1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر منقوط ترجمہ

'ترجمہ قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از makki pakistani, ‏جولائی 12، 2013۔

  1. ‏جولائی 12، 2013 #1
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,325
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    ایک پاکستانی ڈاکٹر محمد طاہر مصطفی نے قرآن کریم

    کا اردو زبان میں غیر منقوط ترجمہ کیا ہے۔

    انہوں نے یہ کام دو سال میں مکمل کیا ھے ۔

    اور یہ تاریخ انسانی میں غالبا پہلا غیر منقوط ترجمہ ہے۔

    اللہ کریم ان کی اس کاوش کو قبول کرے ۔آمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 12، 2013 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اس سے قبل سنا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مکمل کتاب بھی غیرمنقوط لکھی گئی ہے۔ اس کے کچھ اقتباسات پڑھے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ زبردستی ایسے جملے بنائے گئے ہیں تاکہ ان میں نقطہ کہیں نہ آئے۔ سننے میں بے شک یہ بہترین کاوش معلوم ہوتی تھی، لیکن پڑھنے بیٹھیں تو میں تو ایک صفحہ بھی مکمل نہیں پڑھ سکا۔

    معلوم نہیں اس ترجمہ کی کیا صورت حال ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو بہت سے مقامات پر نقاط کے بغیر گزارا ہی نہیں۔ مثلاً قرآن میں جہاں لفظ "قرآن" ہے اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ ذکر، یوسف، ہارون، اونٹنی وغیرہ جیسے بہت سے الفاظ ہیں، اگر ان میں سے نقاط کو ہٹا دیا جائے تو ترجمہ پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔۔!
     
    • متفق متفق x 7
    • شکریہ شکریہ x 4
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 12، 2013 #3
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    اس طرح ورلڈ ریکارڈ بنانے کے چکر میں قرآن کریم کا مذاق ہی اڑایا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم
     
    • متفق متفق x 6
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 12، 2013 #4
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,325
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    غیر منقوط سیرت کی کتاب "ہادی عالم " مولانا ولی رازی

    کی تصنیف ھے۔جو بہر حال ایک عمدہ کاوش ھے،

    ؛


    اس میں قرآن کریم کا مذاق اڑانے والی کوئی بات نظر نھیں آتی ۔

    بہر صورت آپکو اپنی رائے کا حق حاصل ھے جسے آپنے بخوبی استعمال

    ھے۔

    میری نظر میں یہ ایک نہائت زبردست کاوش ھے جسکی جتنی بھی

    تعریف کی جاے کم ھے ۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 13، 2013 #5
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    زبردست کاوش وہ ہوتی ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوں، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس غیر منقوط سے کتنے لوگ مستفید ہونگے ؟ یا بیچ مقصد کچھ اور ہے قلم نگار کا ؟

    درست کہا برادر ideal_man نے۔ یہ بس اپنی علمی ڈھاک جمانے کے مترادف ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
     
  6. ‏جولائی 13، 2013 #6
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,325
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282



    قرآن کریم کا پنجابی میں منظوم ترجمہ بھی دھاک بٹھانے کی کوشش

    تھی۔

    کتنے لوگ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود پنجابی کا یہ منظوم

    ترجمہ پڑھتے ھیں،تو کیا آپ اسکی علمی حثیت سے بھی اختلاف

    کا اظہار کریں گے یا پھر کسی وجہ سے خاموشی؟

    قرآن کریم کا دنیا کی بے شمار زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ھے

    حتی کہ کئی علا قائی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ھے اور آئیندہ بھی

    یہ عظیم الشان کام ھوتا رھے گا۔یہ قرآن کریم سے اسکی محبت کا

    مظاہرہ ھے ۔اگر یہ صرف دھاک بٹھانے کی کوشش ھے ۔تو جب اردو

    میں ایک دفعہ ترجمہ ہو چکا تو پھر بعد میں ترجمہ کرنے والوں نے صرف

    اپنی دھاک بٹھانے کے لیے تراجم کیے۔

    کتنے مفسرین نے اپنے اپنے انداز میں کتاب مبین کی تفا سیر لکھیں۔

    کیا یہ صرف دھاک بٹھانے کے لیے ایسا کیا ؟ میرے نقطہ نظر سے ایسا

    قطعا نھیں اگر کسی کی سوچ کے مطابق ہو تو وہ اسکی اپنی سوچ

    ھے ۔جس پر بہر حال کوئی پابندی نھیں لگا سکتا۔ہر ایک کو حق حاصل

    ھے کہ وہ اپنی سوچ کا اظھار کرے اور کرنا بھی چاہیے ۔

    اور پوری دنیا میں قرآن کریم کے قاری محتلف انداز میں اسکی قراءت کا

    مظاہرہ کرتے ھیں کیا یہ سب دھاک بٹھانے کے لیئے کر رھے ھیں۔

    میرے خیال میں ایسا ہر گز نھیں یہ قران سے وابستگی کا اظھار ھے

    "دلوں کے حال صرف اللہ جانتا ھے"
     
    • پسند x 3
    • شکریہ x 2
    • متفق x 1
    • غیرمتفق x 1
    • زبردست x 1
    • غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 13، 2013 #7
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 13، 2013 #8
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    محترم المقام جذباتی اور شعلہ دار بیانات سے کچھ نہیں ہوا کرتا۔ اگر اردو زبان کے علاوہ باقی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ تو وہ مستقل زبانیں ہیں، جس وجہ سے یہ کام کیا گیا ہے۔ لیکن غیر منقوط کونسی زبان ہے۔؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں ؟ ۔۔۔اگر غیر منقوط بھی کوئی زبان ہے، اور اس زبان کے بولنے والوں کےلیے یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ تو پھر ہم بھی ڈاکٹر صاحب کے معترف ہیں۔۔۔ کہ انہوں نے اس زبان میں ترجمہ کردیا ہے۔۔۔ لیکن اگر کوئی زبان نہیں ۔۔اور یقیناً نہیں۔۔ تو پھر یہ قرآن کی کیسی خدمت ہے۔؟ ۔۔ کون سامقصد پیش نظر ہے۔؟

    اور پھر حالت یہ ہے ہمارے ان سکالرز، ڈاکٹرز، ماسٹرز، انجینیئرز وغیرہ کی۔۔۔ جب ریٹائر ہوتے ہیں۔۔ یا کوئی اور کام کرنے کو نہیں ملتا۔۔ تو چلو جی فارغ وقت گزارنے سے بہتر ہے کہ قرآن پاک کی ترجمہ یا تفسیر کی صورت میں خدمت ہی کردیں۔۔۔۔ اور پھر ان تراجم وتفاسیر میں جو وہ ٹھوکریں کھاتے ہیں، ان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔۔۔ کیا اب اس طرح کے حضرات قرآن پاک کی تفاسیر اور ترجمے کرنے کےلیے رہ گئے ہیں ؟۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
     
    • متفق متفق x 5
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 13، 2013 #9
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    میرے خیال میں بغیر مطالعہ اور بغیر مترجم کو جانے، ان کے بارے میں ایسے کلمات نہایت ہی نامناسب ہیں۔
    ہمیں اس بات سے اختلاف ہو سکتا ہے کہ غیرمنقوط ترجمہ کی افادیت ہے یا نہیں۔
    لیکن کسی کی نیت پر شک کرنا درست نہیں۔
    یہ قرآن کی خدمت کا ایک انداز ہے، اور بعض اوقات اس کی افادیت عام مترجم قرآن سے فقط ایک خاص رخ سے زیادہ بھی ہو جاتی ہے۔
    قرآن کو چاول کے ایک دانے پر لکھنے یا سونے کے پانی سے لکھنے کی بھی بظاہر کوئی افادیت نظر نہیں آتی۔
    لیکن بہرحال لوگ کرتے ہیں اور اگر وہ اخلاص سے قرآن کی خدمت کے لئے کرتے ہیں، تو یقیناً ان کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔
    ہم کسی کو فقط افادیت کے لحاظ سے جج نہیں کر سکتے۔
     
    • متفق متفق x 7
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 13، 2013 #10
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,325
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    جذبات کی وابستگی کے ساتھ کون لکھ رہا ھے اور کون اپنی

    رائے ٹھونس رہا ھے ۔عیاں ھے تحریر سے ۔

    اوپر اٹھا ئے گئے سوالات کے جوابات کا انتظار ھے ۔

    غیر منقوط الفاظ بھی اسی زبان سے لیئے جاتے ھیں جس میں لکھا

    جاتا ھے ۔

    کتنے لوگ کس کتاب کو کس تعداد میں پڑھتے ھیں ۔یہ کوئی علمی کاوش

    کو ظاہر نھیں کرتا۔ تنقید مثبت ہعتی ھے نہ کہ تنقید براے تنقید۔

    اگر کوئی اسے نھیں پڑھنا چاھتا تو اس پر کوئی بندش نھیں۔

    غیرمنقوط الفاظ ھوتے ھیں زبان نھیں۔انکے پیش نظر کیا مقاصد تھے

    آپ ان سے پوچھ سکتے ھیں اور کسی نے کتنی ٹھوکریں کھائیں یہ

    سب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ھے نہ کہ" میبل اور میں "

    کی طرح تبصرہ۔

    یہ صاحب تکریم مصنف نہ میرے ذاتی حلقہ احباب میں ھیں نہ میرے

    رشتے دار ،

    میں انکے اس کام کا ذاتی طور پر معترف ھوں اور یہ صرف قرآن سے

    وابستگی کا سبب ھے اور جس کا اظھار وہ اپنے انٹرویو میں کر چکھیں

    ھیں،

    "عملوں کا دارومدار نیت پر ھے اور نیتوں کا حال صرف اللہ جانتا ھے"
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں