1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (ہاتھ باندھنا)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏فروری 24، 2016۔

  1. ‏مارچ 22، 2016 #21
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! ایک نارمل جسامت کا حامل بھی مسنون طریقہ سے ہاتھ باندھنے تو سینہ پر لے جانا بہت دشوار ہے۔
    اگر وہ لے بھی جائے تو یہ ہیئت بننا لازم ہے؛
    Untitled.jpg

    کہنیاں کندھوں سے باہر نکل آئیں گی اور کندھے سے کندھا ملانا ممکن نہ رہے گا۔
     
  2. ‏مارچ 22، 2016 #22
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18


    عبد الرحمٰن بھائی غور کریں اس صورت میں کندھے سے کندھے ازخود مل ضاتے ھیں بشرطیکیہ

    عبد الرحمٰن بھائی غور کریں اس صورت میں کندھے سے کندھے ازخود مل جاتے ھیں
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  3. ‏مارچ 22، 2016 #23
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    [​IMG]

    عبد الرحمٰن بھائی غور کریں اس صورت میں کندھے سے کندھے ازخود مل جاتے ھیں
     
  4. ‏مارچ 22، 2016 #24
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    [​IMG]
     
  5. ‏مارچ 22، 2016 #25
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    [​IMG]
     
  6. ‏مارچ 22، 2016 #26
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    [​IMG]
     
  7. ‏مارچ 22، 2016 #27
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس میں کوئی لمبے چوڑے دلائل کی ضرورت نہیں عملاً کرکے دیکھ لیں۔ بائیں ہاتھ کو گٹ سے پکڑیں اور ان کو ناف سے اوپر لیتے آئیں۔ آپ کی کہنیاں باہر کی طرف نکلنا شروع ہو جائیں گی۔ کہنیاں کا باہر کی طرف نکلنا اس وقت انتہا کو پہنچ جائے گا جب دونوں کلائیاں سیدھ میں آ جائیں گی۔ مزید اوپر کی طرف لے جانا شروع کر دیں تو کہنیاں تو اندر کو ہونا شروع ہوجائیں گی مگر سیدھے ہاتھ سے الٹے کو گٹ سے پکڑے رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ آزمائش شرط ہے
     
  8. ‏مارچ 22، 2016 #28
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    عبد الرحمٰن بھائی پھر وہی بات؟؟ آپ نے تصویر دکھائی، اور اعتراض کیا، میں نے وضاحت کردی، اب آپ میری طرف سے پوسٹ کی گئی تصاویر میں سے اپنا اعتراض واضح کریں....
    ایسا کرلیں تو ایسا ھوگا، ویسا کرلیں تو ویسا ھوگا، تصاویر دیکھنے کے بعد بھی ایسا کہنا یہ آپکی ضد ھے_________
    دوسری بات، کندھوں سے کندھے پیر سے پیر ملانے پر جو حدیث ھیں کہا احناف ان کو مانتے ھیں؟ کیا احناف کا اپنا عمل ھے؟؟

    تیسری بات: رسول اللہ جب سجدہ کرت تو بغل کی سفیدی تک ظاھر ھوجاتی (مفہوم حدیث)، کیا جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ھوئے بغل کو اتنا کھول سکتے ھیں آپ؟؟؟ کیا بعض اوقات جگہ کی تنگی کی بناء پر ہاتھ بغل سے باالکل چپک نہیں جاتے؟؟؟؟؟؟؟؟

    تو بھائی حدیث کو آپ اپنے منطق یا صرف اپنے تجربے سے رد کرنا چاھتے ھیں تو آپکی مرضی______ آپ کے تجربے کا رد اوپر پوسٹ کی گئی تصاویر میں واضح ھے
     
  9. ‏مارچ 22، 2016 #29
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس تصویر جو چیز مشاہدہ والی ہے اسے بغور دیکھئے گا؛
    نمبر ایک کندھے سے کندھا ملانے کے لئے ان کی کہنیاں ایک دوسرے کے اپر چڑھی ہوئی ہیں۔
    نمبر دو ان میں سے اکثر نے سنت کے مطاق ہاتھوں کو نہیں باندھا ہؤا۔
    نمبر تین صف میں سینے آگے پیچھے ہو چکے ہیں کہنیوں کے باہر نکلنے کے سبب۔

    اس تصویر میں امام نے جس طرح ہاتھ باندھ رکھے ہیں وہ کسی بھی حدیث کے مطابق نہیں ہیں۔ مقتدیوں نے بھی خلافِ سنت ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔
     
  10. ‏مارچ 22، 2016 #30
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جب آپ کی نظر میں ناف کے نیچے سنت ھوگا تو یہی حال ہوگا______
    باقی بچوں نے باالکل صحیح ہاتھ بھی باندھے ھوئے ھیں اور صف کی ھیئت بھی بہترین ھے______!!!!!


    یہ بچے ایکدوسرے پر چڑھے ہوئے نظر آرھے ھیں آپ کو؟
    بچوں نے ہاتھ باندھنے میں کہاں غلطی کی ھے؟؟

    آپ نے جواب نہیں دیا....
    احناف کندھے سے کندھا پیر سے پیر ملانے کی قائل ھے یا نہیں؟ اگر قائل ھے تو کس دلیل سے؟؟ اور احناف کا اس پر اپنا عمل کیوں نہیں؟

    احناف کی عورتیں سینے پر ہاتھ کس دلیل سے باندھتی ھیں؟ اور ہاتھ سینے پر باندھنے کی جو کیفیت احناف کی عورتوں کی ھے اس کی کیا دلیل ھے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں