1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت ،عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے !!!

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 03، 2014۔

  1. ‏اپریل 03، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عورت ،عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے !!!

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    عورت ،عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے

    ( صحيح الجامع : 7298)
    1966770_610112275723712_990794585_n.jpg
     
  2. ‏اپریل 03، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اگست 23، 2017 #3
    فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2016
    پیغامات:
    46
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    کیا کوئی مرد اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے؟
     
  4. ‏اگست 24، 2017 #4
    فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2016
    پیغامات:
    46
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    سر @اسحاق سلفی
     
  5. ‏اگست 24، 2017 #5
    فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2016
    پیغامات:
    46
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

  6. ‏اگست 25، 2017 #6
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

  7. ‏اگست 25، 2017 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,555
    موصول شکریہ جات:
    2,215
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    بالغ مردشرعی شرائط اور طریقہ کی پابندی کے ساتھ اپنا نکاح خود کرسکتا ہے ، لیکن اس طرح کہ خود عورت کے ولی سے رشتہ طلب کرے ، اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو ،
    یعنی عورت کے ولی کی اجازت و رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی اور حق مہر وغیرہ امور شرعی ادا کرتے ہوئے خود کرسکتا ہے ، نیچے اس ضمن میں کچھ روایات اور دو فتوے رہنمائی کیلئے پیش ہیں بغور دیکھ لیجئے ؛
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    صحیح بخاری (کتاب النکاح ) میں ہے :
    وخطب المغيرة بن شعبة، امرأة هو أولى الناس بها، فأمر رجلا فزوجه وقال عبد الرحمن بن عوف، لأم حكيم بنت قارظ: «أتجعلين أمرك إلي؟» قالت: نعم، فقال: «قد زوجتك» وقال عطاء: «ليشهد أني قد نكحتك، أو ليأمر رجلا من عشيرتها» وقال سهل: قالت امرأة للنبي صلى الله عليه وسلم: أهب لك نفسي، فقال رجل: يا رسول الله، إن لم تكن لك بها حاجة فزوجنيها
    ترجمہ :
    سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا اوراس عورت کے سب سے قریب کے رشتہ دار وہی تھے۔ آخر انہوں نے ایک اور شخص (عثمان بن ابی العاص) سے کہا، اس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ام حکیم بنت قارظ سے کہا تو نے اپنے نکاح کے باب میں مجھ کو مختار کیا ہے، میں جس سے چاہوں تیرا نکاح کر دوں۔ اس نے کہا ہاں۔ عبدالرحمٰن نے کہا تو میں نے خود تجھ سے نکاح کیا۔
    اور امام عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں : دو گواہوں کے سامنے اس عورت سے کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا یا عورت کے کنبہ والوں میں سے (گو دور کے رشتہ دار ہوں) کسی کو مقرر کر دے (وہ اس کا نکاح پڑھا دے) اور سہل بن سعد ساعدی نے روایت کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اپنے آپ کو بخش دیتی ہوں، اس میں ایک شخص کہنے لگایا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی خواہش نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئیے۔"
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    فتویٰ
    هل يجوز للرجل المملك أن يملك لنفسه على الزوجة؟
    ج3: يجوز للرجل أن يعقد النكاح لنفسه، فمثلا لو قال ولي المرأة للرجل: أنكحتك ابنتي فلانة، فقال: قبلت، صح العقد إذا كان بحضور شاهدين عدلين. وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... نائب الرئيس ... الرئيس
    عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    http://www.alifta.net/fatawa/fatawa...e&PageID=6808&PageNo=1&BookID=3&languagename=

    ترجمہ :

    مرد کا خود اپنا نکاح کرنا
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سوال :
    کیا مرد خواہ اپنا نکاح کرسکتا ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    مردکے لیے جائز ہے کہ وہ خود اپنا نکاح کرے مثلاً اگر عورت کا ولی آدمی کے لیے کہے کہ میں نے اپنی فلاں بیٹی کا نکاح تیرے ساتھ کردیا اور وہ کہہ دے کہ میں نے قبول کیا تو عقد صحیح ہے بشرط یہ کہ یہ عقیدہ دو عادل گواہوں کی موجودگی میں ہو۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتاویٰ نکاح و طلاق

    ص271

    محدث فتویٰ

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    عقد نکاح کا مسنون طریقہ اور خطبہ نکاح

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سوال :
    عقد نکاح کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    عقد نکاح ایجاب کے ساتھ مکمل ہو تا ہے اور ایجاب عورت کے ولی یا اس کے وکیل کی طرف سے صادر ہونے والے یہ الفاظ ہیں کہ" میں نے تیرا نکاح کر دیا" یا "میں نے تیری شادی کر دی "یا اس کے مشابہ اور الفاظ اور عقد نکاح کی تکمیل قبول کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ شوہر یا اس کے وکیل کی طرف سے صادر ہونے والے یہ الفاظ ہیں۔"میں نے اس نکاح کو قبول کیا"یا میں اس پر راضی ہو"یا اس کے مشابہ کوئی اور الفاظ اور یہ ایجاب و قبول دو عادل گواہوں کی موجودگی ہوگا ۔ اس کے عقد نکاح سے پہلے کوئی اور الفاظ یا دعائیں یا قرآءت ثابت نہیں البتہ خطبہ مسنون ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔
    إِنَّ الْحَمْدَ لله نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بلله مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ الله فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إله إلا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.

    ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ ﴿١٠٢﴾... سورة آل عمران


    ﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِ‌جالًا كَثيرً‌ا وَنِساءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَر‌حامَ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلَيكُم رَ‌قيبًا ﴿١﴾... سورة النساء

    ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا ﴿٧٠﴾ يُصلِح لَكُم أَعمـٰلَكُم وَيَغفِر‌ لَكُم ذُنوبَكُم وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ فَقَد فازَ فَوزًا عَظيمًا ﴿٧١﴾.. سورة الاحزاب

    أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ الله وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه و سلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ.

    "یقیناً تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اس کی مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں ہم اپنے نفسوں کے شر اور اپنی بداعمالیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ اپنے درسے دھتکاردے اس کے لیے کوئی رہبر نہیں ہو سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود بر حق صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔"
    "ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمھیں موت نہ آئے مگر صرف اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔"
    "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس جان سے اس کی بیوی کو بنایا اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔اور انہیں (زمین پر) پھیلایا ۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے ذریعے (یعنی جس کے نام پر) تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں (کو توڑنے) سے بچو۔ بے شک اللہ تمھاری نگرانی کر رہا ہے۔"
    "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ایسی بات کہو جو محکم (سیدھی اور سچی ) ہو اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اصلاح اور تمھارے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔"
    "حمدو صلاۃ کے بعد یقیناً تمام باتوں سے بہتر بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور تمام طریقوں سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور تمام کاموں سے بد ترین کام وہ ہیں جو (اللہ کے دین میں) اپنی طرف سے نکالے جائیں دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے۔"( صحیح ،صحیح ابو داؤد 1860۔کتاب النکاح ،باب خطبہ النکاح ابو داؤد) (سعودی فتویٰ کمیٹی)

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتاویٰ نکاح و طلاق

    ص264

    محدث فتویٰ
     
    Last edited: ‏اگست 25، 2017
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 25، 2017 #8
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    الحمدللہ بہت سے شبہات دور ہو گئے
    جزاك الله خيرا كثيرا شیخ.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں