1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام؟

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از Rashid Nawaz, ‏فروری 07، 2019۔

  1. ‏فروری 07، 2019 #1
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام علیکم:
    آج فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں نوح علیہ السلام کے بیٹے اور ابراہیم علیہ السلام کے والد کو جہنمی کہا گیا اور نیچے لکھا گیا تھا کہ اللہ کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں کون کسکا کیا لگتا ہے، اللہ کے نزدیک شرک سے پاک عقیدہ اہمیت کا حامل ہے۔

    اس پوسٹ کے نیچے ایک صاحب نے بحث شروع کر دی کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کافر نہیں بلکہ مومن اور جنتی تھے اور قرآن میں جو آذر کا ذکر آیا ہے وہ اصل میں ابراہیم علیہ السلام کے چچا کا نام ہے اور عربی میں چچا کے لیے بھی ابیہ کا لفظ استعمال ہوجاتا ہے۔

    اس پوسٹ پر بحث چل رہی ہے اور ان صاحب نے یہ حوالے دیے ہیں:

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد محترم کا نام حضرت تارخ علیہ السلام تھا۔


    البداية والنهاية، جلد اول، ص 141

    السيرة النبوية، ص 9


    اسکے علاوہ یہ بھی:

    میرے آباؤ اجدا میں کوئی کبھی بھی برائی پر جمع نہیں ہوااللہ تعالی مجھے ہمیشہ پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل فرماتارہاپاک اور صاف فرماکر جہاں کہیں بھی دو شاخیں پھوٹیں وہاں اللہ تعالی نے مجھے اس شاخ میں منتقل کیا جو سب سے بہتر ہے۔


    (السیرۃ النبویہ لابن کثیر جز۱ ص۶۹۱۔مختصر تاریخ دمشق جز۱ ص۰۲۱،البدایۃ والنھایۃ جز2


    برائے مہربانی اسکے حوالے سے بتا دیں کہ ان روایات کی اسناد کیسی ہیں۔ اگر اس بحث کو پڑھنا چاہیں تو اس پوسٹ پر بحث جاری ہے: https://www.facebook.com/DunyaUrdu....917127060181/1316693865149162/?type=3&theater
     
  2. ‏فروری 08، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس سوال کے جواب میں سعودی عرب کے جید اورمستند اہل علم کا فتویٰ پیش ہے ؛
    ــــــــــــــــــــــــ
    کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر مشرک نہ تھے ؟
    فتاوى اللجنة الدائمة (علمی تحقیقات اور فتاوی کیلئے جید علماء کی مستقل کمیٹی )

    فتوى رقم (6612) :
    سوال: من هو أبو سيدنا إبراهيم عليه السلام؟ لأني سمعت بعض العلماء يقولون: إن آزر ليس أبا إبراهيم الذي ولده، بل هو أخو أبيه، وقد جاء بحجة في القرآن والحديث الذي قال الرسول صلى الله عليه وسلم: «خرجت من كابر إلى كابر، ولم يمسسني شيء من سفاح الجاهلية» ؛ ولذلك قالوا: إن آزر ليس أبا إبراهيم؛ لأن إبراهيم من أجداد الرسول وكيف يكون أبوه كافرا، ولهذا قالوا: إن آزر ليس أبا إبراهيم، وأما أنا
    وبعض إخواني طلاب سمعنا أيضا من عالم آخر يقول: إن آزر هو أبو إبراهيم الذي ولده، وقال: إن في القرآن آية تدل على ذلك وهي: {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ} (سورة الأنعام الآية 74) ولذلك أرجو منكم بيانا واضحا لتطمئن قلوبنا؛ لأننا طلاب؟

    سوال :سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد کون تھے ؟
    میں نے بعض مولویوں سے سنا ہے کہ :آزر سیدنا ابراہیم کے والد نہیں تھے ،بلکہ ان کے والد کے بھائی تھے ،اور اس مسئلہ میں حدیث شریف بھی دلالت کرتی ہے جس میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میرا سلسلہ نسب نسل در نسل جاہلیت کی تمام آلودگیوں اور نجاستوں سے پاک ہے (یعنی میرے آباء و اجداد میں کسی کی بھی ولادت ناجائز اورغیر شرعی طریقہ نہیں ہوئی ،میرے نسب میں ذرا بھر ملاوٹ بھی نہیں پائی گئی )۔
    اور میرے ساتھی طلب علم نے ایک اور عالم سے سنا کہ آزر ہی سیدنا ابراہیم کا والد تھا ، اس عالم کا کہنا تھا کہ یہی بات قرآن مجید سے ثابت ہے ، جیسا کہ سورہ انعام آیت (74) میں اللہ تعالی نے فرمایا :​
    {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ} یعنی
    جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا ۔۔۔
    آپ سے گذارش ہے کہ حقیقت کو واضح فرماکر ہمارے قلوب کے اطمینان کا سامان فراہم کیجئے "

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    جواب:

    إن الحق هو ما ذكره العالم الثاني، من أن آزر هو أبو إبراهيم، لقوله تعالى: {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً} (سورة الأنعام الآية 74) وهذا نص قطعي صريح لا يحتاج إلى اجتهاد، ورجح ذلك الإمام ابن جرير وابن كثير.
    أما الحديث فذكر السيوطي في [الجامع الصغير] عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «خرجت من نكاح ولم أخرج من سفاح، من لدن آدم إلى أن ولدني أبي وأمي ولم يصبني من سفاح الجاهلية شيء» رواه الطبراني في [الأوسط] وابن عدي، وقال الهيثمي: فيه محمد بن جعفر بن محمد صحح له الحاكم، وقد تكلم فيه، وبقية رجاله ثقات.
    فالحديث يفيد طهارة سلسلة نسبه صلى الله عليه وسلم فقط، ولم يتعرض للكفر والإسلام في آبائه، ولا يلزم من كفر آزر أن يكون نكاحه سفاحا، وعلى فرض صحة الحديث المذكور لا يلزم من كون آزر كافرا أن يكون نكاحه سفاحا.
    وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... عضو ... نائب رئيس اللجنة ... الرئيس
    عبد الله بن قعود ... عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    ترجمہ :
    جواب : حق یہی ہے کہ آزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ، اور یہ بات اللہ تعالی کے کلام سے ثابت ہے ،سورۃ الانعام میں ارشاد ہے : اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
    قرآن کریم کا یہ بیان نص قطعی اور صریح ہے ،اس میں کسی اجتہاد کی حاجت نہیں ،اور اسی بات کو مشہور مفسر امام ابن جریرؒ اور امام ابن کثیرؒ نے ترجیح دی ہے ،
    جہاں تک جناب علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث جس میں آپ ﷺ نے اپنے نسب شریف کے متعلق فرمایا : میری پیدائش نکاح کے ساتھ ہوئی ہے نہ کہ غیر شرعی طریقہ پر اور میری (یہ نسبی عظمت) سیدنا آدم عليہ السلام سے لے کر میرے ماں باپ (جناب عبد اللہ اور حضرت آمنہ) کے مجھے جننے تک برقرار رہا ،اور زمانہ جاہلیت کی بد کرداریوں اور آوارگیوں کی ذرا بھر ملاوٹ بھی میرے نسب میں نہیں پائی گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو واضح رہے کہ اس حدیث سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب شریف کی طہارت و عظمت ثابت ہوتی ہے ، یعنی آپ ﷺ کے آباء و اجداد میں کوئی بھی نکاح شرعی کے بغیر متولد نہیں ہوا ،
    لیکن اس حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد کے کفر و اسلام کی وضاحت نہیں ہوتی ،یعنی اس حدیث سے یہ واضح اور ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ کے سلسلہ نسب میں کوئی بھی ایمان و توحید سے محروم تھا )
    اور آزر کو کافر کہنے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ نسبی حرام کاری کا نتیجہ تھا ،یا خود کسی نسبی حرام کاری کا مرتکب تھا ۔"
    فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى (جلد 4 ص217 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

     
    Last edited: ‏فروری 08، 2019
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 09، 2019 #3
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    جزاک اللہ۔۔۔

    اس کا مطلب کہ وہ حدیث صحیح ہے مگر اس سے جو مطلب اخذ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔۔۔؟؟
    کیا برائے مہربانی آپ اس حدیث کا حوالہ دے سکتے ہیں اور عبارت؟؟
    میری پیدائش نکاح کے ساتھ ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ الخ
     
  4. ‏فروری 09، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مشہور محدث امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرانی( المتوفی 360ھ) المعجم الاوسط میں روایت کرتے ہیں کہ :
    حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي قال: نا محمد بن أبي عمر العدني قال: نا محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن حسين قال: أشهد على أبي، لحدثني، عن أبيه، عن جده، عن علي، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «خرجت من نكاح، ولم أخرج من سفاح، من لدن آدم إلى أن ولدني أبي وأمي»
    ترجمہ :
    جناب علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نبی کریم ﷺ نے اپنے نسب شریف کے متعلق فرمایا :
    میری پیدائش نکاح کے ساتھ ہوئی ہے نہ کہ غیر شرعی طریقہ پر اور میری (یہ نسبی عظمت) سیدنا آدم عليہ السلام سے لے کر میرے ماں باپ (جناب عبد اللہ اور حضرت بی بی آمنہ) کے مجھے جننے تک برقرار رہا ،اور زمانہ جاہلیت کی بد کرداریوں اور آوارگیوں کی ذرا بھر ملاوٹ بھی میرے نسب میں نہیں پائی گئی۔"

    المعجم الاوسط ،جلد 5 ص80
    https://archive.org/stream/WAQmat/mat05#page/n80/mode/2up
     
  5. ‏فروری 10، 2019 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ سنداً اس روایت کا کیا درجہ ہے ؟ وضاحت فرما دیں ۔ جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
     
  6. ‏فروری 11، 2019 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس میں عن أبیہ عن جدہ والی معروف ’تعبیر‘ استعمال ہوئی ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ علی زین العابدین حضرت علی سے روایت کر رہے ہیں۔
    اس صورت میں علی زین العابدین تك سند حسن ہے، البتہ زین العابدین کا اپنے دادا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 11، 2019
  7. ‏فروری 11، 2019 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي قال: نا محمد بن أبي عمر العدني قال: نا محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن حسين قال: أشهد على أبي، لحدثني، عن أبيه، عن جده، عن علي، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «خرجت من نكاح، ولم أخرج من سفاح، من لدن آدم إلى أن ولدني أبي وأمي»
    علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے نسب شریف کے متعلق فرمایا :
    میری پیدائش نکاح کے ساتھ ہوئی ہے نہ کہ غیر شرعی طریقہ پر اور میری (یہ نسبی عظمت) سیدنا آدم عليہ السلام سے لے کر میرے ماں باپ (جناب عبد اللہ اور حضرت بی بی آمنہ) کے مجھے جننے تک برقرار رہا ،اور زمانہ جاہلیت کی بد کرداریوں اور آوارگیوں کی ذرا بھر ملاوٹ بھی میرے نسب میں نہیں پائی گئی۔"

    (المعجم الاوسط)
    امام نورالدین ہیثمیؒ (المتوفی 807 ھ) مجمع الزوائد میں اس حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں :​
    رواه الطبراني في الأوسط، وفيه محمد بن جعفر بن محمد بن علي، صحح له الحاكم في المستدرك وقد تكلم فيه، وبقية رجاله ثقات
    ترجمہ : اس حدیث کو امام ابوالقاسم الطبرانیؒ نے "المعجم الاوسط " میں روایت کیا ہے ، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ،سوائے محمد بن جعفر بن محمد کے "
    ـــــــــــــــــــــــــــ
    اور جناب مُحَمد بْن جعفر بْن مُحَمد بْن عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عنه
    جو سیدنا زین العابدین علی بن حسین بن علی کے پڑپوتے ہیں ،یہ بڑے نیک اور مشہور شخصیت تھے ،عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دور (سنۃ 200 ھ)میں اہل حجاز نے ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت بھی کی ، لیکن المعتصم باللہ (یعنی ابو اسحاق محمد بن ہارون رشید جو بعد میں خلیفہ بھی بنا ) اس نے انہیں گرفتار کروادیا ، اور آپ کو بغداد لایا گیا ،اس کے بعد کچھ عرصہ زندہ رہے ،اور ستر(70) سال سے اوپر عمر پاکر (203 ھ) کو جرجان میں فوت ہوئے ،
    (تاریخ بغداد ،لسان المیزان )
    علامہ ابن حجر عسقلانیؒ " لسان المیزان " میں لکھتے ہیں :
    كان بطلا شجاعا يصوم يوما ويفطر يوما.یعنی یہ بڑے بہادر اور دلیر شخص تھے ، یہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے ،یعنی ہر ماہ پندرہ نفلی روزے رکھتے تھے ،
    ان پر بعض محدثین نے کچھ کلام کیا ہے یعنی علم حدیث کے لحاظ سے کچھ جرح ہے ،
    علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے صرف اتنا لکھا ہے کہ : تكلم فيه " (یعنی ان پر کچھ کلام کیا گیا ہے )
    اور ساتھ لکھا ہے کہ : وَقال البُخاري: أخوه إسحاق أوثق منه.
    یعنی امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ :ان کے بھائی جناب اسحاقؒ ان سے بڑھ کر ثقہ تھے ۔(لسان المیزان )
    تاریخ بغداد میں ہے کہ : یہ چار بھائی تھے ،​
    محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، أبو جعفر۔۔ وهو أخو إسحاق وموسى وعلي بني جعفر.،حدث عن أبيه.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن یاد رہے :
    ان کی اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں ،جن میں ایک تو مجمع الزوائد میں اسی حدیث کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے :​
    وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم -: «ما ولدني من سفاح الجاهلية شيء، وما ولدني إلا نكاح كنكاح الإسلام».
    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا :
    میری پیدائش میں جاہلیت کی بد کرداریوں کا ذرا بھی دخل نہیں ، میری ولادت خالص ایسے نکاح سے ہوئی جیسے اسلام کا نکاح ہوتا ہے "
    ـــــــــــــــــــــــــ
    اور درج ذیل دو صحیح حدیثیں بھی اسی معنی کو بیان کرتی ہیں :
    عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ رضي اﷲ عنه يَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنَّ اﷲَ اصْطَفَی کِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيْلَ، وَاصْطَفَی قُرَيْشًا مِنْ کِنَانَةَ، وَاصْطَفَی مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ.
    رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
    صحیح مسلم ، کتاب : الفضائل، باب : فضل نسب النبی صلی الله عليه وآله وسلم،
    ’’حضرت واثلہ بن اسقع رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل عليہم السلام سے بنی کنانہ کو منتخب کیا اور اولادِ کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب کیا اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ انتخاب بخشا۔‘‘

    عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضي اﷲ عنه قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَکَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا‘ فَقَامَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ : مَنْ أَنَا؟ فَقَالُوْا : أَنْتَ رَسُوْلُ اﷲِ عَلَيْکَ السَّلَامُ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ اﷲَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً‘ ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً‘ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيْلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوْتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَخَيْرِهِمْ نَسَبًا.

    رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ. (وَقَالَ أَبُوْ عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.)

    سنن الترمذی، کتاب : الدعوات عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، باب : (99)، 5 / 543، الرقم : 3532، وأحمد بن حنبل فی المسند، 1 / 210، الرقم : 1788
    ’’ترجمہ : عبدالمطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں:عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، گویا کہ انہوں نے کوئی بات سنی ( جس کی انہوں نے آپ کو خبردی) نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے، اور پوچھا : میں کون ہوں؟
    لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ! آپ پر اللہ کی سلامتی ہو، آپ نے فرمایا:' میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تومجھے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا، پھر اس گروہ میں بھی دوگروہ بنادیئے اور مجھے ان دونوں گروہوں میں سے بہتر گروہ میں رکھا، پھران میں مختلف قبیلے بنادیئے ، تومجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھروں میں بانٹ دیا تو مجھے اچھے نسب والے بہترین خاندان اور گھر میں پیدا کیا ۔
    (اس لئے میں ذاتی شرف اور حسب و نسب کے لحاظ سے تمام مخلوق سے افضل ہوں)۔‘‘
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 11، 2019 #8
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    تو پھر یہ روایت منقطع ٹھری سند کے اعتبار سے ؟
    لیکن اس کا متن صحیح شواہد کی بنا پر صحیح ہے ۔؟
     
  9. ‏فروری 11، 2019 #9
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں