1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبداللہ بن جابررضی اللہ عنہ کاعمل ،نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا۔

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اپریل 22، 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اپریل 22، 2014 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    ثنا أبو خليفة قال ثنا علي بن المدني قال ثنا عبد الله بن سفيان بن عقبة قال سمعت جدي عقبة بن أبي عائشة يقول رأيت عبد الله بن جابر البياضي صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع إحدى يديه على ذراعه في الصلاة
    عقبہ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ،آپ نے نماز میں اپنے ایک ہاتھ کو اپنے بازو پر رکھا ۔[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 5/ 228 ومن طریق ابی خلیفہ اخرجہ الطبرانی کما فی الأحاديث المختارة 9/ 130، ومن طریق الطبرانی اخرجہ ابو نعیم فی معرفة الصحابة لأبي نعيم 3/ 1610 رقم 4054 وقال الامام الھیثمی فی مجمع الزوائد 2/ 105:اسنادہ حسن ]

    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاعمل منقول ہے ،اب اگر دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے )پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ، مزید تفصیل کے لئے دیکھئے :انوارالبدر ص 171 تا 174۔

    اس کی سند صحیح ہے تفصیل ملاحظہ ہو:
     
  2. ‏مئی 13، 2014 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عقبة بن أبي عائشة

    آپ ثقہ ہیں امام ابن حبان رحمہ اللہ نے آپ کو ثقات میں ذکر کرتے ہوئے کہا:
    عقبة بن أبي عائشة
    یعنی عقبہ بن ابی عائشہ ثقہ ہیں[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 5/ 228]

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807) نے ان کی زیر بحث حدیث ہی کے بارے میں کہا:
    إسناده حسن.
    اس کی سند حسن ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 2/ 105]

    اور ناقد محدث کی طرف سے سند کی تصحیح یا تحسین سند کے رجال کی توثیق ہوتی ہے۔دیکھئے انوار البدر ص 535 تا 537۔
     
  3. ‏مئی 13، 2014 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عبد الله بن سفيان بن عقبة

    هشام بن عمار السلمى (المتوفی 245) نے کہا:
    وهو من ثقاتهم
    یہ مدینہ کے ثقہ لوگوں میں سےہیں[الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم 4/ 254 واسنادہ صحیح]

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ليس به بأس
    آپ میں کوئی حرج نہیں ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 66]

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے آپ کو ثقات میں ذکر کیا ہے دیکھئے:[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 8/ 338]
     
  4. ‏مئی 13، 2014 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام علي بن المديني
    آپ بہت بڑے محدث اور جرح وتعدیل کے بہت بڑے امام ہیں ۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
    آپ ثقہ وثبت اور امام تھے ، اپنے زمانے میں حدیث اورعلل کےسب سے زیادہ جانکار تھے[تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 4760]
     
  5. ‏مئی 13، 2014 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ابوخلیفہ الفضل بن الحباب بن عمرو

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہےدیکھئے:[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 9/ 8]

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    وكان محدثا ثقة
    آپ محدث اورثقہ تھے[تاريخ الإسلام ت بشار 7/ 92]

    بعض نے آپ پر رفض کا الزام لگایا ہےلیکن یہ الزام ثابت نہیں ہےجیساکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
    ما علمت فيه لينا إلا ما قال السليمانى: إنه من الرافضة.فهذالم يصح عن أبي خليفة.
    میں ان کے بارےمیں کوئی کمزوری نہیں جانتا ہوں ۔ سوائےاس کےکہ سلیمانی نے کہا کہ یہ رافضہ میں سے تھے لیکن یہ بات ابوخلیفہ الفضل بن الحباب کے تعلق سےثابت نہیں ہے[ميزان الاعتدال للذهبي 3/ 350]
     
  6. ‏ستمبر 19، 2016 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں