1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء اور درویش لوگوں کو رب بنالینا

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از بھائی جان, ‏اگست 29، 2018۔

  1. ‏اگست 29، 2018 #1
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    53
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    ایک حدیث ہے؛
    سنن الترمذي:
    حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ غُطَيْفِ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ: «يَا عَدِيُّ اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الوَثَنَ» ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ: {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} [التوبة: 31] ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ، وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ»

    اکثر لوگ اسلام کے فقہاء پر بھی یہی بات تھوپ دیتے ہیں کہ ان کی تقلید کو قرآن نے حرام قرار دے دیا ہے۔
    حالانکہ احبار و رہبان حلت اور حرمت کا حکم نص سے نہیں اپنی طرف سے لگایا کرتے تھے۔
    مسلم فقہاء حلت و حرمت کا حکم نص سے تخریج کرکے لگاتے ہیں۔
     
  2. ‏اپریل 09، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    یہود و نصاریٰ بھی یہی کہتے تھے کہ ہم اپنے علماء و درویشوں کو رب نہیں بناتے ؛
    سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث میں انہوں نے بتایا کہ :
    عن عدي بن حاتم قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي عنقي صليب من ذهب، فقال: " يا عدي اطرح هذا الوثن من عنقك، فطرحته فانتهيت إليه وهو يقرأ سورة براءة فقرأ هذه الآية {اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله} [التوبة: 31] حتى فرغ منها، فقلت: إنا لسنا نعبدهم، فقال: «أليس يحرمون ما أحل الله فتحرمونه، ويحلون ما حرم الله فتستحلونه؟» قلت: بلى، قال: «فتلك عبادتهم»
    ترجمہ :
    سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ’’ عدی! اس بت کو اپنی گردن سے نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کے حکم کی پیروی میں صلیب کو اتار پھینکا ، اور میں آپ ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ سورہ برأۃ کی آیت: { اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ } ۱؎ پڑھ رہے تھے۔ (جس کا ترجمہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویش لوگوں کو رب بنالیا تھا )
    جب آپ پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ : ’’ ہم لوگ ان کی عبادت تو نہ کرتے تھے، تو آپ ﷺ نےفرمایا : کیا ایسا نہیں تھا کہ جب یہود ونصاریٰ کے علماء و درویش کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو تم لوگ اسے حلال مان لیتے تھے، اور جب وہ کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو تم لوگ اسے حرام جان لیتے تھے ؟ میں نے عرض کیا بالکل اسی طرح کی صورت حال تھی ،تو آپ نے فرمایا : یہی تو ان کی عبادت تھی "
    (المعجم الکبیر طبرانی 218)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ہماری امت میں شریعت میں اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانے یعنی تحلیل و تحریم کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ،
    انہی میں ایک بری اور گندی مثال نکاح حلالہ ہے ،جسے اس امت کے علماء نے ایجاد فرمایا ہے ، حالاں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کے فاعل پر واضح الفاظ میں لعنت فرمائی ہے ؛
    عن علي رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله المحلل، والمحلل له».
    ترجمہ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے کیا گیا ہے ( دونوں ) ملعون ہیں۔ “
    (سنن ابو داود 2076 )

    عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : هُوَ الْمُحَلِّلُ ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ)
    وحسنه الألباني في صحيح سنن بن ماجة

    سیدنا عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " كيا ميں تمہيں كرائے يا عاريتاً ليے گئے سانڈھ كے متعلق نہ بتاؤں ؟
    صحابہ كرام نے عرض كيا: كيوں نہيں اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ ضرور بتائيں.تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " وہ حلالہ كرنے والا ہے، اللہ تعالى حلالہ كرنے اور حلالہ كروانے والے پر لعنت كرے "
    سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1936 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابن ماجہ ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں