• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي الْغُلاَمِ الَّذِيْ قَتَلَهُ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
اس لڑکے کے متعلق جس کو سیدنا خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا


( 1854) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ الْغُلاَمَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَ كُفْرًا

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ لڑکا جس کو سیدنا خضر علیہ السلام نے قتل کردیا تھا، کفر پر پیدا ہوا تھا۔(یعنی بڑا ہو کر کافر ہو جاتا) اور اگر جیتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دیتا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ ذِكْرِ مَنْ مَاتَ مِنَ الصِّبْيَانِ وَ خَلْقِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ وَ هُمْ فِيْ أَصْلاَبِ آَبَائِهِمْ
ان (بچوں) کے متعلق جو بچپن میں فوت ہو گئے


(1855) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوئَ وَ لَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَ هُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ وَ خَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَ هُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچے کے جنازہ پر بلایا گیا جو انصار میں سے تھا۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! خوشی ہو اس کو یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہو گا ، نہ اس نے برائی کی، نہ برائی کی عمر تک پہنچا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اور کچھ کہتی ہے اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے لوگوں کو بنایا اور وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور جہنم کے لیے لوگوں کو بنایا اور وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
کِتَابُ الْعِلْمِ
علم کا بیان


بَابٌ : فِيْ رَفْعِ الْعِلْمِ وَ ظُهُوْرِ الْجَهْلِ

علم کے اٹھ جانے اور جہالت کے عام ہو جانے کے بیان میں ۔


(1856) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَ يَظْهَرَ الْجَهْلُ وَ يَفْشُوَ الزِّنَا وَ يُشْرَبَ الْخَمْرُ وَ يَذْهَبَ الرِّجَالُ وَ تَبْقَى النِّسَائُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے بعد کوئی ایسا شخص تم سے یہ حدیث بیان نہ کرے گا جس نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی اور زنا کھلم کھلا ہو گا اور شراب پی جائے گی اور مرد کم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے لیے ایک مرد ہو گا جو ان کی خبرگیری کرے گا۔ (یعنی لڑائیوں میں بہت سارے مرد مارے جائیں گے) اور عورتیں رہ جائیں گی۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ قَبْضِ الْعِلْمِ
علم کے قبض ہو جانے کے متعلق


(1857) عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَ تَظْهَرُ الْفِتَنُ وَ يُلْقَى الشُّحُّ وَ يَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَ مَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ الْقَتْلُ


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زمانہ قریب ہو جائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا (یعنی زمانہ قیامت کے قریب ہو جائے گا) اور (عالم میں ) فساد اور فتنے پھیل جائیں گے اور دلوں میں بخیلی ڈال دی جائے گی (لوگ زکوٰۃ اور خیرات نہ دیں گے) اور ہرج بہت ہو گا۔ ‘‘ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کشت و خون (یعنی قتل وخونریزی)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ قَبْضِ الْعِلْمِ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ
علماء کے اٹھا لینے سے علم کے اٹھائے جانے کے متعلق


(1858) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ وَ لَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُئُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’ اللہ عزوجل اس طرح علم نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے دلوں سے چھین لے بلکہ اس طرح اٹھائے گا کہ علماء کو اٹھا لے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنے سردار بنا لیں گے ۔ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ،وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً فِيْ الإِسْلاَمِ
جو شخص اسلام میں اچھا یا برا طریقہ جاری کرے


(1859) عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوئَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَ لاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَ لاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔ پسآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا تو لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی، یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا۔ پھر ایک انصاری شخص روپوں کی ایک تھیلی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا ، یہاں تک کہ (صدقہ اور خیرات کا) تانتا بندھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے (یعنی عمدہ کام کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہو اور اس کا نمونہ قرآن و سنت میں موجود ہو) پھر لوگ اس کے بعد اس کام پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی اور جو اسلام میں برا طریقہ جاری کرے (مثلاً بدعت یاگناہ کا کام) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلاَلَةٍ
جو آدمی ہدایت یا گمراہی کی طرف بلاتا ہے


(1860) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا

سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جوشخص ہدایت کی طرف بلائے ،اس کو راہ ہدایت پر چلنے والوں کا بھی ثواب ملے گا اور (اس راہ پر) چلنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ہوگا اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے گا ، اس کو گناہ پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہو گا اور (اس راہ پر) چلنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ كِتْبَةِ غَيْرِ الْقُرْآنِ وَالتَّحْذِيْرِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم
قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے سے بچنے کے متعلق


(1861) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تَكْتُبُوا عَنِّي وَ مَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَ حَدِّثُوا عَنِّي وَ لاَ حَرَجَ وَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(میرا کلام) مجھ سے مت لکھو اور جس نے کچھ مجھ سے سن کر لکھا ہو تو وہ اس کو مٹا ڈالے مگر قرآن کو نہ مٹائے ۔البتہ میری حدیث بیان کرو اس میں کچھ حرج نہیں ھمام نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جس نے قصداً مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنے ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘

وضاحت: شروع شروع میں جب قرآن مجید اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق ملحوظ نہ رکھے جانے کا خدشہ پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث سے کچھ عرصہ کے لیے منع کردیا تاکہ قرآنی آیات اور احادیث آپس میں خلط ملط نہ ہونے پائیں۔ بعد میں جب یہ فرق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر واضح ہو گیا تو کتابت حدیث کی خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی بلکہ کئی دفعہ لکھنے کا حکم دیا۔(محمود الحسن اسد)
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
(1862) عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’ میرے اوپر جھوٹ باندھنا ایسا نہیں ہے جیسے کسی اور پر جھوٹ باندھنا (کیونکہ اور کسی پر جھوٹ باندھنے سے جھوٹ بولنے والے کا نقصان ہو گا یا جس پر جھوٹ باندھا ،اس کا بھی یا اور تین آدمیوں کا سہی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے سے ایک عالم گمراہ ہو گا اور دنیا کو نقصان پہنچے گا) پھر جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ باندھے ،وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

(1863) عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَ عَنِ الْمُغِيْرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالاَ قَال رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ

سیدنا سمرہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور اسے پتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے ، تو وہ خود جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ ‘‘
 
Top