1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور رکعات تراویح

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ معاویہ سلفی, ‏فروری 08، 2020۔

  1. ‏فروری 08، 2020 #1
    حافظ معاویہ سلفی

    حافظ معاویہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی، پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 14، 2019
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور گیارہ رکعات تراویح


    امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد رضي الله عنه أنَّه قال: أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ رضي الله عنهم أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ: وَقَدْ «كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ، حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ»
    سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنھم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت تراویح پڑھائیں۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قاری سو سو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا تھا۔ حتی کہ ہم طویل قیام کی وجہ سے لکڑی کے سہارے کھڑے ہوتے تھے اور فجر کے قریب ہی نماز سے فارغ ہوتے تھے
    [موطأ امام مالك ١١٥/١ ت فواد عبد الباقي ]
    JointPics_20200208_000202.PNG

    یہ روایت بخاری و مسلم کی شرط پر بالکل صحیح ہے اور اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے 11 رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا نا کہ 20 رکعت تراویح پڑھانے کا۔

    سند کی تحقیق:

    پہلے راوی: امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
    آپ خلیفہ راشد دوم، اور مشہور صحابی رسول ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

    دوسرے راوی: سائب بن یزید رضی اللہ عنہ
    آپ بھی صحابی رسول ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

    تیسرے راوی: محمد بن یوسف المدنی رحمہ اللہ
    آپ بخاری و مسلم کے راوی ہیں اور مشہور ثقہ راوی ہیں۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ناقدین کے اقوال کا خلاصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    "ثقة ثبت"
    [تقريب التهذيب رقم ٦٤١٤]
    JointPics_20200208_002421.PNG

    چوتھے راوی: امام مالک بن انس رحمہ اللہ
    آپ بہت بڑے ثقہ امام، محدث اور فقیہ ہیں اور بخاری و مسلم کے متفق علیہ راوی ہیں۔
    حافظ ابن حجر ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    الفقيه إمام دار الهجرة رأس المتقنين و كبير المتثبتین
    [تقریب تھذیب رقم ٦٤٢٥]
    JointPics_20200208_003334.PNG

    معلوم ہوا یہ روایت صحت کے اعتبار سے نہایت ہی اعلی درجہ کی ہے۔ پس جب معاملہ ایسا ہے تو یہ روایت زبر دست دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں گیارہ رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔


    جاری ہے.......
     
  2. ‏فروری 09، 2020 #2
    حافظ معاویہ سلفی

    حافظ معاویہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی، پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 14، 2019
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    روایتِ مذکور پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب

    پہلا اعتراض: امام مالک کی تغلیط

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس روایت میں امام مالک کو غلطی لگی ہے اور اس روایت پر یہ بے بنیاد اعتراض ثابت کرنے کے لئے وہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کے ایک قول کو دلیل بناتے ہیں۔
    چنانچہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    (هَكَذَا قَالَ مَالِكٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً) وَغَيْرُ مَالِكٍ يُخَالِفُهُ فَيَقُولُ فِي مَوْضِعٍ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً (إِحْدَى وَعِشْرِينَ) وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً غَيْرَ مَالِكٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
    "یعنی امام مالک نے اس حدیث میں گیارہ (11) رکعت کہا ہے اور امام مالک کے علاوہ جس نے امام مالک کی مخالفت کی ہے، اس نے گیارہ رکعت کے بجائے 21 رکعت کہا ہے اور مجھے ایک بھی ایسے راوی کا نام نہیں معلوم جس نے امام مالک کے علاوہ اس حدیث میں گیارہ رکعت کہا ہو واللہ اعلم"
    [الاستذكار ٦٨/٢]

    امام مالک کے اس قول سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
    1) امام مالک کے علاوہ راوی نے 21 رکعات کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ (اس بات کا جواب دوسرے اعتراض کے جواب کے تحت آ رہا ہے)
    2) امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے گیارہ رکعات کے الفاظ نہیں کئے

    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کے قول پر غور کریں کہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے ایک بھی ایسے راوی کا نام نہیں معلوم جس نے یہ حدیث روایت کی ہو لیکن امام مالک کی طرح گیارہ رکعات کے الفاظ بولیں ہوں۔ یعنی امام ابن عبد البر نے اپنے علم کے مطابق ایسا کہا ہے کہ چونکہ انہیں ایسا کوئی راوی معلوم نہیں جس نے امام مالک کی 11 رکعات پر متابعت کی ہو تو انہوں نے اس روایت کو امام مالک کی تغلیط قرار دیا۔
    حالانکہ یہ خود میں ہی بہت عجیب و غریب بات ہے کیوں کہ اس روایت میں کہیوں نے 11 رکعات کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ پس جب معاملہ ایسا ہے کہ امام مالک کے علاوہ محمد بن یوسف کے دیگر شاگردوں نے بھی 11 رکعت کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ تو امام مالک رحمہ اللہ کا اس روایت میں تغلیط کا دعویٰ اپنے آپ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ والحمدللہ

    پہلے متابع: امام یحیی بن سعید القطان
    امام ابو بکر بن شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أَنَّ السَّائِبَ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ عُمَرَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيٍّ وَتَمِيمٍ فَكَانَا يُصَلِّيَانِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَقْرَآنِ بِالْمِئِينَ» يَعْنِي فِي رَمَضَانَ
    [مصنف ابن أبي شيبة ١٦٢/٢ رقم ٧٦٧١]
    JointPics_20200208_132711.PNG

    دوسرے متابع: اسامہ بن زید رحمہ اللہ
    امام ابو بکر النیسابوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
    حدثني ربيع بن سليمان ثنا ابن وهب حدثني أسامة بن زيد عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد قال جمع عمر بن الخطاب الناس في قيام رمضان على أبي بن كعب وتميم الداري، كانا يقومان أحد عشرة ركعة
    [فوائد أبي بكر النيسابوري (ق ١٣٥/ب) ]

    PicsArt_02-08-12.58.05.png

    PicsArt_02-08-01.01.00.png

    تیسرے متابع: عبد العزیز بن محمد بن عبید الدراوردی رحمہ اللہ
    امام سعید بن منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    حدثنا عبد العزيز بن محمد حدثني محمد بن يوسف سمعت السائب بن يزيد كنا نقوم في زمان عمر بن الخطاب بإحدى عشرة ركعة
    [المصابيح في صلاة التراويح للسيوطي ص ٣٨ نقله السيوطي عن السنن سعيد بن منصور ]
    JointPics_20200208_171804.PNG

    چوتھے متابع: اسماعیل بن امیة القرشي رحمہ اللہ
    امام ابو بکر النیسابوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
    حدثنا يوسف بن سعيد ثنا حجاج عن ابن جريج أن محمد بن يوسف ابن أخت السائب بن يزيد أخبره أن السائب بن يزيد أخبره قال: جمع عمر بن الخطاب الناس على أبي بن كعب و تميم الداري فكان يقومان بمائة في ركعة فما ننصرف حتى نرى أو نشك في فروع الفجر. قال فكنا نقوم بأحدى عشر
    [فوائد أبي بكر النيسابوري (ق ١٣٥/ب) ]
    PicsArt_02-08-02.09.03.png

    PicsArt_02-08-02.09.54.png


    پانچویں متابع: اسماعیل بن جعفر الانصاری
    علی بن حجر السعدی کہتے ہیں کہ:
    حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، حَدْثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيُّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ «أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُومُونَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَقْرَءُونَ فِي الرَّكْعَةِ بِالْمِائَتَيْنِ حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَعْتَمِدُونَ بِالْعِصِيِّ»
    [حديث على بن حجر السعدي عن إسمعيل بن جعفر رقم ٤٤٠]
    JointPics_20200208_142048.PNG


    لہذا معلوم ہوا اس روایت میں امام مالک کو غلطی نہیں لگی کیوں کہ گیارہ رکعات کی تعداد نقل کرنے میں پانچ پانچ راوی ان کے متابع ہیں۔
    لہذا امام ابن عبد البر کا یہ کہنا کہ مجھے ایک بھی ایسے راوی کا نام معلوم نہیں کہ کسی نے اس روایت میں گیارہ رکعات کہا ہو محض نظریاتی حد تک ہے۔ کیوں کہ امام مالک کی متابعت تو پانچ راویوں نے کر رکھی ہے۔
    لہذا امام ابن عبد البر کا یہ اپنا ذاتی گمان ہے۔ غالباً اس لئے کہ ان کے علم میں یہ متابعات نہیں تھیں تب ہی انہوں نے یہ دعوی کیا۔

    علامہ سبکی رحمہ اللہ امام ابن عبد البر پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
    وَكَأَنَّهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى مُصَنَّفِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ فِي ذَلِكَ فَإِنَّهُ رَوَاهَا كَمَا رَوَاهَا مالك عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ محمد بن يوسف شَيْخِ مالك
    اور (لگتا ہے) جیسے کہ وہ (امام ابن عبد البر) مصنف سعید بن منصور سے واقف ہی نا ہوئے ہوں کیوں کہ اس کتاب میں بھی امام مالک ہی کی روایت کے جیسے ، مالک کے شیخ محمد بن یوسف سے عبد العزیز بن محمد نے روایت کیا ہے۔
    [الحاوي للفتاوي للسيوطي ٣٣٨/١ نقله السيوطي عن الكتاب السبكي يعني شرح المنهاج]
    JointPics_20200209_001005.PNG

    لہذا ثابت ہوا کہ امام مالک کو اس روایت میں کوئی غلطی یا وہم نہیں لگایا۔
    لہذا مزید تفصیل میں جاتے ہوئے ہم اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏فروری 09، 2020
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    537
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    931
  3. javed satakpuri
    جوابات:
    4
    مناظر:
    3,619
  4. danish ghaffar
    جوابات:
    2
    مناظر:
    1,483
  5. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    723

اس صفحے کو مشتہر کریں