی پر امام بخاری کی جرح میں کفایت اللہ صاحب کا تعاقب :

    امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
    عندہ مناکیر (الضعفاء للبخاری: ۱۴۸)
    ان کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

    وقال : منکر الحدیث انا لا اروی عنہ شیئا روى سليمان بن موسى باحاديث عامتها مناكير (علل الكبير الترمذي ص 257)
    اور امام بخاری کہتے ہیں سلیمان بن موسی منکر الحدیث ہے میں نے اس سے کچھ بھی روایت نہیں کیا اور ان کے روایت کردہ احادیث اکثر منکر ہوتی ہیں۔

    یعنی امام بخاری کے نزدیک سلیمان بن موسی کے اکثر روایات منکر ہیں اس لیے انہوں نے سلیمان بن موسی سے ایک بھی روایت نہیں لی ۔

    امام ذہبی میزان میں امام بخاری کے قول منکر الحدیث کے تعلق سے نقل کرتے ہیں :
    نقل ابن القطان أن البخاري قال: من قلت فيه (منكر الحديث) فلا تحل رواية حديثه.اهـ(میزان الاعتدال)
    ابن قطان نے نقل کیا امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں میں کہہ دوں کہ یہ منکر الحدیث ہے تو اُس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔''

    کفایت اللہ صاحب نے ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے قول میں تحریف کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کو شیش کی کہ سلیمان بن موسی کی کچھ احادیث میں اضطراب ہوتا ہے
    کفایت اللہ صاحب لکھتے ہیں
    "ابو حاتم الرازی اس کو سچا بتاتے ہوئے اس کی صرف چند روایات میں اضطراب بتلایا ہے۔"(انوار البدر ص 193 تھرڈ ایڈیشن )
    جبکہ ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کا قول کیا ہے دیکھتے ہیں

    قال ابوحاتم: محلہ الصدق وفی حدیثہ بعض الاضطراب(الجرح والتعدیل ج 4 ص 141)
    ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے کہا ان کا مقام صدق ہے البتہ اس کی حدیثوں میں کچھ اضطراب پایا جاتا ہے۔

    ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کےمطابق سلیمان بن موسی کے روایات میں کچھ اضطراب پایا جاتا ہے آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کفایت اللہ صاحب نے کس طرح ہاتھ صاف کیا۔

    یعنی کہ ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ بھی کہتے تھے کہ سلیمان بن موسی کی روایات میں کچھ کمزوری ہوتی ہے۔

    اس کے بعد کفایت اللہ صاحب امام ذہبی کے حوالہ سے احتمال پیش کررہے ہیں کہ ہوسکتا ہے نکارت کے ذمہ دار ان سے اوپر کے راوی ہو۔
    اس کو سمجھنے سسے پہلے ہم امام ذہبی کا قول دیکھ لیتے ہیں وہ کیا کہے رہے ہیں۔۔

    وهذه الغرائب التي تستنكر له يجوز أن يكون حفظها (میزان الاعتدال 2/226)
    اور یہ غریب روایات جس میں سلیمان بن موسی سے نکارت کی بات کی جاتی ہے ممکن ہے ان احادیث کو آپ نے یاد کر رکھا ہو۔

    امام ذہبی کہے رہے ہیں یہ غریب روایات۔۔۔۔۔
    اگر آپ میزان الاعتدال دیکھیں گے تو وہاں سلیمان بن موسی کی تین روایات امام ذہبی نے اس قول سے پہلے نقل کی یعنی یہ غریب روایات وہی ہیں جو امام ذہبی نے نقل کی اور آپ اسی کے تعلق سے کہے رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ روایات ان کو یاد ہو۔

    جبکہ کفایت اللہ صاحب ترجمہ کرتے ہیں ""سلیمان بن موسی کی جن غریب احادیث میں۔۔۔۔۔۔""
    یعنی موصوف "هذه الغرائب" کا معنی "جن غریب روایات" کر رہے رہے ہیں۔
    اور موصوف "جن" کو سلیمان بن موسی کے تمام روایات پر فٹ کررہے ہیں۔۔

    یہ شیخ کفایت اللہ نے دوسرا فراڈ کیا ہے۔۔

    امام ذہبی نے وہی روایات کے بارے میں کہے رہے ہیں جسکا انہوں نے میزان میں تذکرہ کیا جبکہ کفایت اللہ صاحب امام ذہبی کے قول کو سلیمان بن موسی کے تمام روایات پر چسپاں کر رہے ہیں۔
    امام ذہبی کے قول میں تخصیص ہے کہ جو روایات انہوں نے میزان میں سلیمان بن موسی کے نقل کیے ہیں صرف اسی کے بارے میں کہے رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ روایات ان کو یاد ہو۔
    دوسری بات امام ذہبی نے احتمالا کہا ہے اس کو یقینی طور پر کیسے لیا جاسکتاہے
    اگر مان بھی لیں کہ نکارت کے ذمہ دار ان سے اوپر کے راوی ہوں تو سند میں کوئی ضعیف و منکر راوی بھی تو چاہیے جس کے سر یہ مناکیر ڈال سکیں اور اگر سند میں کوئی ضعیف اور منکر راوی نہ ہو تو یہ مناکیر کس کے کھاتے میں جائیں گے ؟؟

    اسی طرح رئیس ندوی صاحب نے بھی غایة التحقيق میں ترجمہ میں فراڈ کیا ہے اور کفایت اللہ صاحب نے انہی کی پیروی کی ہے۔

    امام ذہبی تو اپنی کتاب المغنی فی الضعفاء (ج 1 ص ص 408 رقم 2630) پر امام بخاری کا قول عندہ مناکیر اور امام نسائی کا قول لیس بالقوی ہی نقل کرتے ہیں اور کوئی رد نہیں۔
    اسی طرح دیوان الضعفاء والمتروکین رقم 1783 پر بھی سلیمان بن موسی الاشدق پر یہی دو امام بخاری اور امام نسائی رحمہم اللہ کے اقوال نقل کرتے ہیں اور کوئی توثیق نقل نہیں کرتے۔۔
     
  2. ‏جولائی 25، 2017 #2
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,551
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    آپ نے کہاں کہاں ہاتھ صاف کیا ہے اور کہاں فراڈ کیا ہے قارئین کتاب کھول کر دیکھے گے تو خود سمجھ جائیں گے :)
     
  3. ‏جولائی 25، 2017 #3
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,551
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جمہور محدثین کی توثیق بھی نقل کردیتے
     
  4. ‏جولائی 25، 2017 #4
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    صبر رکہیں۔۔
     
  5. ‏جولائی 26، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم پر بھنوی صاحب ! علمی و تحقیقی اختلاف کرنا چاہیے ، لیکن بہر صورت علماء کرام کے لیے ’ فراڈ ‘ وغیرہ الفاظ سے اجتناب کریں ۔
    فورم پر آزادی تو ہے ، لیکن اب ایسی آزادی کو کیا کرنا ، جہاں علماء کرام آتے ہوئے دم گھٹتا محسوس کریں ۔
    یا اگر آپ واقعتا اس قدر قد کاٹھ رکھتے ہیں ، کہ شیخ رئیس سلفی اور شیخ کفایت اللہ جیسے اہل علم کو فراڈیے اور محرفین کہنا آپ کا حق بنتا ہے ، تو ذرا اپنا تعارف پیش کروادیں ، تاکہ ہمیں کوئی یہ الزام نہ دے کہ آپ کے فورم پر کل کے لونڈے علماء کرام پر زبان درازیاں کرتے ہیں ۔
     
  6. ‏جولائی 27، 2017 #6
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    جی محترم خضر حیات صاحب ہمیں تو یہی الفاظ مناسب لگے اگر آپ کو اس کے علاوہ کچھ الفاظ مناسب معلوم ہوتے ہیں تو آپ تبدیل کر سکتے ہیں میں شکایت نہیں کروں گا یا آپ کو فراڈ معلوم نہیں ہوتا تو بتلا دیجیے کہ کس طرح یہ فراڈ نہیں بلکہ درست ہے میں یہیں پر اسی تھریڈ میں معذرت طلب کروں گا کیونکہ مجھے بھی حساب دینا ہے ۔

    دوسری بات انہوں نے بہی اپنی کتابوں میں بھی فراڈ جیسے الفاظ استعمال کیے جب دوسروں کے خلاف استعمال کریں تب ان کا دم نہیں گھٹتا ۔

    اور یہ ضروری نہیں کہ قد کاٹھ رکھنے والا ہی تحقیقی رد کریں

    اور یہ کل کے لونڈے والی بات تو بالکل نہ کریں کیونکہ میں اگر اس پر کچھ تبصرہ کروں گا تو بات کدھر کی کدھر نکل جائیگی اور میں اس میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا
    ہاں اگر آپ میرے پوسٹ پر تحقیقی رد کریں گے تو بالکل مجھے خوشی ہوگی اور اگر میری کوئی غلطی ہوئی ہوگی تو درست ہوجائیگی۔

    والسلام علیکم
     
  7. ‏جولائی 27، 2017 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اپنا تعارف کروا دیجیے ۔ تاکہ ہمیں آسانی ہو کہ آپ کے ساتھ علما والا رویہ رکھیں یا کوئی دوسرا ۔
     
  8. ‏جولائی 27، 2017 #8
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    سلیمان بن موسی الدمشقی امام ابو احمد الحاکم کی نظر میں :

    امام ابو احمد الحاکم رحمہ اللہ نے کہا :
    في حديثه بعض المناكير (الاسامی والکنی لأبي احمد الحاكم 1/289)
    اس کی حدیثوں میں کچھ مناکیر ہیں

    اس پر کفایت اللہ صاحب کہتے ہیں "یہ بعض مناکیر کی وجہ سلیمان بن موسی نہیں بلکہ ان کے اوپر کا روای ہوسکتا ہے"
    عرض ہے یہ موصوف امکانی بات کررہے ہیں جبکہ امام بخاری نے صاف الفاظ میں سلیمان بن موسی کو منکر الحدیث کہا ہے
    اگرچہ سلیمان بن موسی کے اوپر کا راوی ہو بھی تو سند میں کوئی ضعیف اور منکر راوی بھی تو ہونا چاہیے جس کے سر یہ مناکیر ڈالے جاسکے اور اگر کوئی نہ ہو تو یہ سلیمان بن موسی کے کھاتے میں ہی جائیں گے۔

    موصوف آگے لکھتے ہیں" جیسا کہ امام ذہبی نے صراحت کی"
    ہم نے ماقبل میں امام بخاری کی جرح میں دیکھا کہ امام ذہبی نے یہ کہا کہ
    يجوز أن يكون حفظها (میزان الاعتدال 2/226)
    ہوسکتا ہے وہ مناکیر سلیمان بن موسی نے یاد کر رکھے ہو۔
    یہ بات امام ذہبی نے ان خاص روایات کے تعلق سے کہی ہے جس کا انہوں نے میزان میں تذکرہ کیا۔

    امام ذہبی کی اس بات کو علی الاطلاق سلیمان بن موسی کے تمام روایات پر لینا درست نہیں۔
    اللہ اعلم۔
     
  9. ‏جولائی 27، 2017 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    محترم احمد بهائی

    مختصر سا تعارف پیش کرنے میں حرج ہی کیا هے !
     
  10. ‏جولائی 28، 2017 #10
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی رکن
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    سلیمان بن موسی امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کی نظر میں :

    قال ابوحاتم: محلہ الصدق وفی حدیثہ بعض الاضطراب(الجرح والتعدیل ج 4 ص 141)
    ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے کہا ان کا مقام صدق ہے البتہ اس کی حدیثوں میں کچھ اضطراب ہے۔

    اس جرح پر کفایت اللہ صاحب تبصرہ کرتے ہہیں کہ
    " امام ابو حاتم نے صرف ان کی بعض حدیثوں میں اضطراب بتلایا ہے یعنی ان کی اکثر احادیث صحیح و سالم ہیں"

    پہلے ہم امام ابو حاتم کے قول پر نظر ڈالتے ہیں کہ امام ابو حاتم سلیمان بن موسی کے تعلق سے کیا فرمارہے ہیں
    وفی حدیثہ بعض الاضطراب
    ان کے حدیثوں میں کچھ اضطراب ہے
    یعنی امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے مطابق ان کی حدیثوں میں اضطراب ہے نہ کہ ان کی بعض حدیثوں میں۔
    کفایت اللہ صاحب جسطرح ترجمہ کررہے ہیں اس کے لیے اسطرح قول ہوگا
    وفی بعض حدیثہ الاضطراب
    یعنی ان کی بعض حدیثوں میں اضطراب ہے۔
    کفایت اللہ صاحب کو اپنے مفہوم کے مطابق ترجمہ کرنا تھا اس لیے انہوں نے اس کے مطابق ترجمہ کیا۔ہم اس کے لیے کچھ مثالیں دیتے ہیں جس سے یہ آپ کو سمجھنے میں مدد ملیگی یہ بات بچہ بھی سمجھتا پہر بھی ہم یہاں وضاحتا نقل کردیتے ہیں۔

    1-قال العقيلي : أيوب بن محمد
    يهم في بعض حديثه (الضعفاء الکبیر للعقيلي 1/116)
    یہ اپنی بعض روایات میں وہم کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    2-قال ابن عدی :سليمان بن أبي سليمان
    في بعض رواياته مناكير (الكامل في الضعفاء الرجال رقم :739)
    اس کی بعض روایات منکر ہیں۔

    3-وقال البخاري: سويد بن عبدالعزيز
    في بعض حديثه نظر.(الميزان 2/252)
    اس کی بعض روایات میں نظر ہے۔

    4-ابن عدی نے کہا: ’’وفی بعض حدیثه نکرۃ‘‘
    اور اس کی بعض حدیثوں میں منکر روایات ہیں۔ (الکامل 3/1004)

    اب آپ بالکل سمجھ گئے ہوں گے اور اس سے آپ یہ بھی اندازہ لگا رہے ہوں گے کہ یہ موصوف کسقدر ہاتھ صاف کرنے میں ماہر ہیں۔

    اس کے بعد کفایت اللہ صاحب لکھتے ہیں "اصول حدیث کا بنیادی قانون ہے کہ غالب حالت کا ہی اعتبار ہوتا ہے اس لیے غالب حالت کے اعتبارسے ان کی احادیث صحیح و سالم ہیں۔"

    موصوف اپنا مان مانی ترجمہ کر کے اصول حدیث کے قانون سے خطرناک دھوکہ دے رہے ہیں جبکہ ترجمہ ہی غلط ہے تو کہاں سے غالب حالت اور کہاں سے سلیمان بن موسی کی احادیث صحیح وسالم۔

    معلوم ہوا سلیمان بن موسی ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے نزدیک محلہ صدق تو ہے اور ساتھ میں ان کی حدیثوں میں کمزوری کے بھی قائل ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں