1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علما و حکمرانوں کے تعلقات کی نوعیت

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 07، 2018۔

  1. ‏دسمبر 22، 2018 #21
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اگر آپ کے پاس شیخ بن باز رحمہ اللّٰہ کی وہ تقریر یا تحریر ہو تو یہاں بھیجیں۔ (تحریر ہو تو زیادہ بہتر ہے).

    شاید صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے حکمران کی موجودگی میں ان کی اصلاح کی تھی۔ آپ ابو سعید خدری اور ابو ذر غفاری رضی اللّٰہ عنہم کے آثار بھیجیں۔ علماء نے ان کی کیا تشریحات کی ہیں دیکھوں گا۔ ان شاءاللہ

    جب مرفوع حدیث موجود ہو تو موقوف یا صحابی کے اثر کو مرفوع پر ترجیح دیا جا سکتی ہے کیا؟ اور کیا جن علماء کے اقوال میں نے پیش کئے ہیں انہوں نے ان آثار کو قابلِ حجت نہیں سمجھا؟؟

    دلائل پیش کریں کس نے ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللّٰہ عنہما پر اعلی الاعلان تنقید کی ہے۔


    عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں خوارج کا یہی طریقہ تھا کہ وہ عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے تھے اور کھلے عام آپ رضی اللّٰہ عنہ پر تنقید کرتے تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے جاہلوں کا ایک گروہ بنا لیا اور عثمان رضی اللّٰہ عنہ پر خروج کیا۔

    اگر ایسا ہی ہے تو پھر کئی آئمہ کا قول و عمل خاموشی سے اصلاح کرنے کے مطابق کیوں ہے۔ کیا آئمہ کو مصالح و مفاسد سمجھ میں نہیں آئے کیا؟

    اپنے قول کے حق میں دلائل یش کریں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ تو نہیں ہے کہ اس کے متعلق اسلام میں کوئی تعلیمات نہ ہوں۔ اگر آپ لوگوں کو حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے تو خونریزی ہو سکتی ہے۔ جیسے اخوان المسلمین نے کئی مسلم ممالک میں کیا۔ شام یمن لیبیا ٹیونس وغیرہ کی مثالیں سامنے ہے۔ اور ابھی بھی قرضاوی کے فتاویٰ اور اس جیسے لوگوں کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اخوان یہی کام کر رہے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین
     
  2. ‏دسمبر 23، 2018 #22
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    نصیحت کا لنک یہ ہے۔
    اور یہ تقریر کا لنک ہے، جس میں اس کی تکفیر کی گئی ہے۔
    بقیہ باتوں کی آپ خود تحقیق کریں، علما کے اقوال دیکھیں۔ میرے پاس اس بحث و مباحثہ کا وقت نہیں۔
    میں نے یہ باتیں اس لیے عرض کی ہیں، تاکہ ہمارا نقطہ نظر واضح ہوجائے۔
     
  3. ‏دسمبر 23، 2018 #23
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    بھائی ایک بات بتائیں
    آپ جو منبروں پر یا علانیہ تنقید کرنے کی باتیں کر رہے ہیں کیا کوئی حکمران آپ کی بات سنتا ہے؟ پاکستان کا حکمران آپ کی تقریر سنتا یا تحریر پڑھتا ہے؟
    آپ جو سوشل میڈیا پر لکھتے یا بولتے ہیں کیا کوئی حکمران اسے دیکھتا بھی ہے؟ یا صرف عوام کے لئے لکھتے ہیں آپ؟ عوام کو بھڑکانے اور عوام سے اپنی تعریف کروانے، کہ دیکھو بھائی کیا بھادر بندا ہے؟؟؟
    اگر کوئی حکمران نہیں دیکھتا یا سنتا آپ کی بات تو پھر آپ کی باتوں کا فائدہ کیا ہے؟ جو بات آپ حکمرانوں کے سامنے بولنا چاہئے عوام کے سامنے بول رہے ہیں ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ نقصان ہے۔ عوام حکمران کے خلاف ہوتی ہے، ہو سکتا ہے کہ آپ اور آپ جیسے لوگ اسی طرح عوام کے سامنے حکمرانوں کی برائی کر کے پاکستان میں قتل عام کروا دیں۔
    اگر حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شوق ہے تو ان کے سامنے جا کر کرو، سوشل میڈیا میں بولنے سے ان کی اصلاح نہیں ہونے والی۔ یا بارسوخ علماء کو حکمران کے پاس بھیجو تاکہ وہ انہیں نصیحت کر سکیں۔
    اور سوشل میڈیا میں عوام کی اصلاح کی باتیں کرو، عوام کو نصیحت کرو۔

    آپ اپنے دلائل تو پیش کریں بھائی، آپ نے دلائل ہی پیش نہیں کئے تو آپ کا نقطئہ نظر واضح کیسے ہوگا؟
    میں نے جنتی ہو سکتی تھی اتنی تحقیق کی ہے لیکن آئمہ سلف میں اور اس دور کے سلفی علماء میں کسی کا قول بھی مجھے آپ کے قول کے موافق نہیں ملا،، بلکہ صحابہ نے تو آپ کا علانیہ نصیحت والے طریقے سے روکا ہے، اور خود بھی روکے ہیں، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اس طریقے سے روکا ہے،، اور سلفی علماء نے بھی روکا ہے۔

    اور دلائل ہیں تو بھیجنے میں کیا تکلیف ہے آپ کو؟؟ علم کو نہ چھپائیں۔
     
  4. ‏دسمبر 23، 2018 #24
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ کافی دفعہ دلائل کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
    لوگوں کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ میرے پاس دلائل نہیں ہے۔
    لہذا بار بار اس بات کو دہرانے کا فائدہ نہیں۔
    میں خود کو آپ کے سوالوں کے جواب کا پابند نہیں سمجھتا۔
    بہت بہتر ہوگا کہ یہاں سوشل میڈیا پرعوام کے سامنے الجھنے کی بجائے، حکمرانوں کے پاس جاکر انہیں نصیحت کریں، کیونکہ یہ طریقہ کم ازکم آپ کے نزدیک مدلل و درست ہے۔
     
  5. ‏دسمبر 23، 2018 #25
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    آپ نے جو اوپر ابو بکر صدیق، عمر فاروق ،ابو سعید خدری اور ابو ذر غفاری رضی اللّٰہ عنہم کے متعلق کہا تھا کیا آپ اس کو دلائل نہیں مانتے؟ اگر نہیں مانتے تو پھر پیش کیوں کئے اپنے دلائل کے طور پر؟

    آپ کسی بھی ملک کے حکمران نہیں ہیں اس لیے میں آپ سے سوشل میڈیا پر الجھ سکتا ہوں۔

    رہی بات حکمرانوں کے پاس جا کر انہیں نصیحت کرنے کی تو یہ مجھ جیسے طالب علموں کا کام نہیں ہے بلکہ کبار علماء کا کام ہے جن کی بات حکمران سننے کے زیادہ امکانات ہیں، اس لیے یہ کام کبار علماء پر چھوڑ دیں۔ شاید میں نے اس کے متعلق شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا فتویٰ بھی بھیجا تھا۔
     
  6. ‏دسمبر 23، 2018 #26
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا یہ فتویٰ اور ایک مرتبہ پڑھ لیں۔

    وأولى من يقوم بالنصيحة لولاة الأمور هم العلماء وأصحاب الرأي والمشورة وأهل الحل والعقد
    ، قال تعالى –{وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم}.

    فليس كل أحد من الناس يصلح لهذا الأمر ، وليس الترويج للأخطاء والتشهير بها من النصيحة في شيء ، ولا هو من منهج السلف الصالح ، وإن كان قصد صاحبها حسناً وطيباً ، وهو : إنكار المنكر - بزعمه - ، لكن ما فعله أشد منكراً مما أنكره ، وقد يكون إنكار المنكر منكراً إذا كان على غير الطريقة التي شرعها الله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم ؛ فهو منكر ؛ لأنه لم يتبع طريقة الرسول صلى الله عليه وسلم الشرعية التي رسمها۔
     
  7. ‏دسمبر 23، 2018 #27
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میں فورم کے ’ولاۃ الامور‘ میں سے ہوں۔ ( ابتسامہ)
    خیر آپ کی نیت اچھی ہے، میں اس کی قدر کرتا ہوں، میرا عذر قبول کیجیے کہ میں اس موضوع پر آپ کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا۔
     
  8. ‏دسمبر 23، 2018 #28
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ابتسامہ پہ ابتسامہ،،،،
     
  9. ‏دسمبر 29، 2018 #29
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    یہ کیا ہو رھا ہے؟
     
  10. ‏دسمبر 29، 2018 #30
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    متفق


    اہل شام کے ساتھ، مسلم حکمرانوں اور افواج کی بہت زیادتیاں ہیں. انہیں اکیلا بے آسرا چھوڑ دیا گیا.

    اوپن ٹاک پر علماء نے بشار الأسد کو واجب القتل بھی قرار دیا.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں