1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورج کو چراغ دکھانے کی ناکام کوشش ( حصہ دوم)

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اکتوبر 20، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 20، 2018 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    سورج کو چراغ دکھانے کی ناکام کوشش
    ( حصہ دوم)


    حافظ محمد بلال

    محترم قارئین ! قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں صحابہ کرام  اجمعین کے بے شمار فضائل و مناقب موجود ہیں،انہیں رب العالمین جنت کا مہمان خصوصی بنا چکا ہے۔ دفاع صحابہ ہر سنی کے ایمان کا حصہ ہے،چاہے وہ اہل بیت  ہوں یا دیگر صحابہ کرام۔ اور بفضل اللہ تعالیٰ وعونہ ہم سب صحابہ کا دل کی اتھاہ گہرایوں سے عزت واحترام کرتے اور ان کے مشاجرات کی وجہ سے نہ تو اپنے دلوں کو زنگ آلود کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی زبانوں کو بے لگام، بلکہ ان کے مشاجرات میں خاموشی اختیارکرتے ہیں، جیسا کہ سلف صالحین نے ہم کو اس کا سبق دیا ہے ۔ اس سبق کو پس پشت ڈال کر جداگانہ رائے زنی، جدیدتجزیے وتبصرے اور پھبتیاں اڑانا ایمان کی سلامتی کے لیے انتہائی مضر ہے، لہذا ان پاک باز ہستیوں پر زبان درازی و ہرزہ سرائی تو دور کی بات ان کی تنقیص سوچنے سے بھی کلی طور پر اجتناب واجب است ۔
    سنیت کے لبادے میں چھپے ایک وکیل ِرافضیت اسحاق جھالوی صاحب ہوا کرتےتھے ،جو صحابہ کرام کے بارے انتہائی دریدہ دہن اور بذیء اللسان واقع ہوئے، اپنی ویڈیوز میں صحابہ کرام مثلا ام المومنین صدیقہ کائنات زوجہ محمد رسول اللہ  سیدہ عائشہ  کو نعوذ باللہ "جھوٹی" سیدنا معاویہ  کو بھی "جھوٹا""جعلی سیدنا""کلیجہ چبانے والی کا بیٹا" صحابہ کرام کو"دغا باز ""بدمعاش" "بے غیرت" "بے وقوف" ان کے علاوہ اور بھی انتہائی غلیظ الفاظ استعمال کرتے تھے ، حالانکہ اللہ تعالی نے ان منافقین پر بیوقوفی کی مہر ثبت کر دی جو صحابہ کرام کو بے وقوف کہتے تھے (البقرۃ : 13)
    اسی منہج پر ایک مرزا صاحب بھی گامزن ہیں۔ ان صاحبان سے تو خلافائے ثلاثہ سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان  تک محفوظ نہ رہ سکے۔ ایسے لوگوں کی تحریر وتقریر نے ہمیشہ سے صحابہ کرام  اور اہل حق کے خلاف ہی گمراہوں کے نوالے چبا کر اگلنے کی کوشش کی ہےاور اسی کی غیر محسوس انداز میں امت مسلمہ کو دعوت دینے میں سر گرداں ہیں اور یہی ان کا محبوب مشغلہ بھی ہے ، لہذا ایسے لوگ صحابہ کرام  کی اجتہادی اخطا کی وجہ سے ان پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں اور نجاستوں کو دور کرنے کی فکر کریں ۔
    ع دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے
    علمائے کرام کے مابین دلائل کی بنیاد پرعلمی اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی ہے، لیکن اس اختلاف سے فائدہ اٹھا کر صحابہ کرام کے بارے لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرکے فتنہ پیدا کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے۔
    محدث فورم پر ایک گمنام شخص نے اپنی تحریر بنام '' ابویحییٰ نور پوری کی علمی خیانت یا لاعلمی''لکھی تھی، اعتراضات وہی پرانے تھے جو جھالوی اور جہلمی صاحبان اور روافض اپنی دلی تسکین کے لیے عموما صحابہ کرام کی تنقیص کے لیےکرتے رہتے ہیں، لیکن صاحب تحریر کا انداز ذرا خاموش سا ہے ۔ ہم نے جب اس جواب کی حقیقت کھولی تو جناب کو جواب الجواب لکھنے کی سوجھی، فرماتے ہیں:
    "میری اس تحریر کے جواب میں جو اعتراضات اصول حدیث اور علم الرجال کے حوالے سے اٹھائے گئے ہیں میں صرف ان کا ہی جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں اسی کا جواب دینا مناسب ہے۔"
    سب سے پہلے عرض ہے کہ آنجناب نے انتہائی زوروشور سے اعتراضات کیے تھے کہ سیدنا معاویہ  کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں، شہدائے کربلا کی تعداد کو ثابت کرنے کے لیے انتہائی رکیک تاویلات بھی کی تھیں کہ وہ 72تو نہیں لیکن تقریبا 72ضرور تھے، وغیرہ وغیرہ ، لیکن تازہ تحریر میں انہوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ میرے یہ اعتراضات غلط ہیں ، لیکن مرزا صاحب ابھی تک اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، کیوں کہ سیدنا معاویہ پر جرح کومرزا صاحب اپنے ایمان کا تکملہ اور تتمہ سمجھتے ہیں۔
    کیا صحیح سند کا مطالبہ اصول حدیث سے ہٹ کر تھا؟ کیا اسکی سند صرف مجہول محرر کے ہی علم میں تھی ؟
    کیا حافظ ابن عساکر  نے اسی غیر ثابت قول کے بعد سیدنا معاویہ  کی فضلیت میں تین صحیح احادیث پیش کی ہیں یا نہیں؟اگر کی ہیں تو دوسروں پر خیانت کا اتہام لگا کرخود سیدنا معاویہ  کے فضائل سے چشم پوشی کرنا اس رویےکو کیا نام دیا جائے؟ صد حیف ہے کہ مجہول صاحب تحریر خود تو بڑی معصومیت سے فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں میری غلطی ہے، لیکن دوسرے اگر دلائل سے بھی بات کریں تو موصوف کو "خیانت " نظر آتی ہے (موصوف خود کریں تو "غلطی" اور دوسرے نہ بھی کریں تو "وحی خفی میں خیانت کے مرتکب " ؟؟؟!!!)
    ع جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرئے
    ہمیں اب بھی صاحب سے انصاف کی امید واثق ہےکہ وہ اپنے تسلیم شدہ الزامات کو "غلطی" کی بجائے
    " بہتان" "دجل " یا کم از کم اپنا پسندیدہ لفظ " خیانت " کا نام تو ضرور دیں گے۔

    کیا سیدنا مغیرہ بن شعبہ  نےسیدنا علیکو "سبّ"کیا؟

    أخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار قالا: حدثنا ابن أبي عدي، عن شعبة، عن حصين، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم قال: خطب المغيرة بن شعبة فسب عليا فقال سعيد بن زيد: أشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم لسمعته يقول: «اثبت حراء، فإنه ليس عليك إلا نبي، أو صديق، أو شهيد» وعليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، وطلحة، والزبير وسعد، وعبد الرحمن بن عوف، وسعيد بن زيد هلال بن يساف لم يسمعه من عبد الله بن ظالم (السنن الكبرى للنسائي :8148)
    ہم نے امام نسائی  سے ثابت کیا کہ ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ اور اس حدیث کی عدم صحت پرامام بخاری، عقیلی، ابن عدی اور حافظ ذہبی  کے اقوال بھی پیش۔
    اس پر صاحب تحریر کا ارشاد ہوتا ہے کہ " موصوف نے تقریبا شیخ کفایت اللہ سنابلی کے تھوکے ہوئے چنے چبانے کی کوشش کی ہے۔"
    مودبانہ عرض ہے کہ صاحب تحریر نے شروع میں فرمایا کہ میں صرف اصول حدیث کے اعتراضات کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں، لیکن یہ کون سا اصول حدیث ہے؟ اور ویسے بھی دوغلی پالیسی والے وکیل رافضیت فرقہ واریت کے علمبردار مرزا جہلمی صاحب کا "شہدائے کربلا کے حوالے سے "72" کی لایعنی تاویلات ، اس کی صحت کا دعوی اور سیدنا معاویہ  کے بارے جہلمی کے اعتراض کہ ان کی فضلیت میں کوئی حدیث صحیح نہیں اور اس قول کی صحت کا دعوی کرکے جھوٹا دفاع کرنا بھی مجہول محرر کے "دفاع حدیث" اور "سنیت " کے دعوی کو بطریق احسن واضح کر رہا ہے کہ رافضیت کا تھوکا ہواکون چاٹ رہا ہے۔
    ع ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے
    مذکورہ حدیث کے متعلق حضرت کے خیالات ہیں کہ امام بخاری  کے نزدیک "ابن حیان" کا واسطہ صحیح نہیں اور یہ سند متصل ہے۔
    توعرض ہے کہ امام بخاری  کے قول "ولم یصح" کا واضح مطلب ہے یہ حدیث صحیح نہیں،اور امام بخاری  کا اسلوب بھی اس پر واضح نص ہے۔ملاحظہ ہو:

    عبد الله بن ظالم.عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم؛ عشرة في الجنة.
    قاله عبيد بن سعيد، عن سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم التميمي، سمع سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
    وقال مسدد: عن خالد، عن حصين، مثله، ولم يقل: التميمي.
    وقال أبو الأحوص: عن منصور، عن هلال، عن سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
    وزاد بعضهم: ابن حيان، فيه، ولم يصح (التاريخ الكبير للبخاري:5/ 124)

    مطلب یہ ہے کہ عبید بن سعید نے اس طرح ۔۔۔سند بیان کی ہے۔مسدد کی سند میں تمیمی کا ذکر نہیں۔ابوالاحوص کی سند میں بھی ابن ظالم کا ذکر نہیں۔ بعض رواۃ نے سند میں ابن حیان کو زیادہ کیا ہے۔ اور یہ حدیث صحیح نہیں۔
    امام بخاری نے سندوں کا اختلاف ذکرکرنے کے بعد فرمایا "ولم یصح" یعنی یہ حدیث صحیح نہیں۔ جیسا کہ امام ابن عدی، امام عقیلی اور حافظ ذہبی  نے اس کی وضاحت کی ہے۔لہذا امام بخاری کے نزدیک ہلال اور ابن ظالم کے درمیان "ابن حیان" کا واسطہ بر قرار ہے۔ صاحب تحریرنے شاید یہ خیال کر لیا ہے کہ امام بخاری کا قول"ولم یصح" چونکہ "وزاد بعضھم ابن حیان فیہ" کے بعد ذکر ہوا ہے ، لہذا یہ اسی کے متعلق ہے کہ ابن حیان کا واسطہ صحیح نہیں، لیکن
    ع ایں خیال است ومحال است وجنوں
    پھر انہوں نے امام ابن معین کا درج ذیل قول پیش کیا کہ ابن حیان کے واسطے کا انہوں نے انکار کیا ہے لیکن یہ بھی مفید نہیں، کیوں کہ امام یحییٰ نے ابن ظالم اور سعید  کے دمیان ابن حیان کا انکار کیا ہے نہ کہ ہلال اور ابن ظالم کے درمیان ملاظہ فرمائیں:

    سألت يحيى عن عبيد بن سعيد القرشي فقال ليس به بأس ثقة قد رأيته وكان أصغر من أبي أحمد الزبيري وهؤلاء الصغار وهو أخو يحيى بن سعيد الأموي قلت له حدث عن سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم عن فلان بن حيان عن سعيد بن زيد فأنكره يحيى وقال لا عبد الله بن ظالم سمعه من سعيد بن زيد (العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله :3/ 8)
    ہم بھی کہتے ہیں کہ کہ ابن حیان کا واسطہ ابن ظالم اور سعید بن زید  کے درمیان نہیں بلکہ ہلال اور ابن ظالم کے درمیان ہی درست ہے، جیسا کہ امام دارقطنی فرماتے ہیں :
    والذي عندنا أن الصواب قول من رواه، عن الثوري، عن منصور، عن هلال، عن فلان بن حيان، أو حيان بن فلان، عن عبد الله بن ظالم، لأن منصور أحد الإثبات، وقد بين في روايته عن هلال أنه لم يسمعه من ابن ظالم، وأن بينهما رجلا
    یعنی ہمارے نزدیک ان کی بات درست ہے جنہوں نے ہلال اور ابن ظالم کے درمیان واسطہ ذکر کیا ہے، کیوں کہ منصور ثبت رواۃ میں سے ہے اور اس نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ ہلال نے یہ روایت ابن ظالم سے نہیں سنی اور ان دونوں کے درمیان ایک رجل موجود ہے۔ (علل الدارقطني = العلل الواردة في الأحاديث النبوية :4/ 412)
    لہذا امام بخاری، امام ابن معین، امام نسائی اور امام دارقطنی، کا موقف ایک ہی ہے والحمد للہ اگر کوئی خوامخواہ تعارض بنانے کا عادی ہو تو اس کا علاج ندارد۔
    یاد رہےامام نسائی نے اس روایت میں چار مقامات پر انقطاع کا دعوی کر رکھا ہے۔(السنن الکبری : 8135، 8148، فضائل الصحابۃ : 88، 101)
    صاحب لکھتے ہیں: "رہی بات کہ میں کسی مرزا کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ موصوف کی خام خیالی ہے میں نے اپنی پوری تحریر میں کسی مرزا کا دفاع کرنے کا نہ حوالہ ہی دیا ہے اور نہ اس حوالے سے کوئی بات لکھی ہے نہ مرزا سے کوئی تعلق ظاہر کیا ہے۔"
    ع دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
    عرض ہے کہ تعلق ظاہر کرنا گلے کی ہڈی بن سکتا تھا ، اس لیے صاحب تحریر ، مرزا صاحب سے آشنائی اور خود کو مجہول رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
    قارئین کرام محرر صاحب کی سابقہ تحریر کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کے حوالے سے کوئی بات کی ہے یا نہیں؟ لکھتے ہیں:
    "ابو یحییٰ نور پوری صاحب نے صحابہ کرام کے حوالے سے کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات اور اشکالات پر جو مدلل کام کیا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے مگر اس حوالے سے ان کی چند ویڈیوز میں کچھ ایسی باتیں سامے آئیں ہیں جو علمی خیانت یا ان کی لاعلمی پر مبنی تھی دفاع صحابہ کرام ہر مسلمان کی دینی حمیت میں شامل ہے اور یہ ایک انتہائی مستحسن فعل ہے مگر اس میں علمی خیانت ایک عالم دین کو زیب نہیں دیتی اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ یہ ان کی لا علمی کا نتیجہ ہے جس کو ہم ترتیب وار پیش کررہے ہیں:

    (1) محمد علی مرزا کے ریسرچ پیپر (واقعہ کربلا کا حقیقی منظر72 صحیح الاسناد احادیث) کے حوالے سے اپنی ویڈیو میں کہتے ہیں کہ امام اسحاق بن راھویہ کا قول بے سند ہے
    اگرچہ امام ابن حجر عسقلانی نے اس کی سند نقل نہیں کی مگر یہ قول صحیح سند سے ثابت ہے۔"
    عرض ہے کہ یہ لفظی مغا لطہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص ختم نبوت کے حوالے سے علماء کی تعریف بھی کرئے اور "لانبی بعدی الاان یشاء اللہ " والی من گھڑت روایت کو صحیح کہہ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے دفاع میں بھی پیش کرئے پھر اس کے باوجود کہے کہ مرزا قادیانی سےمیرا کوئی تعلق نہیں !
    مزید ارشاد ہوتا ہے :
    "آخر میں ۷۲ شہداء کربلا کے حوالے سے کہتے ہیں کہ کسی صحیح سند سے ثابت کریں کہ شہداء کربلا ۷۲ تھے ہم صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جس میں پورے ۷۲ تو نہیں مگر تقریبا ۷۲ ضرور ہیں."
    ع لاکھوں چھپایا راز ِ۔۔۔ نہ چھپ سکا آنکھوں نے رو کر ۔۔۔ سے اظہار کر دیا
    اگرچہ موصوف اپنے بہتانوں سے تائب ہوچکےہیں، لیکن یہاں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ واضح بتا رہے ہیں کہ یہ مرزا صاحب کی بے دلیل وکالت ہے۔

    سیدنا علی کا سیدنا معاویہ  کو جنگ صفین میں قصور وار ٹہرانا؟

    حدثنا عمر بن أيوب الموصلي، عن جعفر بن برقان، عن يزيد بن الأصم، قال: سأل (الصواب سئل)علي عن قتلى يوم صفين ،فقال: قتلانا وقتلاهم في الجنة ويصير الأمر إلي وإلى معاوية(مصنف ابن أبي شيبة :37880)
    مجہول محرر نے "سال علی" مکتبہ شاملہ میں کمپوزنگ کی غلطی اور معاصرت سے یزید بن اصم کی سیدنا علی سے سماع ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن حافظ ذہبی اور حافظ ابن کثیر  نے یزید کا سیدنا علی سے انقطاع کا دعوی کر رکھا تھا اس لیے امام مسلم کے قاعدے ہی کی رو سے کہ جب انقطاع کی دلیل مل جائے تو معاصرت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس سے اتصال سند والا اعتراض باطل ہوگیا۔پھر "سال علی" سے بھی ابھی تک سماع ثابت نہیں کرسکے۔
    صاحب تحریر نے سیدنا علی کے اس اثر کی تائید میں ان کا ایک دوسرا اثر پیش کیا تھا جو درج ذیل ہے:

    سالم بن عبيد الأشجعي قال: رأيت عليا بعد صفين وهو آخذ بيدي ونحن نمشي في القتلى فجعل علي يستغفر لهم حتى بلغ قتلى أهل الشام، فقلت له: يا أمير المؤمنين إنا في أصحاب معاوية، فقال علي إنما الحساب علي وعلى معاوية (بغية الطلب فى تاريخ حلب :1/ 297)
    ہم نے گزازش کی تھی کہ ابو مالک کا سالم سے سماع کا ثبوت نہیں۔ اس پر حضرت فرماتے ہیں : "تاریخ الحلب میں ہی اس کا ثبوت موجود ہے کہ سالم بن عبید سے تلامذہ میں ابومالک الاشجعی کا نام موجود ہے۔"
    عرض ہے کہ ابو مالک اشجعی کا نام سالم بن عبید الاشجعی کے تلامذہ کی فہرست میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ان کے شاگرد ہیں اورسماع ثابت ہے؟مجہول محرر کو چاہیے کہ سالم بن عبید کی تاریخ وفات سامنے رکھ کر پھر استادی وشاگردی کا تعین کریں، صرف یہ کہہ دینا کہ ابومالک الاشجعی کا نام سالم ان کے تلامذہ میں موجود ہے شاگرد ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔

    سیدنا معاویہ کا کردار سیدنا سعد بن ابی وقاص کی نظر میں اور بکر بن سہل محدثین کی نظر میں

    سیدنا سعد بن ابی وقاص سیدنا معاویہ کی تعریف میں فرماتے ہیں :

    ما رأيت أحدا بعد عثمان أقضی بحق من صاحب هذا الباب يعني معاوية
    "میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا نہیں دیکھا۔"(تاريخ دمشق لابن عساكر :59/ 161)
    امام ابن کثیر نے سیدنا سعد کے اس عظیم الشان قول کو سیدنا معاویہ کے فضائل میں نقل کیا ہے۔(البدایۃ : 8/133)
    اس پر جناب فرماتے ہیں کہ اس قول کا راوی بکر بن سہل ضعیف ہے، لیکن بکر بن سہل کا ضعف کسی بھی طرح سے ثابت نہیں ہوتا، جیسا کہ (السنہ شمارہ نمبر : 15) میں بکر بن سہل کی توثیق اور جرح کی حقیقت پر مفصل تحقیق موجودہے۔
    بکر بن سہل دمیاطی کی توثیق کے مزید حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
    امام حاکم  نے مستدرک میں کئی ایک مقامات پر بکر کی روایت کی سند کو صحیح کہا اور حافظ ذہبی نے بھی صحیح کہہ کر موافقت کی ہے۔جن میں سے چند ملاحظہ فرمائیں : (المستدرک : 8785، 8776، 7279)
    امام ابو عبداللہ محمد بن اسحاق المعروف ابن مندہ بکربن سہل کی ایک روایت کی سند کے بارے فرماتے ہیں :

    "هذا إسناد صحيح عند الجماعة ولم يخرجه مسلم ولا علة له"
    یہ سند ایک جماعت کے نزدیک صحیح ہے امام مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی اور اس میں کوئی علت نہیں ہے ۔ (الایمان لابن منده :1/ 538)
    حافظ ہیثمی بکربن سہل کی ایک سند کے بارے صراحت کے ساتھ لکھتےہیں:

    رواه الطبراني في الكبير والأوسط وفيه مجمع بن كعب ولم أعرفه، وبقية رجاله ثقات (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد :5/ 138)
    مزید بکر بن سہل دمیاطی کی سند کے بارے لکھتے ہیں :

    رواه الطبراني في الأوسط، وفيه عبد الله بن يزيد الإسكندراني ولم أعرفه، ومهدي بن جعفر ثقة، وفيه خلاف، وبقية رجاله ثقات (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد :10/ 162)
    حافظ ابن حجر بھی بکربن سہل کی سند کے بارے فرماتے ہیں :
    قلت: رواته ثقات إلا عبد الملك فلم أقف له على ترجمه (موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر :1/ 75)
    مزید لکھتے ہیں :

    قلت: رواته ثقات سوى صالح فهو ضعيف عندهم (موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر :1/ 315)
    نیز لکھتے ہیں :

    أنا إبراهيم بن فراس، ثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا يحيى بن حمزة، عن الزبيدي، عن الزهري، قال: كان خباب بن الأرت مولى لبني زهرة. إسناده صحيح إلى الزهري (إتحاف المهرة لابن حجر :4/ 411)
    مسلمہ بن قاسم سے بکر بن سہل پر ایک جرح مروی ہے،لیکن مسلمہ بن قاسم اس قابل نہیں کہ اس کی جرح کو قبول کیا جا سکے، کیوں کہ مسلمہ بن قاسلم ضعیف ہے اور یہ اصول ہے کہ جو خود ضعیف ہو اس کی جرح قبول ہے اور نہ ہی توثیق ۔
    شیخ ارشاد الحق اثری ایک راوی کے بارے فرماتے ہیں :
    "البتہ مسلمۃ بن قاسم نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ لیکن مسلمہ خود ضعیف ہے(لسان ج 6 ص 35) ۔"(تنقیح الکلام ، ص : 232)
    ہمارے کر م فرما مسلمہ بن قاسم کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں ان کوالحافظ فرمایا ہے اور تاریخ اہل اندلس میں محدث جانے جاتے ہیں اس کے باوجود اس روایت کو صحیح کرنے کی خاطر ایک محدث پر الزام لگانا اہل علم کو زیب نہیں دیتا ۔"

    عرض ہے کہ موصوف کے نزدیک جس صفحہ پر امام ابن ابی حاتم نے مسلمہ بن قاسم کو "الحافظ "لکھا ہے اسی صفحہ پر قال الوزیر، قال ابن السمعانی، قال الذھبی، وفی لسان المیزان عن الحاکم، جیسے الفاظ بھی موجود ہیں کیا یہ بھی امام ابن ابی حاتم کے ہیں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ بکر بن سہل کے بارے میں بھی محدثین کے الفاظ ملاحظہ فرمالیں :
    حافظ ذہبی فرماتے ہیں :

    بكر بن سهل ابن إسماعيل بن نافع: الإمام، المحدث، أبو محمد الهاشمي مولاهم الدمياطي المفسر المقرئ (سير أعلام النبلاء ط الحديث :10/ 457)
    امام شمس الدین ابن الجزری فرماتے ہیں :

    بكر بن سهل بن إسماعيل أبو محمد الدمياطي القرشي إمام مشهور (غاية النهاية في طبقات القراء :1/ 178)
    لہذا اس مشہور ثقہ امام، محدث، مفسر قرآن اور مقری کو کسی مبہم و گمنام شخص کا بلا وجہ ضعیف قرار دینا درست نہیں۔
    بکر بن سہل پر امام نسائی سے جو جرح نقل کی جاتی ہے، اس کی حقیقت ملاحظہ ہو:

    قرأت على أبي الفضل بن ناصر عن جعفر بن يحيى أخبرنا عبيد الله بن سعيد أخبرنا الخصيب بن عبد الله أخبرنا عبد الكريم بن أحمد بن شعيب حدثنا أبي قال أبو محمد بكر بن سهل عن عبد الله بن يوسف ضعيف (تاريخ دمشق لابن عساكر :10/ 380)
    اس کی سند میں عبدالکریم کی توثیق ثابت نہیں ہے، شاید صاحب تحریرکو شکوہ ہے کہ عبدالکریم کے بارے حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق پر بھروسہ کیوں کیا گیا ؟ توعرض ہے کہ ہمیں بھی تلاش بسیار کے باوجود عبدالکریم کی توثیق نہیں مل سکی ۔ اگر توثیق ثابت کر دی جائے توسر آنکھوں پر ۔
    مزید لکھتے ہیں : "جرح مفسر اسے کہتے ہیں کہ جس میں راوی کی بابت وجہ بیان کی گئی مثلا"ضعیف الحدیث" جرح مفسر میں شمار ہوتی ہے کہ راوی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہے۔"
    عرض ہے کہ کہ امام نسائی کی غیر ثابت جرح "ضعیف" کے بارے کیا خیال ہے؟
    ع الجھا ہے پاوں یار کا زلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
    مجہول محرر نے علامہ البانی انہوں نے علامہ مناوی اور وہ حافظ ابن حجر  کے حوالے سے بکر بن سہل کے بارے درج ذیل قول لکھتے ہیں :

    "وقال بكر بن سهل. وإن ضعفه جمع لكنه لم ينفرد به "
    "حافظ ابن حجر نے کہا بکر بن سہل اگرچہ اس کو ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے لیکن وہ اس حدیث کو بیان کرنے میں منفرد نہیں ہے۔"(فيض القدير :1/ 560)
    حالانکہ یہ نقل کی غلطی ہے جو علامہ مناوی سے آگے منتقل ہوگئی ، کیوں کہ حافظ ابن حجر  بکر بن سہل کے بارے واضح فرماتے ہیں کہ :

    وبكر بن سهل قواه جماعة وضعفه النسائي وقال مسلم (الصواب مسلمة) بن قاسم ضعفه بعضهم من أجل حديثه عن سعيد بن كثير عن يحيى بن أيوب عن مجمع بن كعب عن مسلمة بن مخلد رفعه قال اعروا النساء يلزمن الحجال يعني أنه غلط فيه
    "بکر بن سہل کو محدثین کی ایک جماعت نے قوی قرار دیا ہے اور نسائی نے ضعیف کہا ہے (جو کہ ثابت نہیں کمامر) اور مسلمہ بن قاسم(ضعیف) نے کہا کہ بعض(؟) نے بکر بن سہل کو اس حدیث ۔۔۔۔۔ کی وجہ سے ضعیف کہا ہے یعنی بکر بن سہل نے اس میں غلطی کی ہے۔" (القول المسدد في الذب عن مسند أحمد، ص: 22، 23)
    بکر بن سہل محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک قوی (مضبوط راوی ) ہے۔ لہذا بعض کا ایک غلطی کی وجہ سے ان کو ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔ اگر ایک آدھ غلطی کی وجہ سے راوی ضعیف ہوجاتا ہے تو شاید ہی کوئی ثقہ راوی ہو جس نے غلطی نہ کی ہو،تو پھر صاحب تحریر کو چاہئے کہ تمام ثقات کو ضعفاء کی صف میں شامل کردیں!؟
    مجہول محرر بکر بن سہل کی توثیق ضمنی کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "موصوف نے بکر بن سہل کی توثیق کے لیے المختارہ ، مستخرج ابو نعیم اور مستخرج ابو عوانہ کا حوالہ دیا ہے ان کتب میں موجود ہونا اس کی توثیق کی دلیل ہے تو موصوف شاید یہ جانتے ہوں گے کہ المختارہ میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والا علی سے اثر موجود ہے کیا واقع صحیح ہے؟ کیا موصوف المختارہ۔۔۔ میں ہونے کی بنا پر اس کے راوی "عبدالرحمن بن اسحاق " کی توثیق قبول کریں گےاور متعدد رواۃ ایسے موجود ہیں جو ان کتب میں ہیں مگر جمہور کے نزدیک ضعیف ہیں ۔"
    عرض ہے کہ ثقہ راوی بکر بن سہل پر امام نسائی اور مسلمہ بن قاسم (ضعیف) کی جرح کی حقیقت بیان کر دی گئی ہے ، لہذا ثقہ راوی کا ایک سخت ضعیف راوی پر قیاس کرنا ناقابل التفات ہے۔
    حافظ زبیر علی زئی کے نزدیک بھی بکر بن سہل ثقہ ہے۔ (فضائل درود وسلام ، ص : 22)
    مذکورہ بالا بحث سے ثابت ہوا کہ بکر بن سہل ثقہ راوی ہیں، اس کو ضعیف کہنا درست نہیں۔
    مجہول محرر صاحب فرماتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والا اثر کیا واقعی صحیح ہے؟ تو عرض ہے کہ وہ خود کیا ناف کے نیچے ، ناف کے اوپر یا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں؟

    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے لوگوں کا عرفات میں تلبیہ چھوڑنا؟

    أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم الأودي الكوفي، عن خالد بن مخلد، قال: حدثنا علي بن صالح، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، قال: كنا مع ابن عباس بعرفات، فقال: ما لي لا أسمع الناس يلبون فقلت: يخافون من معاوية فخرج ابن عباس من فسطاطه، فقال: «لبيك اللهم لبيك لبيك فإنهم قد تركوا السنة من بغض علي (السنن الكبرى للنسائي : 3979)
    یہ روایت ضعیف ہے کیوں کہ خالد بن مخلد کوفی نے یہ روایت علی بن صالح کوفی سے بیان کی ہےاور کوفیوں سے خالد کی روایت نہیں لی جائے گی جیسا کہ بعض راوۃ کی خاص علاقہ والے راویوں سے روایت لی جاتی ہے کیوں کہ انہوں نے اس کو صحیح طرح یاد کیا ہوتا ہے اور اگر یہی راوی کسی دوسرے علاقے کے لوگوں سے بیان کرئے تو اس کی روایت نہیں لی جائے گی ، کیوں وہ روایت اسے صحیح طرح یاد نہیں ہوتی اور اس میں غلطیاں کرتا ہے ، اور یہ جرح مفسر کی ایک قسم ہے۔
    چنانچہ حافظ ابن رجب اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

    الضرب الثاني من حدث عن أهل مصر أو إقليم فحفظ حديثهم، وحدث عن غيرهم فلم يحفظ
    "دوسری قسم ان راویوں کی ہے جنہوں نےکسی شہر والوں یا کسی خطے کے لوگوں سے روایت کی تو ان کی حدیث کو یا د کرلیا اور (جب ) ان کے علاوہ سے روایت کی تو یا د نہ رکھ سکے۔"(شرح علل الترمذي :2/ 773)
    اسی قاعدے کے تحت حافظ ابن رجب نے خالد بن مخلد کے بارے امام غلابی رحمہ اللہ کا قول پیش کیا :

    ومنهم خالد بن مخلد القطواني.ذكر الغلابي في تاريخه. قال: القطواني يؤخذ عنه مشيخة المدينة، وابن بلال فقط يريد سليمان بن بلال ومعنى هذا أنه لا يؤخذ عنه إلا حديثه عن أهل المدينة، وسليمان بن بلال منهم، لكنه أفرده بالذكر
    "اور انہی راویوں میں ایک راوی خالد بن مخلد قطوانی بھی ہے ۔ امام غلابی نے اپنی تاریخ میں فرمایا: قطوانی سے صرف مدنی شیوخ اور سلیمان بن بلال سے بیان کردہ روایات لی جائیں گی ۔ ابن رجب فرماتے ہیں کہ امام غلابی کے قول کا معنی یہ ہے کہ خالد بن مخلد قطوانی کی صرف وہی روایت لی جائے گی جو اہل مدینہ اور سلیمان بن بلال (مدنی) سے ہے ، لیکن انہوں نے سلیمان کا الگ طور پر (خصوصی ) ذکر کیا ہے ۔ (شرح علل الترمذي:2/ 775، 776)
    مجہول محرر فرماتے ہیں کہ " خالد بن مخلد نے اہل مدینہ کے شیوخ سے روایات لی ہے۔"
    عرض ہے کہ روایات لی ہیں نہیں ، بلکہ صرف اہل مدینہ کے شیوخ سے روایات لی جائیں گی ، فافھم۔
    صاحب تحریر کی بات کا مفہوم ہے کہ خالد کی روایت مستدرک ، المختارہ میں بھی موجود ہے اور اس کی روایت کوفیوں سے بھی صحیح ہے لہذا روایت صحیح ہے ۔
    عرض ہے کہ انہی کتب میں میں تیسرے طبقے کے مدلسین کی عدم سماع والی روایات اور مختلطین کی روایات بھی موجود ہیں کیا ان کو بھی وہ بھی صحیح ماننے کے لیے تیار ہیں ؟
    مجہول محرر لکھتے ہیں :
    "آخر میں موصوف سے یہ عرض کردیں کہ یہ روایت صحیح حدیث سے ٹکرانے اور درایت کے اصول پر بھی غلط ہے کیونکہ اس روایت کے مطابق عثمان کے بعد معاویہ سے زیادہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا نہ دیکھا جبکہ علی احادیث کے نصوص سے خلیفہ راشد ہیں توکیا خلیفہ راشد انصاف سے فیصلہ نہیں کرتا تھا یا معاویہ سے کم منصف تھے جبکہ نبی کے فرمان کے مطابق خلفاء راشدین کی تحسین متعدد احادیث میں موجود ہے تو جن خلفاء نے منھج علی النبوۃ کی طرز خلافت قائم کی ہو وہ زیادہ منصف نہ ہوں یہ کیسے ممکن ہے اس لئے یہ ناصبی افکار کے حاملین کی روایت معلوم ہوتی ہے جس میں علی کو غیر منصف ثابت کرنے اور ان کو معاویہ سے کم تر بتانے کی کوشش کی گئی ہے جو واقعتا ناصبی افکار کی ترجمانی کر رہی ہے"۔

    عرض ہے کہ جس طرح لوگ قرآن کو قرآن سے اور احادیث صحیحہ کو قرآن کے مخالف کہہ کر رد کر دیتے ہیں تو سیدنا معاویہ کی اس صحیح روایت سے ثابت فضیلت کو بھی احادیث سے ٹکرا کر انکار کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔یہ اسی طرح ہے کہ کوئی صحیح حدیث "انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی" کایہ کہہ کر انکار کر دے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر بن خطاب کا سیدنا علی سے مرتبہ زیادہ تھا یہ کیسے ممکن ہے کہ خلیفہ چہارم کی یہ فضلیت اور خلیفہ اول و دوم کی یہ منقبت نہ ہو اس لیے یہ رافضی افکار کے حاملین کی روایت معلوم ہوتی ہے جس میں سیدنا ابوبکر وعمر کو کم تر بتانے کی کوشش کی گئی ہے جو واقعتا رافضی افکار کی ترجمانی کر رہی ہے۔ قربان ایسی خام درایت پر !
    ع بریں عقل ودانش ہزار آفریں
    دوسری بات کہ جناب کو سیدنا معاویہ کی فضلیت والی صحیح روایت کو رد کرنے کے لیے تو درایت یاد آگئی لیکن خالد بن مخلد کی روایت پر کوئی درایت یاد آئی اور نہ ہی کسی فکر کی ترجمانی معلوم ہوسکی ؟ !
    یہاں اسحاق جھالوی صاحب کے چند پیروکاروں کے لیے بھی گزارش ہے کہ انہوں نے بھی خالد بن مخلد کی روایت کی بنیاد پر سیدنا معاویہ پر شدید جرح کی ہے۔ جھالوی صاحب نے سیدنا معاویہ کی فضلیت میں اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری کی ایک روایت اس لیے رد کر دی کہ اس کے راوی شامی ہیں ، چنانچہ ایک ویڈیو بیان میں فرماتے ہیں:
    " جب اصول یہ ہے سارے جانتے ہیں کہ کوئی آدمی اگر ایسی حدیث روایت کرئے کہ اس آدمی کا تعلق کسی خاص گروہ سے ہو اور اس کے علاوہ اس کی کوئی تائید نہ کرئے یہ ساری امت کا مسلمہ اصول ہے عقل کی بات ہے وہ بات نہیں لی جاتی وہ تو اس گروہ کا آدمی ہے اس نے تو کہنا ہے کوئی غیر جانبدار بیان کرئے اسی لیے علماء نے یہ اصول بیان کر دیا کہ اگر کوئی شیعہ ایسی حدیث حضرت علی کی شان میں یا اہل بیت کی شان میں بیان کرئے جو دوسرے کسی مسلمان نے بیان نہ کی ہو تو بے شک وہ سچا ہو دیانتدار ہو ہم نہیں اس کی بات مانیں گے شبہ ہے کیوں کہ اس کا یہ عقیدہ ہے مسلک ہے اس کی حمایت میں گھڑ لی ہو بات قدرے دل کو لگتی ہے کہ واقعی محتاط رہنا چاہیے مگر یہاں آکر سارے اصول ختم۔"
    جھالوی صاحب کے پیروکاروں سے مودبانہ عرض ہے کہ کیا خالد بن مخلد تشیع سے ملوث نہیں ہے؟ کیا اس کے علاوہ کسی اور راوی نے یہ روایت بیان کی ہے؟یہاں آکر سارے اصول کیوں ختم ہوگئے ؟!

    جنگ جمل اور سیدہ عائشہکا رجوع:

    حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: قالت عائشة لما حضرتها الوفاة: ادفنوني مع أزواج النبي عليه السلام فإني كنت أحدثت بعده حدثا ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ : 37772)
    صاحب تحریر، مرزا جہلمی اور اس کے حواری ، اسماعیل بن ابی خالد کے سماع کی صراحت ثابت نہیں کر سکے۔
    مدلس کی عدم سماع والی روایت قبول نہیں ہوتی جیسا کہ امام شافعی، ابن حبان اور خطیب بغدادی اور دیگر محدثین کا موقف ہے ۔
    حافظ عبدالمنان نورپوری مدلسین کے طبقات کے بارے فرماتے ہیں :
    "اصل تو یہی ہے کہ روایت مردود ہوگی۔طبقات تو بعد کی پیدا وار ہیں۔ پہلے محدثین میں یہی طریق چلتا رہاہے کہ سماع کی تصریح مل جائے یا متابعت ہو تو مقبول ورنہ مردو۔ یہ فلاں طبقہ اور فلاں طبقہ اس کی کوئی ضرورت نہیں یہ تو بعد کے علما کی اپنی طبقات ہیں یہ کوئی وزنی اور پکا اصول نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہی سیدھا اور پکا اصول ہے طبقات سے پہلے والے محدثین والا کہ مدلس کا عنعنہ مردود ہے۔"(سہ ماہی مجلہ المکرم شمارہ 13، ص : 37، 38)
    علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری نے اسماعیل بن ابی خالد کے عنعنہ کی وجہ سے جرح کی ہے۔ (ابکار المنن، ص : 584)
    حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

    وھو من المرتبۃ الثالثۃ
    " یہ تیسرے طبقے کا مدلس ہے۔"(الفتح المبین، ص : 34، مراجعۃ الشیخ ارشاد الحق الاثری)
    صاحب تحریر لکھتے ہیں : "ان تمام اعتراضات اور ان کے جوابات کا مقصود نہ شہرت ہے اور نہ نمود و نمائش ہے اللہ اس سے محفوظ رکھے(آمین) کیوں کہ شہرت وہ حاصل کرنا چاہے گا جس کو لوگ جانتے اور بہچانتے ہوں مجھے تو لوگ میرے حلقہ احباب میں لوگ اس حوالے سے نہیں جانتے نہ میں نے کبھی بتایا ہے۔"
    کاَن ربنا لم یخلق لخشیتہ سواک من جمیع الناس انسانا
    ع اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
    عرض ہے کہ کیا اپنی شناخت سے لکھنا نمود ونمائش کے لیے ہوتا ہے؟کیا محدثین کرام اپنی کتب پر نام شہرت کے لیے لکھ گئے تھے؟
    ع ضد چھوڑیے برسر میدان آئیے انکار ہی رہے گا ۔۔۔کب تلک
    مزید لکھتے ہیں : "اگر مجھ سے کوئی غلطی اور کوتاہی ہوتی ہے تو اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔"
    عرض ہے کہ موصوف اس قول "سیدنا معاویہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں" کو ضعیف سمجھ کر ان کی فضیلت کے قائل ہوگئے ہیں؟
    آنجناب نے جو لکھا کہ "وحی خفی میں خیانت کے مرتکب" یا "ابویحییٰ نور پوری کی علمی خیانت یا لاعلمی" یہ اپنی اصلاح کی کوشش ہے ؟ یا رافضیوں و نیم رافضیوں کو دعوت عام ہے کہ آو جو بغیر کسی استثناء کے تمام صحابہ کرام کا دفاع کرتے ہیں ان پر اپنی کم علمی کی وجہ سے خیانت کے فتوے لگائیں؟ اسی طرح ایک چینل نامعلوم اہل تقیہ کا ہے اوروہ علمائے کرام جوتمام صحابہ کا دفاع کرتے ہیں ان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ بھی اپنی شناخت سےمحروم ہیں، لہذا یہ بھونڈا رویہ چھوڑدیں کہ چھپے بھی رہیں اور صحابہ کرام کے بارے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی و تنفر بھی پیدا کرتے رہیں ایسا نہیں چلے گا۔

    سیدنا حسن کی شہادت میں سیدنا معاویہکا کردار!

    حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد الحمصي، حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد، قال: وفد المقدام بن معدي كرب، وعمرو بن الأسود، ورجل من بني أسد من أهل قنسرين إلى معاوية بن أبي سفيان، فقال معاوية للمقدام: أعلمت أن الحسن بن علي توفي فرجع المقدام، فقال له رجل: أتراها مصيبة قال له: ولم لا أراها مصيبة، وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فقال: «هذا مني» وحسين من علي، فقال الأسدي: جمرة أطفأها الله عز وجل. قال: فقال المقدام: أما أنا فلا أبرح اليوم حتى أغيظك، وأسمعك ما تكره، ثم قال: يا معاوية إن أنا صدقت فصدقني، وإن أنا كذبت فكذبني، قال: أفعل، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن لبس الذهب» قال: نعم، قال: فأنشدك بالله، هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نهى عن لبس الحرير» قال: نعم، قال: فأنشدك بالله، هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن لبس جلود السباع والركوب عليها» قال: نعم، قال: فوالله، لقد رأيت هذا كله في بيتك يا معاوية، فقال معاوية: قد علمت أني لن أنجو منك يا مقدام، قال خالد: فأمر له معاوية بما لم يأمر لصاحبيه وفرض لابنه في المائتين، ففرقها المقدام في أصحابه، قال: ولم يعط الأسدي أحدا شيئا مما أخذ، فبلغ ذلك معاوية، فقال: أما المقدام فرجل كريم بسط يده، وأما الأسدي فرجل حسن الإمساك لشيئه (سنن أبي داود : 4131)
    یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
    بقیہ بن الولید صدوق ہونے کے ساتھ تدلیس تسویہ(سند کے کسی بھی حصہ سے ضعیف ومتروک راوی کو گرا دینا) کرتے تھے۔اس پر ہم امام احمد بن حنبل، امام ابوحاتم، ابن حبان، ابن القطان فاسی، ابن الملقن، بوصیری، اور حافظ ابن حجرسے حوالے پیش کرچکے ہیں۔مزید حوالہ جات آرہے ہیں۔
    مجہول محرر نے امام ابن عبدالبر کا بقیہ کی ایک بیان کردہ روایت کے بارے درج ذیل قول پیش کیاکہ انہوں نے اس کی ایک حدیث کو حسن کہا ہے:

    قال أبو عمر هذا حديث حسن حديث غريب وهو من حديث الشاميين رواته كلهم ثقات وبقية إذا روى عن الثقات فليس بحديثه بأس (الاستذكار :3/ 417)
    عرض ہے کہ اس حدیث کو حسن کہنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایت ترغیب میں ہے چنانچہ امام ابن عبدالبر نے لیلۃ القدر کے بارے ایک روایت کو حسن کہا کیوں کہ وہ بھی ترغیب میں تھی فرماتے ہیں :

    هذا حديث حسن غريب وبقية بن الوليد ليس بمتروك بل هو محتمل روى عنه جماعة من الجلة وهو من علماء الشاميين ولكنه يروي عن الضعفاء وأما حديثه هذا فمن ثقات أهل بلده وأما إذا روى عن الضعفاء فليس بحجة فيما رواه وحديثه هذا إنما ذكرنا أنه حديث حسن لا يدفعه أصل وفيه ترغيب وليس فيه حكم (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد :24/ 374)
    مزید فرماتے ہیں :

    وروايته عن أهل بلده أهل الشام فيها كلام وأكثر أهل العلم يضعفون بقية عن الشاميين وغيرهم وله مناكير وهو ضعيف ليس ممن يحتج به
    "اس کی شامیوں سے روایت میں کلام ہے اور اکثر اہل علم بقیہ کو شامیین وغیرہ سے روایت کرنے میں ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ اس کی منکر روایات بھی ہیں بقیہ ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔" (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد :10/ 272)
    امام ابن عبدالبر ہی سے ثابت ہوگیا کہ اکثر اہل علم کے نزدیک بقیہ شامیوں وغیرہ سے روایت میں ضعیف ہے۔اور اسے معترض کی "خوش قسمتی "کہئے کہ بحیر بھی شامی ہے۔
    مجہول محرر نے تاریخ بغداد سے امام علی بن مدینی کا قول پیش کیا کہ بقیہ شامیوں سے روایت کرنے میں صالح ہے، اس کی صحیح سند بھی پیش فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔
    مجہول محرر نے حافظ ابن القیم کا درج ذیل قول پیش کیا:

    بقية ثقة في نفسه صدوق حافظ وإنما نقم عليه التدليس مع كثرة روايته عن الضعفاء والمجهولين وأما إذا صرح بالسماع فهو حجة (عون المعبود وحاشية ابن القيم :1/ 204)
    حلانکہ انہوں نے بقیہ پرجرح بھی کررکھی ہے۔ملاحظہ ہو:

    وأما الآثار التي فيها أنه استنطقهم، وأشهدهم، وخاطبهم فهي بين موقوفة، ومرفوعة لا يصح إسنادها كحديث مسلم بن يسار، وحديث هشام بن حكيم بن حزام: فإن في إسناده بقية بن الوليد، وراشد بن سعد، وفيهما مقال (أحكام أهل الذمة :2/ 1004)
    امام ابن الجوزی رحمہ اللہ "بقية بن الوليد قال حدثني محمد بن الفضل" سند کے بارے فرماتے ہیں :
    وأما الطريق الثالث فبقية مغموز بالتدليس (العلل المتناهية في الأحاديث الواهية :2/ 129)
    مزید "بقية بن الوليد قال نا عيسى بن ابراھیم" سند کے بارے لکھتے ہیں :
    وبقية كان مدلسا سمع من المتروكين والمجهولين ويدلس (العلل المتناهية في الأحاديث الواهية :2/ 245)
    حافظ ابن الجوزی کا سماع کے باوجود تدلیس کا اعتراض کرنا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کون سی تدلیس ہے۔
    حافظ صلاح الدین علائی کے نزدیک بھی بقیہ تدلیس تسویہ سے دوچار تھے فرماتے ہیں :

    بقية بن الوليد مشهور به مكثر له عن الضعفاء يعاني التسوية (جامع التحصيل، ص: 105)
    حافظ زرکشی تدلیس تسویہ کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

    وممن اشتهر بفعل هذا بقية بن الوليد
    "بقیہ بن الولید تدلیس تسویہ کرنے میں مشہور تھے۔(النكت على مقدمة ابن الصلاح للزركشي :2/ 106)
    حافظ ابن العراقی فرماتے ہیں کہ بقیہ تدلیس کی قبیح ترین قسم تدلیس تسویہ میں ملوث تھے :

    بقية بن الوليد مشهور بالتدليس مكثر له عن الضعفاء يعاني تدليس التسوية وهو أفحش أنواع التدليس (المدلسين، ص: 37)
    سبط ابن العجمی کا بھی فرماتے ہیں کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتے تھے۔

    بقية بن الوليد مشهور بالتدليس مكثر له عن الضعفاء وتعاني تدليس التسوية (التبيين لأسماء المدلسين ، ص: 16)
    مجہول معترض نے بقیہ کی تدلیس تسویہ کے حوالے سے امام ابو حاتم رازی کے قول پر اعتراض کیا کہ یہ ان کا وہم ہے تو ہم جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ان کا وہم ہے یا معترض صاحب کا ۔ملاحظہ فرمائیں :

    وسمعت أبي وذكر الحديث الذي رواه إسحاق بن راهويه، عن بقية قال: حدثني أبو وهب الأسدي؛ قال: حدثنا نافع، عن ابن عمر قال: لا تحمدوا إسلام امرئ حتى تعرفوا عقدة رأيه قال أبي: هذا الحديث له علة قل من يفهمها؛ روى هذا الحديث عبيدالله بن عمرو عن إسحاق بن أبي فروة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي (ص) ، وعبيدالله بن عمرو كنيته : أبو وهب، وهو أسدي؛ فكأن بقية بن الوليد كنى عبيدالله بن عمرو، ونسبه إلى بني أسد؛ لكيلا يفطن به، حتى إذا ترك إسحاق بن أبي فروة من الوسط لا يهتدى له، وكان بقية من أفعل الناس لهذا.وأما ما قال إسحاق في روايته عن بقية، عن أبي وهب: «حدثنا نافع» ، فهو وهم، غير أن وجهه عندي: أن إسحاق لعله حفظ عن بقية هذا الحديث، ولما يفطن لما عمل بقية من تركه إسحاق من الوسط، وتكنيته عبيدالله بن عمرو، فلم يفتقد لفظ في قوله: «حدثنا نافع» ، أو «عن نافع» (علل الحديث لابن أبي حاتم :5/ 250)
    اس سے ثابت ہوا کہ بقیہ بن ولید تدلیس شیوخ کے ساتھ ساتھ تدلیس تسویہ بھی کرتے تھے اور سب سے زیادہ کرتے تھے۔
    امام ابو حاتم کی تائید کرتے ہوئے امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    وقول أبي حاتم كله في هذا الحديث صحيح وقد روي الحديث عن بقية كما شرح قبل أن يغيره ويدلسه لإسحاق (الكفاية في علم الرواية، ص : 364)
    اس حدیث کے بارے امام ابوحاتم کا بقیہ کی تدلیس کے حوالے سے (مذکورہ) بیان بالکل صحیح ہے کہ بقیہ نے راوی کے نام کی بجائے کنیت ذکر کردی اور پھر (اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ متروک) راوی کو گرا کر تدلیس تسویہ کی اور نافع سے پہلے "حدثنا" یہ امام اسحاق کا وہم ہے۔یہاں "عن نافع" ہی صحیح ہے۔ بقیہ کی تدلیس تسویہ پر امام خطیب بغدادی نے دلیل کے طور پر وہ روایت پیش کی جسے حضرت صاحب نے تاریخ بغداد سے بقیہ کی تدلیس تسویہ کی بریت پر پیش کردیا ہے! ملاحظہ ہو:

    اخبرنا أبو بكر البرقاني، أنا الحسين بن علي التميمي، ثنا محمد بن المسيب أبو عبد الله، ثنا موسى بن سليمان، ثنا بقية، ثنا عبيد الله بن عمرو عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن نافع عن ابن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تعجبوا بإسلام امرئ حتى تعرفوا عقدة عقله (الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، ص: 365)
    خطیب بغدادی تو بقیہ کی تدلیس تسویہ ثابت کر رہے ہیں اور اس حوالے سے امام ابو حاتم کے موقف کی دلیل کے ساتھ مکمل تائید کررہے ہیں لیکن حضرت صاحب امام ابو حاتم کا وہم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں!
    باقی رہی یہ بات کہ ان کے شاگرد تدلیس تسویہ کرتے تھے تو اس سے بقیہ بن الولید کی تدلیس تسویہ کی نفی نہیں نکلتی ۔ مطلب یہ ہے کہ بقیہ خود بھی یہ کام کرتے تھے اور شاگر د بھی ان کی روایات میں کسی ضعیف و متروک کو گرا دیتے تھے، یہ تو معاملہ اور سنگین ہے کہ بقیہ کے ساتھ ان کے شاگر بھی تدلیس والا معاملہ کرتے تھے اور ان کو علم بھی نہیں ہوتا۔ پھر بقیہ سے روایت کرنے والا اس کا شاگرد حمصی ہے ۔
    امام ابو زرعہ رازی بقیہ کی ایک روایت کے بارے فرماتے ہیں :

    وسئل أبو زرعة عن حديث رواه أبو تقي قال حدثني بقية قال حدثني عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن ابن عمر قال: قال النبي : لا تبدؤوا بالكلام قبل السلام، فمن بدأ بالكلام قبل السلام فلا تجيبوه قال أبو زرعة: هذا حديث ليس له أصل؛ لم يسمع بقية هذا الحديث من عبد العزيز؛ إنما هو عن أهل حمص، وأهل حمص لا يميزون هذا
    "امام ابوزرعہ رازی نے فرمایا: یہ حدیث بے اصل ہے بقیہ نے یہ حدیث عبدالعزیز سے نہیں سنی یہ حدیث اہل حمص سے ہے اور وہ اس میں تمییز نہیں کرتے تھے (صیغہ عدم سماع کو صیغہ سماع بنا دیتے تھے)۔"(علل الحديث لابن أبي حاتم :6/ 270)
    یعنی اہل حمص صیغہ عدم سماع کو سماع بنا دیتے تھے۔لہذا مسند احمد میں "حدثنی "کا بھی کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ شاگرد حمصی ہے ، لہذا مجہول محرر تدلیس تسویہ کے ساتھ ساتھ امام ابو زرعہ کے اس قول کو بھی مد نظر رکھیں۔
    مجہول محرر "لطیفہ" کی سرخی لگا کر لکھتے ہیں " موصوف شیخ البانی سے تو بقیہ بن الولید کا تدلیس تسویہ ثابت نہیں کر سکے۔"
    عرض ہے کہ علامہ البانی سے بقیہ بن ولید کی تدلیس تسویہ کا ثبوت بھی ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں:

    قلت: إن سلم من وهم بقية ففيه تدليسه تدليس التسوية لأنه عنعن لشيخه
    "میں (البانی) کہتا ہوں کہ اگر یہ بقیہ کے وہم سے محفوظ ہے تو اس میں بقیہ کی تدلیس تسویہ موجود ہے کیوں کہ اس نے اپنے شیخ کے شیخ سے صیغہ "عن" سے روایت بیان کر رکھی ہے۔"(إرواء الغليل :3/ 89)
    محدث العصر حافظ زبیر علی زئی کے حوالے سے کہا گیا وہ بقیہ کو تدلیس تسویہ سے بری سمجھتے تھے۔
    عرض ہے کہ حافظ زبیر علی زئی ایک عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "۔۔۔۔ اور بقیہ بن الولید تدلیس شیوخ (یعنی تدلیس تسویہ) کرتے تھے۔(مقالات : 2/137)

    ایک مقام پر بقیہ حدثنی بحیر عن خالد بن معدان سند سے مروی روایت کے بارے فرماتے ہیں:
    اسنادہ ضعیف اخرجہ النسائی ۔۔۔۔ من حدیث بقیۃ بہ وھو یدلس تدلیس التسویہ ولم اجد تصریح سماعہ المسلسل ومع ذلک صححہ الحاکم علی شرط مسلم ۔۔۔ ووافقہ الذھبی(!)
    "اس کی سند ضعیف ہے ، نسائی نے بقیہ ۔۔۔ کی سند سے اس کی تخریج کی ہے اور بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا اور میں اس کی تصریح بالسماع مسلسل نہیں پا سکا ، اس (قبیح ترین تدلیس ) کے باوجود حاکم نے اس کو مسلم کی شرط پر صحیح کہااور ذہبی نے موافقت کی ہے(!)۔"(سنن ابی داود : 2515، دارالسلام)
    اگرچہ ان کی بعد میں تحقیق بدل گئی تھی، لیکن بقیہ بن ولید کا تدلیس تسویہ کرنا ہی راجح ہے۔ یاد رہے کہ کتب اصول حدیث میں بقیہ بن ولید کو تدلیس تسویہ کی مثال میں پیش کیا گیا ہے۔

    تنبیہ :بقیہ کا بحیر کی کتاب سے روایت کرنا ثابت نہیں ہے ، کیوں کہ اس کی بنیاد درج ذیل قول ہے:
    حدثنا الفضل بن عبد الله بن سليمان، حدثنا سليمان بن عبد الحميد، حدثنا حيوة، قال: سمعت بقية يقول لما قرأت على شعبة كتاب بحير بن سعد، قال: قال لي يا أبا يحمد لو لم أسمع هذا منك لطرت (الكامل في ضعفاء الرجال :2/ 264)
    اس قول کی سند میں امام ابن عدی کا شیخ الفضل بن عبداللہ بن سلیمان کذاب ہے خود امام ابن عدی اور امام دارقطنی نے اس پر جرح کر رکھی ہے ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال : 7/126، موسوعۃ اقوال ابی الحسن الدارقطنی فی رجال الحدیث وعللہ : 2/519) اگر یہ کوئی اور راوی ہے تو غیر موثق ہے ۔
    فضیلۃ الشیخ ابو الحسن مبشر احمد ربانی ایک روایت کے بارے فرماتے ہیں :

    "اگرچہ علامہ البانی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے مگر یہ محل نظر ہے، کیونکہ اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس راوی ہے اور یہ تدلیس التسویہ کرتا ہے جو انتہائی بری تدلیس ہے اور اس کی تصریح بالسماع مسلسل نہیں ہے۔ (احکام و مسائل کتاب وسنت کی روشنی میں،ص : 218، نظر ثانی حافظ عبدالسلام بھٹوی ،آپ کے مسائل اور ان کا حل : 1/168)
    حافظ ندیم ظہیر بقیہ بن الولید کے بارے فرماتے ہیں:

    "یہ صدوق حسن الحدیث ہیں ، تاہم تدلیس تسویہ سے بھی متصف ہیں ، لیکن مذکورہ حدیث کی سند میں قطعا مضر نہیں ، کیوں کہ انہوں نے سماع بالمسلسل کیا ہوا ہے ۔" (ماہنامہ اشاعۃ الحدیث ، ص : 10، فروری 2017)
    مرزا صاحب زیر بحث روایت کی وجہ سے بہت بغلیں بجاتے ، جشن مناتے ، لوٹنیاں کھاتے اور ڈینگیں مارتے ہیں کہ حافظ زبیر علی زئی نے اسے حسن یا صحیح کہا ہے، جیسے سیدنا معاویہ پر تبراکرکے ان کو قلبی سکون ملتا ہے اور نامہ اعمال میں بے شمار "نیکیوں "کا اضافہ ہو جاتا ہے جو انہیں نجات کا واحد ذریعہ معلوم ہوتا ہے،اس کام کو وہ خاص طور پر کار خیر اور دین کی اصل خدمت سمجھتے ہیں ، لیکن ان سے سوال ہے کہ محدث العصر  کا اس روایت کو صحیح یا حسن کہہ کر بھی سیدنا معاویہ کے بارے صاف دل لے کر اور اپنی کتب میں سیدنا معاویہ  کے فضائل لکھ کر اپنے رفیق اعلی سے جاملے "سقی اللہ ثراہ وجعل الجنۃمثواہ " لیکن افسوس کے نیم رافضیوں کو علم ہونے کے باوجود ان کی زبانیں فضائل سیدنا معاویہ بیان کرنے سے گنگ اور ہاتھ لکھنے سے مفلوج ہوگئے؟ جو صرف اور صرف سیدنا معاویہ سے بغض کا نتیجہ ہے۔
    مرزا صاحب نےحافظ زبیر علی زئی سے ویڈیو سوالات بھی کیے تھے ، جو کہ یو ٹیوب پر موجود ہیں ، ان سوالات میں مرزا صاحب نے ایک ڈرامہ رچاتے ہوئے کہا کہ ہم چند ساتھیوں نے سلف صالحین کا منہج قبول کر لیا ہے ، اس پر حافظ زبیر علی زئی نے سامعین سے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ یہ اہل حدیث ہوگئے ہیں، وہاں تو مرزا صاحب خاموش رہے کیوں کہ تقیہ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ اہل حدیث تو کیا ہونا تھا صرف اور صرف اہل حدیث کو بدنام کرنے کے لیے ایک شیطانی چال تھی ۔ بعد میں جب مرزا صاحب سے ان کے اس دجل وفریب اور تلبیس ابلیس پر سوال ہوا تو کہنے لگے ہم نے کب لکھا تھا کہ ہم اہل حدیث ہوگئے ہیں ہم نے تو سلف صالحین کی بات کی تھی کہ ہم ان کے منہج پر ہیں۔
    ع کیا جو جھوٹ کا شکوہ تو یہ جواب ملا تقیہ ہم نے کیا تھا ہم کو ثواب ملا

    شاید مرزا صاحب کے نزدیک رافضیوں کی وہ روایت صحیح ہو جس میں ہے کہ "الا لا ایمان لہ لمن لا تقیہ لہ " خبردار وہ شخص بے ایمان ہے جو تقیہ نہیں کرتا ۔" ان نیم رافضیوں کی فرقہ واریت کی حسرت اہل حق کبھی بھی پوری نہیں ہونے دیں گے، انشاء اللہ ۔وکم حسرات فی بطون المقابر
    خوب یاد رہے حافظ زبیر علی زئی  نے اپنی زندگی میں ہی سیدنا معاویہ  کے مبغض و محترق فرقہ واریت کے علمبردار اور رافضیت کے عظیم سپوٹر مرزا جہلمی صاحب سے اعلان برات کر دیا تھا کہ یہ فضول انسان ہے ۔ دیکھیں کلپ (محمد علی مرزا حافظ زبیر علی زئی  کی نظر میں )
    جاتے جاتے مجہول محرر لفظی ہیر پھیر سے تمام اہل الحدیث پر ہی بددیانت اور خائن ہونے کا الزم تھونپ گئے ، فرماتے ہیں :
    "اس علم الحدیث جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے اہل الحدیث کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے اس کو منہج محدثین کے مطابق لے کر چلیں اور اس ذمہ داری کو امانت داری اور دیانت داری سے سرانجام دیں اللہ کے لیے کسی بھی نیک مقصد کے لیے اس کو بدنام نہ کریں۔"
    ع اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
    گمنام شخص سے زیادہ نہیں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اللہ کے لیے خفیہ مشن کی خاطر چھپ کر کارروائی کرنا اچھی بات نہیں۔
    ہمارا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی سیدنا معاویہ سے افضل ہیں، لیکن صحابہ کے باہمی منازعات کی وجہ سےکسی ایک بھی صحابی کے احترام میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ سب پہ ہم کو ناز ہے سب پہ افتخار
    بعض لوگ (نیم رافضی مرزا صاحب وغیرہ) پس پردہ رافضیوں کے ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں جس میں ان کا مقصود غیر محسوس طریقے سے امت مسلمہ میں فرقہ واریت کا فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اوروہ اپنے اس گھناونے مشن میں کامیاب نہیں ہورہے ، کیوں کہ جب لوگوں ان کی اصلیت کا علم ہوتا ہے تو پھر مرزا صاحب "قالوا سلاما" کے مستحق ٹہرتے ہیں ۔ ان کی تحریروں اور تقریروں کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ ہے صحابہ کرام کی واضح یا غیرمحسوس اندازمیں کردار کشی۔
    ایسے آوراہ فکر لوگ کسی برتن کے ڈھکن نہیں ہوتےان کو محدثین سے کوئی سروکار نہیں ہوتا صرف اوپر سے ان کا نام استعمال کرتے ہیں لیکن اندر سے لوگوں کے عقائد کی جڑیں کھوکھلی کر کے لوگوں کے دلوں میں بغض صحابہ بھرنے کی واضح یا دبے الفاظ و انداز میں ناکام کوشش میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ تو صحابہ کرام جیسی مقدس ہستیاں محفوظ رہتی ہیں اور نہ ہی یہ لوگ اصلاح کے متمنی ہیں۔
    ع دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار لگے یا درمیاں رہے
    لہذا ایسے بد طینت لوگوں کی شیطنت سے محتاط رہا جائے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارا حشر اہل بیت اور تمام صحابہ کرام کے ساتھ کرئے اور تادم واپسیں ہمارے دلوں میں ان نفوس قدسیہ کی محبت قائم ودائم رکھے۔آمین

    کتبہ الراجی الی عفو ذی الجلال محمد بلال











































     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں