1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شکر ہے: لوگ نماز نہیں پڑھتے!!

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 11، 2017۔

  1. ‏جولائی 11، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شکر ہے: لوگ نماز نہیں پڑھتے!!


    (تحریر: محمد عاصم حفیظ۔ شیخوپورہ)

    عنوان پڑھ کر ضرور آپ کی دینی حمیت جاگی ہو گی ۔لیکن ذرا ٹھہرئیے،میری تھوڑی سی گزارش بھی سن لیں ۔میں آپ کی توجہ چند تلخ حقائق اور اسلام کے نام پر بننے والی مملکت پاکستان کے ایک معاشرتی المیے کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ لاہور کے انتہائی اہم علاقے برکت مارکیٹ چوک میں شادی ہالز کا ایک کمپلیکس” مغل اعظم“ کے نام سے ہے۔ اس عمارت میں چاربڑے ہالز ہیں جن میں مجموعی طور پر ہزاروں لوگوں کی گنجائش ہے۔ یہ مصروف ترین شادی ہالز ہیں جہاں ہر روز بکنگ ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں یہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ نمازمغرب کا وقت گزار جا رہا تھا ، گارڈ سے نماز کی جگہ پوچھی ۔ یقین مانیں ہزاروں افراد کی گنجائش رکھنے والے اس کمپلیکس میںنماز کی جگہ پر ایک وقت میں صرف چھ افراد نماز ادا کر سکتے تھے۔ویسے نماز پڑھنے والے بھی آٹھ دس افراد ہی تھے جنہوں نے دو شفٹوں میں فریضہ سرانجام دیا۔ یہ سب ایک سوچ کی عکاسی ہے کہ جو ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ ہمارے ہاں شادی کے جو اوقات ہوتے ہیں ان میں اکثر ایک سے دو نمازیں آتی ہیں لیکن بڑے بڑے شادی ہالز میں چند افراد کی گنجائش ہوتی ہے وہ بھی کسی سٹور روم میں یا راہداری میں ۔ اکثر اوقات تو مصلہ دیکر کہا جاتا ہے جہاں مرضی پڑھ لیں۔ دفاتر ، عوامی مقامات ،مارکیٹ، شاپنگ مالز،تفریحی مقامات ،شادی ہالز اور ہوٹلز وغیرہ میں نماز کی جگہ چھوٹی ہوتی ہوتی بہت سی جگہوں پر تقریبا ختم ہی ہو چکی ہے۔ آپ یقینا سوچ سکتے ہیں کہ جسے نماز پڑھنی ہو اسے قریبی مسجد جانا چاہیے ۔ آپ کی بات درست ہے لیکن عرض یہ ہے کہ پرائیوٹ دفتر میں کام کرنیوالا اگر نماز پڑھنے کسی مسجد میں جائے گا تو پندرہ بیس منٹ جانے،نماز کی ادائیگی اور واپسی کےلئے اتنا ہی وقت صرف ہوگا یعنی تقریبا 45 منٹ صرف ہوں گے۔یہ سب سوچا تو جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں کیا کوئی پرائیوٹ کمپنی اپنے ملازم کو دفتری اوقات میں دو نمازوں کے لئے ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد دینے پر تیار ہوگی؟؟۔ ذاتی دو تجربات شئیر کروں گا ۔خبریں گروپ کے چینل فائیو میں نوکری ہوئی تو انچارج سے بمشکل دس منٹ کی اجازت مانگی نماز کے لئے۔ وضو کر کے نماز کی جگہ کا پوچھا تو بتایا گیا کہ اس پانچ منزلہ عمارت میں یہ سہولت میسر نہیں۔ باہر جانے پر ٹائم زیادہ لگتا تھا اس لئے نماز کے شوق کو دفتری اوقات سے پہلے یا بعد میں ایڈجسٹ کرنا پڑا۔ ملک کے ایک اور معروف نظریاتی ادارے میں نوکری ملی تو خوشی تھی کہ یہاں نماز کا انتظام موجود ہے ۔ لیکن المیہ دیکھیں کہ اس مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ عمارت کی چھت پر بنی مسجد میں سخت گرمی اور شدید سردی میںنماز کے لئے جانے کی ہمت کوئی کوئی ہی کرتا تھا۔جی ہاں! دفاتر اور کئی ہوٹلز وہالز وغیرہ میں نماز کی جگہ بنائی تو جاتی ہے لیکن اسے سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ شدید موسم میں ان جگہوں پر نماز کی ادائیگی صرف باہمت لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کبھی پنجاب سول سیکرٹریٹ جائیں تو محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے لان میں سینکڑوں ملازمین ظہر و عصر کی نماز ادا کرتے نظر آئیں گے۔ مئی جون جولائی میں ان ملازمین کو کھلے لان میں دھوپ میں نماز ادا کرنی پڑتی ہے جہاں پنکھے تک دستیاب نہیں ہوتے۔ آپ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ ان ملازمین کو سیکرٹریٹ کی مسجد جانا چاہیے تو جناب یہ لوگ گرمی میں پیدل آدھ گھنٹہ آنے جانے میں صرف کرنے کی بجائے اگر دس منٹ شدید دھوپ میں نماز ادا کرنا مناسب سمجھتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کبھی کسی افسر نے ان کے لئے سائے اور پنکھے جیسی سہولت فراہم کرنے تک کے بارے نہیں سوچا ۔ شائد وہ سوچتے ہوں گے کہ ثواب کمانا ہے تو مشکلات بھی برداشت کریں ۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں شائد ابھی بھی باہر لان میں ہی دریاں بچھا کر نماز ہوتی ہوگی کیونکہ اس بڑی عمارت میں نماز کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں ۔ جس نے سائے میں نماز پڑھنی ہے وہ جامع مسجد جائے جو کہ کافی دور ہے ۔ اب کلاس کے وقفے سے دس پندرہ منٹ بچا کر نماز پڑھنے والے یا تو کلاس چھوڑیں یاپھر نماز کی قربانی دیں فیصلہ آپ پر ہے۔شائد ہمارے معاشرے میں خاموشی سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ نماز کے لئے اول تو سہولت دینی ہی نہیں ، اگر بار بار لوگ پوچھ رہے ہوں تو چھوٹی سی جگہ دے دیں ، ہاں البتہ اسے سہولیات سے محروم ہی رکھنا ہے تاکہ زیادہ لوگ اس کے عادی ہی نہ ہوجائیں ۔دارالحکومت کے معروف اسلام آباد ہوٹل میں اگر نماز پڑھنی ہوتو آپ کو تہہ خانے میں تنگ راہداریوں سے گزر کرسٹورز کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں جانا پڑے گا جہاں وضو وغیرہ تک کی سہولت مناسب دستیاب نہیں ہے۔مانا کہ نماز ایک عبادت ہے ثواب کرنے والا خود اپنے لئے ہی کماتا ہے لیکن عرض یہ ہے کہ کیا بڑے بڑے ہوٹلز ، مالز اور شادی ہالز وغیرہ جہاں کے واش روم بھی ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں وہاںنماز کی جگہوں سے یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔ پوری عمارت کو سہولیات سے مزین کرنیوالے نماز کی جگہ کو چھت پر بنا کر نمازیوںکو سخت ترین موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔بات تو عجیب سی ہے لیکن کیا ان بڑے ہوٹلز میں بارز کو بھی اسی طرح سہولیات سے عاری رکھا جا سکتا ہے؟؟ کیا صرف اس لئے کہ نما ز کی جگہ سے کوئی نفع بخش فائدہ ممکن نہیں اس لئے اسے بنایا ہی نہیں جاتا یا پھر سہولیات سے محروم رکھاجاتا ہے۔ اسی طرح بڑی بڑی مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں جہاں لوگوں کو اکثر گھنٹوں گزارنا ہوتے ہیں وہاں دکانداروں اور خریداروں کے لئے مناسب انتظام تک موجود نہیں ہوتا ۔ دور کی مساجد میں ادائیگی کے لئے فی نماز کم سے کم ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے ۔اسی طرح ہاوسنگ اسکیموں میں مساجد کی تعمیر تو کی جاتی ہے لیکن سینکڑوں گھروں کے لئے صرف ایک دس پندرہ مرلے کی مسجد۔شائد یہی وجہ ہے کہ نماز جمعہ کے وقت جب کچھ زیادہ لوگ ان مساجد کا رخ کرتے ہیں تو انہیں باہر سڑکوں پر اور گلیوں میں نماز ادا کرنی پڑتی ہے۔یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ معاشرے میں نماز پڑھنے کا رجحان کم ہوا ہے ، لوگ اس فرض کی ادائیگی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نماز کی جگہ کی عدم موجودگی ، مناسب نہ ہونا ، سہولیات سے محرومی اور دوری کے باعث بھی بہت سے لوگ آہستہ آہستہ نماز سے دور ہو رہے ہیں۔ یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ رہائشی علاقوں میں تو گلی گلی مساجد ہوتی ہیں وہاں لوگ کیوں نہیں جاتے لیکن یقین مانیں بات وہی ہے کہ لوگ نماز پڑھنا ہی چھوڑ گئے ہیں ورنہ آپ کو ہر تھوڑے فاصلے پر موجود یہ مساجد بھی ناکافی نظر آئیں گی ۔ یقین نہ آئے توکبھی کبھی نماز جمعہ ، رمضان المبارک کے ایام اور خاص کر جمعة الوداع کے موقعے پر دیکھ لیں جب ہر مسجد ہی بھری اور باہر سڑکوں پر نمازی نظرآتے ہیں۔

    آپ چاہے ناراض ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ دفاتر ، شادی ہالز ، شاپنگ مالز اور ہاوسنگ اسکیموں کے مالکان کے ذہنوں میں یہ سوچ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوگی کہ ” شکر ہے؛ لوگ نماز نہیں پڑھتے۔ ورنہ اس سہولت کی فراہمی کے لئے بھی وسائل خرچ کرنا پڑتے۔!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں