1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سموگ کیا ہے قرآن پاک میں اس بارے میں کیا حکم ہے ایسی باتیں جو آپ نہیں جانتے

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏نومبر 11، 2017۔

  1. ‏نومبر 11، 2017 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    سموگ کیا ہے قرآن پاک میں اس بارے میں کیا حکم ہے ایسی باتیں جو آپ نہیں جانتے

    سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتائی جا رہی ہیں. کوئی کہہ رہا ہے یہ انڈیا والوں نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی ہوئی ہے جس کے باعث ہے. کوئی اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ کہہ رہا ہے.۔

    اور کوئی اسے بڑھتی ہوئی انڈسٹریل آلودگی. لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ جنگ عظیم دوم ویت نام میں چلنے والے نیپام بم (ایسا بم جو وار ہیڈ کے پانچ سو میٹر میں آگ لگا سکتا تھا) ایسی آلودگی اور سموگ کیوں نہ پھیلا سکا. "اندازہ کیجیے" پانی کا نقطہ کھولاؤ 100 درجہ حرارت ہے جبکہ نیپام بم 800 سے 1200 درجہ حرارت کی آگ برساتا ہے اور آگ لگنے کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ جس کی لپیٹ میں آنے والے انسان جانور اور املاک منٹوں میں راکھ اور دھوؤیں کا ڈھیر ہو جاتے. نیپام بم کا وہ دھواں جس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور نفتھینک پلمیٹک تیزآب اور بہت سے آگ پکڑنے والے زہریلے مادے ہوتے تھے ایسا سموگ پیدا نہ کر سکے.۔

    کیوں آج کل میڈیا پر لوگ دنیاوی چیزوں سے اسے تشبیع دے کر ڈرا رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہمیں "آلودگی" اور "انڈیا" سے تو ڈرایا جا رہا ہے. مگر "اللہ" اور اس کے فرامین کے بارے ہم نابلد ہیں. ہم قرآن کو بھلا چکے ہیں ورنہ آج ہم کو انڈیا کی لگائی آگ سے زیادہ فکر اللہ کی طرف سے دہکائی گئی جہنم کی ہوتی.۔

    اللہ نے سورۃ الدخان میں فرمایا.

    فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍo يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌo

    سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان ظاہر دھواں لائےo جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہےo
    سورۃ الدخان 44، آیت 10-11

    "یاد کرو" گزشتہ سال 2016 بھی یہی عذاب تھا مگر کچھ عرصہ کیلئے ٹال دیا گیا. اور اس عذاب میں بیماریاں اور حادثات ہیں. تب بھی ہم نہیں سمجھ رہے.۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے..!

    إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ
    ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی کرنے والے ہو۔
    سورۃ الدخان 44، آیت 15

    "اور غور کرو" آج پھر ہم اس عذاب میں کس طرح مبتلا ہو چکے ہیں. مگر پھر بھی ہمیں ماسک لگا کر بچ نکلنے کی فکر ہے نہ کہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے ڈھانپنے کی. ہو سکے تو اپنا محاسبہ کریں اور تمام اہلِ اسلام کیلئے دعا کریں. اللہ سب کو ہدایت دے اور اہلِ اسلام کو پھر سے یکجا کر دے

    ایڈمن دیرنامہ بلاگ، 10/11/2017
     
  2. ‏نومبر 12، 2017 #2
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم کنعان بھائی
    السلام علیکم

    کیا سندھ میں نہایت نیک اور پارسا لوگ ہیں جو یہ عذاب یہاں نہیں آرہا ۔
    کوئی بھی ایسی چیز جس کی کوئی سائنسی منطق یا تو جیہ ہو اس کو قران کریم یا حدیث سے ثابت نہیں کرنا چاہیے۔ قرب قیامت کی نشانیوں کو مختلف عالمی واقعات اور شخصیات کے تحت کئی کتابوں میں پیش کیا گیا۔ لیکن کوئی ایک چیز بھی ثابت نہیں ہوسکی ۔ برمودا پر کتابوں کی بھر مار ہے جس میں سائنسی اور دینی دونوں طرح کے دلائل ہیں لیکن حقیقت اللہ رب العزت کو ہی پتا ہے ۔
    جن لوگوں کے ضمیر سوئے ہوئے ہوتے ہیں ان پر کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا۔ ٹرینوں کے خونی حادثوں سے عبرت پکڑنے کے بجائے لوٹ مار ہوئی۔ کشمیر اور پاکستان کے قیامت خیز زلزلے میں بھی لوگوں نے اپنے کاروبار چمکائے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں