1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شذوذات اور تفردات

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 16، 2014۔

  1. ‏ستمبر 16، 2014 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل علم نے علماء کی شاذ آراء اور تفردات سے عدم تعرض کا حکم دیا ہے لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاذ قول ہے کیا؟ تفردات کی تعریف کیا ہو گی؟

    علم قراء ات، علم حدیث اور علم فقہ میں شاذ کی اصطلاح مختلف معانی میں استعمال ہوئی ہے۔ ہم یہاں فقہ اور اصول فقہ کی روشنی میں اس اصلاح پر گفتگو کر رہے ہیں۔

    جمہور اہل علم خیال ہے کہ شاذ ہونے کا تعلق قائل سے ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق قول سے ہے۔

    جمہور کہتے ہیں کہ شاذ قول وہ ہے کہ جس کا قائل جماعت کے مقابلے میں تنہا یا اکیلا ہو۔ یعنی علماء کی ایک جماعت کی رائے کچھ ہے جبکہ ایک عالم دین کی رائے ان جمہور کے برعکس ہے۔

    امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شاذ قول وہ ہے جو حق کے خلاف ہو، چاہے وہ جماعت کا ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ ابن حزم رحمہ اللہ کے اقوال پر عموما شذوذات اور تفردات کے فتوے لگائے گئے تو انہیں یہ مسئلہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اکیلے کا قول حق کے موافق اور دلیل پر مبنی ہے تو یہ شاذ نہیں ہے اور جمہور یا جماعت علماء کا قول اگر حق کے خلاف یا کمزور دلیل پر ہے تو یہ شاذ قول ہو گا۔ واللہ اعلم بالصواب

    اگر تو ابن حزم رحمہ اللہ کی بات مان لی جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے لیکن اگر جمہور کی بات کو لیا جائے تو اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف اکیلا ہونا کسی کے غلط ہونے کی دلیل بن سکتا ہے؟ یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابن حزم رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کے بعض اقوال جو کہ ان کے تفردات شمار ہوتے تھے لیکن بعد میں عوام کی ایک جماعت نے ان پر عمل شروع کر دیا یا علماء نے اس کے مطابق فتوی دے دیا تو کیا اس کے بعد ایک عرصہ اس قول کو شاذ یا تفرد شمار کرنے کے بعد اس پر علماء کے فتوی یا عوام کے عمل سے وہ شاذ یا متفرد قول کی تعریف سے نکل جاتا ہے۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 16، 2014
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 16، 2014 #2
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    724
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    ما شاءاللہ برادرم علوی صاحب نے بہت عمدہ موضوع شروع کیا ہے اور بہت اچھی معلومات پیش کی ہیں؛فجزاہ اللہ خیراً
    میرا خیال ہے کہ شاذ کا تعلق اصلاً قول سے ہے اور شاذ اسے کہا جائے گا جو اجماع کے مخالف ہو ؛اگر کسی مسئلے پر اجماع نہیں بل کہ اکثریت کا ایک موقف ہے تو وہاں دلیل کو دیکھا جائے گا ؛اگر دلیل قوی ہو تو وہ موقف درست ہو گا خواہ اس کے قائلین کم ہوں یا ایک ہی ہو۔دلیل کی قوت کا اندازہ استدلال کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں ہو گا،مثلاً حدیث ہے تو دیکھا جائے گا کہ وہ صحیح ہے یا ضعیف،پھر یہ بھی دیکھنا ہو گا لغت کی رو سے وہ استدلال درست ہے یا نہیں،علاوہ ازیں دیگر دلائل سے تعارض تو پیدا نہیں ہو رہا ،یا تعمیم و تخصیص کے قواعد کی رو سے وہ صحیح ہے یا نہیں؟وغیرہ
    ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ شذوذ اور تفرد میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
    میری راے میں فرق کرنا چاہیے اور اس کا تعلق قائل سے ہے؛اگر تو بدعتی آدمی ہے تو اس کا مخالف دلیل قول شاذ ہو گا اور اگر اہل سنت عالم ہے تو اس کا مرجوح موقف تفرد شمار ہو گا اور اسے بدعتی قرار نہیں دیا جائے گا کیوں کہ اصلاً وہ اہل سنت کے طریق استدلال پر ہے لیکن اس مسئلے میں فہم کی غلطی کی بنا پر غلط موقف اپنا لیا ہے۔
    یہ ایک توجیہ ہے؛دیگر اہل علم سے تبصرے اور رہ نمائی کی درخواست ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 26، 2014 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,012
    موصول شکریہ جات:
    1,187
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اچھا موضوع ہے اس سے اس امر میں مدد ملے گی کہ آیا تفردات علی الاطلاق مردود ہیں یا کچھ شروط کے ساتھ انہیں قبول کیا جائے گا یا اس کے بارے میں خاموش رہا جائے گا تاوقتیکہ ان کے بارے میں مکمل وضاحت ہو جائے اور یہ کہ کیا کسی شخص کی علمی اور تحقیقی آراء اگر علماء کے عمومی موقف سے الگ ہوں تو اس پر کیا حکم لگایا جائے گا ؟
    ابو الحسن بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں