1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سگرٹ نوشى اور تمباكو كھانے كا حكم ؟

'حکم شرعی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 06، 2014۔

  1. ‏جنوری 06، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,807
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سگرٹ نوشى اور تمباكو كھانے كا حكم


    كيا اسلام ميں سگرٹ نوشى اور تمباكو چبانا جائز ہے ؟

    الحمد للہ:

    سگرٹ نوشى حرام ہے، كيونكہ يہ خبيث چيز اور بہت زيادہ ضرر و نقصانات پر مشتمل ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے تو اپنے بندوں كے ليے كھانے پينے والى پاكيزہ اشياء مباح كى ہيں، اور ان پر خبيث اور گندى اشياء حرام كى ہيں:





    اور ہر قسم كى سگرٹ نوشى كرنا خبيث اور گندى اشياء ميں شامل ہوتى ہے، اور پھر يہ ضرر اور نقصاندہ اور نشہ آور مواد پر مشتمل ہے.

    كسى بھى حالت ميں اس كى عادت حرام ہے، چاہے تمباكو نوشى كى جائے، يا پھر تمباكو چبا كر كھايا جائے يا كسى اور طريقہ سے تمباكو استعمال كيا جائے يہ حرام ہے.

    ہر مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ فورى طور پر اس كو ترك كر كے اللہ تعالى سے توبہ و استغفار كرے، اور اس معصيت و نافرمانى پر نادم ہو، اور آئندہ پختہ عزم كرے كہ وہ كبھى بھى دوبارہ ايسا نہيں كريگا.

    اللہ تعالى ہميں اور آپ كو ہر قسم كى بھلائى كى توفيق عطا فرمائے.

    ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 442 ).[/quote]
     
  2. ‏جنوری 06، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,807
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سگرٹ كى حرمت كا سبب


    سگرٹ حرام ہونے كا سبب كيا ہے ؟

    الحمد للہ:

    اول:

    اميد ہے كہ آپ جانتى ہونگى كہ اس وقت روئے زمين كى سارى امتيں ـ چاہے مسلمان ہوں يا كافر ـ وہ سگرٹ كے خلاف جنگ كرنے لگے ہيں، كيونكہ انہيں اس كے شديد ضرر و نقصان كا علم ہو چكا ہے، اور پھر دين اسلام تو شروع ہى سے ہر نقصاندہ اور ضرر والى چيز كو حرام قرار ديتا ہے،



    اور پھر اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ كھانے پينے والى اشياء ميں اچھى اور نفع مند بھى ہيں، اور كچھ ايسى بھى ہيں جو گندى اور نقصاندہ ہيں،



    تو كيا سگرٹ اور حقہ اچھى اور پاكيزہ اشياء ميں سے ہے يا كہ گندى اور خبيث اشياء ميں ؟

    دوم:







    اب سارى دنيا ہى اس كا ادراك كرنے لگى ہے كہ سگرٹ اور حقہ نوشى ميں صرف كردہ مال ضائع كيا جا رہا ہے اور اس ميں كوئى فائدہ نہيں، يہى نہيں بلكہ يہ مال ضرر و نقصاندہ اشياء ميں خرچ كيا جا رہا ہے.

    اور اگر پورى دنيا ميں سگرٹ اور تمباكونوشى پر خرچ كردہ مال جمع كيا جائے تو بھوك سے مرنے والے كئى معاشروں اور ملكوں كو بچايا جا سكتا ہے، تو كيا اس سے كوئى اور بڑھ كر بے وقوف ہو سكتا ہے جو ڈالر ہاتھ ميں لے كر اسے آگ لگا دے ؟

    سگرٹ اور تمباكونوشى كرنے والے اور ڈالر كو آگ لگانے والے ميں كيا فرق ہے ؟

    بلكہ روپے كو آگ لگانے والے سے تو بڑا بے وقوف تمباكو اور سگرٹ نوش ہے، كيونكہ روپے كو آگ لگانے كى بے وقوفى تو اس حد تك رہے گى، ليكن سگرٹ نوش كى بےوقوفى تو اس سے بھى آگے ہے كہ وہ مال بھى جلا رہا ہے اور اپنا بدن بھى.

    سوم:

    كئى ايسے حادثات اور سانحے ہيں جن كا سبب صرف سگرٹ ہے، سگرٹ كے بچے ہوئے ٹكڑے اور اس كے علاوہ سگرٹ كى بنا پر كتنى آگ لگ چكى ہے، اور صرف سگرٹ كى بنا پر پورا گھر اور اس كے رہائشى سب جل كر راكھ ہو گئے، كيونكہ گھر كا مالك سگرٹ نوش تھا، گيس ليك ہونے كى بنا پر جب اس نے سگرٹ جلايا تو گھر ميں آگ بھڑك اٹھى اور سب جل كر راكھ ہو گئے.

    چہارم:

    كتنے لوگ سگرٹ كى گندى بو سے اذيت محسوس كرتے ہيں، اور خاص كر جب آپ اس اذيت سے دوچار ہوں جب آپ كے ساتھ مسجد ميں كوئى سگرٹ نوش آ كر كھڑا ہو جائے، نيند سے بيدار ہونے كے سگرٹ نوش كے منہ سے نكلنے والى گندى بو كى بنسبت شائد دوسرى گندى قسم كى بدبو پر صبر كرنا زيادہ آسان ہے، اور پھر ان عورتوں پر تو بہت ہى تعجب ہوتا ہے جو اپنے خاوند كے منہ سے نلكنے والى گندى بو پر كيسے صبر كر ليتى ہيں ؟

    حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كچا پياز اور لہسن كھانے والے كو مسجد ميں آنے سے منع كيا ہے تا كہ نمازى اس كى بو سے اذيت محسوس نہ كريں، حالانكہ لہسن اور پياز كى بو سگرٹ نوش كے منہ سے نكلنے والى بو سے بہت ہى كم گندى ہوتى ہے.

    سگرٹ نوشى كے حرام ہونے بعض اسباب تھى جو ہم اوپر بيان كر چكے ہيں.

    واللہ اعلم .
    الشيخ سعد الحميد
     
  3. ‏جنوری 06، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,807
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سگرٹ نوشی کے عادی خاوند سے طلاق !!!!


    میرا خاوند سگرٹ نوشی کا عادی ہے اوروہ سانس و دمہ کی تکلیف سے دوچار ہے ، ہمارے درمیان سگرٹ نوشی ترک کرنے کی وجہ سے کئي ایک مشکلات پیدا ہوچکی ہيں ۔
    پانچ ماہ قبل میرے خاوند نے اللہ تعالی کے لیے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ حلف اٹھایا کہ وہ اب کبھی بھی سگرٹ نوشی نہیں کرے گا ، لیکن حلف کے ایک ہفتہ بعد ہی وہ سگرٹ نوشی کرنے لگا ، اورمشکلات نے ہمیں پھر گھیر لیا تو میں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کردیا ۔
    لیکن اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی سگرٹ نوشی نہيں کرے گا ، لیکن مجھے اس پر مکمل بھروسہ نہیں ، اس ميں آپ کی صحیح راۓ کیا ہے اوراس کی قسم کا کفارہ کیا ہے اورآپ مجھے کیا نصیحت کرتے ہیں ؟

    الحمد للہ :

    سگرٹ نوشی خبیث اورحرام ہے ، اس کے نقصانات بہت زيادہ ہیں ،

    اس میں کوئي شک نہیں کہ تمباکو سگرٹ خبیث اشیاء میں سے ہے تواس لیے آپ کے خاوند پر واجب ہے کہ وہ اسے ترک کردے اوراللہ سبحانہ وتعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہوا اس سے اجتناب کرے ، اور اللہ تعالی کے غضب کودعوت دینے والے اسباب سے بچے اوراپنے دین اورصحت کی سلامتی اورآپ سے حسن معاشرت کے لیے اسے ترک کردے ۔

    اوراس کی قسم کے بارہ میں اس پر یہ واجب ہے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے اوراللہ تعالی کے سامنے دوبارہ سگرٹ نوشی کرنے کی توبہ کرے ۔

    قسم کا کفارہ یہ ہے کہ : دس مسکینوں کا کھانا یا پھر ان کے کپڑے ، یا ایک مومن غلام آزاد کرنا ، اوراس میں یہ کافی ہے کہ انہیں دن یا رات کا کھانا کھلا دے یا پھر ہر ایک کو نصف صاع اپنے ملک کی خوراک ادا کرے جوکہ تقریبا ڈیڑھ کلو بنتی ہے ۔

    اورہم آپ کویہ وصیت کرتے ہیں کہ اگر وہ نمازی ہے اوراچھی سیرت کا مالک ہے اورسگرٹ نوشی ترک کردیتا ہے توآپ اس سے طلاق کا مطالبہ نہ کریں ، لیکن اگر وہ معصیت اورگناہ پر مصر رہے توپھر طلاق کے مطالبہ میں کوئی مانع نہیں ہے ۔

    واللہ اعلم .
    دیکھیں فتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ للشيخ ابن باز ( 2 / 668 )
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 06، 2014 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بعض اطبا نے تمباکو نوشی کو کچھ بیماریوں کے لیے مفید قرار دیا ہے مثلا گیس اسی طرح سپین کے ایک ڈا کٹر نے تمباکو کے فوائد پر ایک کتاب تالیف کی ہے (کشف الظنون)
    عبد القادر طبری شافعی نے الفواکہ العدیدہ میں لکھا ہے :
    تمباکو مختلف قسم کی ریا ح اور نفخ معدہ کو رفع کرتا ہے جیسا کہ تجربے سے پتہ چلتا ہے ( ج٢ ص:٨٢
     
  5. ‏جنوری 06، 2014 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,717
    موصول شکریہ جات:
    5,250
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    تمباکو، پان، چائے، کافی، کاربونیٹیڈ مشروبات (کولڈ ڈرنکس) یہ سب کے سب کسی نہ کسی حد تک مضر صحت بھی ہیں اور ان سب کے کچھ نہ کچھ فوائد بھی ہیں۔ یہ سب کے سب براہ راست قرآن و حدیث سے حرام ”ثابت“ نہیں ہوتے۔ زبردست کھینچ تان کر ثابت کرنا الگ بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تا حال علماء کی انتہائی قلیل تعداد نے انہیں حرام قرار دیا ہے۔ کچھ صرف تمباکو کو حرام کہتے ہیں اور پان،چائے، کافی وغیرہ کو حرام نہیں کہتے۔ اور کولڈ ڈرنکس کو بوجوہ حرام کہنے کی شاید ”ہمت“ نہیں کرتے۔ حالانکہ بین الاقوامی برانڈڈ کولڈ ڈرنکس سے نہ صرف افراد کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کے استعمال سے امت کا اربوں ڈالر کا سالانہ زرمبادلہ یہودی کمپنیوں کے پاس جاتا ہے، جو مسلم امت کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔

    اسی لئے بہت سے اہل علم کا خیال ہے کہ ان اشیاء کو ”زبردستی حرام“ قرار دینے کی بجائے سماجی اور سیاسی سطح پر ان نقصان دہ اشیاء کے استعمال کو روکنے کی طرف توجہ دی جائے۔ مسلمان حکومتوں پر زور دیا جائے کہ ان اشیاء کی امپورٹ بند کی جائے اور ان کی مقامی انڈسٹری کی حوصلہ شکنی کی جائے تو بتدریج ان کے استعمال کو کم کرکے ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔
     
  6. ‏جنوری 06، 2014 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,717
    موصول شکریہ جات:
    5,250
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ چاروں عوامل اور بھی بہت سی استعمال کی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ جیسے فوم کے گدے اور صوفہ سیٹ ۔ آپ کسی بھی ڈاکٹر سے پوچھ لیجئے وہ ان مہنگے ترین صوفوں اور فوم کے گدوں کے نقصانات بتلا دیں گے۔ ان میں مال بھی ضائع ہورہا ہے کہ سادہ چارپائی اور کرسی وغیرہ یہی کام کم لاگت سے پورا ہوسکتا ہے اور ازل سے ہوتا رہا ہے۔فوم اور صوفے تیزی سے آگ پکڑتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہی دنوں میرے ایک میجر دوست کے پوش علاقے کے گھر کی بالائی منزل میں شارٹ سرکٹ کی چنگاری نے پہلے بیڈ فوم کو آگ لگائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گھر کی اشیا جل کر راکھ ہوگئیں۔ واضح رہے کہ اہل خانہ زیریں منزل پر موجود تھے۔ گھرانہ تعلیمیافتہ تھا۔ اگر اس گھر میں فوم کے گدے کی جگہ روایتی چارپائی ہوتی تو گھر کبھی نہ جلتا۔ علامہ اقبال صوفوں اور گدوں کے استعمال کو اس لئے پسند نہی کرتے تھے کہ ریح وغیرہ کے اخراج سے گندی ہوا ایک جگہ جمع ہونے کا موقع ملتا ہے اور اس کی بدبو تادیر تک برقرار رہتی ہے۔

    اب ہے کوئی مفتی جو صوفوں اور بیڈ فورم کو حرام قرار دینے کا فتویٰ جاری کرے۔
     
  7. ‏جنوری 06، 2014 #7
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس میں کوئی نص موجود ہے نہیں ، صرف اس کے نقصان کو سامنے رکھا جاتا ہے
     
  8. ‏جنوری 06، 2014 #8
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بہر حال شوق سے یہ کام کرنا کوئی اچھی عادت نہیں ہے اللہ سب کو برے کاموں سے محفوظ رکھے
     
  9. ‏جنوری 06، 2014 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,807
    موصول شکریہ جات:
    6,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    تمباکو کی حرمت و حلت


    شروع از کلیم حیدر بتاریخ : 29 November 2012 11:05 AM

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    کیا تمباکو کے درج ذیل استعمالات حلال ہیں؟ حقہ، بیڑی، سگریٹ اور شیشہ وغیرہ میں جلا کر اس کا دھواں لینا جو عموم ہے۔ پان، گٹکا، چھالیہ میں اس کے پتے کے چورے کا استعمال۔ انگلی وغیرہ کٹ جانے پر اس کے چورے کو زخم پر چھڑکنا کہ خون رک جائے۔ کسی اور زخم پر اسکے پتے کو پٹی کی طرح باندھنا تاکہ خون رک جائے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے جلد مستفید فرمایں ۔

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    تمباکو کا دھواں لینے اور اسے کھانے کی مذکورہ تمام صورتیں حرام ہے، كيونكہ يہ خبيث چيز اور بہت زيادہ ضرر و نقصانات پر مشتمل ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے تو اپنے بندوں كے ليے كھانے پينے والى پاكيزہ اشياء مباح كى ہيں، اور ان پر خبيث اور گندى اشياء حرام كى ہيں:

    يہ ضرر اور نقصان دہ اور نشہ آور مواد پر مشتمل ہے.

    كسى بھى حالت ميں اس كى عادت حرام ہے، چاہے تمباكو نوشى كى جائے، يا پھر تمباكو چبا كر كھايا جائے يا كسى اور طريقہ سے تمباكو استعمال كيا جائے يہ حرام ہے.

    ہر مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ فورى طور پر اس كو ترک كر كے اللہ تعالى سے توبہ و استغفار كرے، اور اس معصيت و نافرمانى پر نادم ہو، اور آئندہ پختہ عزم كرے كہ وہ كبھى بھى دوبارہ ايسا نہيں كريگا.

    اس وقت روئے زمين كى سارى امتيں ـ چاہے مسلمان ہوں يا كافر ـ وہ تمباکو نوشی كے خلاف جنگ كرنے لگے ہيں، كيونكہ انہيں اس كے شديد ضرر و نقصان كا علم ہو چكا ہے، اور پھر دين اسلام تو شروع ہى سے ہر نقصان دہ اور ضرر والى چيز كو حرام قرار ديتا ہے،

    اور پھر اس ميں كوئى شک و شبہ نہيں كہ كھانے پينے والى اشياء ميں اچھى اور نفع مند بھى ہيں، اور كچھ ايسى بھى ہيں جو گندى اور نقصاندہ ہيں، تو كيا سگریٹ اور حقہ اچھى اور پاكيزہ اشياء ميں سے ہے يا كہ گندى اور خبيث اشياء ميں ؟

    دوم:

    اب سارى دنيا ہى اس كا ادراک كرنے لگى ہے كہ سگریٹ اور حقہ نوشى ميں صرف كردہ مال ضائع كيا جا رہا ہے اور اس ميں كوئى فائدہ نہيں، يہى نہيں بلكہ يہ مال ضرر و نقصاندہ اشياء ميں خرچ كيا جا رہا ہے.

    اور اگر پورى دنيا ميں سگریٹ اور تمباكو نوشى پر خرچ كردہ مال جمع كيا جائے تو بھوک سے مرنے والے كئى معاشروں اور ملكوں كو بچايا جا سكتا ہے، تو كيا اس سے كوئى اور بڑھ كر بے وقوف ہو سكتا ہے جو ڈالر ہاتھ ميں لے كر اسے آگ لگا دے ؟

    سگریٹ اور تمباكو نوشى كرنے والے اور ڈالر كو آگ لگانے والے ميں كيا فرق ہے ؟

    بلكہ روپے كو آگ لگانے والے سے تو بڑا بے وقوف تمباكو اور سگرٹ نوش ہے، كيونكہ روپے كو آگ لگانے كى بے وقوفى تو اس حد تک رہے گى، ليكن سگریٹ نوش كى بے وقوفى تو اس سے بھى آگے ہے كہ وہ مال بھى جلا رہا ہے اور اپنا بدن بھى.

    سگریٹ نوشى كے حرام ہونے بعض اسباب تھى جو ہم اوپر بيان كر چكے ہيں.

    باقی رہا یہ مسئلہ کہ کیا زخم پر اسےلگانا جائز ہے یا نہیں؟

    میرے علم کے مطابق بطور سد ذرائع کے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔جب سارا معاشرہ ہی تمباکو نوشی سے پر ہیز کرنا شروع کر دے گا تب اس کی زراعت کی ضرورت بھی ختم ہو جائیگی۔ لہذا مشکوک امور کو اختیار کرنے کی بجائے صاف امور کو اختیار کرنا چاہئے۔

    تمباکو نوشی کے نقصانات کی تفصیل دیکھنے کے لئے درج ذیل ایڈریس پر دیکھیں
    http://www.kitabosunnat.com/forum/اصلاح-معاشرہ-88/تمباکو-نوشی-811/

    هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

    http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/2271
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں