- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
39- بَاب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ
۳۹-باب: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی اجرت کا بیان
3421- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ- عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ >۔
* تخريج: م/المساقاۃ ۹ (۱۵۶۸)، ت/البیوع ۴۶ (۱۲۷۵)، ن/الذبائح ۱۵ (۴۲۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۴، ۴۶۵، ۴/۱۴۱) (صحیح)
۳۴۲۱- را فع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’سینگی (پچھنا) لگانے والے کی کما ئی بری (غیرشریفانہ) ہے ۱؎کتے کی قیمت ناپاک ہے اور ز انیہ عورت کی کمائی ناپاک( یعنی حرام ) ہے‘‘۔
وضاحت ۱؎ : ’’كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ‘‘ میں خبیث کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے آنے والی حدیث نمبر : (۳۴۲۲) میں حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ ﷺ نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی ، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق ’’ خبیث ‘‘ کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ثوم وبصل (لہسن ، پیاز ) کو خبیث کہا باوجود یکہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے ، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیر شریفانہ ہے ۔
3422- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى أَمَرَهُ: أَنْ أَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَرَقِيقَكَ۔
* تخريج: ت/البیوع ۴۷ (۱۲۷۷)، ق/التجارات ۱۰ (۲۱۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۳۸)، وقد أخرجہ: ط/الاستئذان ۱۰ (۲۸)، حم (۵/۴۳۵، ۴۳۶) (صحیح)
۳۴۲۲- محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت ما نگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برا بر آپ ﷺ سے اس بارے میں پو چھتے اور اجا زت طلب کر تے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کوچارہ کھلاؤ۔
3423- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ،وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۳۹ (۲۱۰۳)، الإجارۃ ۱۸ (۲۲۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۵۱)، وقد أخرجہ: م/الحج ۱۱ (۱۲۰۲)، حم (۱/۳۵۱) (صحیح)
۳۴۲۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سینگی لگوائی ، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی ، اگر آپ اسے حرام جا نتے تو اسے مزدور ی نہ دیتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ دونوں حدیثیں سینگی لگانے کی اجرت کے مباح ہونے پر دال ہیں اور یہی جمہور کا مسلک ہے، رہی ابن خدیج والی روایت تواسے یاتو مکروہ تنزیہی پر محمول کیا جائے یا اسے منسوخ مانا جائے۔
3424- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۳۹ (۲۱۰۲)، ۹۵ (۲۲۱۰)، الإجارۃ ۱۹ (۲۲۷۷)، الطب ۱۳ (۵۶۹۶)، المساقاۃ ۱۱ (۲۳۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۵)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۴۸ (۱۲۷۸)، ق/التجارات ۱۰ (۲۱۶۴)، حم ۳/۱۰۷، ۲۸۲)، دي/البیوع ۷۹ (۲۶۶۴) (صحیح)
۳۴۲۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابو طیبہ نے رسول اللہﷺ کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صا ع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔