1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صغیرہ گناہوں کی ایک قسم "اللمم "

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 25، 2019۔

  1. ‏ستمبر 25، 2019 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ان باکس میں ایک بھائی نے سوال کیا کہ :
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    دراصل آپ نے جو عبارت لکھی ہے وہ ایک حدیث کا ترجمہ ہے جو ایک آیۃ کی تفسیر میں ہے ؛
    اس کی تفصیل یہ ہے :
    سورۃ النجم (پارہ۲۷) میں اللہ تعالی نے اچھے اور نیک خصلت لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
    الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى ،، سورۃ النجم ۳۲
    جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، سوائے کچھ چھوٹے گناہوں کے، بے شک آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا ہے، وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے، جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا، اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں پلتے ہوئے بچے تھے، پس تم لوگ اپنی پاکی نہ بیان کرو، وہ اس شخص سے خوب واقف ہے جو اس سے ڈرتا ہے ،،
    تشریح :ان اچھے لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ وہ ان واجبات کو ادا کرتے ہیں جن کا چھوڑنا بڑا گناہ ہے اور بڑے حرام کاموں سے بھی بچتے ہیں، مثلاً زنا، شراب نوشی، سود خوری، قتل نفس اور اسی طرح کے دیگر بڑے بڑے حرام کام البتہ ان سے کبھی کبھار بعض چھوٹے چھوٹے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں۔
    ” اللَّمَمَ “ کا لغوی معنی ” قلیل و صغیر“ ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ ” اللَّمَمَ “ وہ گناہ ہے جس کا ارتکاب انسان سے کبھی کبھار ہوجاتا ہے اور اس پر اصرار نہیں کرتا ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک اس سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی مثال بوسہ، اشارہ کرنا اور دیکھنا بتایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا معنی یہ منقول ہے کہ آدمی گناہ کے قریب توجائے، لیکن ریب جاکراس فعل سے منہ پھیرلے۔

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس (اللمم ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
    مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا العَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ» صحیح بخاری و صحیح مسلم
    سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی درج ذیل حدیث سے زیادہ (اللَّمَمِ) یعنی صغیرہ گناہوں کی مثال و تشبیہ میں میں نے اور کوئی چیز نہیں دیکھی ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لا محالہ دوچار ہوگا پس آنکھ کا زنادیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلادیتی ہے۔،،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس قسم کے چھوٹے گناہوں کے ارتکاب سے آدی اچھوں کی صف سے نہیں نکل جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں دوسری نیکیوں کے سبب معاف کردیتا ہے، اس لئے کہ اس کی رحمت بہت ہی وسیع ہے، جس کے اندر وہ اپنے ایسے تمام بندوں کو ڈھانک لیتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت (٣١) میں فرمایا ہے : (إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا(سورۂ نساء:31)
    ” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے باز رہو گے، تو ہم ضرور تمہارے (چھوٹے چھوٹے) قصور معاف کردیں گے“

    اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث ہے :” الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَت الْكَبَائِرَ
    پانچ نمازیں ، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ، رمضان سے (دوسرے آنے والے) رمضان تک ، اپنے اپنے درمیانی وقفہ کے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔ (صحیح مسلم شریف)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں