1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنی سنائی بات آگے پھیلانا

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از انس, ‏مارچ 06، 2011۔

  1. ‏مارچ 06، 2011 #1
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    محترم اخوان! جب بھی آپ کوئی عبارت کہیں بغیر ریفرنس کے لکھی پائیں تو اس پر کبھی اعتبار نہ کریں۔ کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے:

    فرمان باری ہے:
    ﴿ يأيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا ﴾ ... سورة النساء
    ’’اے ایمان والو! جب اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو شخص تم پر سلام کہے تو اسے (کافر سمجھ کر) یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں۔‘‘

    نیز فرمایا: ﴿ يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ﴾ ... سورة الحجرات
    اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ کرو کہ تم کسی تم جہالت میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔‘‘
    ہمیں دین اسلام میں کوئی بات بغیر تحقیق (اور حوالے) کے خواہ وہ قرآن یا حدیث کا نام لے کر کہی گئی ہو، اسے ماننے اور اسے آگے پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔ بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیں اگر کئی خبر ملے تو ہم اسے علماء کے سامنے پیش کر کے اس کا حکم معلوم کریں۔
    فرمان باری ہے: ﴿ وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ﴾ ... سورة النساء
    یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔

    نیز فرمان نبوی علیہ افضل الصلوات وازکی التسلیم ہے: « كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع » ... صحيح مسلم5
    کہ کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔‘‘

    تو خلاصہ یہ ہے کہ ایسی کسی بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے جب تک کوئی شخص اپنی بات کو قرآن کریم یا صحیح حدیث مبارکہ کے ریفرنس سے ثابت نہ کرے۔

    یہ بات تو سب کو علم ہے کہ ضعیف روایات بھی ہوتی ہیں اور موضوع بھی۔ میری رائے میں کسی بھی بات کو وحی یا شریعت سمجھ کر قبول نہیں کرنا چاہئے خواہ اس کے سامنے (قرآن) یا (حدیث) ہی کیوں نہ لکھا ہو، جب تک اصل سورس کا حوالہ نہ دیا جائے اور اگر وہ بات قرآن یا صحیحین کے علاوہ ہے تو جب تک محدثین سے اس کی صحت اور ضعف کا نقل نہ کیا جائے۔

    واللہ اعلم!
     
    • شکریہ شکریہ x 20
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 09، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,796
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 29، 2011 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,447
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏جولائی 22، 2011 #4
    نجم

    نجم رکن
    جگہ:
    Gujranwala
    شمولیت:
    ‏اپریل 18، 2011
    پیغامات:
    99
    موصول شکریہ جات:
    480
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    جزاک اللہ خیراً کثیراً کثیرا
     
  5. ‏جولائی 23، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,392
    موصول شکریہ جات:
    25,966
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاك الله خيرا
     
  6. ‏جولائی 23، 2011 #6
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,927
    موصول شکریہ جات:
    6,200
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    الحمداللہ! انس نضر حفظہ اللہ تعالیٰ کی یہ پوسٹ تقلید کا زبردست رد ہے۔ عامی ہو یا عالم تحقیق سے کسی کو مفر نہیں۔ عامی کی تحقیق یہ ہے کہ وہ سوال کرنے کے لئے کسی ایسے عالم کا انتخاب کرے جو قرآن و حدیث کا علم رکھتا ہو ناکہ اس جاہل شخص کا جو خود کو مفتی، شیخ الحدیث و عالم کہتا ہو لیکن اس کا اوڑھنا بچھونا فقہ میں وارد شدہ اقوال ہوں۔ پھراس عامی کو چاہیے کہ صحیح عالم کا انتخاب کرنے کے بعد کسی مسئلے میں اس سے قرآن و حدیث کے دلائل دریافت کرے ناکہ اس کی زاتی رائے۔

    کیا ایک عامی یہ معمولی کام بھی سرانجام دینے کے قابل نہیں؟ یہی عامی ہیں جو دنیاوی معاملات میں بہت زیادہ تحقیق کرتے ہیں۔ کیا دین ہی ایسا معاملہ ہے جس میں تحقیق کی بالکل ضرورت نہیں بلکہ اندھی تقلید ہی کفایت کرتی ہے؟؟؟
     
  7. ‏اپریل 19، 2012 #7
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,277
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدنیا ولا آخرت
     
  8. ‏اپریل 19، 2012 #8
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,866
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏دسمبر 21، 2015 #9
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    یہ پوسٹس وٹس ایپ گروپس پر شیئر کرنی چاہئے اور فیس بک وغیرہ پر بھی۔ آج کل جھوٹے قصے کہانیوں اور روایات کا سیلاب سا آیا ہوا ہے۔ کوئی بھی اچھی سی بات یا واقعہ لے کر اس میں انبیاء کو شامل کر کے جزاک اللہ سبحان اللہ کے الفاظ کے ساتھ آگے بلا تحقیق کے شیئر کرتے چلے جاتے ہیں۔
     
  10. ‏دسمبر 21، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,708
    موصول شکریہ جات:
    6,540
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب تو لوگ غلط ریفرنس دے کر بھی غیر مصدقہ باتیں شیئر کر رہے ہیں۔۔
    تو "بغیر ریفرنس" کی بجائے "مصدقہ ریفرنس" یا "مصدقہ بات " یا "متحقق بات" کا لفظ زیادہ بہتر ہے، واللہ اعلم!
    ایک گروپ میں الفاظ میں تبدیلی کر کے شیئر کر دیا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں