1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شوہر کے حقوق

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جون 08، 2017۔

  1. ‏جون 08، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,349
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    اس قول کی صحت و تخریج درکار ہے.

    عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ اے عورتو ! اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ تمہارے مردوں کا تم پر کیا حق ہے تو تم اپنے شوہروں کے قدموں کی غبار و دھول کو اپنے گالوں سے صاف کر وگی
    ( الکبائر للذھبی ص ۱۷۴)
     
  2. ‏جون 08، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,454
    موصول شکریہ جات:
    1,956
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول دراصل امام ابن ابی شیبہ ؒ نے (المصنف کی کتاب النکاح ، باب ماحق الزوج علی امراتہ ) میں روایت فرمایا ہے ، لکھتے ہیں :
    حدثنا وكيع، عن قرة بن خالد، عن امرأة من بني عطارد يقال لها ربيعة، قالت: قالت عائشة: «يا معشر النساء، لو تعلمن حق أزواجكن عليكن لجعلت المرأة منكن تمسح الغبار عن وجه زوجها بنحر وجهها»
    لیکن اس کی ایک راویہ جو بنو عطارد کی خاتون ربیعہ ہیں ان کے حالات ، ترجمہ دستیاب نہیں ، یعنی مجہول ہیں ، اسلئے یہ روایت اس علت کی بناء پر ناقابل استدلال ہے ،
    مصنف ابن ابی شیبہ کے محقق علامہ ابومحمد اسامہ بن ابراہیم اس رواایت کے ذیل (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۶ ص۲۱۰ ) میں لکھتے ہیں :
    في اسناده ربيعة هذه لم أقف على ترجمة لها " یعنی اس کی اسناد میں جو ربیعہ نامی خاتون ہے مجھے اس کا ترجمہ (حالات ) نہیں ملے ‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. ‏جون 09، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,454
    موصول شکریہ جات:
    1,956
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے حقوق الزوجین پر مختصر کتابچہ مرتب فرمایا ہے
    کتاب وسنت لائبریری میں موجود ہے وہ پڑھیں

    ایک اور کتاب (بیوی اور شوہر کے حقوق ) بھی لائق مطالعہ ہے
     
    Last edited: ‏جون 09، 2017
  4. ‏جون 09، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,349
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
     
  5. ‏جون 09، 2017 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,349
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ!
    بارک اللہ فی علمک وعملک ومالک واھلک!
    جس دوست نے مذکورہ قول کے بارے پوچھا تھا، اُنہیں آپ کی سفارش کردہ کتب ارسال کر دی ہیں بلکہ کتاب حقوق الاولاد بھی پیش کر دی ہے...الحمد للہ
    بارک اللہ فیک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں