1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد اللہ بن حذافہ بن قیس رضی اللہ عنہ

'قصص و واقعات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏دسمبر 30، 2016۔

  1. ‏دسمبر 30، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب
    اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے.

    سیّدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا، اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی اللہ عنہ بھی تھے...
    مسلمانوں اور قیصر کی فوج کے درمیان لڑائی نے طول پکڑ لیا، قیصر مسلمانوں کی بہادری اور ثابت قدمی پر حیران ہوا اور حکم دیا کہ مسلمانوں کا کوئی جنگی قیدی ہو تو حاضر کیا جائے...
    عبد اللہ بن حذافہ کو گھسیٹ کر حاضر کیا گیا جن کے ہاتھوں اور پاؤں میں ہتھکڑیاں تھیں، قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی تو ان کی ذہانت سے حیران رہ گیا، دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا :
    قیصر : نصرانیت قبول کر لے تمہیں رہا کر دوں گا؟
    عبد اللہ : نہیں!
    قیصر : نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا؟
    عبد اللہ: نہیں!
    قیصر : نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں حکمرانی میں شریک کروں گا؟
    عبد اللہ : نہیں، اللہ کی قسم اگر تم مجھے اپنی پوری مملکت، اپنے آباواجداد کی مملکت، عرب وعجم کی حکومتیں بھی دے میں پلک جھپکنے کے لیے بھی اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا...!
    قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا، عبد اللہ : مجھے قتل کردے !
    قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک ستون پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے(ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے...
    جب قیصر نے دیکھا کہ اس سے بھی بات نہیں بنی وہ کسی حال میں اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ قید میں ڈال دو اور کھانا پینا بند کر دو عبد اللہ کو کھانا پینا نہیں دیا گیا یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے موت کے قریب ہو گئے تو قیصر کے حکم سے شراب اور خنزیر کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا گیا...
    جب عبد اللہ نے یہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں وہ مضطر( پریشان حال) ہوں جس کے لیے یہ حلال ہے، مگر میں کفار کو خوش کر نا نہیں چاہتا، یہ کہہ کر کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگا یا...
    یہ بات قیصر کو بتائی گئی تو اس نے عبد اللہ کے لیے بہترین کھانا لانے کا حکم دیا، اس کے بعد ایک حسین وجمیل لڑکی کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو چھیڑے اور فحاشی کا مظاہر ہ کرے، اس لڑکی نے بہت کوشش کی مگر عبد اللہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اوراللہ کےذکر میں مشغول رہے...
    جب لڑکی نے یہ دیکھا تو غصے سے باہر چلی آئی اور کہا : تم نے مجھے کیسے آدمی کے پاس بھیجا میں سمجھ نہ سکی کہ وہ انسان ہے یا پتھر...
    اللہ کی قسم اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں مذکر ہوں یا مونث...!!
    جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبد اللہ کے بارے میں مایوس ہوا تو ایک پیتل کی دیگ منگوائی اور اس میں تیل ڈال کر خوب گرم کیا اور عبد اللہ کو اس دیگ کے سامنے لایا اور ایک اور مسلمان قیدی کو زنجیروں سے باندھ کر لایا گیا اور ان کو اٹھا کر اس ابلتے تیل میں ڈالا گیا جن کی ایک چیخ نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں الگ ہو گئیں اور تیل کے اوپر تیرنے لگی، عبد اللہ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے،اب ایک بار پھر قیصر عبد اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور نصرانیت قبول کرنے اور اسلام چھوڑنے کی پیش کش کر دی مگر عبد للہ نے انکار کر دیا...
    قیصر غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ یہ دیگ میں موجود تیل اٹھا کر عبد اللہ کے سر پر ڈال دی جائے، جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبد اللہ کے قریب کیا اور اس کی تپش کو محسوس کیا تو عبد اللہ رونے لگے....!!
    آپ کی ان خوش نصیب آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے جن آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تھا....!!
    یہ دیکھ کر قیصر خوشی سے جھومنے لگا اور کہا : عیسائی بن جاو معاف کر دوں گا...؟
    عبد اللہ نے کہا : نہیں!
    قیصر : پھر رویا کیوں...؟
    عبد اللہ : اللہ کی قسم میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میری ایک ہی جان ہے جو اس دیگ میں ڈالی جائے گی...میری یہ تمنا ہے کہ میری میرے سر کے بالوں کے برابر جان ہوں اور وہ ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں نکلیں...
    یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبد اللہ سے کہا : کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کروں...؟
    عبد اللہ : اگر میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں...!!
    قیصر : ٹھیک ہے عبد اللہ نے اپنے س.اتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سرکوبوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کر دیے گئے...
    جب واپس عمر بن الخطاب رضی الله عنہ کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتا دیا گیا تو عمر رضی الله عنہ نے کہا : عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبد اللہ کے سر کو بوسہ دیا..

    نوٹ: اس سے ملتا جلتا واقعہ اس کتاب کے صفحہ بتیس پر مذکور ہے..لیکن حوالہ مفقود ہے..
     
  2. ‏دسمبر 30، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    یہ واقعہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ( شعب الایمان ) باب شح المرء بدینہ ۔۔ میں روایت کیا ہے، اسی طرح ابن عساکر اور امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں اسے ذکر کیا ہے ، فی الحال ( شعب الایمان ) سے پیش خدمت ہے
    مکمل واقعہ درج ذیل ہے :

    أخبرنا أبو الحسين محمد بن الفضل القطان، أخبرنا أبو سهل بن زياد القطان، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، وأخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة، أخبرنا أبو محمد يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو الفضل أحمد بن سلمة، حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا عبد العزيز بن محمد القسملي، حدثنا ضرار بن عمرو، عن أبي رافع، قال:
    ’’ وجه عمر بن الخطاب رضي الله عنه جيشا إلى الروم، وفيهم رجل يقال له عبد الله بن حذافة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فأسره الروم فذهبوا به إلى ملكهم، فقالوا: إن هذا من أصحاب محمد، فقال له الطاغية: هل لك أن تتنصر وأشركك في ملكي وسلطاني؟
    فقال له عبد الله: " لو أعطيتني جميع ما تملك، وجميع ما ملكته العرب - وفي رواية القطان: وجميع مملكة العرب - على أن أرجع عن دين محمد صلى الله عليه وسلم طرفة عين، ما فعلت "،
    قال: إذا أقتلك، قال: " أنت وذاك "، قال: فأمر به فصلب، وقال للرماة: ارموه قريبا من يديه قريبا من رجليه وهو يعرض عليه، وهو يأبى،
    ثم أمر به فأنزل، ثم دعا بقدر وصب فيها ماء حتى احترقت،
    ثم دعا بأسيرين من المسلمين، فأمر بأحدهما فألقي فيها وهو يعرض عليه النصرانية وهو يأبى، ثم أمر به أن يلقى فيها، فلما ذهب به بكى، فقيل له: إنه بكى فظن أنه رجع، فقال: ردوه فعرض عليه النصرانية فأبى، قال: فما أبكاك؟ قال: " أبكاني أني قلت هي نفس واحدة تلقى هذه الساعة في هذا القدر فتذهب، فكنت أشتهي أن يكون بعدد كل شعرة في جسدي نفس تلقى هذا في الله عز وجل "،
    قال له الطاغية: هل لك أن تقبل رأسي وأخلي عنك؟ قال عبد الله: " وعن جميع أسارى المسلمين؟ " قال: وعن جميع أسارى المسلمين، قال عبد الله: " فقلت في نفسي عدو من أعداء الله أقبل رأسه ويخلي عني وعن أسارى المسلمين لا أبالي قال فدنا منه وقبل رأسه "، فدفع إليه الأسارى، فقدم بهم على عمر فأخبر عمر بخبره، فقال: حق على كل مسلم أن يقبل رأس عبد الله بن حذافة، وأنا أبدأ فقام عمر فقبل رأسه قال أحمد بن سلمة: "

    ترجمہ:
    سیّدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا،
    اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی اللہ عنہ بھی تھے...
    جنہیں رومیوں نے گرفتار کرلیا ، اور پکڑ کر اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے ، اور اسے بتایا کہ یہ آدمی اصحاب محمد ﷺ میں سے ایک صحابی ہے ،
    قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی ، دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا :
    قیصر : نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا؟
    عبد اللہ نے جواباً فرمایا : اگر تم اپنا سب کچھ اور اپنی بادشاہت بھی مجھے دے دو تب بھی میں اپنا دین پلک چھپکنے جتنی دیر کیلئے بھی چھوڑنے والا نہیں!


    قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا، عبد اللہؓ : تو جان اور تیرا کام ( مجھے اس کی فکر نہیں )!
    قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک سولی پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے(ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے...
    سپاہی حسب حکم تیر برساتے رہے ، اور انہیں نصرانی بننے کہا کہتے رہے ، لیکن اس سے بھی بات نہیں بنی وہ کسی حال میں اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ انہیں اتارو ، اور حکم ایک گرم پانی کی دیگ لاؤ ، اور اسمیں پانی گرم کیا گیا،
    پھر دو مسلمان قیدیوں کو لایا گیا ، اور قیصر کے حکم سے ان کو اس ابلتے پانی میں ڈال دیاگیا ۔ یہ سب جناب عبداللہ کےسامنے کیا گیا اس دور انہیں
    مسلسل یہی کہاجاتا رہا کہ اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جاؤ ،


    جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبد اللہ کے بارے میں مایوس ہوا تو
    اور غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ اسے ابلتے پانی کی دیگ میں ڈال دیا جائے، جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبد اللہ کے قریب کیا اور اس کی تپش کو محسوس کیا تو عبد اللہ رونے لگے....!!

    قیصر کو ان کے رونے کا بتایا گیا ، یہ سن کر وہ سمجھا شاید عبداللہ اسلام کو چھوڑنے پر آمادہ ہوگیا ہے ، اسلئے عبداللہ کو واپس لانے کا حکم دیا
    اور پھر اسے عیسائی بننے کی دعوت دی گئی ، لیکن عبداللہ اسلام پر قائم رہے ، تو ان سے پوچھا کہ پھر تمہارے رونے کی کیا وجہ تھی ،
    تو سیدنا عبداللہ کہنے لگے : اس وقت میرے پاس یہ ایک جان ہی ہے جو اس ابلتے پانی میں ڈال کر ختم کردی جائے گی ،
    میں رو اسلئے رہا تھا کہ کاش میرے پاس میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں جو میں اپنے دین حق پر قربان کرسکتا ،

    یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبد اللہ سے کہا : کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کروں...؟
    عبد اللہ : اگر میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں...!!
    قیصر : ٹھیک ہے عبد اللہ نے اپنے س.اتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سرکوبوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کر دیے گئے...
    جب واپس عمر بن الخطاب رضی الله عنہ کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتا دیا گیا تو عمر رضی الله عنہ نے کہا : عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبد اللہ کے سر کو بوسہ دیا..
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ حسب عربی عبارت کردیا ہے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن اس روایت کی اسناد ناکارہ ہے ، اس کی اہم علت درج ذیل ہے :
    اس کا راوی (ضرار بن عمرو ) کے متعلق محدثین کا حکم ہے کہ وہ ۔۔ لیس بشیء ۔۔کچھ شئے نہیں ۔۔ اور ۔۔ بقول امام بخاری ( فیہ نظر ) یعنی بہت ضعیف ہے ۔

    هذا إسناد [ ضعيف جدا ]
    (۱)ضرار بن عمرو هو الملطي [ ليس بشيء ] قال ابو زرعة : (( منكر الحديث ))
    [سؤالات البرذعي 347/2] وقال البخاري : (( فيه نظر )) [التاريخ الكبير 339/4]
    وقال يحيى بن معين : (( ليس بشيء ، ولا يكتب حديثه )) [الكامل 160/5] وقال
    الدارقطني : (( متروك )) [الضعفاء والمتروكين للدارقطني 299] وقال ابن عدي
    : (( منكر الحديث )) [الكامل 161/5] وقال ابن حبان : (( منكر الحديث جدا ، كثير الرواية عن المشاهير بالاشياء المناكير ، فلما غلب المناكير في أخباره بطل
    الاحتجاج بآثاره )) [المجروحين 380/1] وقال ايضا : (( ضعيف )) [الثقات 346/8] وقال الذهبي : (( متروك الحديث )) [المغني 2920]
     
    Last edited: ‏دسمبر 30، 2016
  3. ‏دسمبر 30، 2016 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء
    بارک اللہ فی علمک وعملک ومالک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں