1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

غامدی صاحب کا نیا فتوی

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 04، 2017۔

  1. ‏جون 04، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    ہوئے کس درجہ بے توفیق ۔۔۔
    تحریر : ابوالوفاحافظ محمد حماد اثری، رکن دارالتخصص والتحقیق پاکستان
    محترم غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ امتحانات کی وجہ سے روزے ٹرانسفر کئے جاسکتے ہیں تو گزارش ہے کہ کس قاعدہ کی رو سے یہ فتوی صادر کیا گیا؟ اگر وجہ مشقت ہے تو :
    1کسان کو روزہ ٹرانسفر کرنا چاہئے،کہ اس کی سی مشقت تو کوئی بھی نہیں جھیلتا۔
    2مزدور کو معافی نامہ دیا جائے کہ وہ تو جنوری میں بھی جون کی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔
    3کچن میں کام کرتی خواتین بھی روزہ جنوری میں لے جائیں کہ امتحان کی مشقت باورچی خانے کی مشقت سے بہرحال کم ہے۔
    4دفتروں میں لکھنے پڑھنے کا کام جو کرتے ہیں، امتحانات کے مقابلے میں وہ زیادہ قلم و دماغ چلاتے ہیں، ان کے روزے پھر دسمبر میں ہونے چاہئیں۔
    5ریڑھی بان بھی روزہ چھوڑ دے ، کہ اسے بھی مشقت کا سامنا ہے۔
    6حفاظ کرام جو سپارہ یاد کر کے سناتے ہیں، انہیں خصوصی پیکج چاہئے کہ امتحان کی اہم قسم تراویح میں قرآن سنانا بھی ہے۔
    7اساتذہ کوروزانہ چار پانچ گھنٹے سر کھپائی کرنی ہے، انہیں بھی رخصت ہے۔
    تو بھائی بچے گا کون روزہ رکھنے والا؟سوائے چند گدی نشینوں کے ،یا ٹی وی چینل نشینوں کے؟جون کے روزے تو سب کو تنگ کرتے ہیں، رمضان کے چاند سے ہی گزارش کر دیتے ہیں کہ بھائی صاحب دسمبر تا مارچ طلوع ہوا کیجئے۔خبردار جو گرمی کے مہینے میں طلوع ہوئے۔اوکے!
    ارے محترم ! مریض ،مسافر،حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) کو جب اللہ نے رخصت دی ہے کہ اگر استطاعت نہیں تو دوسرے دنوں میں قضائی دیں ۔یہ رخصت بھی موجود ہے کہ جان کو خطرہ لاحق ہو جائے تو انسان روزہ توڑ سکتا ہے۔تو مشقت والا کوئی مسئلہ ہوتا تو اللہ ضرور اس کی وضاحت واضح لفظوں میں کردیتا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو سمجھ ضرور آجاتے وہ الفاظ، اگر آپ کہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو تو سمجھ نہیں آیا ،اور ہمیں چودہویں صدی میں سمجھ آگیا ہےتو شیخ مقبل بن ہادی رحمہ اللہ کی زبان میں اتنا ہی کہوں گا۔
    ''تف ہے ایسی فقاہت پر ۔''
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں