1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر مسلموں کے حقوق

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏نومبر 19، 2011۔

  1. ‏نومبر 19، 2011 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    غیر مسلموں کے حقوق

    غیر مسلموں میں ہر طرح کے کافر شامل ہیں اور ان کی چار قسمیں ہیں:
    (1) حربى
    (2) مستامن
    (3) معاهد
    (4) ذمى

    حربی
    وہ کافر جو مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں۔حربی کفار کا ہم پر کوئی حق نہیں کہ ان کی کوئی حمایت یا رعایت کی جائے۔

    مستامن
    وہ کافر جو مسلمانوں سے مال و جان کی امان کی درخواست کریں اور انہیں امان دے دی جائے ۔کفار کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کو امن دینے کے وقت (مدت امان) اور اس جگہ کا لحاظ رکھا جائے جہاں انہیں امان دی گئی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ
    معاھد
    وہ کافر جن کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو ،مثلا: اتنے سال ہم باہم جنگ و جدال نہیں کریں گے۔(معاھدین) کا ہم پر یہ ھق ہے کہ ہم ان کا عہد اس مدت تک پورا کریں جو ہمارے اور ان کے درمیان اتفاق رائے سے طے ہوا ہے۔جب تک وہ اس عہد پر قائم رہیں،اس میں کچھ کمی کریں نہ ہمارے خلاف کسی کی مدد کریں،نہ ہمارے دین میں طعنہ زنی کریں،اُس وقت تک ہمیں عہد کا پاس کرنا چاہیے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ﴿٤﴾
    نیز فرمایا:
    وَإِن نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ
    ذمی
    وہ غیر مسلم ہوتے ہیں جو جزیہ ادا کر کے مسلمانوں کے ملک میں رہنے والے ہوں جس کے عوض اسلامی حکومت ان کے مال و جان کے تحفظ کی ذمہ دار ہو۔ذمیوں کے ھقوق باقی تمام کافروں سے زیادہ ہیں۔ان کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ ذمہ داریاں ،کیونکہ وہ مسلمانون کے ملک میں زندی بسر کرتے ہیں اور ان کی حمایت اور رعایت میں رہتے ہیں جس کے عوض وہ جزیہ ادا کرتے ہیں،لہذا مسلمانوں کے حاکم پر واجب ہے کہ وہ ان کے خون،مال اور عزت کے مقدمات میں اسلام کے حکم کے مطابق فیصلہ کرے اور جس چیز کی حرمت کا وہ عقیدہ رکھتے ہیں اس میں ان پر حدود قائم کرے اورحاکم پر ان کی حمایت اور ان کی اذیت و پریشانی کو دور کرنا واجب ہے۔
    یہ بھی ضرورہ ہے کہ ان کا لباس مسلمانوں کے لباس سے الگ ہو اور وہ کسی ایسی چیز کا اظہار نہ کریں جو اسلام میں ناپسندیدہ ہو یا ان کے دین کا شعار (شناختی علامت) ہو،جیسے ناقوس اور صلیب۔ذمیں کے احکام اہل علم کی کتابوں میں موجود ہیں،لہذا ہم اسے طول نہیں دیتے۔
    اسلام میں بنیادی حقوق از شیخ محمد بن صالح العثیمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں