1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عرب علماء کے بعض فتاوٰی کی حقیقت۔ جمہوریت دین جدید۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏ستمبر 06، 2013۔

  1. ‏ستمبر 06، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    عرب علماء کے بعض فتاوٰی کی حقیقت

    جمہوری عمل میں حصہ لیے والے علماء اپنی حمایت میں بعض عرب علماء کے فتاویٰ بھی نقل کرتے ہیں۔ اس مقام پر یہ سمجھنا چاہئے کہ شریعت اسلامیہ میں علماء کے فتاوٰی جات کی بنیاد ہمیشہ فتاوٰی جات کا تناظر (حالات و واقعات) ہی بنتا ہے۔ لہٰذا یاد رہے کہ ہمارے ملک اورعبدالرحمن عبدالخالق کویتیd الشیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ اور ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کے ممالک کے حالات و واقعات قطعی مختلف ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ سعودی عرب جیسے ملک میں آئین کا مرجع (وہ کسوٹی جس پر ہر چھوٹا بڑا جھگڑا لوٹایا جائے) اور ماخذ و مصدر ( وہ مقدس مسودہ جس سے تمام قوانین پھوٹیں اور جس سے ہر شعبہء زندگی سے متعلق قوانین بنائے جائیں) اللہ کی وحی یعنی قرآن و سنت ہے، چنانچہ معاملہ شورائیت کا ہو یا بلدیاتی انتخابات وغیرہ کا، یہاں بادشاہ کیلئے بھی اسے وحی سے مستند کئے بغیر چارہ نہیں۔ اور حق ِ رائے دہی (ووٹ کا حق) بھی صرف اور صرف اُس شخص کو حاصل ہے جسے اللہ کا قرآن اور رسول اللہﷺ کا فرمان درجہ مسلم پر فائز کرتا ہے۔ برعکس سعودی عرب کے پاکستان جیسے ملکوں میں آئین کا مرجع و ماخذ، اللہ کی وحی کا ہونا، نہ صرف بعیداز تصور ہے بلکہ حقیقی جمہوریت میں اس بات کی گنجائش ہی کہاں پائی جاتی ہے کہ جمہور کا حق ِ حکمرانی وحی کا محتاج ہو اورجہاں اسلام اور مسلم کی تعریف اللہ کی وحی سے نہیں بلکہ قومی مفادات اور اسمبلی کی اکثریت کی رضامندی و اتفاق سے مشروط ہے۔

    پھر ان علماء کے ہاں ایسی جماعت موجود ہوگی جس کی داخلی پالیسی اسلام کے سب سے اہم رکن عقیدہ توحید کے مطابق ہوگی اسی لئے اِن کے ہر فتوے میں تائید حق ، انکار باطل اور داعیان اِلی اﷲ کے ساتھ وابستگی کا ذکر ہے ان علاقوں میں عقیدۂ توحید کے حاملین کثیر ہیں اور شرک کے مظاہر ہرگز اس طرح کھلے ہوئے نہیں ہیں جس طرح پاکستان میں اعلانیہ اور دلیری کے ساتھ سرکاری سرپرستی میں قائم ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایک جماعت بھی ایسی معروف نہیں ہے جو اﷲ کی توحید کی بنیاد پر الو لاء (اﷲ کے دوستوں سے محبت ) و البراء (اﷲ کے دشمنوں سے دشمنی) کا مظاہرہ کررہی ہو۔

    لہٰذا یہ کہنا کہ'' جب دیندار یا اسلام پسندوں کا مقابلہ دین بیزار یا سیکولر لوگوں سے ہو تو اس وقت ووٹ نہ دینا صرف ووٹ کا ضیاع ہی نہیں ہوتا بلکہ بالواسطہ بے دین لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے'' ہمارے معاشرے پر صادق نہیں آتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں