• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید انصاف + قربانی انصاف

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
دُعا سسٹر
یہی سب سے عمدہ بات ہے کہ دِل نرم رہیں۔
الحمد للہ۔ حافظ صاحب سے کئی دفعہ میری ملاقات ہو چکی ہے۔ کم از کم دو دفعہ جمعۃ المبارک حافظ عسکری صاحب کے پیچھے ادا کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ یہ سعادت کی بات ہے۔ حافظ صاحب سے یا راجا صاحب سے میری کوئی ذاتی دشمنی و عناد نہیں ہے۔
مزید یہ کہ میرے دل میں الحمد للہ کسی بھی مؤحد بہن بھائی کے لئے کوئی بھی کینہ و بغض و حسد نہیں ہے ۔
اور اللہ تعالیٰ مجھے ایسی باتوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔
دل میں جو بات ہوتی ہے وہ باہر نکال کر رکھ دیتا ہوں۔
میں مانتا ہوں کہ
علم پر عمل کا مطالبہ
اکثر لوگوں میں اکثر اوقات میرے متعلق منفی رجحانات بڑھنے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
مثلاً:
ایک مؤحد عالم صاحب جب درس و تدریس یا خطابت کرتے ہیں تو پاؤں سے پاؤں ملانے، پاؤں سیدھے رکھنے، اونچی آمین کہنے، نماز میں ادھر اُدھر نہ دیکھنے، اذان کے بعد مسجد سے نہ نکلنے، سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے اور معاملات کو درست رکھنے وغیر وغیرہ کی بہت اچھے انداز سے وعظ و نصیحت فرماتے ہیں۔ جس سے میرے جیسے لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔
لیکن
جب کبھی اتفاقاً ایسے مدرس اور خطیب حضرات مقتدی کے طور پر نماز میں شامل ہوں تو الا ماشاء اللہ ان ساری باتوں کی اپنے عمل سے نفی فرما رہے ہوتے ہیں۔ اور منبر سے نیچے اتر کر اپنے عمل سے اپنی وعظ و نصیحت کی دھجیاں بکھیر رہے ہوتے ہیں۔
یہ الفاظ میں نے نہ تو راجا صاحب کے لئے لکھے ہیں اور نہ ہی حافظ عسکری صاحب کے لئے۔
یہ تو عام باتیں آپ کو بتائی ہیں۔
لہٰذا
رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے جہاں ہمیں اور بہت کچھ ملتا ہے وہاں یہ بات بھی ملتی ہے کہ جس قدر آپ کے پاس علم ہے اس پر عمل کرو۔
اور خاص طور پر علماء کرام کو چاہیے کہ روزمرہ کی زندگی میں اپنے اوپر نظر دوڑائیں اور ایسی عادات ترک فرما دیں جن سے دیکھنے والے کو یہ سمجھ آرہی ہو کہ علم پر عمل نہیں ہو رہا۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یہ بھی ہمارے معاشرے کی ہی ایک تصویر ہے جو قطعی مستحسن نہیں ہے لیکن حتمی اور قطعی نہیں ہے معاشرے میں ہر شعبہ حیات میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اگر کچھ لوگ اچھائی کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو سب کے لیے وہی سختی استعمال کرنا مناسب نہیں
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

ویسے آپ کی باتوں سے مجھے اپنے استاد ذکر کردہ ایک شعر یاد آگیا جو لکھ رہا ہوں
العلم بلا عمل وبال
والعمل بلا علم ضلال
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
یہ بھی ہمارے معاشرے کی ہی ایک تصویر ہے جو قطعی مستحسن نہیں ہے لیکن حتمی اور قطعی نہیں ہے معاشرے میں ہر شعبہ حیات میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اگر کچھ لوگ اچھائی کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو سب کے لیے وہی سختی استعمال کرنا مناسب نہیں
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

ویسے آپ کی باتوں سے مجھے اپنے استاد ذکر کردہ ایک شعر یاد آگیا جو لکھ رہا ہوں
العلم بلا عمل وبال
والعمل بلا علم ضلال
بہت بہت شکریہ شیخ فیض الابرار صاحب
ممکن ہے کہ آپ کے اساتذہ میں محترم شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب ہوں۔ محترم شیخ ابراہیم بھٹی صاحب ہوں۔ محترم شیخ محمد حسین بلتستانی صاحب ہوں۔ ان جیسے تمام علماء کرام کی میں تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء کرام جن کا مذکورہ بالا میرے اساتذہ کرام سے فروعی اختلاف ہے، ان کی بھی تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
اور ہر ایک عالم کی تہہ دِ ل سے عزت کرتا ہوں
لیکن
جہاں کسی میں بھی خلاف اسلام بات دیکھتا ہوں تو دل کڑھتا ہے۔
جب متنبہ کر دیا جائے
اور
عالم صاحب یہ بھی فرمائیں کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے
لیکن
عمل پھر بھی اس کے خلاف کریں تو پھر معاملہ کچھ اور سمجھ میں آتا ہے اور کبھی کبھی اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے۔
آپ نےجو شعر تحریر فرمایا ہے وہ لائق تحسین ہے
لیکن
اس میں دیا گیا پیغام کسوٹی نہیں ہے۔
 

عبدالقیوم

مشہور رکن
شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
825
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
142
پلیز یہ مکالمہ موحد بھائیوں اور اہل علم کے مابین ہے۔اس لیے "الفاظ کا بناؤ سنگھار " ضرور کریں۔تاکہ دل نرم رہیں۔ اور دلائل سے جائزہ لیتے رہیں ، ان شاء اللہ ، اللہ تعالی مثبت راستہ دکھائے گا۔
بہت اچھامشورہ ہے اللہ آپ کو فہم فراست دے آمین
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
بہت بہت شکریہ شیخ فیض الابرار صاحب
ممکن ہے کہ آپ کے اساتذہ میں محترم شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب ہوں۔ محترم شیخ ابراہیم بھٹی صاحب ہوں۔ محترم شیخ محمد حسین بلتستانی صاحب ہوں۔ ان جیسے تمام علماء کرام کی میں تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء کرام جن کا مذکورہ بالا میرے اساتذہ کرام سے فروعی اختلاف ہے، ان کی بھی تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
اور ہر ایک عالم کی تہہ دِ ل سے عزت کرتا ہوں
لیکن
جہاں کسی میں بھی خلاف اسلام بات دیکھتا ہوں تو دل کڑھتا ہے۔
جب متنبہ کر دیا جائے
اور
عالم صاحب یہ بھی فرمائیں کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے
لیکن
عمل پھر بھی اس کے خلاف کریں تو پھر معاملہ کچھ اور سمجھ میں آتا ہے اور کبھی کبھی اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے۔
آپ نےجو شعر تحریر فرمایا ہے وہ لائق تحسین ہے
لیکن
اس میں دیا گیا پیغام کسوٹی نہیں ہے۔
آصف بھائی میں نے آپ کی بات کی نفی نہیں کی واقعتا ہم اس المیہ سے اس وقت دوچار ہیں اور اگر اس کو بنیاد بنا لیا جائے تو بات بہت آگے تک چلی جائے گی جہاں ہمارے لیے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا کیوں کہ قول و فعل میں تضاد ایک بہت بڑی آزمائش ہے جس کی زد میں ہمارے اہل دین بھی ہیں ان تمام باتوں کے باوجود صبر و تحمل اور اخلاق حسنہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہی اخلاق نبوی ہیں جو ہمارے لیے قابل اتباع ہیں
جہاں تک اوپر دیے گئے ناموں کی ہے تو میں نے ان میں سے آخری نام سے جامعہ ابی بکر میں باقاعدہ استفادہ کیا ہے اور باقی صرف کبھی کبھار دروس کی حد تک
لیکن اگر اس کڑے معیار (جو کہ غلط نہیں ہے) پر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کو پرکھنا شروع کر دیں تو یقین کریں بہت سی باتیں ایسی نکلیں گی جو شریعت کی صراحت مخالفت کر رہی ہوں گی کیوں کہ معصوم عن الخطا کوئی بھی نہیں ہے اور تو اور حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کی کتاب دروس بخاری میں نے پڑھے اس میں مجھے ایسی کتنی باتیں ملی جو منھج سلف کے مکمل خلاف ہیں تو کیا کیا جائے
لہذا میرا ناقص علم تو یہی کہتا ہے کہ حسن ظن کو مدنظر رکھتے ہوئے حسنات کو مقدم رکھا جائے اور سیئات کو نظر انداز کیا جائے البتہ اگر صورت حال کا تقاضا اس کے برعکس ہو تو اجتھادی طور پر شاید کر لیا جائے لیکن عموم اور اصل تو یہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
بہت بہت شکریہ شیخ فیض الابرار صاحب
ممکن ہے کہ آپ کے اساتذہ میں محترم شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب ہوں۔ محترم شیخ ابراہیم بھٹی صاحب ہوں۔ محترم شیخ محمد حسین بلتستانی صاحب ہوں۔ ان جیسے تمام علماء کرام کی میں تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء کرام جن کا مذکورہ بالا میرے اساتذہ کرام سے فروعی اختلاف ہے، ان کی بھی تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔
اور ہر ایک عالم کی تہہ دِ ل سے عزت کرتا ہوں
لیکن
جہاں کسی میں بھی خلاف اسلام بات دیکھتا ہوں تو دل کڑھتا ہے۔
جب متنبہ کر دیا جائے
اور
عالم صاحب یہ بھی فرمائیں کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے
لیکن
عمل پھر بھی اس کے خلاف کریں تو پھر معاملہ کچھ اور سمجھ میں آتا ہے اور کبھی کبھی اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے۔
آپ نےجو شعر تحریر فرمایا ہے وہ لائق تحسین ہے
لیکن
اس میں دیا گیا پیغام کسوٹی نہیں ہے۔
آصف بھائی شعر تو شعر ہوتا ہے وہ تو برسبیل تذکرہ یا جملہ معترضہ تھا جو درج کر دیا تھا
 

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
256
بہت خوب حافظ صاحب!
میری آپ سے بات چل رہی تھی:


آپ جناب نے میری گذارشات کا جواب تو مرحمت نہ فرمایا لیکن
راجا صاحب کی حمایت میں دلائل ذکر کرنا شروع فرما دیئے۔ آپ نے لکھا:


حافظ صاحب!
آپ کی اس تحریر کا ربط میری تحریر سے کیا ہے؟
بس یہ بتا دیجیے ۔
اس کے بعد آپ میری پوسٹ کو غیر متعلق کہیں تو سر آنکھوں پر۔

باقی اب میں یہ نہیں کہتا کہ
راجا والی آئی ڈی کے پیچھے کون ہے اور آپ کے اپنے نام والی آئی ڈی کے پیچھے کون ہے؟
ربط یہ ہے کہ جب آپ طاہر القادری صاحب کا نام بگاڑیں گے تو ان کے پرستار اہل حدیث علما کا تذکرہ اسی طرح ہی کریں گے۔
باقی راجا صاحب کی آئی ڈی کے پیچھے میں تو ہر گز نہیں ہوں اور میرے کے نام کی آئی ڈی کے پیچھے وہی خاکسار ہے جس سے آپ کی چند ایک ملاقاتیں ہوئی ہیں؛اس کے ساتھ یہ بھی عرض کروں گا:
اجتنبواکثیراً من الظن إن بعض الظن إثم
 

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
256
محترم آصف بھائی کی غیرت توحید اور اخلاص پر مجھے ہر گز کوئی شبہہ نہیں لیکن خدارا وہ یہ بھی تو بتلائیں کہ کیا کبار علماے اہل حدیث میں سے کسی نے طاہرالقادری صاحب پر تنقید کرتے ہوئے یہ اسلوب اختیار کیا ہے جو جناب نے اپنا رکھا ہے؟؟
 

طاہر اسلام

سینئر رکن
شمولیت
مئی 07، 2011
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
256
ویسے آصف بھائی طاغوت کی تعریف کے اعتبار سے تو آپ کی بات ٹھیک ہی لگتی ہے
محترم !اس اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں کیوں کہ طاغوت ایک شرعی لفظ ہے جیسا کہ کافر،مشرک اور بدعتی؛ان کو دلیل بنا کر دوسروں کے نام نہیں بگاڑے جاسکتے؛اسلام حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور مخالفین کے نام بگاڑنا ایک غیر اخلاقی اور غیر اسلامی فعل ہے جس کی کسی طور پر تائید نہیں کی جاسکتی؛اگر کسی بھی درجے میں ہم نے اس مکروہ فعل کی حمایت کی تو اس سے عظیم فتنے کا دروازہ کھل جائے گا اور یہ بالکل اسی طرح کی حرکت ہو گی کہ دوسروں کے باپ کو گالی دے کر اپنے والد کو دشنام کا ہدف بنا دیا جائے؛خداوند قدوس ہمیں اخلاص اور جذبے کے ساتھ علم و حلم کی دولت بھی عطا فرمائے؛آمین
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
محترم !اس اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں کیوں کہ طاغوت ایک شرعی لفظ ہے جیسا کہ کافر،مشرک اور بدعتی؛ان کو دلیل بنا کر دوسروں کے نام نہیں بگاڑے جاسکتے؛اسلام حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور مخالفین کے نام بگاڑنا ایک غیر اخلاقی اور غیر اسلامی فعل ہے جس کی کسی طور پر تائید نہیں کی جاسکتی؛اگر کسی بھی درجے میں ہم نے اس مکروہ فعل کی حمایت کی تو اس سے عظیم فتنے کا دروازہ کھل جائے گا اور یہ بالکل اسی طرح کی حرکت ہو گی کہ دوسروں کے باپ کو گالی دے کر اپنے والد کو دشنام کا ہدف بنا دیا جائے؛خداوند قدوس ہمیں اخلاص اور جذبے کے ساتھ علم و حلم کی دولت بھی عطا فرمائے؛آمین
حافظ صاحب اگر تو آپ اپنی اس بات سے یہ مطلب لے رہے ہیں کہ کسی کا نام نہیں بگاڑنا چاہیے تو میں آپ کے ساتھ متفق ہوں لیکن اگر طاغوت تعریف کو مدنظر رکھا جائے کہ جیسا کہ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں
"طاغوت" کی سب سے درست اصطلاحی تعریف وہی ہے جو امام ابن القیم رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے۔ یعنی "ہر وہ شخص ہے جس کی عبادت یا اتباع یا اطاعت کی جارہی ہو اور اس کے تئیں بندہ اس کی حد سے تجاوز کر جائے تو وہ طاغوت ہے"۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ کی ایسے تینوں شخصوں سے مراد غیر صالح لوگ ہیں، ورنہ صالح لوگ طاغوت نہیں ہیں۔ چاہے وہ پوجے جا رہے ہوں ،یا ان کی اتباع اور اطاعت کی جا رہی ہو۔ لہٰذا وہ بت جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجے جا رہے ہوں طاغوت ہیں۔ علماء سوء جو کفر و ضلالت کی دعوت دے رہے ہوں، یا بدعت یا حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے کی دعوت دے رہے ہوں طاغوت ہیں۔ اور وہ لوگ بھی جو اپنے در آمد شدہ مخالفِ اسلام نظام کے ذریعہ حاکموں کے لئے شریعت اسلامی سے باہر ہو جانے کا جواز فراہم کرتے ہوں طاغوت ہیں۔ کیوں کہ یہ تمام لوگ اپنی حد سے آگے نکل گئے ہیں ۔ ایک عالم کی حد یہ ہے کہ وہ نبی ﷺ کے لائے ہوئے احکام کا متبع ہو۔ اس لئے کہ علماء ہی حقیقتاً انبیاء کے وارث ہیں ۔و ہ انبیاء سے علم ،اخلاق، دعوت اور تعلیم کی شکل میں وراثت پاتے ہیں۔ اگر وہ اس حد سے آگے نکل جائیں اور حکام کے لئے اس طرح کے نظاموں سے شریعت اسلام سے باہر ہو جانے کا جواز فراہم کرنے لگیں تو وہ طاغوت ہیں۔ کیوں کہ اتباعِ شریعت کی جس حد میں رہنا ان کے لئے واجب تھا وہ اس سے آگے نکل گئے ۔(بحوالہ محمد ارسلان طاغوت کی تعریف)
تو کیا طاہر القادری اس تعریف پر پورا نہیں اترتا اگر آپ یہ کہیں کہ اس پر حجت قائم کی جائے تو عرض ہے کہ میں اس سے مل چکا ہوں اور اس موضوع پر اس سے بات کر چکا ہوں اس کے باوجود وہ ہٹ دھرمی سے باز نہیں آیا اور اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ احادیث کا اپنے من مانے مفہوم پہنا کر میرے سامنے پیش نہ کریں اور اس میں تعظیم کا پہلو ہے اور اسلام اس تعظیم سے منع نہیں کرتا اور بھی کئی خرافات تھی جو اس نے کی بالخصوص ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہما اللہ کی توہین ۔۔۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
ویسے آصف بھائی طاغوت کی تعریف کے اعتبار سے تو آپ کی بات ٹھیک ہی لگتی ہے

میرے اس جملے کا مطلب اگر یہ نکلتا ہے کہ میں نام بگاڑنے کے حق میں ہوں تو میں اس جملے کو واپس لے لیتا ہوں لیکن طاہر القادری طاغوت ہی ہے
 
Top