1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 06، 2013۔

  1. ‏جولائی 22، 2013 #481
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    5- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُؤْمِنِ يُؤْجَرُ فِي النَّزْعِ
    ۵ - باب: مومن کو موت کی سختی پر اجرو ثواب حاصل ہوتا ہے​


    1451- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ ﷺ مَا بِهَا قَالَ لَهَا: لا تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۸۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱۴) (ضعیف)
    (اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں،جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں،گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے،لیکن رواۃ کے اسقاط سے تدلس التسویۃ کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کردیا ہو، ملاحظہ ہو: تہذب الکمال: ۳۱/۹۷)
    ۱۴۵۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھُٹ رہا تھا، جب نبی اکرم ﷺنے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: '' تم اپنے رشتہ دارپر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے '' ۔


    1452- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ >۔
    * تخريج: ت/الجنائز ۱۰ (۹۸۲)، ن/الجنائز ۵ (۱۸۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۹۲)، وقد أخرجہ: (حم ۵/۳۵۰، ۳۵۷، ۳۶۰) (صحیح)
    ۱۴۵۲- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے '' ۱؎ ۔
    وضاحت ۱ ؎ : یعنی مومن موت کی شدت سے دوچار ہوتا ہے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پالیتی ہے کہ وہ حلال رزق اور فرائض کی ادائیگی کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔


    1453- حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ كَرْدَمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى؛ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَتَى تَنْقَطِعُ مَعْرِفَةُ الْعَبْدِ مِنَ النَّاسِ؟ قَالَ: < إِذَا عَايَنَ >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱۵) (ضعیف جدًا)
    (اس میں نصربن حماد ہے، جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے)
    ۱۴۵۳- ابوموسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ''جب وہ (موت کے فرشتوں کو) دیکھ لیتا ہے '' ۔
     
  2. ‏جولائی 22، 2013 #482
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    6- بَاب مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ
    ۶ - باب: (روح قبض ہوجانے کے بعد ) میت کی آنکھیں بند کردینے کا بیان​


    1454- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ، تَبِعَهُ الْبَصَرُ >۔
    * تخريج: م/الجنائز ۴ (۹۲۰)، د/الجنائز ۲۱ (۳۱۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۰۵)، حم (۶/۲۹۷) (صحیح)
    ۱۴۵۴- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے بند کردیا، پھر فرمایا: ''جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے '' ۱؎ ۔
    وضاحت ۱ ؎ : مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھرآنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے، واللہ اعلم۔


    1455- حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ، فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۵) (حسن)
    (الصحیحہ : ۱۰۹۲)
    ۱۴۵۵- شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: '' جب تم اپنے مُردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کردو، اس لئے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں '' ۔
     
  3. ‏جولائی 22، 2013 #483
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    7- بَاب مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ
    ۷ - باب: میت کے بوسہ لینے کا بیان​


    1456- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ۔
    * تخريج: د/الجنائز ۴۰ (۳۱۶۳)، ت/الجنائز ۱۴ (۹۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳، ۵۵، ۲۰۶۷) (صحیح)
    (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی، رقم: ۴۹۵)
    ۱۴۵۶- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے عثمان بن مظعو ن رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے گال پہ بہہ رہے تھے ۲؎ ۔
    وضاحت ۱ ؎ : عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ''ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے''، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے ،اور نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا ، رضی اللہ عنہ وأرضاہ۔
    وضاحت ۲ ؎ : اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع وفزع (بے صبری ) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا،یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بے صبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں،اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کردیا گیا ہے۔


    1457- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ مَيِّتٌ۔
    * تخريج:خ/المغازي ۸۳ (۴۴۵۵، ۴۴۵۶)، الطب ۲۱ (۵۷۰۹)، ت/الشمائل ۵۳ (۳۷۳)، ن/الجنائز ۱۱ ۱۸۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۶۰، ۱۶۳۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۵) (صحیح)
    ۱۴۵۷- عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کا بوسہ لیا، اور آپ کی وفات ہوچکی تھی ۔
     
  4. ‏جولائی 22، 2013 #484
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    8- بَاب مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ
    ۸ - باب: میت کو غسل دینے کا بیان​


    1458- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ: < اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي »، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: < أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ >.
    * تخريج: خ/الوضوء ۳۱ (۱۶۷)، الجنائز ۸ (۱۲۵۳)، ۹ (۱۲۵۴)، ۱۰ (۱۲۵۵)، ۱۱ (۱۲۵۶)، ۱۲ (۱۲۵۷)، ۱۳ (۱۲۵۸)، ۱۴ (۱۲۶۰)، ۱۵ (۱۲۶۱)، ۱۶ (۱۲۶۲)، ۱۷ (۱۲۶۳)، م/الجنائز ۱۲ (۹۳۹)، د/الجنائز ۳۳ (۳۱۴۶۳۱۴۲)، ن/الجنائز ۲۸ (۱۸۸۲)، ۳۰ (۱۸۸۴)، ۳۶ (۱۸۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۹۴)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۱۵ (۹۹۰)، ط/الجنائز ۱ (۲)، حم (۶/۴۰۷،۴۰۸، ۵/۸۴، ۸۵، ۴۰۷) (صحیح)
    ۱۴۵۸- ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو ۱؎ ، اور اخیر بار کے غسل میں کافور -یا کہا: تھوڑا سا کافور- ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو‘‘،لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر کی،آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ’’اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو ‘‘ ۲؎۔
    وضاحت ۱؎ : بیری کا پتہ استعمال کرنا مستحب ہے کیونکہ وہ میل کچیل کو صاف کرتا ہے، کیڑوں کو دفع کرتا ہے، اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔
    وضاحت ۲؎ : شعار یعنی (اندر کا کپڑا) عربی میں اس کو کہتے ہیں جو کپڑا جسم سے لگا رہے، بطور تبرک آپ ﷺ نے اپنا کپڑا ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو دیا، اور اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ غسل میں کافور ملانا بھی مستحب ہے، بہتر یہ ہے کہ اخیر بار جو غسل دیں اس میں کافور ملاہوا ہو، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔


    1459- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ: <اغْسِلْنَهَا وِتْرًا>، وَكَانَ فِيهِ: < اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا >، وَكَانَ فِيهِ: < ابْدَئُوا بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْهَا >، وَكَانَ فِيهِ: أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: وَمَشَطْنَاهَا ثَلاثَةَ قُرُونٍ۔
    * تخريج: خ/ الجنائز ۹ (۱۲۵۴)، ۱۳ (۱۲۵۸)، م/الجنائز ۱۲ (۹۳۹)، ن/الجنائز ۳۴ (۱۸۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۱۵) (صحیح)
    ۱۴۵۹- اس سندسے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے، اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ ہے کہ: ’’ ان کو طاق بار غسل دو‘‘، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: ’’انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو،اور دائیں طرف کے اعضائِ وضو ء سے غسل شروع کرو‘‘۔
    اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کرکے تین چوٹیاں کردیں‘‘ ۱؎۔
    وضاحت ۱؎ : امام ابن القیم نے کہا کہ بالوں میں سنت یہی ہے کہ ان کی تین چوٹیاں کی جائیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ان کے بالوں کی تین چوٹیاں کردو، ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے ان کا سر گوندھا، دو حصے کرکے دونوں چھاتیوں پر ڈال دیئے۔


    1460- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: < لا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ >۔
    * تخريج: د/الجنائز ۳۲ (۳۱۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴۶) (ضعیف جدًا)
    (بشربن آدم ضعیف ہیں، نیز سند میں دو جگہ انقطاع ہے، ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب اورعاصم کے درمیان، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۲۶۹)
    ۱۴۶۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو ‘‘ ۔
    وضاحت : ۱؎ اس حدیث کو مؤلف نے اس باب میں اس لئے ذکرکیا ہے کہ مردے کو غسل دینے میں اس کی ران نہ کھولیں اور نہ ستر بلکہ کپڑا ستر پر ڈھانپ کر غسل دیں کیونکہ ستر مردہ اور زندہ کا یکسا ں ہے۔


    1461- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لِيُغَسِّلْ مَوْتَاكُمُ الْمَأْمُونُونَ >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱۷) (موضوع)
    (اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں،نیز ان کے شیخ مبشر بن عبید پر حدیث وضع کرنے کی تہمت ہے،ملاحظہ ہو : الضعیفہ : ۴۳۹۵)
    ۱۴۶۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں‘‘ ۔


    1462- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ >۔
    * تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۴، ومصباح الزجاجۃ : ۵۱۸) (ضعیف جدًا)
    (اس کی سند میں عباد بن کثیر ہے جن کے بارے میں امام احمد نے کہا ہے کہ غفلت کے سبب جھوٹی حدیثیں روایت کرتے ہیں، نیز اس کی سند میں عمر و بن خالد کذاب ہے)
    ۱۴۶۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا،اس پہ صلاۃ جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ‘‘۔


    1463- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ >۔
    * تخريج: ت/الجنائز ۱۷ (۹۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۲۶)، وقد أخرجہ: د/الجنائز ۳۹ (۳۱۶۱)، حم (۲/۲۷۲) (صحیح)
    ۱۴۶۳- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے‘‘ ۱؎۔
    وضاحت ۱؎ : یہ حکم مستحب ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ليس عليكم في غسل ميتكم إذا اغسلتموه أن ميتكم يموت طاهرًا، وليس بنجس فحسبكم أن يغسلوا أيديكم‘‘ (جب تم لوگ اپنے میت کو غسل دو،تو تمہارے اوپر کچھ نہیں ہے، سوا ئے اس کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھو لو،کیونکہ تمہارے میت پاک و صاف ہوکر وفات پائے ہیں وہ نجس نہیں ہیں) نیز امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے میت کوغسل دینے سے یا اسے اٹھانے سے غسل کو واجب کہا ہے ۔
     
  5. ‏جولائی 22، 2013 #485
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    9- بَاب مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَغُسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
    ۹ - باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل د ے اس کا بیان​


    1464- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: لَوْكُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَااسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ ﷺ غَيْرُ نِسَائِهِ۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱۹)، وقد أخرجہ: د/الجنائز ۳۲ (۳۱۴۱)، حم (۶/۲۶۷) (صحیح)
    (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن منتقی ابن الجارو د، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحد یث کی صراحت ہے، دفاع عن الحدیث النبوی ۵۳-۵۴، والإرواء : ۷۰۰)
    ۱۴۶۴- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہوگیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم ﷺ کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۱؎ ۔
    وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، او ر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا،اور کسی صحابی نے اس پر نکیرنہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: ’’فتلهفت على ذلك ولا يتلهف إلا على ما يجوز‘‘۔


    1465- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: < بَلْ أَنَا، يَا عَائِشَةُ! وَا رَأْسَاهُ >، ثُمَّ قَالَ: < مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۲۸)، دي/المقدمۃ ۱۴ (۸۱) (حسن)
    ۱۴۶۵- ام ا لمومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہورہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی :’’ہائے سر!‘‘، توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’ بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں‘‘ ۱؎ ، پھرآپ ﷺنے فرمایا: ’’تمہارا کیانقصان ہوگا اگرتم مجھ سے پہلے مرو گی توتمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا،تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری صلاۃ جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا ‘‘ ۔
    وضاحت ۱؎ : یعنی اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔
     
  6. ‏جولائی 22، 2013 #486
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    10- بَاب مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ ﷺ
    ۱۰ - باب: نبی اکرم ﷺ کے غسل کی کیفیت کا بیان​


    1466- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُوبُرْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ ﷺ نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ: لا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَمِيصَهُ۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۱) (منکر)
    (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں)
    ۱۴۶۶- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اکرم ﷺ کا کرتہ نہ اتارو ۔
    وضاحت ۱ ؎ : یعنی آپ ﷺ کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے ۔


    1467- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ ﷺ ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ؛ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ: بِأَبِي الطَّيِّبُ، طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۱۵، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۲) (صحیح)
    (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے )
    ۶۷ ۱۴- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺکو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈ تے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎ ۔
    وضاحت ۱ ؎ : یعنی نجاست وغیرہ ۔
    وضاحت ۲ ؎ : نبی اکرم ﷺ کے مزاج میں اللہ تعالی نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی،آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہوجاتا، اور لوگ پہچا ن لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ ﷺنے شہد کا استعمال کیا ، تو بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کااستعمال اپنے اوپر حرام کرلیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بوہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ قسم اللہ تعالی کی! آپ ﷺ کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت وطہارت اور خوشبوہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک وصاف رکھا، اور جیسے مردوں کے جسم سے کبھی نجاست نکل آتی ہے،آپ کے جسم مبارک سے بالکل نہیں نکلی، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً ۔


    1468- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلُونِي بِسَبْعِ قِرَبٍ، مِنْ بِئْرِي، بِئْرِ غَرْسٍ >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۶۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۳) (ضعیف)
    (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۱۲۳۷)
    ۱۴۶۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: '' جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا '' ۔
     
  7. ‏جولائی 22، 2013 #487
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    11- بَاب مَا جَاءَ فِي كَفَنِ النَّبِيِّ ﷺ
    ۱۱ - باب: نبی اکرم ﷺ کے کفن کا بیان​


    1469- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كُفِّنَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلا عِمَامَةٌ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ جَائُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ، فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ۔
    * تخريج: م/الجنائز ۱۳ (۹۴۱)، د/الجنائز ۳۴ (۳۱۵۲)، ت/الجنائز۲۰ (۹۹۶)، ن/الجنائز ۳۹ (۱۹۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۸۶)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز ۱۸ (۱۲۶۴)، ۲۳ (۱۲۷۱)، ۲۴ (۱۲۷۲)، ۹۴ (۱۳۸۷)، ط/الجنائز ۲ (۵) حم (۶/۴۰، ۹۳، ۱۱۸،۱۳۲،۱۶۵) (صحیح)
    ۱۴۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیاکہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺکو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا ؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ ﷺ کو اس میں نہیں کفنایا ۱؎ ۔
    وضاحت ۱؎ : اس سے معلوم ہو اکہ سفید کپڑا کفن کے لیے بہترہے، یہ بھی معلوم ہواکہ تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ جسے متاخرین حنفیہ اورمالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ بدعت ہے۔


    1470- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُعَيْدٍ، حَفْصِ بْنِ غَيْلانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي ثَلاثِ رِيَاطٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۴) (حسن صحیح)
    ( عائشہ رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عمرو بن ابی سلمہ ضعیف ہیں)
    ۱۴۷۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سحو ل ۱؎ کے بنے ہوئے تین بار یک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے''۔
    وضاحت ۱ ؎ :سحول : یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔


    1471- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ: قَمِيصُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، وَحُلَّةٌ نَجْرَانِيَّةٌ۔
    * تخريج: حدیث یزید بن أبي زیاد عن الحکم تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۸۵)، وحدث یزید بن أبي زیاد عن مقسم أخرجہ، د/الجنائز ۳۴ (۳۱۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۲) (ضعیف)
    (اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
    ۱۴۷۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ۱؎ جوڑے میں۔
    وضاحت ۱ ؎ : نجران : یمن سے متصل سعودی عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، اور نجران مشہور شہر بھی ہے ۔
     
  8. ‏جولائی 22، 2013 #488
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    12- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ
    ۱۲ - باب: کفن کے لئے کون سا کپڑا اچھا اورمستحب ہے؟​


    1472- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ رَجَائٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ فَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَالْبَسُوهَا >۔
    * تخريج: د/اللباس ۱۶ (۴۰۶۱)، ت/الجنائز ۱۸ (۹۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۱، ۲۴۷، ۲۷۴، ۳۶۸، ۳۵۵، ۳۶۳)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: (۳۵۶۶) (صحیح)
    ۴۷۲ ۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کوپہنو ''۔


    1473- حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ ابْنِ أَبِي نَصْرٍ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ >۔
    * تخريج: د/الجنائز ۳۵ (۳۱۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۱۷) (ضعیف)
    (اس کی سند میں أبونصر اور نسی مجہول ہیں)
    ۱۴۷۳- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' بہترین کفن جوڑا ہے ۱ ؎ '' ۔
    وضاحت ۱ ؎ : یعنی تہبند اور چادر ۔


    1474- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ >۔
    * تخريج: ت/الجنائز ۱۹ (۹۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۲۵) (صحیح)
    ۱۴۷۴- ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: '' جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز وتکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ''۔
    وضاحت ۱؎ : اچھے کفن سے مراد کپڑے کی صفائی اورسفیدی ہے،قیمتی کپڑا مرادنہیں، اس لئے کہ قیمتی کفن سے آپ ﷺنے منع فرمایا ہے۔
     
  9. ‏جولائی 22، 2013 #489
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    13- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّظَرِ إِلَى الْمَيِّتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ
    ۱۳ - باب: میت کو کفن میں لپیٹتے وقت دیکھنے کا بیان​


    1475- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ: < لا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى >۔
    * تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۵) (ضعیف)
    (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں)
    ۱۴۷۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرمﷺکے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ''انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں''، پھر آپ ﷺ آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔
     
  10. ‏جولائی 22، 2013 #490
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    14- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّعْيِ
    ۱۴ - باب: موت کی خبر دینے کی ممانعت​


    1476- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بِلالِ بْنِ يَحْيَى قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ، إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ قَالَ: لا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ۔
    * تخريج: ت/الجنائز ۱۲ (۹۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۵، ۴۰۶) (حسن)
    ۱۴۷۶- بلال بن یحیی کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کرجاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نعی ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ان کانوں سے نعی سے منع فرماتے سنا ہے ۔
    وضاحت ۱ ؎ : نعی : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو نعی کہتے ہیں، نعی جائز ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبردی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبر یں بھی آپ نے لوگوں کودی ہیں، جس نعی کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ نعی ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے ، جب کوئی مرجاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں