1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش میں ان مختصر دعاٶں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از اسرار حسین الوھابی, ‏مئی 14، 2020۔

Tags:
  1. ‏مئی 14، 2020 #1
    اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن
    جگہ:
    منامہ، بحرین
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش میں ان مختصر دعاٶں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ ”اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا“ [جامع ترمذی، حدیث: ٣٥٤٥]

    سید الاستغفار : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔“ [صحيح البخاری، حدیث: ٦٣٠٦]

    سجدے کی دعا : اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّه ”اے اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی، کھلے بھی اور چھپے بھی۔“ [صحيح مسلم، حدیث: ١٠٨٤]

    تشہد کی دعا : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيم ”اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا: :‏‏‏‏ قَدْ غُفِرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ غُفِرَ لَهُ ”اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا۔“ [سنن ابو داؤد، حدیث: ٩٨٤]

    اب ذکر کی جانے والی یہ دعا بہت ہی جامع ہے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ،‏‏‏‏ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ،‏‏‏‏ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ،‏‏‏‏ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ،‏‏‏‏ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ،‏‏‏‏ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ،‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ،‏‏‏‏ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ،‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ،‏‏‏‏ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ،‏‏‏‏ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ،‏‏‏‏ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا

    ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے۔“ [سنن ابن ماجہ، حدیث: ٣٨٤٦]

    اللہ کا ایسا نام جس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو دعا قبول ہوجاتی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ،‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ،‏‏‏‏ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ،‏‏‏‏ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے۔“

    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ،‏‏‏‏ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَاب ”اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجہ، حدیث: ٣٨٥٨]

    عَبْدُ المُذِلّ حفظہ اللہ فرماتے ہیں : ”ان تمام دعاؤں کو نماز کے اندر تشہد، شہادتین اور درود ابراہیمی کے بعد سلام پهیرنے سے پہلے جو دعا چاہے (عربی میں) پڑهنے کی اجازت ہے- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ ”(تشہد اور شہادتین) کے بعد آدمی کو اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔ [صحيح البخاری، حدیث: ٦٢٣٠] اور نماز کے باہر بهی ان کو عام طور سے پڑها جا سکتا ہے دعا کے طور پر-

    اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تیرے بہترین اسماء و صفات کے ذریعہ سے کہ ہماری خطاؤں سے درگزر فرما، ہم میں اخلاص پیدا کر دے ہماری ناقص عبادتوں کو قبول کر اور ”لا إله إلا الله“ کے تقاضوں کو اخلاص کے ساتھ پورا کرنے والا بنا اور تیرا کلمہ بلند کرنے میں ہماری مدد فرما۔ آمين يا المنّان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حيّ يا قيّوم“
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں