1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شیعیت اپنے عقائد و نظریات کے آئینے میں

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 22، 2016۔

  1. ‏جولائی 22، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    (پہلی قسط)

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    تمہید

    اسلام کی آفاقیت اور اس کی عالمگیری نیز اس کی شان و شوکت دشمنانِ اسلام کی نظروں میں ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے... اسلام دشمن طاقتیں اول دن سے ہی اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل ہیں، خوارج و نواصب کا فتنہ ہو یا روافض و شیعوں کا، خلقِ قرآن کا فتنہ ہو یا اعتزال کا... مرجئہ، جہمیہ، قدریہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ جیسے فرق ضالہ کے فتنے ہوں یا علماء سوء کا فتنہ، انکارِ حدیث کا فتنہ ہو یا انکارِ ختم نبوت کا... یہ اور اس طرح کے بہت سارے فتنے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سر ابھارتے رہے ہیں لیکن ان تمام فتنوں میں جو فتنہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا اسے ہم "روافض، شیعہ، اثنا عشریہ" کے مختلف ناموں سے جانتے ہیں... زیر نظر تحریر میں ہم ان شاء اللہ اسی فتنے اور فتنہ پروروں کی ریشہ دوانیوں کا مختصر تذکرہ کرنے کی کوشش کریں گے...

    آغاز کلام

    شیعیت کے نام سے مشہور اس فتنے کی جڑیں بڑی مضبوط، گہری اور بہت لمبی ہیں، اس فتنے کا روح رواں "عبد اللہ بن سبا" نامی یہودی ہے، وجود میں آنے کے بعد یہ فتنہ روز بروز ترقی کرتا رہا، زیرِ زمین اور پس پردہ اس کی سرگرمیاں جاری رہیں اور آج تک جاری ہیں... اس فرقہ کو جب بھی موقع ملا تو اس نے مسلمانوں کو اور ان کی اجتماعیت کو نقصان پہنچانے کا کام بخوبی انجام دیا، اس فرقہ کو بعض اوقات اقتدار بھی ملا تو اس نے ان مواقع سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا، کبھی بیت اللہ پر حملہ کیا، کبھی حجر اسود کو اٹھا کر لے گئے، مسلمانوں کا قتل عام کیا، علماء کو سر عام ذلیل و رسوا کر کے انہیں ظلم کی چکّی میں پیستے ہوئے شہید کر دیا...وغیرہ وغیرہ........
    اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے "شیعوں" کے رویے کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: "روافض یہود و نصارٰی، تاتاری اور مشرکین وغیرہ جیسے دشمنان اسلام کا ساتھ دیتے ہیں اور اللہ کے اُن مخلص بندوں سے بغض و عداوت رکھتے ہیں جو اعلی درجے کے دیندار اور متقین کے سردار تھے، جو دین کی تبلیغ و اشاعت اور اس کی حفاظت کرنے والے تھے... تاتاریوں کے اسلامی ممالک پر حملہ کرنے اور راہ پانے میں سب سے زیادہ دخل ان روافض اور شیعوں ہی کا تھا... اب علقمی اور طوسی وغیرہ کی دشمن نوازی اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشیں زبان زد خاص و عام ہو چکی ہیں... شام میں جو روافض تھے انہوں نے بھی کھلم کھلا طور پر کافروں کا ساتھ دیا تھا اور اس وقت عیسائیوں کی انہوں نے پوری مدد کی تھی یہاں تک کہ مسلمانوں کے بچوں اور ان کی مملوکات کو ان لوگوں نے ان عیسائیوں کے ہاتھوں غلاموں کی طرح بیچ دیا تھا بلکہ ان کے کچھ لوگوں نے تو صلیبی جھنڈا بھی بلند کیا تھا اور گزشتہ دور میں عیسائیوں کے بیت المقدس پر قبضہ میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا"... (منہاج السنة ج 4 ص 110)
    (مستفاد از کتاب "خمینی اور شیعیت کیا ہے؟ مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ ص 4-3)

    ____________________________

    بات شیعوں کے باوا عبد اللہ بن سبا کی

    محترم قارئین! جیسا کہ پہلے ہی یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ شیعیت کا بانی" عبد اللہ بن سبا "نامی یہودی ہے، اس شخص نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا، لیکن در حقیقت یہ مسلمان نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے اسلامی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہی خلاف لا کھڑا کیا اور بعد میں اس کا جو کردار سامنے آیا اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس نے بری نیت سے ہی یہودیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کا اصل مقصد مسلمانوں میں شامل ہو کر اور اپنے ناز و ادا اور کرتبوں سے ان میں مقبولیت حاصل کر کے اندر سے اسلام کی تخریب و تحریف اور اہل اسلام کے درمیان اختلاف و شقاق پیدا کر کے فتنہ و فساد برپا کرنا تھا... آغاز مرحلے میں مدینہ منورہ میں اپنے مختصر قیام کے دوران اس نے اپنی ذہانت سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہاں اور پورے حجاز کے علاقے میں دینی شعور کے حامل افراد موجود ہیں اور یہاں دین کے ایسے محافظ بستے ہیں جن کے ہوتے ہوئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اس لئے پہلے وہ بصرہ اور پھر شام چلا گیا، یہاں بھی اس کو اپنے منصوبے کے مطابق کام کرنے کا موقع نہیں ملا، اس کے بعد وہ مصر پہنچا جہاں اسے کچھ ایسے افراد مل گئے جن کو وہ اپنا آلہء کار اور اپنی مفسدانہ مہم و سرگرمیوں میں حصہ دار و مددگار بنا سکے... مورخین کا بیان ہے کہ اس نے لوگوں میں سب سے پہلے یہ شوشہ چھوڑا کہ "مجھے اُن مسلمانوں پر تعجب ہے جو عیسی علیہ السلام کے تعلق سے تو اس دنیا میں دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسی علیہ السلام سمیت تمام انبیاء و رسل سے افضل و بہتر ہیں، آپ یقیناً اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے"....... حقیقت میں یہ بات بالکل اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی اور اسلام کے بنیادی عقائد سے اس کا ٹکراؤ تھا لیکن اس کے باوجود بھی کچھ جاہل اور کم تربیت یافتہ افراد اس کے اس کفریہ عقیدے کا شکار ہوگئے اور انہوں نے اس کی بات کو قبول کر لیا..........

    (جاری ہے)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 22، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    (دوسری قسط)

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    .................. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے ایک گمراہ کن عقیدے میں کچھ لوگوں کو مبتلا کرنے اور کامیابی ملنے کے بعد عبد اللہ بن سبا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں طرح طرح کی غلو کی باتیں کرنا شروع کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی بنیاد پر ان کے ساتھ غیر معمولی عقیدت و محبت کا اظہار کیا، ان کی طرف عجیب و غریب خود ساختہ "معجزے" منسوب کر کے ان کو ایک ما فوق البشر ہستی باور کرانے کی کوشش کی اور جاہلوں و سادہ لوحوں کا جو طبقہ اس کے پہلے فریب کا شکار ہوا تھا وہ ان ساری خرافات کو بھی قبول کرتا رہا... یہ اور اس طرح کی بہت ساری ڈھکوسلے بازیاں وہ پھیلاتا رہا اور یہ سب اس نے انتہائی ہوشیاری، رازداری اور یہودی فطرت کے مکر و فریب سے اس طرح کیا جس طرح زمین دوز خفیہ تحریکیں چلائی جاتی ہیں اور مصر کے علاوہ دوسرے بعض شہروں اور علاقوں میں بھی اس نے کچھ اپنے ہم خیال بنا لئے... اور پھر دنیا جانتی ہے کہ اس نے بہت سے سادہ لوحوں کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف جد و جہد پر آمادہ کر لیا اور خفیہ طور سے ایک لشکر لے کر مدینہ پہنچ گیا، قصہ مختصر یہ کہ آگے جو کچھ ہوا وہ تاریخ اسلامی کا ایک نہایت ہی "دردناک باب" ہے وہ یہ کہ داماد رسول، خلیفہ ثالث، ذو النورين حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس لشکر نے گھیر کر اور انہی کے گھر میں محصور کر کے قتل کر دیا... فلعنۃ اللہ علی الظالمين...
    ___________________________

    عبد اللہ بن سبا کی کارستانیاں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد

    حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اس خونی فضا میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا چوتھا خلیفہ اور امیر منتخب کیا گیا، وہ بلا شبہ خلیفہ برحق تھے، اس وقت ان سے بہتر زمام حکومت سنبھالنے والا کوئی اور موجود نہ تھا اور ان کی شخصیت اس عظیم منصب کے لئے قابل ترجیح بھی تھی لیکن عبد اللہ بن سبا کی اس خونی سازش کے نتیجے میں اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق امت مسلمہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی اور نوبت جدال و قتال تک پہنچ گئی، جنگ "جمل" و "صفین" جیسے خونی معرکے بھی ہوئے کہ جن میں بہت سارے صحابہ قتل کئے گئے، ان دونوں معرکوں میں عبد اللہ بن سبا اور اس کا پورا گروہ -جس کی اچھی خاصی تعداد ہو چکی تھی- حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اس زمانہ اور اس فضا میں اس کو پورا موقع ملا کہ لشکر کے بے علم اور کم فہم افراد کو "حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور عقیدت" کے عنوان سے "غلو" جیسی عظیم گمراہی میں مبتلا کرے، یہاں تک کہ اس نے کچھ سادہ لوحوں کو وہی سبق پڑھایا جو پولوس نے عیسائیوں کو پڑھایا تھا اور ان کا یہ عقیدہ ہوگیا کہ "حضرت علی رضی اللہ عنہ اس دنیا میں خدا کا روپ ہیں، ان کے قالب میں خداوندی روح ہے اور گویا وہی خدا ہیں".... کچھ احمقوں کے کان میں یہ بات ڈالی کہ اللہ نے نبوت و رسالت کے لئے دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا تھا، وہی اس کے مستحق اور اہل تھے اور حامل وحی حضرت جبرئیل علیہ السلام کو انہی کے پاس بھیجا گیا تھا لیکن اس کو اشتباہ ہو گیا اور وہ غلطی سے وحی لے کر حضرت محمد بن عبد اللہ کے پاس پہنچ گیا........ استغفر اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ... اللہ پر بھی بہتان، جبریل پر بھی بہتان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا بھی انکار....

    مورخین نے یہاں یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم میں یہ بات آئی کہ انہی کے لشکر کے کچھ افراد ان کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے ان شیاطین کو قتل کرانے نیز لوگوں کی عبرت کے لئے انہیں آگ میں جلانے کا ارادہ کیا لیکن اپنے مشیر خاص حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان جیسے کچھ اور لوگوں کے مشورے پر اس وقت کے خاص حالات میں اس کارروائی کو کسی دوسرے مناسب وقت کے لئے ملتوی کر دیا.... (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھنے والے، انہیں اللہ تسلیم کرنے والے اور اس کی دعوت دینے والے یہ شیاطین انہی کے حکم سے قتل کئے گئے اور آگ میں ڈالے گئے.... جیسا کہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب منہاج السنۃ" میں اس کی وضاحت کی ہے....ج 1، ص 7)

    بہرحال جنگ جمل اور صفین کی جنگوں کے زمانہ میں عبد اللہ بن سبا اور اس کے چیلوں کو اس وقت کی فضا سے فائدہ اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ان کے بارے میں غلو کی گمراہی پھیلانے کا پورا پورا موقع ملا، اس کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عراق کے علاقہ "کوفہ" کو اپنا دار الحکومت بنا لیا تو یہ علاقہ اس گروہ کی سرگرمیوں کا خاص مرکز بن گیا، چونکہ اس علاقہ کے لوگوں میں ایسے غلو آمیز اور گمراہ کن افکار و نظریات کے قبول کرنے کی زیادہ صلاحیت تھی اس لئے یہاں اس گروہ کو اپنے مشن میں دوسرے جگہوں کی بہ نسبت زیادہ کامیابی حاصل ہوئی................
    (جاری ہے)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 22، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    تیسری قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    شیعوں میں مختلف فرقے

    محترم قارئین! اب تک آپ کے سامنے جو تفصیل اختصار کے ساتھ پیش کی گئی وہ شیعیت کے آغاز اور اس کے بانی کے تعلق سے تھی، چونکہ یہ دعوت و تحریک خفیہ طور پر اور زمینی انداز میں چلائی جا رہی تھی اس لئے اس سے متاثر ہونے والے سب ایک ہی خیال اور عقیدے کے نہیں تھے، اس کے داعیان جس سے جو بات اور جتنی بات کہنا مناسب سمجھتے وہی کہتے اور اگر وہ قبول کر لیتا تو بس وہی اس کا عقیدہ بن جاتا... اسی وجہ سے ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت یا ان کے اندر اللہ کی روح کے حلول کے قائل تھے،کچھ ایسے بھی تھے جو ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل و اعلی اور نبوت و رسالت کا اصلی حقدار سمجھتے تھے اور جبرئیل علیہ السلام کی جانب سے غلطی کے قائل تھے... کچھ ایسے بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ کی طرف سے نامزد امام و امیر نیز خلیفہ سمجھتے تھے اور اسی بنا پر وہ خلفاء ثلاثہ (ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی رضی اللہ عنہم) کو اور ان تمام صحابہ کرام کو جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان حضرات کو خلیفہ مانا اور دل سے ان کا ساتھ دیا... ان سب کو معاذ اللہ یہ لوگ کافر و منافق یا کم از کم غاصب و ظالم اور غدار کہتے تھے... ان سب کے علاوہ بھی اس طرح کے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والے گروہ تھے... ان سب میں مشترک بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں "غلو" تھا اور اس غلو کے درجات ہر ایک کے نزدیک مختلف تھے... ابتدائی دور میں یہ ایک دوسرے سے ممتاز الگ الگ فرقے نہیں بنے تھے... بعد میں مختلف اسباب کی وجہ سے ان کے اندر مختلف فرقے بنتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کی تعداد ستّر سے بھی زیادہ ہو گئی... جن کی کسی قدر تفصیل آپ "ابو الفتح محمد بن عبد الکریم الشهرستاني" کی کتاب "الملل و النحل" کے مطالعہ سے معلوم کر سکتے ہیں.... ان فرقوں میں سے بہت سے تو وہ ہیں جن کا غالباً اب اس دنیا میں کہیں وجود نہیں، تاریخ کی کتابوں کے اوراق میں ہی ان کا نام و نشان باقی رہ گیا ہے، لیکن ان کے چند فرقے ہمارے اس دور میں بھی مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں، ان میں تعداد کے لحاظ سے اور بعض دوسرے ناحیوں سے بھی "اثنا عشریہ" کو امتیاز اور اہمیت حاصل ہے... آگے ہم ان شاء اللہ اسی فرقے کے عقائد اور "ائمہ معصومین" کے حوالے سے ان کی خود ساختہ باتیں پیش کرنے کی کوشش کریں گے...
    ____________________________

    شیعیت (اثنا عشریہ) اور اس کی بنیاد "مسئلہ امامت"

    شیعوں کا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری کیا اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اس کی طرف سے انبیاء و رسل علیہم السلام مبعوث کئے گئے جو "معصوم" ہوتے تھے اور ان کی بعثت سے ہی بندوں پر اللہ کی حجت قائم ہوتی تھی اور وہ ثواب یا عذاب کے مستحق ہوتے تھے بالکل اسی طرح اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے بندوں کی ہدایت کے لئے "امامت" کا سلسلہ قائم کر دیا ہے اور قیامت تک کے لئے بارہ امام نامزد کر دیئے ہیں، بارہویں امام پر دنیا کا خاتمہ اور قیامت یقینی ہے... یہ بارہ امام انبیاء علیہم السلام ہی کی طرح معصوم ہیں اور مقام و مرتبے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر اور دوسرے تمام انبیاء سے افضل و برتر اور بالاتر ہیں.... فنعوذ باللہ من الشیطان الرجیم..... ان اماموں کی اس امامت کو ماننا اور ان پر ایمان لانا اسی طرح نجات کی شرط ہے جس طرح انبیاء و رسل کی نبوت و رسالت کو ماننا اور ان پر ایمان لانے میں ہی نجات ہے....

    بارہ اماموں کے اسماء:

    1. حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ
    2. حسن بن علی رضی اللہ عنہ
    3. حسین بن علی رضی اللہ عنہ
    4. علی بن حسین زین العابدین
    5. محمد بن علی باقر
    6. جعفر بن محمد صادق
    7. موسی بن جعفر کاظم
    8. علی بن موسی رضا
    9. محمدبن علی تقی
    10. علی بن محمد نقی
    11. حسن بن علی عسکری
    12. محمد بن حسن مہدی موعود منتظر (شیعی عقیدے کے مطابق اب سے تقریباً ساڑھے گیارہ سو سال پہلے 255 یا 256 ھجری میں محمد بن حسن مہدی پیدا ہو کر 4 یا 5 سال کی عمر میں معجزانہ طور پر غائب ہو گئے اور اب تک زندہ ایک غار میں روپوش ہیں..... ان پر امامت کا سلسلہ ختم ہو گیا.... لیکن یاد رہے کہ آخری امام کے تعلق سے یہ شیعوں کا عقیدہ ہے... تاریخی شہادت اور تحقیقی بات یہ ہے کہ حسن بن علی عسکری کا کوئی بیٹا پیدا ہی نہیں ہوا پھر محمد بن حسن مہدی موعود منتظر کا وجود کہاں سے؟..........................
    (جاری ہے)
     
  4. ‏جولائی 23، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    چوتھی قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    مسئلہ امامت کے متعلق کتب شیعہ کی روایات اور ائمہ معصومین کے ارشادات

    محترم قارئین! پچھلی قسط میں ہم نے آپ کے سامنے شیعوں کے مختلف فرقے اور ان کے بارہ اماموں کی تفصیل کو اختصار کے ساتھ پیش کیا تھا... آج ہم ان شاء اللہ "اماموں کے متعلق شیعوں کے عقائد و نظریات" کے عنوان سے کچھ باتیں رکھنے کی کوشش کریں گے.... آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ بات بتا دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم اہل سنت والجماعت کے یہاں صحیحین بخاری و مسلم وغیرہ احادیث نبوی کے مجموعے ہیں اسی طرح شیعوں کے ہاں بھی احادیث و روایات کی کتابیں ہیں لیکن ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا حصہ تو بہت ہی حکم بلکہ شاذ و نادر ہی ہے، زیادہ تر ان لوگوں نے اپنے ائمہ معصومین ہی کے ارشادات اور اقوال و افعال اپنی سندوں کے ساتھ روایات کئے ہیں.... ان کتب احادیث میں ان کے نزدیک سب سے زیادہ مستند و معتبر جو کتا ب ہے وہ "ابو جعفر یعقوب کلینی رازی(متوفی 328ھ) کی" الجامع الکافی" ہے... صحت و اسناد کے لحاظ سے اس کتاب کا ان کے نزدیک وہی درجہ و مقام ہے جو ہم اہل سنت کے نزدیک "صحیح بخاری" کا ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ.... یہ شیعوں کا سب سے مستند ماخذ ہے، جس کی چار جلدیں ہیں، ڈھائی ہزار کے قریب صفحات ہیں اور سولہ ہزار سے زائد روایات ہیں.... آئیے اب ہم "اماموں کے تعلق سے شیعوں کے عقائد و نظریات" کا جائزہ لیتے ہیں.....
    ___________________________

    "ائمہ معصومین" کے متعلق شیعوں کے عقائد و نظریات

    1. مخلوق پر اللہ کی حجت امام کے بغیر قائم نہیں ہوتی (لیکن اللہ نے تو حجت قائم کر دی ہے اماموں کے بغیر... اب کیا ہوگا)
    2. امام کے بغیر یہ دنیا قائم نہیں رہ سکتی... (لیکن دنیا تو آج بھی قائم ہے)
    3. اماموں کو ماننا اور پہچاننا شرط ایمان ہے (نہ مانا جائے تو؟)
    4. اماموں اور امامت پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حکم سب پیغمبروں اور آسمانی کتب کے ذریعے آیا ہے (کون کون سی آسمانی کتاب میں یہ خوش خبری ملی آپ لوگوں کو؟)
    5. ائمہ کی اطاعت رسولوں ہی کی طرح فرض ہے (پھر کرتے کیوں نہیں؟)
    6. ائمہ کو اختیار ہے جس چیز کو چاہیں حلال یا حرام قرار دیں (اسی لئے تو ہم کہتے ہیں نا کہ شیعہ یہودیوں کے دودھ شریک بھائی ہیں، جس کام پر اللہ نے یہودی احبار و رہبان پر لعنت بھیجی ہے وہی کام اگر آپ اپنے ائمہ کے تعلق سے روا رکھیں گے تو آپ اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں)
    7. انبیاء کی طرح ائمہ بھی معصوم ہوتے ہیں (ھاتوا برھانکم)
    8. اماموں کا حمل ماؤں کے رحم میں نہیں بلکہ پہلو میں قائم ہوتا ہے (کس نے چیک کر کے دیکھا بھائی؟)
    9. ائمہ معصومین کو ماننے والے (شیعہ) اگر ظالم اور فاسق و فاجر بھی ہیں تو بھی جنتی ہیں اور ان کے علاوہ مسلمان اگر متقی و پرہیزگار ہیں تو بھی جہنمی ہیں (ارے بزرگو! آپ لوگوں کو نظر ثانی کی ضرورت ہے)
    10. ائمہ کا درجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر اور دوسرے تمام انبیاء سے برتر و بالاتر ہے (اللہ کی سنت اور اس کے قانون سے کھلواڑ کرنا کوئی آپ سے سیکھے)
    11. ائمہ کو "ما کان وما یکون" کا علم ہے (پھر اللہ اور ائمہ میں فرق کیا رہ گیا ہے؟)
    12. ائمہ پر بھی بندوں کے دن رات کے اعمال پیش ہوتے ہیں (یہ تحقیق کس نے کی؟)
    13. ائمہ کے پاس فرشتوں کی آمد و رفت ہوتی رہتی ہے (ہاں تمہارا کوئی اپنا بنایا ہوا فرشتہ ہوگا... نعوذ باللہ من ذلك)
    14. ہر جمعہ کی رات ائمہ کو معراج ہوتی ہے، وہ عرش تک پہنچائے جاتے ہیں اور وہاں ان کو بےشمار نئے علوم عطا کئے جاتے ہیں (یہ لو، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری زندگی صرف ایک بار معراج ہوئی اور یہاں یہ ہر ہفتے ایک بار چکر لگا رہے ہیں)
    15. ائمہ وہ سب علوم جانتے ہیں جو اللہ کی طرف سے فرشتوں، نبیوں اور رسولوں کو عطا ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے ایسے علوم بھی جو نبیوں اور فرشتوں کو بھی عطا نہیں ہوئے (نبیوں اور فرشتوں کو تمہارے فرسودہ علوم کی ضرورت ہی نہیں)
    16. ائمہ پر ہر سال کی شب قدر میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب نازل ہوتی ہے جس کو فرشتے اور الروح لے کر اترتے ہیں (اب تک کتنی کتابیں جمع ہو گئی ہیں؟)
    17. ائمہ اپنی موت کا وقت بھی جانتے ہیں اور ان کی موت ان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے (وما تدري نفس بأي أرض تموت؟؟)
    18. ائمہ دنیا و آخرت کے مالک ہیں جس کو چاہیں دے دیں اور بخش دیں (پھر کس کس کو دیا انہوں نے اب تک اور کس کس کو بخشا ہے؟؟)
    19. اللہ نے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر جو امانت پیش کی تھی اور جس کا بوجھ اٹھانے سے ان سب نے انکار کر دیا تھا وہ "امامت کا مسئلہ" تھا (جو بات کی، خدا کی قسم لا جواب کی... پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی)
    20. قرآن میں پنجتن پاک اور تمام ائمہ معصومین کے نام تھے وہ نکال دیئے گئے اور تحریف کی گئی.... (پوری امت مسلمہ پر بہتان تراشی)

    محترم قارئین! یہ تھے شیعوں کے وہ عقائد و نظریات جو وہ اپنے ائمہ معصومین کے تعلق سے رکھتے ہیں، آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر کفریہ عقائد و نظریات کے حامل ہیں یہ لوگ کہ ائمہ کو انہوں نے نبیوں، رسولوں سے بہتر بتایا بلکہ انہیں اللہ کی مختلف خصوصیات میں بھی شریک و ساجھی بنا دیا... آپ ابھی حیران نہ ہوں، یہ تو ابھی آغاز ہے... ایسے ہی بے شمار غلط عقائد ہیں ان کے کہ جن کو پڑھنے اور سننے کے بعد ان کے تعلق سے کسی قسم کی نجات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا... ہاں توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے جو چاہے اس دروازے کا استعمال کر سکتا ہے....
    (جاری ہے)

    آگے پڑھیں "صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد و نظریات" ان شاء اللہ
     
  5. ‏جولائی 23، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    پانچویں قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    محترم قارئین! پچھلی قسط میں ہم نے آپ کے سامنے "اماموں کے تعلق سے شیعوں کے عقائد" کا تذکرہ کیا تھا، آج کی قسط میں ہم ان شاء اللہ "صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد" کو بیان کریں گے جنہیں پڑھ کر آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ کس قدر اللہ و رسول کے دشمن ہیں اور صحابہ کرام سے ان کے بغض و کینہ کا معیار بھی آپ کو معلوم ہوگا... آئیے اب ہم "صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے چند بنیادی عقائد" کا ذکر کرتے ہیں...

    صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد

    1. حضرت علی کی ولایت و امامت نہ ماننے کی وجہ سے خلفاء ثلاثہ اور عام صحابہ قطعی طور سے کافر و مرتد
    .......استغفر اللہ ربی من کل ذنب.......
    مزید آگے لکھتے ہیں کہ "قرآن مجید کی سورہ نساء کی آیت نمبر 137 فلاں اور فلاں اور فلاں (ابو بکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ تینوں شروع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جب ان کے سامنے حضرت علی کی ولایت و امامت کا مسئلہ پیش کیا گیا تو یہ تینوں اس سے منکر ہو گئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے سے انہوں نے بیعت کر لی اور اس طرح پھر ایمان لے آئے، پھر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو پھر یہ امیر المومنین (علی رضی اللہ عنہ) کی بیعت کا انکار کر کے کافر ہو گئے، پھر یہ کفر میں اور آگے بڑھ گئے، پھر جب ان لوگوں نے اُن لوگوں سے بھی بیعت لے لی جو امیر المومنین سے بیعت کر چکے تھے تو اب یہ ایسے ہو گئے کہ ان میں ذرا سا بھی ایمان باقی نہیں رہا"
    ..........نعوذ باللہ من الشیطان الرجیم...........
    آپ دیکھیں کہ کس طرح دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں نے کافروں و منافقوں سے متعلق ایک آیت کو خلفاء ثلاثہ پر چسپاں کر دیا اور انہیں کافر و مرتد قرار دے دیا...

    2. "ایمان" کا معنی امیر المومنین علی، "کفر" کا مطلب ابو بکر، "فسق" سے مراد عمر اور "عصیان" سے مراد عثمان (معاذ اللہ)
    سورہ الحجرات کی آیت نمبر 7 میں اللہ نے ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی، تمہارے دلوں ایمان سے مزین کر دیا، اور کفر و فسق نیز معصیت کی نفرت تمہارے اندر پیدا کر دی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں"
    .......... اب دیکھیں شیعوں کے خبیث ذہن کی کارکردگی.........
    یہ لوگ کہتے ہیں کہ "حَبَّبَ اِلَیکُمُ الاِیمَانَ" میں ایمان کا مطلب امیر المومنین علیہ السلام کی ذات، اور آگے "کَرَّہَ اِلَیکُمُ الکُفرَ وَالفُسُوقَ وَالعِصیَانَ" میں کفر کا مطلب ہے ابو بکر، فسق کا مطلب ہے عمر اور عصیان کا مطلب ہے عثمان.... (لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)

    3. عام صحابہ کرام خصوصاً خلفاء ثلاثہ کافر و مرتد، اللہ و رسول کے غدار، جہنمی و لعنتی
    4. شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام بنی آدم کی لعنت
    5. أبو بکر کی بیعت سب سے پہلے ابلیس نے کی تھی
    6. عمر بن الخطاب کا یوم شہادت سب سے بڑی عید کا دن
    7. امام غائب جب ظاہر ہوں گے تو شیخین کو قبروں سے نکالیں گے اور زندہ کر کے ہزاروں بار سولی پر چڑھائیں گے
    8. عائشہ و حفصہ منافقہ تھیں، انہوں نے حضور کو زہر دے کر مار دیا....

    محترم قارئین! ان کے علاوہ حضرت خالد بن ولید، عبد اللہ بن عمر، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے اجلہ و بزرگ صحابہ کو بھی یہ لوگ گالیاں دیتے ہیں اور طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ اپنے مطلب کی بات کے لئے یہ خود ساختہ دلیلیں بھی پیش کرتے ہیں جبکہ اہل و سنت و الجماعت کا صحابہ کے تعلق سے یہ مسلک ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں، اور ان کی عظمت و مقام کو بتانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک حدیث مبارکہ کافی و شافی ہے جو بخاری (3397) و مسلم (4611) میں ہے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:*«لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ».... "میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تب بھی وہ کسی ایک صحابی کی جانب سے خرچ کئے گئے ایک مد یا آدھا مُد کے ثواب کو بھی نہیں پہنچ سکتا".... واضح رہے کہ ایک مد تقریباً چھ سو گرام کا ہوتا ہے... ایک طرف صحابہ کی عظمت کے تعلق سے زبان رسالت سے یہ فرمان نکلتا ہے تو دوسری طرف یہ شیعہ حضرات انہی صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، انہیں کافر و مرتد قرار دیتے ہیں اور انہیں قرآن میں تحریف کرنے والا سمجھتے ہیں، انہیں غاصب و خائن جیسے القاب سے پکارتے ہیں، ان کے بارے میں طرح طرح کی خرافاتی روایات اپنے ائمہ کی طرف منسوب کر کے بیان کرتے ہیں...... خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ یہ قوم یہودیوں کے نقش قدم پر مکمل طور سے چل رہی ہے بلکہ ان سے بھی دو چار قدم آگے ہے....
    (جاری ہے)

    آگے پڑھیں "شیعوں کا ایک عقیدہ: موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے بلکہ تحریف شدہ ہے" ان شاء اللہ
     
  6. ‏جولائی 25، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    چھٹی قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    شیعوں کا ایک عقیدہ: موجودہ قرآن مکمل نہیں بلکہ تحریف شدہ ہے

    محترم قارئین! اب تک ہم نے بہت ساری باتیں شیعوں کے عقائد و نظریات کے تعلق سے بیان کی ہیں، آج کی اس قسط میں ہم ان شاء اللہ ان کے عقائد میں سے ایک اور مذموم عقیدہ "موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے" کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے.......... لیکن ان کے عقیدے کو بیان کرنے سے پہلے ہمارے لئے اس بات کا جاننا نہایت ہی ضروری ہے کہ "اہل سنت والجماعت کے نزدیک قرآن مجید ایک مکمل کتاب ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، نہ اس میں کسی آیت یا لفظ کا اضافہ ہوا اور نہ ہی کمی، شروع زمانے سے لے کر اب تک یہ کتاب اپنی حقیقی شکل و صورت اور عبارت کے ساتھ باقی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ قیامت تک قرآن مجید کے کسی ایک حرف کو بھی تبدیل نہیں کیا جا سکے گا".... ان شاء اللہ...... یہ تو اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے.... جہاں تک شیعہ قوم کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک قرآن مجید اپنی اصلی شکل و صورت میں محفوظ نہیں ہے، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق قرآن کی بہت سی آیات میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور قرآن مجید کا ایک بہت بڑا حصہ حذف کر دیا گیا ہے،ان کے نزدیک موجودہ قرآن اصلی قرآن نہیں ہے..... اب آیئے ہم اپنی اس بات کے لئے شیعوں ہی کی کتاب سے چند نصوص اور بنیادی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

    نص نمبر 1. شیعوں کا ایک معتبر عالم کلینی اپنی کتاب "الکافی فی الاصول" میں حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انہوں نے کہا: "وہ قرآن جو حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے اس کی 17 ہزار آیات تھیں" (الکافی فی الاصول للکلینی ج 2 ص 634)......جبکہ موجودہ قرآن کی کل آیات کی تعداد چھ ہزار سے کچھ اوپر ہے جس طرح کہ خود شیعہ مفسر ابو علی الطبرسی نے اپنی تفسیر میں اس بات کا یوں اقرار کیا ہے کہ "قرآن کی آیات کی تعداد 6236 ہے" (تفسیر مجمع البیان للطبرسی ج 10 ص 407)........ (مستفاد از "الشیعہ والسنۃ" علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ ص 87)

    نص نمبر 2. شیعہ محدث صفار (کلینی کا استاد) کی کتاب میں حضرت باقر سے روایت ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ"اے لوگو! میں تمہارے پاس تین چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں... قرآن مجید.... اہل بیت...... کعبہ...... یہ اللہ کی طرف سے مقدس شعائر ہیں لہذا تم ان کی حفاظت کرنا"..... حضرت باقر اس روایت کے آگے فرماتے ہیں کہ "مگر افسوس! انہوں نے قرآن میں تبدیلی کر دی، کعبہ کو منہدم کر دیا اور اہل بیت کو قتل کر ڈالا" (بصائر الدرجات للصفار جزء 8 باب 17)
    ____________________________

    قران مجید میں حذف و تحریف کس نے کی؟

    شیعوں کے قرآن مجید کے تعلق سے اس مذموم عقیدے کی وضاحت کے بعد اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر قرآن مجید میں تبدیلی اور حذف کا کام کس نے کیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے خود شیعی مورخین و مصنفین لکھتے ہیں کہ "قرآن مجید میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے معاذ اللہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اور اپنی حکومت کو دوام بخشنے کی نیت سے دیگر صحابہ کرام کے ساتھ سازش کر کے اصلی قرآن کو غائب کر دیا اور اس کی جگہ اپنی مرضی کا ایک قرآن مرتب کرایا جس میں سے وہ تمام آیتیں نکال دی گئیں جن میں ان کے عیوب و نقائص اور اہل بیت کے فضائل و مناقب کا ذکر تھا".....

    کمال الدین البحرانی نہج البلاغہ کی شرح میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر الزامات و اتہامات عائد کرتے ہوئے ذکر کرتا ہے کہ "عثمان کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے لوگوں کو زید بن ثابت کی قرات پر جمع کیا اور بقیہ نسخوں کو جلا دیا، اسی طرح عثمان بن عفان نے قرآن مجید میں سے بہت سی ایسی آیات ختم کر دیں جو بلا شک و شبہ قرآن کا حصہ تھیں" (شرح نہج البلاغہ للبحرانی)

    ایک اور شیعہ محدث نعمت اللہ الجزائری اپنی کتاب میں لکھتا ہے "قرآن مجید کو اصلی شکل و صورت میں یعنی جس طرح اللہ نے آسمان سے نازل کیا حضرت علی امیر المومنین کے سوا کسی نے جمع نہیں کیا" (الانوار النعمانیہ از نعمت اللہ الجزائری)

    کلینی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے جابر جعفی سے روایت کرتا ہے کہ اس نے کہا: "میں نے امام باقر علیہ السلام کو کہتے سنا ہے کہ "اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ اس نے اللہ کی طرف سے نازل کردہ مکمل قرآن جمع کیا ہے تو وہ کذاب ہے"....."مَا جمعه و حفظه كما أنزل إلا على بن أبى طالب رضي الله عنه والأئمة بعده" یعنی مکمل قرآن حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے دوسرے اماموں کے سوا کسی نے جمع اور حفظ نہیں کیا ہے" (اصول کافی للکلینی ج 1 ص 228)......
    گویا شیعہ دین کے مطابق کوئی شخص اگر یہ دعوی کرے کہ صدیق و فاروق اور ذو النورين رضی اللہ عنہم کا جمع کردہ قرآن مکمل ہے تو وہ کذاب ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ پورے قرآن کا حافظ ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے..... اللہ المستعان و علیہ التکلان..... اسی بنا پر آپ دیکھیں گے کہ شیعہ قوم نہ صرف یہ کہ قرآن مجید حفظ نہیں کرتی بلکہ حفاظ قرآن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے.... فلعنۃ اللہ علیہم و الملائکۃ والناس اجمعین
    (جاری ہے)
     
  7. ‏جولائی 25، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    ساتویں قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    محترم قارئین! پچھلی قسط میں ہم نے شیعوں کے ایک عقیدے "موجودہ قرآن اصلی نہیں ہے" کی وضاحت کی کوشش کی تھی اور اس کے ضمن میں ہم نے یہ بات بھی بیان کی تھی کہ ان کے اپنے عقیدے کے مطابق "قرآن میں حذف و تحریف کس نے کی"....... اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب موجودہ قرآن اصلی نہیں ہے اور اس میں صرف ایک تہائی آیات ہی درج ہیں، بقیہ دو تہائی آیتوں کو ختم کر دیا گیا تو اصلی قرآن کہاں ہے؟ اور وہ آج تک منظر عام پر کیوں نہیں آیا؟.... تو آج کی اس قسط میں ہم ان شاء اللہ اسی سوال کا جواب جاننے کی کوشش کریں گے....
    _________________________

    ((اصلی قرآن کہاں ہے؟))

    یہ بات بھی مذہب شیعہ اور شیعی دنیا کے معروف مسلّمات میں سے ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو قرآن مرتب کرایا تھا وہ اس کے بالکل مطابق تھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور موجودہ قرآن سے مختلف تھا، وہ حضرت علی کے پاس ہی رہا اور ان کے بعد ان کی اولاد میں سے ہونے والے ائمہ کے پاس رہا اور اب اصلی قرآن اس امام کے پاس موجود ہے جو غار میں چھپ گئے تھے اور اب تک وہیں روپوش ہیں، جب وہ ظاہر ہوں گے تو اس اصلی قرآن کو بھی ظاہر کریں گے، اس سے پہلے کوئی بھی اصلی قرآن نہیں دیکھ سکتا....

    اب آیئے ان کے اس عقیدے پر ان سے ہی دلیل مانگتے ہیں.... مشہور شیعہ مصنف احمد بن ابی طالب طبرسی (متوفی 588ھ) اپنی کتاب میں لکھتا ہے: "جب امام غائب ظاہر ہوں گے تو ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلحہ اور آپ کی تلوار ہوگی، ان کے پاس ایک رجسٹر ہوگا جس میں قیامت تک کے شیعوں کے نام درج ہوں گے، ان کے پاس " الجامعہ" بھی ہوگا جو کہ ایک رجسٹر ہے جس کی لمبائی ستّر ہاتھ ہے اور اس میں انسانی ضرورت کی ہر چیز کا ذکر ہے نیز ان کے پاس "حفر اکبر" بھی ہوگا جو کہ چمڑے کا ایک برتن ہے جس میں تمام علوم بھرے ہوئے ہیں حتی کہ خراش کی دیت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے اور ان کے پاس مصحف فاطمہ یعنی حضرت فاطمہ علیہا السلام والا قرآن بھی ہوگا"..... (الاحتجاج علی اھل اللجاج للطبرسی، مقدمہ)
    (مستفاد از الشیعۃ والسنۃ علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ ص 102)
    بعض شیعہ علماء کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کے کچھ حصے کا علم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو تھا کیونکہ بعض اوقات نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی موجود ہوتے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ آیات جو کہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھیں انہوں نے جمع کیں، باقی صحابہ کو ان آیات کا علم نہ تھا اور یوں موجودہ قرآن اصلی نہ ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس والا قرآن اصلی ثابت ہوا.....
    غور سے پڑھیں قارئین! کہ کتنی ڈھٹائی سے پوری شیعہ برادری نے صحابہ کرام کی پاکباز جماعت کو مطعون قرار دے دیا اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا صدیق اکبر، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم سمیت چار کے علاوہ تمام صحابہ سے بغض و عناد رکھنے والے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
    ____________________________

    ((تحریف قرآن کی چند مثالیں))
    دو ذیلی عناوین کی وضاحت کے بعد اب آیئے ان کے اپنے خیال کے مطابق قرآن میں کی جانے والی چند تحریفات کو بھی دیکھ اور سمجھ لیتے ہیں:

    1. سورہ أحزاب کی آیت نمبر 71 میں اللہ فرماتا ہے "وَمَن یُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ فَقَد فَازَ فوزاً عَظِیماً" یعنی جو اللہ اور اس کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا..... اس آیت کے بارے میں شیعہ کہتے ہیں جیسا کہ اصول کافی میں ابو بصیر کی روایت ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ "یہ آیت اس طرح نہیں، بلکہ اس طرح نازل ہوئی تھی "وَمَن یُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ فی وِلَایَۃِ عَلِیٍّ وَالائمۃ مَن بَعدَہ فَقَد فَازَ فوزاً عَظیماً" یعنی جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے ائمہ کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا....... مطلب یہ ہوا کہ اس آیت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے ائمہ کی امامت کے بارے میں صراحت کے ساتھ حکم دیا گیا تھا لیکن اس میں سے "في ولاية علي والأئمة من بعده" کے الفاظ نکال دیئے گئے، جو موجودہ قرآن میں نہیں ہے" (اصول کافی ص 262)

    2. سورہ نساء کی آیت نمبر 66 میں اللہ فرماتا ہے "وَلو اَنَّھُم فَعَلُوا مَا یُوعَظُونَ بِهِ لَکَانَ خیراً لَھُم" یعنی جس بات کی نصیحت انہیں کی گئی اگر وہ لوگ اس پر عمل کریں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا............... اس آیت کے سلسلے میں اصول کافی کی ہی ایک روایت ملاحظہ کریں کہ امام باقر فرماتے ہیں "سورہ نساء کی آیت نمبر 66 اس طرح نازل ہوئی تھی "وَلو اَنَّھُم فَعَلُوا مَا یُوعَظُونَ بِهِ فِي عَلِیٍّ لَکَانَ خیراً لَھُم" یعنی جس بات کی نصیحت انہیں علی کے بارے میں کی گئی ہے اگر وہ لوگ اس پر عمل کریں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا........ مطلب یہ ہے کہ اس آیت کا خاص تعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تھا لیکن اس میں سے "فِی عَلِیٍّ" نکال دیا گیا جو موجودہ قرآن میں نہیں ہے..... (اصول کافی 267)
    (مستفاد از ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت مولانا منظور نعمانی ص 254)

    3. محسن الکاشی اپنی تفسیر میں نقل کرتا ہے کہ قرآن کی آیت "یَا اَیُھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الکُفَّارَ وَالمُنَافِقِینَ" (اے نبی! آپ کفار اور منافقین سے جہاد کرو) اہل بیت کی قرات کے مطابق یوں ہے "یَا اَیُھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الکُفَّارَ بِالمُنَافِقِینَ" یعنی اے نبی! آپ کفار سے جہاد کرو منافقین کو ساتھ ملا کر"..... ( تفسیر الصافی للکاشی ج 1 ص 214)...... لا حول ولا قوۃ الا باللہ
    (جاری ہے)

    تحریف قرآن کا عقیدہ اور اس کی تردید کے متعلق بقیہ باتیں ان شاء اللہ اگلی قسط میں
     
  8. ‏جولائی 29، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    آٹھویں قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    مضمون اب تک

    (تمہید، آغاز کلام، بات شیعوں کے باوا عبد اللہ بن سبا کی، عبد اللہ بن سبا کی کارستانیاں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد، شیعوں میں مختلف فرقے، شیعیت کی بنیاد "مسئلہ امامت"، مسئلہ امامت کے متعلق کتب شیعہ کی روایات، ائمہ معصومین سے متعلق شیعوں کے عقائد، صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد، شیعوں کا ایک عقیدہ: موجودہ قرآن مکمل نہیں اور پھر اس بات کی وضاحت کہ تحریف قرآن کا مرتکب کون؟ اصلی قرآن کہاں ہے شیعوں کے عقیدے کے مطابق؟، تحریف قرآن کی چند مثالیں...) اب آپ آگے پڑھیں
    ____________________________

    محترم قارئین! پچھلی قسط میں ہم نے تحریف قرآن کی تین مثالیں ذکر کی تھیں، اس قسط میں ہم مزید دو مثالوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

    4. شیعہ مفسر القمی اپنے معصوم اور واجب الاطاعت امام ابو الحسن موسی الرضا سے نقل کرتا ہے کہ وہ آیت الکرسی کو اس طرح پڑھا کرتے تھے "الم اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَهٌ وَ لاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الأَرْضِ وَمَا بَینَھُمَا وَمَا تَحتَ الثَّری، عَالمُ الغَیبِ وَالشَّھَادَۃِ، الرَّحمنُ الرَّحِیمُ" (تفسیر القمی ج 1 ص 84)
    آیت الکرسی میں بھی تحریف کے مجرم ہیں یہ لوگ....

    5. یہی مفسر القمی سورۃ الرعد کی آیت نمبر 11 "لَهُ مُعَقّبَاتٌ من بَینِ یَدَیهِ وَمن خَلفِه" کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
    "کسی نے امام جعفر صادق کی موجودگی میں اس آیت کی تلاوت کی جس کا معنی یہ ہے کہ" ان میں سے ہر ایک کے لئے پہرے دار ہیں اس کے سامنے اور اس کے پیچھے، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں".....
    اس آیت کو سن کر امام صاحب فرمانے لگے:" کیا تم عرب نہیں ہو؟ کَیفَ تَکُونُ المُعَقّبَاتُ من بَین یَدَیهِ" یعنی "معقبات" (پیچھے رہنے والے) سامنے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ "معقب" تو پیچھے رہ جانے والے کو کہا جاتا ہے؟
    اس آدمی نے کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، پھر یہ آیت کس طرح ہے؟
    آپ نے فرمایا: یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی "لَهُ مُعَقّبَاتٌ من خَلفِه وَرَقِیبٌ من بَین یَدَیه یَحفَظُونَه بِاَمرِ اللّه" یعنی اس کے لئے پہرے دار ہیں پیچھے اور نگہبان ہے آگے جو اللہ کے حکم اس کی حفاظت کرتے ہیں" (تفسیر القمی ج 1 ص 360)

    اس روایت میں شیعہ مفسر کے بقول امام جعفر صادق نے اس آیت کے پڑھنے والے کو عربی قواعد سے نا واقف قرار دیا ہے... حالانکہ اگر غور کیا جائے تو بقول شیعہ خود امام صاحب ہی عربی سے نا واقف قرار پاتے ہیں... اس لئے کہ اہل عرب "المعقب" کو دو معنوں میں استعمال کرتے ہیں، ایک معنی ہے "الذی یجیئ عقب الآخر" یعنی جو کسی کے پیچھے آئے، دوسرا معنی ہے "الذی یکرر المجیئ" یعنی جو بار بار آئے.... اور اس آیت میں یہی دوسرا معنی مراد ہے.... (مستفاد از: الشیعة والسنة علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ ص 111-110)
    ____________________________

    تحریف قرآن کے باطل عقیدے کی تردید قرآن سے

    محترم قارئین! ہم نے تحریف قرآن کا عقیدہ رکھنے والوں کی باتیں اور اس کی چند مثالیں انہی کی کتابوں سے آپ کے سامنے رکھی... یہ تو صرف کچھ مثالیں ہیں ورنہ اس طرح کی باطل تاویلات کر کے انہوں نے پوری امت مسلمہ خصوصاً صحابہ کرام اور اخص الخاص خلفاء ثلاثہ کو خائن و فاسق اور کافر و فاجر قرار دیا ہے.... اب آیئے ہم ان کے اس باطل عقیدے کی تردید خود موجودہ قرآن کی چند آیتوں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
    1. اللہ فرماتا ہے "ذلك الکتاب لا ریب فيه" یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں (البقرة 1)
    2. ارشاد باری تعالٰی ہے "لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد" قرآن مجید پر باطل اثر انداز نہیں ہو سکتا نہ اس کے سامنے سے نہ پیچھے سے، یہ اس ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو صاحب حکمت اور قابل تعریف ہے (حم السجدة 42)
    3. ارشاد ربانی ہے "إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون" قرآن کو نازل بھی ہم نے ہی کیا ہے اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمے ہے (الحجر 9)
    4. اللہ کا فرمان ہے "إن علينا جمعه وقرآنه" قرآن کو جمع کرنا اور اس کی قرات کا اہتمام کرنا ہماری ذمہ داری ہے (القیامۃ 17)
    5. اللہ کہتا ہے "کتاب أحكمت آياته ثم فصلت من لدن حكيم خبير" یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم کیا گیا پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی اس کی طرف سے جو حکیم و خبیر ہے (ھود 1)
    6. قرآن میں اللہ نے فرمایا "يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك" اے رسول! آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ اس کی تبلیغ کریں (المائدۃ 27)..... اب اگر بندہ یہ کہے کہ قرآن مکمل نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خائن قرار دے رہا ہے اور بلا شک ایسا سمجھنا انسان کو کافر بنا دیتا ہے....
    7. ایک اور جگہ اللہ کا ارشاد ہے "إن هذا القرآن يهدي للتي هي أقوم" یہ قرآن سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے (بنی اسرائیل 9).... گویا کہ قرآن مکمل نہیں ہے کا عقیدہ رکھنا اس گمراہی کی طرف لے جاتا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے اور یہ سراسر اللہ پر بہتان اور افتراء ہے اور ایسے شخص سے بڑا کوئی ظالم نہیں ہو سکتا... وَمَن اَظلَمُ مِمَّنِ افتَرَی عَلَی الله کذبا أو کذب بآیاته ".......
    (جاری ہے)

    آگے پڑھیں ان شاء اللہ "شیعوں کا عقیدہ: کتمان و تقیہ
     
  9. ‏جولائی 29، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    نویں قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    مضمون اب تک

    (تمہید، آغاز کلام، بات شیعوں کے باوا عبد اللہ بن سبا کی، عبد اللہ بن سبا کی کارستانیاں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد، شیعوں میں مختلف فرقے، شیعیت کی بنیاد "مسئلہ امامت"، مسئلہ امامت کے متعلق کتب شیعہ کی روایات، ائمہ معصومین سے متعلق شیعوں کے عقائد، صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد، شیعوں کا ایک عقیدہ: موجودہ قرآن مکمل نہیں اور پھر اس بات کی وضاحت کہ تحریف قرآن کا مرتکب کون؟ اصلی قرآن کہاں ہے شیعوں کے عقیدے کے مطابق؟، تحریف قرآن کی چند مثالیں اور اس باطل عقیدے کی تردید...) اب آپ آگے پڑھیں
    ____________________________

    شیعوں کا عقیدہ: کتمان و تقیہ

    مذہب شیعہ کی اصولی تعلیمات میں "کتمان" اور "تقیہ" بھی شامل ہیں... آیئے سب سے پہلے ان دونوں لفظوں کا معنی و مطلب جان لیتے ہیں:

    1 کتمان: اپنے عقیدہ اور مسلک و مذہب کو چھپانا اور دوسروں پر ظاہر نہ کرنا
    2. تقیہ: اپنے قول و عمل سے واقعہ یا حقیقت کے خلاف یا اپنے عقیدہ و ضمیر کے خلاف ظاہر کرنا اور اس طرح دوسروں کو دھوکہ اور فریب میں مبتلا کرنا
    ____________________________

    کتمان اور تقیہ کی ضرورت کیوں؟

    ان دونوں الفاظ کا مطلب جان لینے کے بعد اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان کی ضرورت کیوں پیش آئی اور شیعوں نے کس لئے ان دونوں عقیدوں کو اپنایا؟....... تو کتب شیعہ کے مطالعہ کے بعد اس کا جواب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ "عبد اللہ بن سبا کے فیض یافتہ کوفہ کے جن لوگوں نے پہلی صدی ہجری کے اخیر اور دوسری صدی ہجری کے نصف اول میں (یعنی امام باقر اور جعفر صادق کے زمانے میں) اثنا عشری مذہب تصنیف کیا یا یوں کہہ لیں کہ اس کی بنیاد ڈالی تو انہوں نے اس ناقابل تردید دلیل اور شہادت کی زد سے "عقیدہ امامت" اور "شیعہ مذہب" کو بچانے کے لئے یہ دو عقیدے وضع کئے، ایک "کتمان" جس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے ان تمام ائمہ کو خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ وہ عقیدہ امامت کا اظہار نہ کریں بلکہ اس کو چھپائیں، اس لئے انہوں نے امامت کا عقیدہ عام مسلمانوں کے سامنے اور مجمع میں بیان نہیں کیا... اور دوسرا عقیدہ" تقیہ" کا تھا جس کی وجہ سے وہ تمام عمر اپنے اپنے ضمیر اور عقیدہ کے خلاف عمل کرتے رہے"..... بہر حال عقیدہ امامت (جس کی تفصیل و تشریح ہم اس سلسلے کی تیسری اور چوتھی قسط میں بیان کر چکے ہیں) کو بقیہ مسلمانوں کے طرز عمل کی زد سے بچانے کے لئے یہ دونوں عقیدے شیعوں نے ایجاد کئے....
    ___________________________

    کتمان کے بارے میں شیعی کتب سے دلائل

    دنیا کا ہر مذہب خواہ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اپنے آپ کو کسی سے چھپاتا نہیں ہے، لیکن شیعیت دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے چھپاتا پھرتا ہے، چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب اصول کافی میں "باب الکتمان" کے نام سے ایک مستقل باب ہے، اس باب میں امام جعفر صادق کے خاص مرید اور راوی سلیمان بن خالد سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ
    "امام جعفر صادق نے فرمایا کہ: اے سلیمان! تم ایسے دین پر ہو کہ جو شخص اس کو چھپائے گا اللہ اس کو عزت دے گا اور جو اس کو ظاہر کرے گا اللہ اس کو ذلیل و رسوا کر دے گا" (اصول کافی 485)

    ایک اور روایت امام باقر کے حوالے سے بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے شیعان خاص سے فرمایا کہ "مجھے اپنے اصحاب میں (شاگردوں اور مریدوں میں) وہ شخص سب سے زیادہ پیارا ہے جو زیادہ پرہیز گار ہو، دین کو زیادہ سمجھنے والا ہو اور ہماری باتوں کو زیادہ چھپانے والا اور راز میں رکھنے والا ہو" (اصول کافی 486)

    آپ غور کریں کہ عزت و ذلت اور تقوی کی بنیاد اور ان کا معیار کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بنیاد اور معیار بیان کیا ہے؟ افلا تعقلون؟
    ___________________________

    تقیہ کے بارے میں شیعی کتب سے دلائل

    تقیہ دراصل جھوٹ کا دوسرا اور خوبصورت نام ہے اور جھوٹ بولنا تمام مذاہب میں بدترین گناہ ہے، پوری دنیا کے عقل مند لوگوں نے بھی اس کو سخت ترین عیب تسلیم کیا ہے لیکن مذہب شیعہ نے اس کو اعلی ترین عبادت قرار دیا ہے، دین کے دس حصے بتلائے ہیں اور ان میں سے نو حصے جھوٹ بولنے کے لئے وقف کر دیئے ہیں، جھوٹ بولنا اللہ کا دین اور انبیاء و ائمہ کا دین بتایا گیا ہے... نعوذ باللہ من ذلك
    چنانچہ اصول کافی میں " تقیہ" کا بھی مستقل باب ہے اور اس باب میں کئی روایتیں ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں:

    1. أبو عمیر اعجمی نامی راوی کہتا ہے کہ "امام جعفر صادق نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابو عمیر! دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ میں ہیں اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے" (اصول کافی 482)

    2. حبیب بن بشر راوی ہے، کہتا ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ "اے حبیب! جو شخص تقیہ کرے گا اللہ اس کو رفعت اور بلندی عطا کرے گا اور جو تقیہ نہیں کرے گا اس کو اللہ پستی میں گرائے گا" (اصول کافی 483)

    3. ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں.... امام باقر نے فرمایا کہ "تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے، جو شخص تقیہ نہیں کرتا اس میں ایمان ہی نہیں" (اصول کافی 484)
    (جاری ہے)

    تقیہ کے تعلق سے بقیہ باتیں ان شاء اللہ اگلی قسط میں
     
  10. ‏جولائی 29، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,460
    موصول شکریہ جات:
    916
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    دسویں قسط

    حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی
    ____________________________​

    مضمون اب تک

    (تمہید، آغاز کلام، بات شیعوں کے باوا عبد اللہ بن سبا کی، عبد اللہ بن سبا کی کارستانیاں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد، شیعوں میں مختلف فرقے، شیعیت کی بنیاد "مسئلہ امامت"، مسئلہ امامت کے متعلق کتب شیعہ کی روایات، ائمہ معصومین سے متعلق شیعوں کے عقائد، صحابہ کرام کے تعلق سے شیعوں کے عقائد، شیعوں کا ایک عقیدہ: موجودہ قرآن مکمل نہیں اور پھر اس بات کی وضاحت کہ تحریف قرآن کا مرتکب کون؟ اصلی قرآن کہاں ہے شیعوں کے عقیدے کے مطابق؟، تحریف قرآن کی چند مثالیں اور اس باطل عقیدے کی تردید، شیعوں کا عقیدہ: کتمان اور تقیہ اور اس کی مختصر مگر ادھوری تفصیل...) اب آپ آگے پڑھیں
    ____________________________

    محترم قارئین! تقیہ کا معنی اور شیعوں کی نظر میں اس کے جائز بلکہ دین کا حصہ ہونے کی مختصر تفصیل اور اس پر شیعی کتب سے دلائل پچھلی قسط میں ہم نے بیان کیا تھا... آج کی قسط میں ہم ان شاء اللہ "تقیہ" کے تعلق سے کچھ مزید باتیں شیعوں کی زبانی رکھنے کی کوشش کریں گے...
    ____________________________

    تقیہ کب اور کیسے؟

    شیعہ حضرات عوام الناس کے سامنے یہ باور کراتے ہیں کہ ہمارے یہاں تقیہ کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جب جان کا خطرہ ہو یا اس طرح کی کوئی شدید مجبوری ہو... لیکن ان کی کتابیں ان کی زبان کے برعکس کچھ اور کہتی ہیں وہ یہ کہ شیعی روایات میں ائمہ معصومین کے بکثرت ایسے واقعات اور روایات موجود ہیں کہ بغیر کسی مجبوری اور بغیر کسی ادنی خطرے کے بھی انہوں نے تقیہ کیا اور کھلی غلط بیانی کی یا اپنے عمل سے لوگوں کو دھوکہ اور فریب دیا.... آیئے نمونے کے طور پر ایک روایت کا تذکرہ کئے دیتے ہیں:

    زرارہ نامی راوی امام باقر سے روایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے فرمایا
    "تقیہ ہر ضرورت کی چیز میں کیا جائے اور صاحبِ معاملہ اپنی ضرورت کے بارے میں زیادہ جانتا ہے (یعنی ضرورت وہ ہے جس کو صاحبِ معاملہ ضرورت سمجھے).... (اصول کافی 484)
    اس روایت سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ شیعوں کا عوام الناس کے سامنے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ تقیہ کی اجازت صرف اس صورت میں ہے "جب جان جانے کا خطرہ ہو یا ایسی ہی کوئی شدید مجبوری ہو"... بلکہ ان کے مذہب میں تقیہ کے حوالے سے معاملہ ہر شخص کی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے... جب بھی کوئی اپنی مصلحت یا مطلب سے تقیہ کی ضرورت سمجھے تقیہ کر سکتا ہے... یعنی یوں کہہ لیں کہ ان کی بنیادی تعلیمات میں جھوٹ بولنے کی ہر انسان کو کھلی آزادی ہے اور یہ سراسر اللہ کے حکم سے بغاوت ہے....
    ____________________________

    تقیہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب اور ضروری ہے

    گذشتہ تفصیل سے اگر آپ یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے یہاں تقیہ جائز ہے تو ابھی ٹھہریں اور یہ حقیقت اپنے ذہن میں بٹھا لیں کہ شیعہ مذہب میں "تقیہ" صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب اور ضروری نیز دین و ایمان کا جزء ہے... ایک روایت ملاحظہ کریں...
    امام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں کہ:
    "اگر میں یہ کہوں کہ تقیہ نہ کرنے والا ایسے ہی گنہگار ہے جیسا کہ نماز کا ترک کرنے والا تو میری یہ بات صحیح اور سچ ہوگی اور مزید فرمایا کہ جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے"(من لا یحضرہ الفقيه بحوالہ تکملہ باقیات صالحات ص 216)

    محترم قارئین! آپ دیکھیں کہ کتنی خوبصورتی سے تقیہ کو جائز ہی نہیں بلکہ واجب کہہ دیا گیا ہے اور اسی لئے آپ کو شیعی کتابوں میں ضرورت اور بلا ضرورت دونوں ہی صورتوں میں تقیہ کی بہت ساری مثالیں مل جائیں گی جس کے لئے آپ "الجامع الکافی" کے آخری حصہ "کتاب الروضة" کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ بات پوری طرح معلوم ہو جائے گی کہ یہ لوگ تقیہ یعنی جھوٹ بولنے کو واجب سمجھتے ہیں ضرورت اور بلا ضرورت دونوں صورتوں میں بلکہ اللہ کی پناہ یہ دینی مسائل کے بیان میں بھی تقیہ سے کام لیتے ہیں جس کی وضاحت کے لئے میں صرف ایک روایت انہی کی کتاب سے ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں:
    ابان بن تغلب نامی راوی کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے سنا وہ فرماتے تھے کہ
    "میرے والد امام باقر بنو امیہ کے دور حکومت میں تقیہ کے طور پر فتوی دیتے تھے کہ باز یا شاہین جس پرندے کو شکار کریں اور وہ ذبح کرنے سے پہلے ہی مر جائے تو اس کا کھانا حلال ہے اور میں (امام جعفر صادق) اہل حکومت کے خوف سے اس مسئلہ میں تقیہ نہیں کرتا، میں فتوی دیتا ہوں کہ باز یا شاہین کا مارا ہوا پرندہ حرام ہے" (فروع کافی ج 2، جزء 2، ص 80)
    اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ شیعہ حضرات کے یہ ائمہ تقیہ کے طور پر حرام کو حلال بھی بتلا دیتے ہیں اور یقیناً ان کے ماننے والے یعنی عوام ان کے فتوی کے مطابق اس حرام کو حلال سمجھ کر کھاتے تھے...... استغفر اللہ ولا حول ولا قوة الا بالله

    بات اس سے آگے اور بڑھتی ہے تو یہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر بھی ذلیل ترین تقیہ کی تہمت لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں چنانچہ فروع کافی جلد اول صفحہ ننانوے اور سو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اہل بیت خصوصاً حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعوٰی کرنے والوں نے انہیں کس قدر پست کردار دکھایا ہے اور ان پر کس قدر ذلیل قسم کے تقیہ کی تہمت لگائی گئی ہے، اور صرف ان پر ہی نہیں بلکہ امام زین العابدین اور امام جعفر صادق پر بھی اسی طرح کی تہمتیں لگائی گئی ہیں.... معاذ اللہ

    نوٹ! قارئین کے سامنے ائمہ کے حوالے سے جو روایات بیان کی جا رہی ہیں آپ ان سے یہ قطعی نہ سمجھیں کہ یہ سارے ائمہ واقعی ایسے تھے بلکہ ہمارا یقین ہونا چاہیئے کہ یہ سب اپنی جگہ محترم، مقدس اور پاکباز تھے لیکن شیعہ مذہب کے مصنفین اور راویوں نے ان کی طرف یہ خود ساختہ روایتیں منسوب کی ہیں، ان بزرگوں کا کردار اور ان کے دامن اس طرح کی منافقانہ بدکرداری، جھوٹ، دغا، فریب، دھوکہ اور تقیہ سے بالکل پاک ہے.....
    (جاری ہے)

    تقیہ کا باب مکمل ہوا لیکن باتیں ابھی باقی ہیں... اگلی قسط میں پڑھیں "شیعوں کا عقیدہ: نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ ترقی کے ساتھ جاری ہے اور مزید ایک عقیدہ" عقیدہ رجعت"
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں